مندرجات کا رخ کریں

مسئلہ کشمیر

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
مسئلہ کشمیر

بھارت دعوی کرتا ہے پوری ریاست ہماری ہے Jammu and Kashmir based on an instrument of accession signed in 1947. Pakistan claims Jammu and Kashmir issue based on its majority Muslim population, whereas China claims the ماورائے قراقرم علاقہ and اکسائی چن۔
تاریخ22 اکتوبر 1947 ongoing
(78 سال، 10 مہینے، 2 ہفتے اور 2 ایام)
مقامکشمیر
حیثیت جاری تنازعات کی فہرست*پاک بھارت جنگ 1947*پاک بھارت جنگ 1965ء*جموں و کشمیر میں بغاوت*کارگل جنگ
مُحارِب

 پاکستان پاکستان رینجرز
پاک فوج
انٹر سروسز انٹلیجنس Supported by

 چین

 بھارت بھارتی فوج فائل:BSF Emblem.svg Border Security Force سنٹرل ریزرو پولیس فورس

را

جموں کشمیر لبریشن فرنٹ
حرکتہ الجہاد الاسلامی
لشکر طیبہ
جیش محمد
حزب المجاہدین
حرکتہ المجاہدین
Al-Badr
Supported by:

 پاکستان[1]
کمان دار اور رہنما
General Raheel Sharif

General Dalbir Singh Suhag
General Pranav Movva
Lt Gen P C Bhardwaj
Air Marshal Arup Raha

Pranay Sahay

امان اللہ خان
حافظ محمد سعید
محمد مسعود اظہر
Sayeed Salahudeen
فضل الرحمن خلیل
Farooq Kashmiri
Arfeen Bhai (until 1998)

Bakht Zameen
طاقت
617,000 متحرک سپاہی 1,325,000متحرک سپاہی 325-850
ہلاکتیں اور نقصانات
~16,000 قتل ~10,000 قتل ~20,000 قتل
~40,000 شہری قتل

مسئلہ کشمیری، پاکستان، بھارت اور کشمیری حریت پسندوں کے درمیان مقبوضہ کشمیر کی ملکیت کا تنازع ہے۔1947 سے قبل، جموں و کشمیر برطانوی ہند کی سینکڑوں شاہی ریاستوں میں سے ایک تھا۔ اس کے حکمران مہاراجا ہندو تھے لیکن اس خطے میں مسلمانوں کی اکثریت تھی، اگرچہ جموں اور لداخ کے کچھ اضلاع میں غیر مسلموں کی اکثریت تھی۔ بھارت اس خطے پر اپنا دعویٰ اس بنیاد پر کرتا ہے کہ ہندو مہاراجا نے 1947 میں بھارت کے ساتھ الحاق نامے پر دستخط کیا تھا۔ تاہم، پاکستان اس خطے پر اپنا دعویٰ اس لیے کرتا ہے کیونکہ یہ ریاست مسلم اکثریتی تھی اور تقسیمِ ہند کے اصول کے مطابق مسلم اکثریتی علاقوں کو پاکستان کا حصہ بننا تھا۔

یہ بات قابلِ ذکر ہے کہ اُس وقت برصغیر میں ایک اور شاہی ریاست موجود تھی جسے جونا گڑھ کہا جاتا تھا۔ وہاں کا حکمران ایک مسلمان نواب تھا لیکن آبادی کی اکثریت ہندو تھی۔ مسلمان نواب نے پاکستان کے ساتھ الحاق نامے پر دستخط کیا اور یوں وہ ریاست قانونی طور پر پاکستان کا حصہ بن گئی، مگر بھارت نے اس فیصلے کو تسلیم کرنے سے انکار کر دیا۔ جب بھارتی فوجیں اس ریاست میں داخل ہوئیں تو بھارت نے پاکستان کی رضامندی کے بغیر—اور پاکستان کے علاقے میں—ایک استصوابِ رائے (ریفرنڈم) کرایا، جس میں ہندو اکثریت نے بھارت میں شامل ہونے کے حق میں ووٹ دیا۔[2]

