پاک فوج

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش
پاک فوج
Flag of the Pakistani Army.svg
قیادت
سربراہ پاک فوج
حصّے
فرنٹئیر فورس رجمنٹ
فرنٹئیر کارپس
سپیشل سروس گروپ
تنصیبات
راولپنڈی
پاکستان ملٹری اکیڈیمی
کمانڈ اینڈ سٹاف کالج
جامعۂ قومی دِفاع
تاریخ و روایات
پاکستان کی عسکری تاریخ
اقوامِ متحدہ کے امن مہمّات
انعامات، آرائشات و نشانات
انعامات و آرائشات
نشانِ حیدر


افواج پاکستان
پاکستان مسلح افواج
State emblem of Pakistan.svg
نشان
قیام 1947
خدماتی شاخیں Flag of the Pakistan Army پاک فوج
Naval Jack of Pakistan پاک بحریہ
Ensign of the Pakistan Air Force پاک فضائیہ
Naval Emblem of Pakistan پاکستان سمندریہ
State emblem of Pakistan پاکستان نیم فوجی فورسز
صدر مراکز Joint Staff Headquarters, راولپنڈی
قیادت
کماندار جامع قوۃ صدر ممنون حسین
وزیر دفاع پاکستان خواجہ محمد آصف
Chairman Joint Chiefs of Staff Committee جنرل راشد محمود
پاک فوج
افرادی قوت
فوجی عمر 16–49 سال
بھرتی کوئی نہیں
فوجی خدمت
کے لیے دستیاب
48,453,305 مرد، عمر 16–49 (2010 تخمینہ),
44,898,096 خواتین،عمر 16–49 (2010 تخمینہ)
فوجی خدمت
کی حدِ عمر
37,945,440 مرد، عمر 16–49 (2010 تخمینہ),
37,381,549 خواتین، عمر 16–49 (2010 تخمینہ)
حدِ عمر تک
پہنچنے والوں کی
سالانہ تعداد
2,237,723 مرد (2010 تخمینہ),
2,104,906 خواتین (2010 تخمینہ)
متحرک دستہ 617,000 (درجہ ساتواں)
محفوظ دستہ 550,000 (پندرہوں)
خرچ
میزانیہ $6.98 بلین (2013–14) (درجہ 25واں)
جی ڈی پی کا فیصد 2.7% (2013)
صنعت
ملکی فراہم کنندگان
غیر ملکی فراہم کنندگان
سالانہ درآمد Flag of the People's Republic of China.svg چین, Flag of the United States.svg ریاستہائے متحدہ امریکہ
متعلقہ مضامین
تاریخ
رتبے Awards and decorations of the Pakistan Armed Forces

پاک فوج،(انگریزی: Pakistan Army) عسکریہ پاکستان کی سب سے بڑی شاخ ہے. اِس کا سب سے بڑا مقصد مُلک کی ارضی سرحدات کا دِفاع کرنا ہے.

پاکستان فوج کا قیام ۱۹۴۷ میں پاکستان کی آزادی پر عمل میں آیا۔یہ ایک رضاکارپیشہ ور جنگجوقوت ہے۔انٹرنیشنل انسٹیٹیوٹ آف سٹریٹجک سٹڈیز (انگریزی: (International Institute for Strategic Studies-IISS)) کے مطابق اپریل ۲۰۱۳ میں پاک فوج کی فعال افرادی قوت ۷،۲۵،۰۰۰ تھی۔اس کے علاوہ ریزرو یا غیر فعال ۵،۵۰،۰۰۰ افراد(جو 45 سال کی عمر تک خدمات سرانجام دیتے ہیں)کو ملاکر افرادی قوت کا تخمینہ ۱۲،۷۵،۰۰۰افراد تک پہنچ جاتا ہے۔اگرچہ آئین پاکستان میں جبری فوجی بھرتی کی گنجائش موجود ہے، لیکن اسے کبھی استعمال نہیں کیا گیا۔پاک فوج بشمولِ پاک بحریہ اور پاک فضائیہ کے دُنیا کی ساتویں بڑی فوج ہے. ۔

