رولا غنی
| رولا غنی | |||||||
|---|---|---|---|---|---|---|---|
| معلومات شخصیت | |||||||
| پیدائش | سنہ 1948ء (عمر 76–77 سال) بیروت |
||||||
| شہریت | |||||||
| جماعت | آزاد سیاست دان | ||||||
| شریک حیات | اشرف غنی احمد زئی | ||||||
| اولاد | مریم غنی | ||||||
| مناصب | |||||||
| خاتون اول، افغانستان | |||||||
| برسر عہدہ 29 ستمبر 2014 – 15 اگست 2021 |
|||||||
| |||||||
| عملی زندگی | |||||||
| مادر علمی | سائنسز پو جامعہ کولمبیا امریکن یونیورسٹی بیروت |
||||||
| پیشہ | سیاست دان | ||||||
| IMDB پر صفحہ | |||||||
| درستی - ترمیم | |||||||
رولا ایف سعاده غنی[1][2] (انگریزی: Rula Ghani) (افغان نام: بی بی گل،[3] ولادت: 1948ء) افغانستان کی سابق خاتون اول، افغانستان کے سابق صدر اشرف غنی کی اہلیہ ہیں۔[4]
رولا غنی کا تعلق ایک لبنانی عیسائی خاندان سے ہے اور ان کی ابتدائی پرورش بیروت کے ایک تعلیمی اور ثقافتی ماحول میں ہوئی۔ ان کے والد ایک معزز انجینئر اور سماجی کارکن جبکہ والدہ تعلیم کے شعبے سے وابستہ تھیں۔ اس ماحول نے رولا کی سوچ میں تنوع، ثقافتی ہم آہنگی اور بین الاقوامی نظریات کو فروغ دیا۔ انھوں نے اپنی ابتدائی تعلیم بیروت میں حاصل کی اور بعد ازاں اعلیٰ تعلیم کے لیے فرانس گئیں، جہاں انھوں نے سیاسیات، ترقیاتی علوم اور انسانی حقوق کا مطالعہ کیا۔
ازدواج اور سیاسی کردار
[ترمیم]رولا غنی کی ملاقات اشرف غنی سے بیروت میں امریکی یونیورسٹی آف بیروت کے دوران ہوئی، جہاں دونوں تعلیم حاصل کر رہے تھے۔ بعد ازاں ان کی شادی ہوئی اور وہ اپنے شوہر کے ساتھ امریکا منتقل ہوئیں، جہاں غنی نے عالمی بینک اور اقوام متحدہ کے اداروں میں ذمہ داریاں نبھائیں۔
2001ء کے بعد جب افغانستان میں نئی سیاسی تبدیلیاں آئیں تو رولا غنی نے بھی افغانستان واپسی اختیار کی۔ افغانستان میں بحیثیت خاتون اول ان کا کردار نمایاں رہا۔ وہ خواتین کے حقوق، تعلیم، پناہ گزینوں کے مسائل، معذور افراد کے حقوق اور سماجی پالیسیوں کے لیے سرگرم رہیں۔ ان کا دفتر "آفس آف دی فرسٹ لیڈی" پہلی مرتبہ رسمی شکل میں قائم کیا گیا، جس میں افغان خواتین کے لیے فلاحی پراجیکٹس اور اصلاحاتی تجاویز مرتب کی گئیں۔
عوامی تاثر
[ترمیم]رولا غنی افغان معاشرے میں ایک منفرد شخصیت کے طور پر جانی جاتی ہیں، خصوصاً اس وجہ سے کہ وہ افغانستان کی پہلی غیر افغان، غیر مسلمان خاتون اول تھیں۔ کچھ حلقوں نے ان کی موجودگی کو رواداری اور عالمی سوچ کی علامت قرار دیا، جبکہ بعض قدامت پسند طبقات نے انھیں افغان روایات سے دور تصور کیا۔ اس کے باوجود افغانستان کے شہری حلقوں اور عالمی اداروں میں وہ خواتین کے حقوق کی ایک مضبوط آواز سمجھی جاتی رہیں۔
حوالہ جات
[ترمیم]- ↑ "AUB Couples"۔ 150.aub.edu.lb۔ اخذ شدہ بتاریخ 2017-11-26
{{حوالہ ویب}}:|عنوان=میں 4 کی جگہ line feed character (معاونت) - ↑ Saadah Rula (26 نومبر 1974)۔ "The shaping of British policy in Iraq, 1914-1921"۔ اخذ شدہ بتاریخ 2017-11-26
{{حوالہ رسالہ}}: الاستشهاد بدورية محكمة يطلب|دورية محكمة=(معاونت) و|عنوان=میں 4 کی جگہ line feed character (معاونت) - ↑ "Rula Ghani, the woman making waves as Afghanistan's new first lady"۔ The Guardian۔ 7 نومبر 2014۔ اخذ شدہ بتاریخ 2014-11-07
{{حوالہ خبر}}:|عنوان=میں 5 کی جگہ line feed character (معاونت) - ↑ "Al Arabiya: Afghan first lady in shadow of 1920s queen?"۔ اخذ شدہ بتاریخ 2017-11-26
{{حوالہ ویب}}:|عنوان=میں 3 کی جگہ line feed character (معاونت)، نامعلوم پیرامیٹر|آرکائیو تاریخ=رد کیا گیا (معاونت)، وپیرامیٹر|آرکائیو یوآرایل=|آرکائیو تاریخ=درکار (معاونت)
- 1948ء کی پیدائشیں
- افغان مسیحی
- افغانستان کی خواتین اول
- بقید حیات شخصیات
- ریاستہائے متحدہ کو لبنانی تارکین وطن
- لبنانی مارونی
- جامعہ کولمبیا کے فضلا
- امریکن یونیورسٹی بیروت کے فضلا
- مارونی
- بیروت کی شخصیات
- قومی راہنماؤں کی ازواج
- سائنسز پو کے فضلا
- بیسویں صدی کی افغان خواتین
- اکیسویں صدی کی افغان خواتین
- لبنانی خواتین
- بیسویں صدی کی لبنانی شخصیات
- اکیسویں صدی کی لبنانی شخصیات
- لبنانی شخصیات
- امریکی شخصیات