کچھ نادان لوگ ہیں جو کہتے ہیں کہ کشمیر کا حل بات چیت میں ہے۔ لیکن اگر کوئی مذاکرات کی تاریخ کا مطالعہ کرے تو ہمیں ان مذاکرات کے دوران صرف بھارتی ہٹ دھرمی نظر آتی ہے۔ وہ کشمیر کو کبھی نہیں چھوڑیں گے۔ جب کانگریس کی حکومت تھیں (بی جے پی کی حکومت سے پہلے)، بابائے قوم کشمیر سید علی شاہ گیلانی 2010 میں کہا کرتے تھے کہ بات چیت سے کشمیر کے حل کی کوئی امید نہیں ہے۔ پاکستان اور بھارت کے درمیان 130 بار مذاکرات ہوئے تھے لیکن کوئی نتیجہ نہیں نکلا تھا۔[3]

کشمیر کی پہلی جنگ سے قبل کے واقعات

[ترمیم]

جموں و کشمیر برصغیر کی شاہی ریاستوں میں سے ایک تھی۔ یہ ایک مصنوعی ریاست تھی۔ جب انگریزوں نے سکھوں سے وادیٔ کشمیر اور جموں کے علاقے حاصل کیے، تو انھوں نے ان مختلف خطوں کو یکجا کر کے "جموں و کشمیر" کا نام دیا اور انھیں جموں سے تعلق رکھنے والے ہندو ڈوگرہ خاندان کے ہاتھوں فروخت کر دیا۔ اس کے بعد اس ہندو شاہی خاندان نے 1947 تک جموں و کشمیر پر حکومت کی۔ یہ ایک ہندو ریاست تھی جس میں مسلمانوں کی اکثریت پر بھاری ٹیکس عائد کیے گئے تھے۔[4]

کشمیر پر حکمرانی کرنے والے ہندو مہاراجوں کو کشمیری پنڈتوں (یعنی کشمیری برہمن ہندو) کا تعاون حاصل تھا، جو وادی میں کشمیری مسلمانوں کا استحصال کرتے تھے۔ کشمیری پنڈت مصنف پریم ناتھ بزاز نے لکھا ہے کہ سری نگر میں مسلمانوں کے نوے فیصد گھرانے ہندوؤں کے مقروض تھے۔[5]

1931 میں جموں کے پنجابی مسلمانوں اور وادی کشمیر کے کشمیری مسلمانوں نے ریاست میں مسلمانوں کے حقوق کے لیے ایک سیاسی تحریک کا آغاز کیا۔ 1947 تک ریاست میں دو بڑی سیاسی جماعتیں موجود تھیں: مسلم کانفرنس اور نیشنل کانفرنس۔ نیشنل کانفرنس کی قیادت کشمیری رہنما شیخ عبد اللہ کر رہے تھے اور یہ جماعت وادی کشمیر کے نسلی کشمیریوں میں زیادہ مقبول تھی۔ مسلم کانفرنس کی قیادت چوہدری غلام عباس کر رہے تھے اور یہ جماعت جموں (بشمول میرپور اور پونچھ) کے مسلمانوں میں زیادہ مقبول تھی؛ اس کے علاوہ یہ مظفر آباد میں بھی مقبول تھی۔ کچھ کشمیری رہنماؤں، جیسے کہ مولانا میرواعظ یوسف شاہ، نے بھی مسلم کانفرنس کی حمایت کی۔[6]

مسلم کانفرنس آل انڈیا مسلم لیگ کی حلیف تھی اور اس نے تحریکِ پاکستان کی حمایت کی، جبکہ شیخ عبد اللہ کی نیشنل کانفرنس نے انڈین نیشنل کانگریس اور تحریکِ آزادیِ ہند کی حمایت کی۔ مسلم کانفرنس نے ریاست جموں و کشمیر کے پاکستان سے الحاق کے لیے ایک قرارداد منظور کی۔[6]

میرپور، پونچھ اور مظفر آباد کے ساتھ ساتھ سرحدی علاقوں اور گلگت ایجنسی کے مسلمان پاکستان میں شامل ہونا چاہتے تھے۔[6] جموں کے ہندو اور لداخ کے بدھ مت کے پیروکار بھارت کے ساتھ الحاق کے خواہاں تھے۔ وادیٔ کشمیر میں، مسلمانوں کی اکثریت شیخ عبد اللہ کی حمایت کر رہی تھی جو نہرو کے دوست تھے؛ تاہم وادی کے بہت سے کشمیری مسلم لیگ اور پاکستان کی بھی حمایت کرتے تھے، حالانکہ وہ بیک وقت شیخ عبد اللہ اور نیشنل کانفرنس کے بھی حامی تھے۔[7]