پاکستان کے آئین کےآرٹیکل ۲۴۳کے تحت، پاکستان کے صدر افواج پاکستان بشمول پاکستانی بری فوج، کے سویلین کمانڈر ان چیف یا سپاہ سالار اعظم کا منصب رکھتے ہیں۔ آئین کے مطابق صدرپاکستان، وزیر اعظم پاکستان کے مشورہ و تائید سےچیف آف آرمی سٹاف پاکستان آرمی یا سپہ سالارپاکستان بری فوج کے عہدے کے لئیے ایک چار ستارے والے جرنیل کا انتخاب کرتے ہیں۔فی الوقت پاک فوج کی قیادت جنرل راحیل شریف چیف آف آرمی سٹاف کررہے ہیں، جبکہ جنرل راشد محمود چئیرمین جوائنٹ چیف آف اسٹاف کمیٹی کی زمہ داری سنبھالے ہوئے ہیں۔

تاریخ[ترمیم]

1947ء میں آزادی کے بعد سے پاک فوج بھارت سے 4 جنگوں اورمتعدد سرحدی جھڑپوں میں دفاع وطن کا فریضہ انجام دے چکی ہے۔ عرب اسرائیل جنگ ، عراق کویت جنگ اور خلیج کی جنگ میں حلیف عرب ممالک کی فوجی امداد کے لئے بھی نمایاں خدمات انجام دیں۔

حالیہ بڑی کاروائیوں میں آپریشن بلیک تھنڈر سٹارم، آپریشن راہ راست اور آپریشن راہ نجات شامل ہیں۔

لڑائیوں کے علاوہ پاک فوج، اقوامِ متحدہ کی امن کوششوں میں بھی حصّہ لیتی رہی ہے. افریقی، جنوبی ایشیائی اور عرب ممالک کی افواج میں ا فواج پاکستان کا عملہ بطورِ مشیر شامل ہوتا ہے.

پاکستانی افواج کے ایک دستے نے اقوام متحدہ امن مشن کا حصہ ہوتے ہوئے 1993ء میں موغادیشو، صومالیہ میں آپریشن گوتھک سرپنٹ کےدوران پھنسے ہوئے امریکی فوجیوں کی جانیں بچانے میں ایک اہم کردار ادا کیا۔

1947ء - 1958ء

پاکستان فوج 3 جون 1947ء کو برطانوی ہندوستانی فوج یا برٹش انڈین آرمی کی تقسیم کے نتیجے میں معرض وجود میں آئی۔ تب جلد ہی آزاد ہو جانے والی مملکت پاکستان کو6 بکتر بند، 8 توپخانے کی اور 8 پیادہ رجمنٹیں ملیں، جبکہ تقابل میں بھارت کو 12 بکتر بند، 40 توپخانے کی اور21 پیادہ فوجی رجمنٹیں ملیں۔

1947ء میں غیر منظم لڑاکا جتھے، اسکاؤٹس اورقبائلی لشکر، کشمیر کی مسلم اکثریتی ریاست پر بھارت کے بزور قوت قبضہ کے اندیشہ سے کشمیر میں داخل ہوگئے۔ مہاراجہ کشمیر نے اکثریت کی خواہش کے خلاف بھارت سے الحاق کر دیا۔ بھارت نے اپنی فوجیں کشمیر میں اتار دیں۔یہ اقدام بعد میں پاک بھارت جنگ 1947ء کا آغاز ثابت ہوا۔ بعد میں باقاعدہ فوجی یونٹیں بھی جنگ میں شامل ہونے لگیں، لیکن اس وقت کے پاکستانی بری افواج کے برطانوی کمانڈر انچیف جنرل سر فرینک میسروی کی قائد اعظم محمد علی جناح کے کشمیر میں فوج کی تعیناتی کے احکامات کی حکم عدولی کے باعث روک دی گئیں۔بعد ازاں اقوام متحدہ کے زیر نگرانی جنگ بندی کے بعد پاکستان کے زیر قبضہ کشمیر کا شمال مغربی حصہ پاکستان کے، جبکہ بقیہ حصہ بھارت کے زیر انتظام آ گیا۔

