امان اللہ خان

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
شاہ مملکت خداداد افغانستان[1]
امان اللہ خان
King Amanullah I
غازي امان الله خان
امان اللہ خان

شاہ مملکت خداداد افغانستان[1]
دور حکومت 28 جنوری 1919 – 9 جون 1926
شاہ افغانستان
دور 9 جون 1926 – 14 جنوری 1929
معلومات شخصیت
پیدائش 1 جون 1892(1892-06-01)

پغمان، امارت افغانستان
وفات 25 اپریل 1960(1960-40-25) (عمر  67 سال)

زیورخ، سوئٹزرلینڈ
مدفن جلال آباد، افغانستان
شہریت Flag of Afghanistan (2002-2004).svg افغانستان  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں شہریت (P27) ویکی ڈیٹا پر
زوجہ ثریا طرزی
والد امیر حبیب اللہ خان
والدہ سرور سلطانہ بیگم
بہن/بھائی
خاندان بارکزئی خاندان
نسل
دیگر معلومات
پیشہ بادشاہ[2]،بادشاہ[2]  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں پیشہ (P106) ویکی ڈیٹا پر
اعزازات
رائل وکٹورین چین (1928)  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں وصول کردہ اعزازات (P166) ویکی ڈیٹا پر

فرمانروائے افغانستان اپنے والد امیر حبیب اللہ خان کے قتل کے بعد 1919ء میں کابل میں تخت پر بیٹھے۔ چند ماہ بعد افغانستان کی تیسری جنگ چھڑ گئی ۔ اس جنگ میں برطانوی افواج تین محاظون مین مغلوب ہوئیں مگر معاہدہ راولپنڈی کی رو سے برطانیہ نے افغانستان کی مکمل خود مختاری کی قبول کی اور دونوں حکومتوں میں مساوی درجے پر تعلقات قائم ہوگئے۔ امان اللہ خان روشن خیال حکمران تھے۔ انھوں نے افغانستان میں مغربی طرز کا نظم و نسق قائم کرنے کی کوشش کی۔ 1928ء میں ملکہ ثریا کے ہمراہ یورپ کا سفر کیا اور سوویت روس بھی گئے۔ وہاں کے سماجی انقلاب سے بہت متاثر ہوئے اور افغانستان میں سماجی اصلاحات کیں۔ اس پر افغانستان کے رجعت پسند حلقے ان کے خلاف ہوگئے ۔ ادھر انگریز بھی اُن سے خفا تھے کیونکہ ان کا رجحان روس کی طرف تھا۔ انگریزوں نے بچہ سقا کو بغاوت پر آمادہ کیا اوراس کی مدد کی۔ 1929ء میں بچہ سقا نے کابل پر قبضہ کر لیا ۔ امان اللہ خان یورپ چلے گئے اور روم میں سکونت اختیار کی۔ بعد میں سویٹزرلینڈ چلے گئے جہاں 25 اپریل 1960ء میں وفات پائی۔

حوالہ جات[ترمیم]

  1. Royal Ark
  2. ^ 2.0 2.1 ربط: جی این ڈی- آئی ڈی — اخذ شدہ بتاریخ: 31 مارچ 2015 — اجازت نامہ: سی سی زیرو