میرپور، پونچھ اور مظفرآباد کے مسلمانوں نے پاکستان میں شامل ہونے کے لیے جموں و کشمیر کی ہندو ریاست کے خلاف جنگ کی۔ ہندو مہاراجا کی فوج میں شامل مسلمان فوجیوں نے بغاوت کر دی اور ریاست کو پاکستان میں شامل کرانے کے لیے لڑائی کی۔ انھیں پاکستان کی فوج اور قبائلی پشتونوں کی مدد حاصل تھی۔[6]

گلگت کے مسلمانوں نے بھی ہمدرد برطانوی فوجی میجر ولیم براؤن اور چترال کی ریاستی افواج کی مدد سے پاکستان میں شامل ہونے کے لیے جدوجہد کی۔[6]

مسلمانوں کی بغاوت کے رد عمل میں، ہندو ڈوگرہ ریاستی افواج نے جموں کے مشرقی اضلاع میں 20 ہزار سے ایک لاکھ کے درمیان مسلمانوں کا قتلِ عام کیا۔ جموں خطے کے مسلمان بھی میرپور، پونچھ اور مظفر آباد کے مسلمانوں کی طرح پنجابی تھے۔ ہزاروں مسلمان مشرقی جموں سے ہجرت کر کے پاکستان آ گئے۔ 1961 کی مردم شماری میں یہ بات سامنے آئی کہ جموں کے مشرقی اضلاع کے کچھ حصوں میں مسلمانوں کی آبادی میں زبردست کمی واقع ہوئی تھی۔ یوسف صراف نے اندازہ لگایا ہے کہ مشرقی جموں میں ہلاک ہونے والے مسلمانوں کی تعداد بیس ہزار سے ایک لاکھ کے درمیان تھی۔ کچھ لوگوں نے دعویٰ کیا ہے کہ جموں میں پانچ لاکھ مسلمان ہلاک ہوئے، لیکن یہ تعداد درست نہیں ہے کیونکہ اس وقت جموں میں مسلمانوں کی کل آبادی پانچ لاکھ سے کم تھی، بہت سے مسلمان زندہ حالت میں پاکستان آ گئے تھے اور اب بھی کچھ مسلمان جموں میں مقیم ہیں۔[8]

چونکہ پاکستانی اور قبائلی افواج ریاست میں داخل ہو گئی تھیں، اس لیے ہندو مہاراجا نے بھارت سے مدد طلب کی۔ لیکن بھارت نے مطالبہ کیا کہ مہاراجا جموں و کشمیر کو بھارت کا حصہ بنانے کے لیے 'الحاق نامے' پر دستخط کریں۔ تاہم، یہ الحاق عارضی تھا اور اس الحاق نامے کے ساتھ یہ شرط  تھی کہ کشمیریوں کو اس الحاق کو قبول یا مسترد کرنے کا موقع دیا جائے گا۔

مہاراجا کے الحاق نامے پر دستخط کرنے کے بعد، بھارتی افواج باضابطہ طور پر جموں و کشمیر میں داخل ہوئیں۔ اس کے بعد بھارت اور پاکستان کے درمیان جنگ ہوئی۔ نہرو کی قیادت میں بھارت جموں و کشمیر کا معاملہ اقوامِ متحدہ لے گیا۔

اقوام متحدہ میں بھارت نے یہ مؤقف اختیار کیا کہ مہاراجا نے بھارت کے ساتھ الحاق نامے پر دستخط کیا تھا اور اس لیے یہ ریاست بھارت کا حصہ ہے۔ تاہم، پاکستان کا موقف تھا کہ تقسیمِ ہند کے اس اصول کی بنیاد پر کہ برصغیر کے مسلم اکثریتی علاقے پاکستان کا حصہ بنیں گے، جموں و کشمیر کا خطہ بھی پاکستان میں شامل ہونا چاہیے۔ اقوامِ متحدہ نے قانونی طور پر ناقابل نفاذ قرارداد منظور کی جس میں کہا گیا کہ جب پاکستان اپنی افواج کو ہٹا دے گا اور بھارت ریاست میں اپنی فوج کا حجم کم کر دے گا تو جموں اور کشمیر کے لوگوں کو ووٹ دینے کا موقع دیا جائے کہ وہ بھارت یا پاکستان میں شامل ہونا چاہتے ہیں۔

