اعظم گڑھ

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
اعظم گڑھ
Azamgarh

आज़मगढ़
Azam Garh
شہر
اعظم گڑھAzamgarh is located in اتر پردیش
اعظم گڑھAzamgarh
اعظم گڑھ
Azamgarh
اتر پردیش، بھارت میں مقام
ملک Flag of India.svg بھارت
ملک اتر پردیش
ضلع اعظم گڑھ ضلع
نام پر Azam
حکومت
 • Chairman Indira Devi
 • MP ملائم سنگھ یادو (SP)
رقبہ
 • کل 1,218.6 کلو میٹر2 (470.5 مربع میل)
بلندی 64 میل (210 فٹ)
آبادی
 • کل 110,983
 • کثافت 1,138/کلو میٹر2 (2,950/مربع میل)
زبانیں
 • سرکاری ہندی زبان, اردو, انگریزی زبان, Avadhi, بھوجپوری زبان
منطقۂ وقت بھارتی معیاری وقت (یو ٹی سی7)
ڈاک اشاریہ رمز 276001
ٹیلی فون کوڈ 05462
جیوکوڈ 1278083  Change value جیونیمز آئی ڈی (P1566) in Wikidata
گاڑی رجسٹریشن UP 50
ویب سائٹ azamgarh.nic.in

اعظم گڑھ : یہ شہر، بھارت کی ریاست اتر پردیش میں واقع ہے۔ اس شہر سے کئی شخصیات مشہور ہوئیں۔


اس خطہ اعظم گڑھ پہ مگر فیضان تجلی ہے یکسر جو ذرہ یہاں سے اٹھتا ہے وہ نیر اعظم ہوتا ہے۔

تحریر ریحان اعظمی

ضلع اعظم گڑھ۔ اترپردیش کے مشرقی حصے میں اعظم گڑھ ضلع واقع ہے جوکہ گنگا اور گھاگھرا کے وسط میں بسا ہوا ہے. زمانہ قدیم میں اس جگہ کا کوئی نام نہی تھا. جنگل ہی جنگل تھا. آبادی بہت کم اور فاصلے پر تھی اس سرزمین کا تعلق دوریاستوں کے زیر اثر تھا مغرب میں کوشلیاراج اجودھیاسے اور مشرق میں کاشی راج بنارس سے تھا.درمیان میں ٹونس ندی سرحد تھی یہاں راجہ ہربنس سنگھ کی چھاؤنی تھی.شہراعظم گڑھ سےمتصل بجانب مشرق انکے نام سے ایک موضع ہربنس پور آباد ہے. وتیہ ہربنس پور اب بھی موجود ہے. انکے لڑکے راجہ بکرماجیت سنگھ نے اپنا قلعہ لب ساحل دریا ٹونس بنوایا تھا اورانہوں نے اپنے حقیقی بھائی رودرسنگھ کوقتل کردیا تھا جس کی پاداش میں مغل شاہی فوج نے راجہ بکرماجیت سنگھ کو گرفتار کرکے دارالسطنت دہلی لے گئی وہاں جاکر انھوں نے اسلام قبول کرلیا دہلی سے بعدرہائی اعظم گڑھ واپس ہوئے اورانھوں نے ایک مسلم خاتون سے شادی کرلی.انکے بطن سے دو لڑکے پیدا ہوئے. بڑے لڑکےکانام اعظم خان اورچھوٹے لڑکر کا نام عظمت خان رکھا.چونکہ اس ضلع کو شہنشاہ اورنگ زیب علیہ رحمہ کے وقت میں راجہ اعظم خان جوبعد میں اعظم شاہ کے نام سے مشہور ہوا انہوں نے بسایا تھا، اسی وجہ سے اس کا نام اعظم گڑھ رکھاگیا،(گڑھ کے معنی قلعہ کے ہوتے ہیں)کہاجاتاہے کہ 1665ءمیں اعظم شاہ نے ٹونس ندی کے کنارے ایک قلعہ بنایا اور اسکے کے چاروں طرف 7/8میل کے مربع میں چہاردیواری بنوائی تھی،رفتہ رفتہ اسکے آس پاس آبادی بڑھتی گئی اور اعظم شاہ کے نام پر اسکا نام اعظم گڑھ پڑگیا، ٹونس ندی کے کنارے پر واقع یہ ضلع اعظم گڑھ ان گنت خصوصیات کا حامل رہا ہے، اس ضلع میں زمانۂ قدیم سے صوفی سنتوں اور علماء کرام اور آزادی وطن کے متوالوں کی جائے پیدائش رہی ہے.اس ضلع میں کئی بڑے بڑے دانشور پیدا ہوئے۔ علامہ شبلی نعمانی۔قاضی اطہر مبارک پوری،مولانا عبدالغنی پھولپوری۔مولانا حمید الدین فراہی،مولانا امین احسن اصلاحی،مولانا شیخ ثانی عبدالحق اعظمی،مولانا حبیب الرحمن اعظمی،اقبال سہیل،رحمت الہی برق اعظمی،عبید اعظم اعظمی،کیفی اعظمی،مولاناعبیداللہ خان اعظمی،مرزا اسلم بیگ،شبانہ اعظمی،ابوعاصم اعظمی،مولاناقمرالزماں اعظمی،مولانا سعید الرحمن اعظمی ندوی،خلیل الرحمن اعظمی،ریحان اعظمی۔ اعظم گڑھ کی کل آبادی 2011کے مردم شماری کے مطابق۔(4,613,913)چھیالیس لاکھ تیرہ ہزار نوسوتیرہ رہی ہے،جس میں مسلمانوں کی آبادی (1064993)دس لاکھ چوسٹھ ہزار نوسو تیرانوے تھی،جس کا تناسب 58%15 فیصد ہے،یہاں ہندؤں کا تناسب 06%86فیصد ہے،