اس کے بعد، 1950ءکی دہائی میں ، پاکستانی افوج کودو باہمی دفاعی معاہدوں کے نتیجے میں امریکہ اور برطانیہ کی طرف سے بھاری اقتصادی اور فوجی امداد موصول ہوئی۔ یہ معاہدے معاہدہ بغداد یا بغداد پیکٹ، جو سینٹرل ٹریٹی آرگنائزیشن یا سینٹو کے قیام کی وجہ بنا، اورساوتھ ایسٹ ایشین ٹریٹی آرگنائیزیشن یا سیٹو 1954ء میں ہوئے۔ اس امداد کے نتیجے میں افواج پاکستان کو اپنی دفاعی صلاحیتوں کو بڑھانے کا موقع ملا۔

1947ء میں پاکستان کو صرف تین انفینٹری ڈویژن ملے، جن میں نمبر 7،8اور 9 ڈویژن شامل تھے۔10 واں، 12 واں اور 14 واں ڈویژن 1948ء میں کھڑا کیا گیا۔ 1954ء سے پہلے کسی وقت 9 وان ڈویژن توڑ کر 6 وان ڈویژن کھڑا کیا گیا، لیکن 1954ء ہی کے بعد کسی وقت اس کو بھی ختم کر دیا گیا، جس کی وجہ امریکی امداد کا صرف ایک بکتر بند یا آرمرڈ ڈ ویژن اور 6 انفینٹری ڈویژن کے لئے مخصوص ہونا تھا۔

1958ء - 1969ء

پہلی بار پاکستانی فوج کی اقتدار میں شراکت جنرل ایوب خان کی 1958ء میں ایک پر امن بغاوت کے ذریعےدیکھنے میں آئی .انہوں نے کنونشن مسلم لیگ بنائی، جس میں مستقبل کے وزیر اعظم ذولفقار علی بھٹو بھی شامل تھے۔

60 کی دہائی میں بھارت کے ساتھ تعلقات کشیدہ رہے، اور اپریل 1965ء میں رن آف کچھ کے مقام پر ایک مختصر جنگی جھڑپ بھی لڑی گئی۔ 6 ستمبر 1965ء کی رات، بھارت نے پاکستان پر اعلان جنگ کے بغیر حملہ کر دیا۔ پاکستان نے حملہ نہ صرف روک کر پسپا کر دیا، بلکہ 1200 کلومیٹر بھارتی علاقہ بھی فتح کر لیا۔ پاکستانی فضائیہ اور توپخانے کی کی لڑائی کے دوران امداد نے پاکستانی دفاع میں کلیدی کردار ادا کیا۔ اقوام متحدہ کے زیر نگرانی جنگ بندی عمل میں آئی، اور معاہدہ تاشقند کا اعلان ہوا۔ بھارتی مفتوحہ علاقہ واپس کر دیا گیا۔

لائبریری آف کانگریس کے ملکی مطالعہ جات ،جو امریکی وفاقی تحقیقی ڈویژن نے کیے، کے مطابق جنگ غیر نتیجہ خیز ثابت ہوئی۔ اگرچہ پاکستان اور بھارت کے جنگی تقابل کے بعد ، نسبتاْکہیں زیادہ کمزور پاکستانی افواج کا بھارتی جارحیت کو محض روک لینا ہی مندرجہ بالا دعوے کی تردیدکے لئے کافی ہے۔

1968ء اور 1969ء میں فیلڈ مارشل ایوب خان کے خلاف عوامی تحریک کے بعد انہوں نے صدر پاکستان اور چیف آف آرمی اسٹاف کے عہدے سے استعفٰی دے دیا، اورجنرل یحییٰ خان نےاقتدار 1968ء میں سنبھال لیا۔

1966ء سے 1969ءکے درمیان 18،16 اور 23 ڈویژن کھڑے کئے گئے۔ 9 ویں ڈویژن کا دوبارہ قیام بھی اسی عرصے میں عمل میں آیا۔