خود مختاری کے لیے کوئی تیسرا متبادل موجود نہیں تھا کیونکہ جموں و کشمیر برطانوی ہند کی سینکڑوں شاہی ریاستوں میں سے ایک تھا۔ ان میں سے کسی بھی ریاست کو آزاد رہنے کی اجازت نہیں تھی اور سبھی کو بھارت اور پاکستان میں سے کسی ایک کا انتخاب کرنا تھا۔

شیخ عبد اللہ کا کردار

[ترمیم]

کشمیری رہنما شیخ عبد اللہ نے 1948 میں انکار کر دیا تھا پاکستان کی حمایت کرنے سے کشمیر کے معاملے میں۔

05 فروری 1948 کو شیخ عبد اللہ نے اقوام متحدہ میں ایک تقریر کی جو پاکستان کے خلاف تھیں۔ اس تقریر میں انھوں نے کہا کہ وہ اور ان کی تنظیم (نیشنل کانفرنس) دو قومی نظریہ پر یقین نہیں رکھتے۔ انھوں نے کہا کہ سیاست میں مذہب کے لیے کوئی جگہ نہیں ہونی چاہیے۔ انھوں نے جموں اور کشمیر پر قبائلی حملے کی وجہ سے پاکستان پر تنقید بھی کی۔

اس تقریر میں شیخ عبد اللہ نے بھارتی وزیر اعظم جواہر لال نہرو کی تعریف بھی شروع کر دی۔ بھارت نے کشمیر کا الحاق اس شرط پر قبول کیا تھا کہ جب قبائلی حملہ آوروں کا جموں اور کشمیر سے صفایا ہو جائے گا تو پھر جموں اور کشمیر کے لوگوں کو یہ حق حاصل ہو گا کہ وہ اس الحاق کے بارے میں حتمی فیصلہ کریں گے۔

چنانچہ اس بارے میں شیخ عبد اللہ نے اقوام متحدہ میں کہا تھا کہ حکومت ہند کو الحاق کے ساتھ یہ شرط شامل کرنے کی ضرورت ہی نہیں تھیں۔ شیخ عبد اللہ یہاں کہہ رہے تھے کہ ہندوستان کے ساتھ الحاق کے سلسلے میں کشمیریوں کی رضامندی کی ضرورت نہیں ہے! اور انھوں نے یہ بات اس وقت کہی جب نہرو تب بھی رائے شماری کی بات کر رہے تھے (کم از کم کھلے عام نہرو کا موقف یہی تھا کہ رائے شماری ہو گی جموں و کشمیر میں)۔ یعنی شیخ عبد اللہ ہندوستان کے لیڈر سے بھی زیادہ ہندوستان کے وفادار ثابت ہوئے تھے اس وقت۔

بعد میں اسی شیخ عبد اللہ نے اپنی سوانح عمری "آتش چنار" میں لکھا تھا کہ جواہر لال نہرو اپنے بستر کے پاس کتاب "ارتھ شاستر" رکھتے تھے جو ایک قدیم ہندو مصنف "چانکیہ" نے لکھی تھیں۔ اس کتاب میں چانکیہ نے فریب کاری کے طریقے بتائے ہیں ریاست کو۔ [9]

شیخ عبد اللہ نے یہاں لکھا ہے کہ جواہر لعل نہرو نے کشمیر میں اور پاکستان کے خلاف اور بین الاقوامی تعلقات میں بھی اس طرح کے مکیاویلی (Machiavellian) سیاسی حربے استعمال کیے تھے۔[9]

شیخ عبد اللہ کا کہنا ہے کہ جواہر لعل نہرو اپنے دوستوں کے وفادار ہوتے تھے جب تک کہ یہ دوستیاں ان کے ملک کے مفادات سے ٹکراتی نہیں تھیں۔ شیخ عبد اللہ مزید کہتے ہیں: جب نہرو کو خطرہ محسوس ہوتا تو ان کا رویہ بدل گیا۔ یہی وجہ ہے کہ نہرو نے شیخ عبد اللہ کو قید کر دیا تھا حالانکہ وہ کبھی ان کے دوست ہوا کرتے تھے۔ اور بعد میں نہرو نے کشمیری سیاست دان بخشی غلام محمد کو بھی اس وقت نظر انداز کر دیا جب وہ نہرو کے کام کا نہیں رہا تھا۔[9]

