اشرف غنی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
(اشرف غنی احمدزئی سے رجوع مکرر)
Jump to navigation Jump to search
اشرف غنی
(پشتو میں: اشرف غني ویکی ڈیٹا پر مقامی زبان میں نام (P1559) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
تفصیل=

13واں صدر افغانستان
آغاز منصب
29 ستمبر 2014ء
وزیر اعظم عبداللہ عبداللہ
نائب صدر
Fleche-defaut-droite-gris-32.png حامد کرزئی
  Fleche-defaut-gauche-gris-32.png
چانسلر جامعہ کابل
مدت منصب
22 دسمبر 2004ء – 21 دسمبر 2008ء
Fleche-defaut-droite-gris-32.png حبیب اللہ حبیب
حمیداللہ امین Fleche-defaut-gauche-gris-32.png
وزیرخزانہ
مدت منصب
2 جون 2002ء – 14 دسمبر 2004ء
صدر حامد کرزئی
Fleche-defaut-droite-gris-32.png Hedayat Amin Arsala
Anwar ul-Haq Ahady Fleche-defaut-gauche-gris-32.png
معلومات شخصیت
پیدائش 19 مئی 1949 (70 سال)  ویکی ڈیٹا پر تاریخ پیدائش (P569) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
صوبہ لوگر  ویکی ڈیٹا پر مقام پیدائش (P19) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
شہریت Flag of Afghanistan (2002–2004).svg افغانستان  ویکی ڈیٹا پر شہریت (P27) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
مذہب اسلام
جماعت آزاد  ویکی ڈیٹا پر سیاسی جماعت کی رکنیت (P102) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
اولاد 2
تعداد اولاد 2   ویکی ڈیٹا پر تعداد اولاد (P1971) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
عملی زندگی
مادر علمی ہارورڈ یونیورسٹی
جامعہ سٹنفورڈ
کولمبیا یونیورسٹی
جامعہ کابل  ویکی ڈیٹا پر تعلیم از (P69) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
پیشہ سیاست دان، استاد جامعہ، مصنف، ماہر معاشیات، ماہر انسانیات  ویکی ڈیٹا پر پیشہ (P106) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
ملازمت جامعہ کیلیفورنیا، برکلے، آرہس یونیورسٹی، جامعہ کابل  ویکی ڈیٹا پر نوکری (P108) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
ویب سائٹ
ویب سائٹ باضابطہ ویب سائٹ (انگریزی، ازبک زبان، فارسی اور پشتو)  ویکی ڈیٹا پر باضابطہ ویب سائٹ (P856) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
اشرف غنی احمد زئی

موجودہ صدر افغانستان، سابق افغان وزیر خزانہ، ماہر اقتصادیات اور صدارتی امیدوار 2009ء انتخابات۔ 1949ء کو صوبہ لوگر میں پیدا ہوئے۔ پشتون قبیلے سے ان کا تعلق ہے۔ ان کے والد شاہی دور میں اعلٰی عہدوں پر فائز رہے۔ 2014ء کے صدارتی انتخابات کامیابی کے جانن عبد اللہ]] کے ساتھ مل کر حکومت بنائی ہے۔

تعلیم و تحقیق[ترمیم]

انہوں نے بین الاقومی تعلقات، انتھراپولوجی، ڈویلپمنٹ اور حکومتی اور نجی شعبوں کی منیجمنٹ کو بطور مضامین پڑھا ہے۔ انہوں نے لبنان میں قائم امریکی یونیورسٹی سے پولیٹیکل سائئنس اور بین الاقوامی تعلقات میں تعلیم حاصل کی اور انیس سو تہتر میں واپس آکر کابل یونیورسٹی کے سوشل ورک ڈیپارٹمنٹ میں چار سال تک انتھراپولوجی پڑھاتے رہے۔ انہوں نے انیس سو پچاسی میں پاکستان کے مدارس پر ایک سال تک تحقیق کی۔

جلاوطنی[ترمیم]

جب ایک کورس کے سلسلے میں امریکا گئے تو اس دوران افغانستان پر روس نے حملہ کیا جس میں ان کے خاندان کے زیادہ تر افراد کو جیل جانا پڑا۔ اس لیے بعد میں انہوں نے امریکا میں جلا وطنی کی زندگی گزارنے کا فیصلہ کیا اور وہاں پر کولمبیا یونیورسٹی میں بطور استاد پڑھانا شروع کر دیا۔ ڈاکٹراشرف غنی نے انیس اکیانوے میں ورلڈ بینک کے ساتھ کام شروع کر دیا۔ وہ انیس سو پچانوے تک جنوبی اور مشرقی ایشیا میں ورلڈ بینک کے پروجیکٹ کی نگرانی کرتے رہے۔ بعد میں انہوں نے بینک کی طرف سے روس، چین اور انڈیا کے دیگر پروگراموں کی دیکھ بھال کی۔

وزیر خزانہ[ترمیم]

وہ دو ہزار دو سے دو ہزار چار تک افغانستان کی عبوری حکومت میں حامد کرزئی کی کابینہ میں وزیر خزانہ رہے لیکن جب دو ہزار چار میں حامد کرزئی باقاعدہ طور پر صدر منتخب ہوئے اور انہوں نے ڈاکٹر اشرف غنی سے وزیر خزانہ کے طور پر کام کرنے کی پیشکش کی تو انہوں نے معذرت کرلی۔ اس کے بعد وہ کابل یونیورسٹی کے سربراہ بنادیے گئے۔

سیاسی زندگی[ترمیم]

پاکستان سے تعلقات[ترمیم]

افغانستان اور پاکستان کے تعلقات بہت عرصے سے کچھ ٹھیک نہیں رہے ہیں خاص کر اس بات پر کہ کابل نے یہ دعوٰی کیا تھا کہ وہ ڈیورنڈ لائن کو نہیں مانتے اور وہ علاقے جہاں پشتون آباد ہیں (بشمول خیبر پختونخوا،قبائلی علاقہ جات اور بلوچستان کا ایک بہت بڑا حصہ) وہ افغانستان کا حصہ ہے۔ لیکن پاکستان نے اس بات کو بالکل مسترد کر دیا کہ ہر گز یہ علاقے پاکستان کے سوا کسی اور کے نہیں ہوسکتے، اسی بات پر افغانستان اور پاکستان کے درمیان بہت کشیدگی پیدا ہوئی خاص کر حامد کرزئی حکومت میں بھی کشیدگی تھی۔ لیکن جب سے اشرف غنی حکومت آئی ہے تب سے دونوں ممالک کے تعلقات میں نمایا فرق آیا ہے اور کشیدگی بہت حد تک ختم ہوئی ہے۔ دن بہ دن تعلق بہتر ہو رہے ہیں۔

حوالہ جات[ترمیم]