1969ء - 1971ء

جنرل یحییٰ خان کے دور حکومت میں، مشرقی پاکستان میں مغربی پاکستان کے ہاتھوں روا رکھی گئی مبینہ سیاسی،معاشرتی اورمعاشی زیادتیوں کے خلاف مقبول عوامی تحریک شروع ہوئی، جو بتدریج خلاف قانون بغاوت میں بدل گئی۔ان باغیوں کےخلاف 25 مارچ 1971ء کو فوجی کاروائی کی گئی، جسے آپریشن سرچ لائٹ کا نام دیا گیا۔ منصوبے کے مطابق بڑے شہروں کا کنٹرول سنبھالنے کے بعد تمام فوجی اور سیاسی بغاوت پر قابو پایا جانا تھا۔ مئی 1971ء کو آخری بڑے مزاحمتی شہر پر قابو پانے کے بعد آپریشن مکمل ہو گیا۔

آپریشن کے بعد بظاہر امن قائم ہو گیا، لیکن سیاسی مسائل حل نہ ہو سکے۔ آپریشن میں مبینہ جانی نقصانات بھی بے چینی میں اضافے کا باعث بنے۔

بد امنی دوبارہ شروع ہوئی، اور اس دفعہ بھارتی تربیت یافتہ مکتی باہنی گوریلوں نےلڑائی کی شدت میں اضافہ جاری رکھا، تاآنکہ بھارتی افواج نے نومبر 1971ء میں مشرقی پاکستان میں دخل اندازی شروع کر دی۔ محدود پاکستانی افواج نے نا مساعد حالات میں عوامی تائید کے بغیر اس جارحیت کا مقابلہ جاری رکھا۔ مغربی پاکستان میں پاکستانی افواج کا جوابی حملہ بھی کیا گیا۔ لیکن بالآخر 16 دسمبر 1971ءکو ڈھاکہ میں محصور پاکستانی افواج کو لیفٹینینٹ جنرل امیر عبداللہ خان نیازی کی قیادت میں ہتھیار ڈالنے پڑے۔

1971ء - 1977ء

18 دسمبر 1971ء کو بھٹو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی اجلاس، جہاں وہ مشرقی پاکستان پر بھارتی جارحیت کے خلاف حمایت حاصل کرنےکی کوشش کر رہے تھے، سے بذریعہ خصوصی پی آئی اے کی پرواز واپس بلائے گئے، اور 20 دسمبر 1971ء کو انہوں نے بطور صدر پاکستان اور پہلے چیف مارشل لا ایڈمنسٹریٹر کے اقتدار سنبھال لیا۔

1970ء کی دہائی کے وسط میں سول حکومت کے ایما پر بلوچستان میں غیرملکی اشارے پر بدامنی پیدا کرنے والے عناصر کے خلاف فوجی کاروائی بھی کی گئی۔

1977ء - 1999ء

1977ء میں اس وقت کے آرمی چیف جنرل محمد ضیاء الحق نےعوامی احتجاج اور مظاہروں کے بعد ذولفقار علی بھٹو کی حکومت کا تختہ الٹ دیا۔ذولفقار علی بھٹو کو ایک سیاستدان قصوری کے قتل کا جرم ثابت ہونے پر عدالت نے پھانسی کی سزا دی۔ جنرل ضیاء الحق موعودہ 90 دن میں انتخابات کروانے میں ناکام رہے، اور 1988ء میں ایک طیارے کے حادثے میں جاں بحق ہونے تک بطور فوجی حکمران حکومت جاری رکھی۔

1980ء میں پاکستان نے امریکہ، سعودی عرب اور دیگر اتحادی ممالک کے ساتھ افغان مجاہدین کو جارح روسی افواج کے خلاف ہتھیاروں، گولہ بارود اور جاسوسی امداد جاری رکھی-

پہلی خلیجی جنگ کے دوران پاکستان نے ممکنہ عراقی جارحیت کے خلاف سعودی عرب کے دفاع کے لئے افواج فراہم کیں۔

1999ء - تاحال

مقصد[ترمیم]

پاکستان فوج، افواج پاکستان کی بری شاخ کے طور پر کام کرتی ہے.آئین پاکستان کا حصہ بارہ، باب دوم افواج پاکستان کامقصدیوں بیان کرتا ہے:

مسلح افواج، وفاقی حکومت کی ہدایات کے تحت، بیرونی جارحیت یا جنگ کے خطرےکے خلاف پاکستان کا دفاع کریں گی، اور قانون کےدائرے میں رہتے ہوئے، سول پاور کی امدادکریں گی، جب ایسا کرنے کے لئے کہا جائے۔

نصب العین[ترمیم]

پاک فوج کا نصب العین ہے: ‘‘ایمان، تقویٰ اور ِجہاد فی سبیل اللہ.