یہ ان لوگوں کے لیے سبق ہونا چاہیے جو ہندوؤں پر بھروسا کرتے ہیں اور ان کے ساتھ اتحاد کرتے ہیں۔ انیسویں صدی میں، ابے ڈوبوئس جو ہندوستان میں ایک فرانسیسی مشنری تھے، نے اپنی کتاب "ہندو مینرز، کسٹمز اینڈ سرمونییس" میں ہندوؤں کے بارے میں لکھا تھا کہ یہ پہچاننا مشکل ہے کہ ہندوؤں کی اصل نیت کیا ہوتی ہے اور یہ کہ ہندو اپنے وعدوں سے پھر جاتے ہیں اگر ان کے مفاد میں ہو اپنے وعدے کو توڑنا۔[10]

مسئلہ کشمیر پر اقوام متحدہ کی ثالثی

[ترمیم]

1949 میں اقوام متحدہ کی سیکورٹی کونسل نے ریفرنڈم کی تیاری کے لیے کینیڈا سے جنرل میک ناٹن کو ثالثی کے لیے مقرر کیا۔ انھوں نے جنگ بندی لائن کے دونوں اطراف سے بیک وقت فوجیوں کے بتدریج انخلاء کی تجویز پیش کی۔ پاکستان نے ان کی تجویز کو چند معمولی ترامیم کے ساتھ قبول کر لیا جبکہ بھارت نے اس میں بہت سی ترامیم کی تجویز دے کر مؤثر طریقے سے اس منصوبے کو مسترد کر دیا۔[11]

اسی سال اقوام متحدہ نے آسٹریلوی قانون دان سر اوون ڈکسن کو بھی تنازع میں ثالثی کے لیے مقرر کیا۔ مثال کے طور پر، انھوں نے تجویز پیش کی کہ پاکستان کی طرف سے جو علاقہ خالی کرنا ہے اسے اقوام متحدہ کے کمیشن کی نگرانی میں مقامی حکام کے اختیار میں رکھا جائے۔ انھوں نے یہ بھی تجویز کیا کہ ہندوستان کی جانب ہر ضلع مجسٹریٹ کے لیے اقوام متحدہ کا ایک افسر مقرر کیا جائے۔ [11]

انھوں نے یہ بھی تجویز کیا کہ یا تو شیخ عبد اللہ اور چوہدری غلام عباس کے درمیان مشترکہ عبوری حکومت قائم کی جائے یا اقوام متحدہ کی نگرانی میں غیر جانبدار عبوری حکومت قائم کی جائے۔ ان کا دوسرا خیال اقوام متحدہ کے نمائندوں پر مشتمل منتظمین کا ایک ادارہ تھا۔ بھارت نے ان تمام خیالات کو مسترد کر دیا۔ سر اوون ڈکسن نے لکھا کہ ان کا ماننا ہے کہ ہندوستان رائے شماری کے لیے ایسی کوئی شرائط قبول کرنے کے لیے تیار نہیں ہے جس سے رائے شماری آزاد اور منصفانہ ماحول میں منعقد ہو-[12][11]

پھر سر اوون ڈکسن صاحب نے ایک آخری تجویز پیش کی جس کو بھارت نے قبول کر لیا۔ اس تجویز میں یہ تھا کہ رائے شماری صرف وادی کشمیر میں ہوگی۔اس تجویز کے مطابق جموں اور لداخ کو ہندوستان کے ساتھ رہنے تھے کیونکہ سب جانتے تھے کے وہاں کے لوگ بھارت کے ساتھ رہنا چاہتے ہیں۔ اسی طرح اس تجویز کے مطابق آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان پاکستان کے ساتھ رہنے تھے کیونکہ وہاں کے لوگوں کے بارے میں مشہور تھا کے وہ پاکستان میں رہنا چاہتے تھے۔ اگر کوئی شک تھا، تو صرف وادی کشمیر کے باشندوں کے خواہشات کے بارے میں تھا۔ 1950 کی دہائی میں ہندوستان میں امریکی سفیر لوئے ہینڈرسن نے مشاہدہ کیا کہ اگر وادی کشمیر کے لوگوں کو تین آپشن دیے جائیں تو وہ خود مختار ریاست کا انتخاب کریں گے۔ لوئے ہینڈرسن نے مزید کہا کہ اگر کشمیر کے لوگوں کا آپشن رائے شماری میں پاکستان اور بھارت کے درمیان تک محدود رہا تو کشمیری مسلمانوں کی اکثریت پاکستان کے حق میں فیصلہ کرے گی۔[13]

