مسئلہ کشمیر

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
مسئلہ کشمیر
Kashmir region 2004.jpg
بھارت دعوی کرتا ہے پوری ریاست ہماری ہے Jammu and Kashmir based on an instrument of accession signed in 1947. Pakistan claims Jammu and Kashmir based on its majority Muslim population, whereas China claims the ماورائے قراقرم علاقہ and اکسائی چن.
تاریخ22 October 1947 – ongoing
(71 سال، )
مقامکشمیر
حیثیت Ongoing*پاک بھارت جنگ 1947*پاک بھارت جنگ 1965ء*Insurgency in Jammu and Kashmir*کارگل جنگ
محارب

Flag of Pakistan.svg پاکستان پاکستان رینجرز
Flag of the Pakistani Army.svg پاک فوج
State emblem of Pakistan.svg انٹر سروسز انٹلیجنس Supported by

Flag of the People's Republic of China.svg چین

Flag of India.svg بھارت Flag of Indian Army.svg بھارتی فوج 22px Border Security Force Central Reserve Police Force

Flagofraw.JPGرا

Kashmir independent.svg جموں کشمیر لبریشن فرنٹ
Flag of Jihad.svg حرکتہ الجہاد الاسلامی
Flag of Jihad.svg لشکر طیبہ
Jaishi-e-Mohammed.svg جیش محمد
Flag of Jihad.svg حزب المجاہدین
Harakat flag.png حرکتہ المجاہدین
Flag of Jihad.svg Al-Badr
Supported by:

Flag of Pakistan.svg پاکستان[1]
کمانڈر اور رہنما
Flag of the Pakistani Army.svg General Raheel Sharif

Flag of Indian Army.svg General Dalbir Singh Suhag
Flag of Indian Army.svg General Pranav Movva
Flag of Indian Army.svg Lt Gen P C Bhardwaj
Air Force Ensign of India.svg Air Marshal Arup Raha

Flag of India.svg Pranay Sahay

Kashmir independent.svg امان اللہ خان
Flag of Jihad.svg حافظ محمد سعید
Jaishi-e-Mohammed.svg محمد مسعود اظہر
Flag of Jihad.svg Sayeed Salahudeen
Harakat flag.png Fazlur Rehman Khalil
Harakat flag.png Farooq Kashmiri
Flag of Jihad.svg Arfeen Bhai (until 1998)

Flag of Jihad.svg Bakht Zameen
طاقت
617,000 متحرک سپاہی 1,325,000متحرک سپاہی 325-850
اموات اور نقصانات
~16,000 قتل ~10,000 قتل ~20,000 قتل
~40,000 شہری قتل

مسئلہ کشمیر، پاکستان، ہندوستان اور کشمیری حریت پسندوں کے درمیان مقبوضہ کشمیر کی ملکیت کا تنازع ہے۔ یہ مسئلہ تقسیم ہندوستان سے چلا آ رہا ہے۔ کشمیر کے معاملے پر پاکستان اور ہندوستان کے مابین تین جنگیں بھی ہو چکی ہیں۔ پہلی جنگ 1947ء، دوسری 1965ء اور تیسری 1999ء میں لڑی گئی۔ اس کے علاوہ آئے دن مقبوضہ کشمیر اور پاکستان کی سرحد جسے لائن آف کنٹرول کہا جاتا ہے پر بھی گولہ باری کا تبادلہ ہوتا رہا ہے۔ جس میں اکثر پاکستانی شہری آبادی نشانہ بنتی رہی ہے۔
مقبوضہ کشمیر کے حریت پسند گروپوں میں کچھ گروپ کشمیر کے مکمل خود مختار آزادی کے حامی ہیں تو کچھ اسے پاکستان کا حصہ بنانا چاہتے ہیں۔ ہندوستان پورے جموں اور کشمیر پر ملکیت کا دعوے دار ہے۔ 2010 میں ہندوستان کا کنٹرول 43 فیصد حصے پر تھا جس میں مقبوضہ کشمیر، جموں، لداخ اور سیاچن گلیشئر شامل ہیں جبکہ پاکستان کے پاس 37 فیصد حصہ آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان کی شکل میں ہے۔

بنیادی وجہ[ترمیم]

پاکستان اور بھارت دونوں مسئلہ کشمیر پر ایک بنیادی نظریے پر کھڑے ہونے کا دعوٰی کرتے ہیں۔ تقسیم ہند کے دوران جموں و کشمیر برطانوی راج کے زیر تسلط ایک ریاست ہوتا تھا۔ جس کی آبادی 95 فیصد آبادی مسلم تھی۔ جب ہندوستان کو تقسیم کیا جا رہا تھا تو جن علاقوں میں مسلم اکثریت تھی وہ علاقے پاکستان اور جہاں ہندو اکثریت تھی وہ علاقے بھارت کو دیے گئے۔ پر کشمیر میں اکثریتی آبادی تو مسلمان تھے لیکن یہاں کا حکمران ایک سکھ تھا اور سیکھ حکمران چاہتا تھا کہ بھارت کے ساتھ ہو جائے۔ لیکن تحریک پاکستان کے رہنماؤں نے اس بات کو مسترد کیا۔ آج بھی پاکستان کا ماننا ہے کہ کشمیر میں مسلمان زیادہ ہیں اس لیے یہ پاکستان کا حصہ ہے اور بھارت کا ماننا ہے کہ اس پر سکھ حکمران تھا جو بھارت سے الحاق کرنا چاہتا تھا اس لیے یہ بھارت کا حصہ ہے۔

حوالہ جات[ترمیم]

  1. Sumit Ganguly (7 August 2012)۔ India, Pakistan, and the Bomb: Debating Nuclear Stability in South Asia۔ Columbia University Press۔ صفحات 27–28۔ آئی ایس بی این 978-0231143752۔