چیف آف آرمی سٹاف کی فہرست[ترمیم]

  1. جنرل سر فرینک مسروی (15 اگست 1947ء - 10 فروری 1948ء)
  2. جنرل سر ڈوگلس ڈیوڈ گریسی (11 فروری 1948ء - 16 جنوری 1951ء)
  3. فیلڈ مارشل ایوب خان (16 جنوری 1951ء - 26 اکتوبر 1958ء)
  4. جنرل موسیٰ خان (27 اکتوبر 1958 - 17 جون 1966ء)
  5. جنرل یحیٰی خان (18 جون 1966ء - 20 دسمبر 1971ء)
  6. لفٹننٹ جنرل گل حسن (20 دسمبر 1971ء - 3 مارچ 1972ء)
  7. جنرل ٹکّا خان (3 مارچ 1972ء1 مارچ 1976ء)
  8. جنرل محمد ضیاء الحق (1 اپریل 1976ء - 17 اگست 1988ء)
  9. جنرل مرزا اسلم بیگ (17 اگست 1988ء - 16 اگست 1991ء)
  10. جنرل آصف نواز (16 اگست 1991ء - 8 جنوری 1993ء)
  11. جنرل عبدالوحید کاکڑ (8 جنوری 1993ء - 1 دسمبر 1996ء)
  12. جنرل جہانگیر کرامت (1 دسمبر 1996ء - 6 اکتوبر 1998ء)
  13. جنرل پرویز مشرف (7 اکتوبر 1998ء - 28 نومبر 2007ء)
  14. جنرل اشفاق پرویز کیانی (29 نومبر 2007ء - 29 نومبر 2013ء)
  15. جنرل راحیل شریف (29 نومبر 2013ء موجودہ)

تنظیم[ترمیم]

پاکستان آرمی مختلف شعبوں پر مشتمل ہے، جنہیں لڑاکابازو ، امدادی بازو یا امدادی خدمتی شعبوں میں بانٹا جاتا ہے۔لڑاکا آرمز میں انفینٹری یا پیادہ فوج ،آرمر یا رسالہ/ بکتر بند فوج ، آرٹلری یا توپخانہ اور ائیر ڈیفینس یا فضائی دفاعی فوج شمار کی جاتی ہیں۔

لڑاکوں کی امداد کرنے والی آرمز میں سگنلز کور یا مواصلاتی اور انجینئرز کور یا مہندسی فوج شامل ہے۔ لڑاکوں کی امداد کرنے والی سروسز میں کور آف الیکڑیکل اینڈ مکینیکل انجینئر ز ، پاکستان آرمی میڈیکل کور ، پاکستان آرمی ڈینٹل کور ، سپلائی کور یا رسد و رسائل اور آرڈینینس کور یا سازو سامان والی فوج شامل ہے۔ پی ایم اے لانگ کورس کیڈٹ بطور سیکنڈلیفٹیننٹ الیکڑیکل اور مکینیکل انجینئر ،پاکستان آرمی میڈیکل کور اور پاکستان آرمی ڈینٹل کور کے علاوہ مندرجہ بالا کسی بھی فوجی شعبے میں شامل ہو سکتاہے۔

الیکڑیکل اور مکینیکل انجینئر ز، انجینئرز اور سگنلز کور میں پی ایم اے ٹیکنیکل گریجویٹ کورس کیڈٹس کوبعد تربیت براہ راست کیپٹن کے عہدے پر تعینات کیا جاتا ہے،جبکہ پی ایم اے آرمی میڈیکل کورس ( اے ایم سی ) کیڈٹس بطور کپتان پاکستان آرمی میڈیکل یا ڈینٹل کور میں کمیشن کئے جاتے ہیں۔

مزید دیکھیں[ترمیم]