بہرحال سر اوون ڈکسن کی یہ تجویز آگے نہیں چل پائی۔ بھارت نے کہا تھا کے رائے شماری کے دوران اس کو اپنی فوج وادی میں رکھنے کا حق ہونا چاہیے تھا جب کے سر اوون ڈکسن صاحب کا کہنا تھا کے شماری کے دوران کسی بھی ملک کی فوج موجود نہیں ہو سکتی اگر اس ترکیب کو صفحہ سے چلانا ہے۔ لیاقت علی خان نے بھی اس ترکیب کو مناسب نہیں سمجھا کیونکہ ان کا خیال تھا کے رائے شماری پوری ریاست میں ہونی چاہئیے نہ کے صرف وادی میں۔ یہ پاکستان کی نادانی اور بھارت کی منافقت تھی۔

اقوام متحدہ کے اگلے ثالث ڈاکٹر فرینک گراہم تھے جنھیں 1951 میں سلامتی کونسل نے مقرر کیا تھا۔ وہ برصغیر میں ہندوستان اور پاکستان کے درمیان فوجی تصادم (جس کا آغاز بنگال کے علاقے میں ہندو مسلم فسادات سے ہوا تھا) کے دوران پہنچے تھے ۔[11]

افواج کے انخلا کی ان کی تمام تجاویز کو پاکستان نے قبول کر لیا لیکن بھارت نے ان تمام تجاویز کو مسترد کر دیا تھا۔ فرینک گراہم نے تجویز پیش کی کہ دونوں ممالک کشمیر میں اپنے فوجیوں کی تعداد کو اسی تناسب سے کم کریں جو یکم جنوری 1949 کو تھی۔ پاکستان نے اس تجویز کو قبول کیا جبکہ ہندوستان نے اس تجویز کی مخالفت کی۔[11]

پھر فرینک گراہم نے ایک اور تجویز پیش کی۔ انھوں نے تجویز پیش کی کہ پاکستان اپنے فوجیوں کی تعداد کم کر کے 3000-6000 کر دے اور بھارت اپنے فوجیوں کی تعداد کم کر کے 12000-16000 کر دے۔ پاکستان نے اس آئیڈیا کو قبول کیا جبکہ انڈیا نے نہیں کیا۔ [11]

چنانچہ گراہم نے رائے شماری کے دوران کشمیر میں ہندوستان کی فوجوں کی تعداد بڑھا کر 18000 کردی۔ بھارت نے جواب دیا کہ اس کا فوجی الاؤنس مزید بڑھا کر 21000 کر دیا جائے اور پاکستان کا الاؤنس مزید کم کر کے 4000 کر دیا جائے۔[11]

گراہم نے اعلان کیا کہ ان کا مشن ناکام ہو گیا ہے اور اس نے سیکورٹی کونسل کو واپس رپورٹ کیا جس نے دسمبر 1951 میں ایک قرارداد منظور کی جس میں پاکستان سے کہا گیا کہ وہ کشمیر میں اپنی فوجوں کی تعداد کم کر کے 6000 کر دے اور بھارت کشمیر میں اپنے فوجیوں کی تعداد کم کر کے 18000 کر دے۔[11]

پاکستان نے اسے قبول کر لیا جبکہ بھارت نے بغیر کوئی وجہ بتائے اسے مسترد کر دیا۔[11]

بین الاقوامی برادری کی طرف سے مزید کوششیں کی گئیں۔ 1951 میں آسٹریلیا کے وزیر اعظم رابرٹ مینزیز نے تجویز پیش کی کہ رائے شماری کے دوران "کامن ویلتھ" کے فوجی کشمیر کی نگرانی کریں۔ انھوں نے ایک مشترکہ ہند-پاکستان فورس اور مقامی فوجیوں کی شمولیت کی تجویز بھی دی۔ پاکستان نے ان تمام خیالات کو قبول کیا جبکہ بھارت نے نہیں کیا۔ امریکا اور برطانیہ نے بھی ثالثی کا مشورہ دیا۔ پاکستان نے اس خیال کو قبول کیا جبکہ بھارت نے نہیں کیا۔[14][15]

بھارت نے مطالبہ کیا کہ اسے کشمیر میں پاکستان سے زیادہ فوج رکھنے کی اجازت دی جائے کیونکہ کشمیر کے مہاراجا نے بھارت کے ساتھ الحاق کے معاہدے پر دستخط کیا تھا۔ لیکن ستم ظریفی یہ ہے کہ بھارت نے اقوام متحدہ کی شمولیت کے بغیر جوناگڑھ میں ہی رائے شماری کرائی حالانکہ جوناگڑھ کے نواب نے پاکستان کے ساتھ الحاق کے دستاویز پر دستخط کیا تھا اور جوناگڑھ پر قبضہ کرنے کے بعد بھی بھارتی وزارت قانون نے اعتراف کیا تھا کہ جوناگڑھ کا پاکستان سے الحاق اس وقت تک بھی درست تھا۔ [2]

پھر بھی بھارت نے خود ایک ایسی سرزمین پر رائے شماری اکیلے کروائی تھیں جو بھارتی وزارت قانون کے اپنے مطابق بھی پاکستان کی ملکیت تھیں اس ریفرنڈم کے وقت بھی۔ لہٰذا کشمیر کے معاملے میں بھارت کا، محض مہاراجا کے الحاق کی وجہ سے، کشمیر میں ریفرنڈم کے دوران اپنی موجودگی کے حق پر اصرار کرنے کا عمل ایک منافقانہ مطالبہ تھا۔[2]

رائے شماری کا آخری موقع 1953 میں آیا جب نہرو نے پاکستانی وزیر اعظم محمد علی بوگرہ سے ملاقات کے دوران زبانی طور پر رائے شماری پر رضامندی ظاہر کی۔ لیکن مئی 1954 میں اعلان کیا گیا کہ پاکستان اور امریکا نے ایک معاہدہ کیا ہے جس کے مطابق پاکستانی فوج کو امریکا سے امداد ملے گی۔ اس کی وجہ بتاتے ہوئے نہرو نے کہا کہ اب کوئی رائے شماری نہیں ہوگی۔ امریکی سفیر ہاورڈ شیفر لکھتے ہیں کہ امریکی صدر آئزن ہاور نے بھارت کو بھی فوجی امداد کی پیشکش کی تھی لیکن بھارت نہیں مانا تھا۔[13]

مذاکرات کی تاریخ دکھاتی ہے کہ حقیقت یہ ہے کہ پاکستان یا پاکستانی فوج یا اقوام متحدہ کا قصور نہیں ہے کہ تنازع کشمیر جاری ہے۔ وجہ بھارتی ہٹ دھرمی ہے۔ 1964میں بھارتی وزیر دفاع (اور سابق سفارت کار) کرشنا مینن نے امریکی مصنف آرتھر برنن ٹورٹیلٹ (Arthur Bernon Tourtellot) سے اعتراف کیا کہ بھارت رائے شماری کی اجازت نہیں دے گا کیونکہ کشمیر کے لوگ پاکستان میں شامل ہونے کے لیے ووٹ دیں گے۔[16]

جب بات ان کی خارجہ پالیسی کی ہو تو ہندوستانی رہنماؤں کی ذہنیت کو سمجھنا مشکل نہیں ہے۔ وہ عام ہندو ذہنیت رکھتے ہیں۔ نہرو نے ایک ہندو فلاسفر کے بارے میں تعریف لکھی ہے جسے "کوٹلیہ" یا "چانکیہ" کہا جاتا ہے۔ نہرو نے اپنی کتاب "دی ڈسکوری آف انڈیا" میں کوٹلیہ کو ایک "great scholar" (یعنی "عظیم اسکالر") کہا تھا۔ [17]کوٹلیہ نے جھوٹ بولنے کی اور دھوکے دینے کی اور چالاکیا کرنے کی حمایت کی تھیں۔ میکس ویبر (Max Weber) نے اپنے 1919 کے مضمون "Politics as a Vacation" میں لکھا تھا کہ کوٹلیہ کا مقالہ "ارتھ شاستر" اطالوی فلاسفر نکولو مکیاویلی کے کتاب "دی پرنس" سے بھی بدتر تھا (مکیاویلی نے بھی دھوکا دہی کی حمایت کی تھیں)۔[18]

چالاکی اور فریب کاری ہندوؤں کی فطرت کا حصہ ہے۔ پاکستان اسٹڈیز کی کتابوں کے لکھے جانے سے بہت پہلے، فرانسیسی مشنری ایبے ڈوبوئس (Abbé Dubois) نے 19ویں صدی میں اپنی کتاب "ہندو مینرز، کسٹمز اینڈ سرمونییس" کے باب 12 میں لکھا تھا کہ دھوکا دہی اور دوغلے برتاؤ کی برائیاں تمام ہندوؤں میں مشترک ہیں نہ کہ صرف برہمنوں میں۔ [10]

ایبے ڈوبوئس نے کہا تھا کہ جب کوئی ہندو بولتا ہے تو یہ سمجھنا ناممکن ہوتا ہے کہ اس کا اصل مطلب کیا ہوتا ہے اور ایبے ڈوبوئس نے یہ بھی کہا تھا کہ کوئی بھی شخص اگر ہندو کے وعدے پر بھروسا کرے تو وہ بے وقوف ہو گا کیونکہ ایک ہندو اپنے وعدے کو توڑ دے گا اگر اس وعدے کو توڑنا اس کے مفاد میں ہو گا۔[10]

 یہ ایک نامکمل مضمون ہے۔ آپ اس میں اضافہ کر کے ویکیپیڈیا کی مدد کر سکتے ہیں۔

حوالہ جات

[ترمیم]
  1. Sumit Ganguly؛ Paul Kapur (7 اگست 2012)۔ India, Pakistan, and the Bomb: Debating Nuclear Stability in South Asia۔ Columbia University Press۔ ص 27–28۔ ISBN:978-0-231-14375-2
  2. 1 2 3 Rakesh Ankit, "The accession of Junagadh, 1947-48: Colonial sovereignty, state violence and post-independence India", Indian Economic & Social History Review, 53 (3): 371–404
  3. نوائے وقت، 130 بار پاکستان بھارت مذاکرات بے نتیجہ رہے اب بھی لاحاصل رہے گے علی گیلانی  (23 فروری 2010)
  4. Mridu Rai (2004). Hindu Rulers, Muslim Subjects: Islam, Rights, and the History of Kashmir. C. Hurst & Co. Publishers.
  5. Prem Nath Bazaz "Inside Kashmir" (1941)
  6. 1 2 3 4 5 Christopher Snedden (2015). Understanding Kashmir and Kashmiris. Oxford University Press
  7. Copland, Ian (1991), "The Abdullah Factor: Kashmiri Muslims and the Crisis of 1947", pp.237-238, in D. A. Low (ed.), Political Inheritance of Pakistan, Palgrave Macmillan
  8. Muhammad Yusuf Saraf, "Kashmiris Fight for Freedom: 1819-1946" (1977) Ferozsons Ltd.
  9. 1 2 3 شیخ عبد اللہ، "آتش چنار" (1986) علی محمد اینڈ سنز
  10. 1 2 3 Dubois, J. A. (1906). Hindu manners, customs and ceremonies (H. K. Beauchamp, Trans.). Clarendon Press. (Original work published 1816). [1]
  11. 1 2 3 4 5 6 7 8 9 Hilali, AZ (1997). "Kashmir dispute and UN mediation efforts: An historical perspective". Small Wars & Insurgencies. 8 (2): 61–86.
  12. Letter dated 15 September 1950 from the United Nations Representative for India and Pakistan to the President of the Security Council transmitting his report
  13. 1 2 Howard B. Schaffer, "The Limits of Influence: America's Role in Kashmir", Brookings Institution Press
  14. Victoria Schofield, "Kashmir in Conflict"
  15. Josef Korbel, "Danger in Kashmir"
  16. Tourtellot, Arthur Bernon. "Kashmir: Dilemma of a People Adrift." Saturday Review, March 6, 1965.
  17. Nehru, J. (1946). The Discovery of India. Signet Press.
  18. Weber, M. (2004). The vocation lectures: “Science as a vocation”, “politics as a vocation” (R. Livingstone, Trans.). Hackett Publishing Company. [1, 2]