رحمان بابا

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
رحمان بابا
Rahman baba - pukhtoogle.jpg
رحمان بابا کی خیالی تصویر
مقامی نام رحمان بابا
پیدائش 1653 عیسوی (1064 ہجری)

بہادر کلے، ہزارخوانی، پشاور، مغلیہ سلطنت (اس وقت خیبر پختونخوا، پاکستان)
وفات 1711 عیسوی (1123 ہجری) (عمر 57–58)

پشاور
آخری آرام گاہ پشاور، پاکستان
نسل پشتون

پشتو کے عظیم صوفی شاعر عبد الرحمن(1632-1711ء) مہمند قبیلے کی ایک شاخ غوریہ خیل سے تعلق رکھتے تھے۔ پشاور کے قریب بہادر کلی میں پیدا ہوئے۔ اپنے زمانے کے معتبر علما سے فقہ اور تصوف کی تعلیم حاصل کی۔ پشتون شاعری کے حافظ شیرازی کہلاتے ہیں۔ آ پ کا کلام تصوف کے رموز و عوامض سے مملو ہے۔ مجموعہ کلام دیوان کے نام سے شائع ہو چکا ہے۔ اس میں پانچ ہزار کے قریب اشعار ہیں۔ مزار پشاور کے جنوب میں ہزار خوانی کے مقام پر واقع ہے۔

ابتدائی حالات[ترمیم]

پشتو کے عظیم صوفی شاعر رحمان باباؒ ایک غریب گھرانے میں پیداہوئے تھے۔ آپ ؒکے ابتدائی حالات کی زیادہ تفصیل نہیں ملتی۔ البتہ کہا جاتا ہے کہ آپ خوشحال خٹک کے ہم عصر تھے۔ آپ ؒکا اصل نام عبد الرحمن تھا لیکن رحمان باباؒ کے نام سے مشہور ہوئے۔ آپ ؒنسلاً مہمند قبیلے کی ایک شاخ غوریہ خیل سے تعلق رکھتے تھے، آپؒ کے والد کا اسم گرامی عبد الستار تھا جو ایک روایت کے مطابق اپنے علاقے کے ایک متمول خان تھے جو بہادر کلی میں رہتے تھے۔ یہ گاؤں پشاور سے جنوب کی طرف پانچ میل کے فاصلے پر اُس سڑک پر واقع ہے جو کو ہاٹ کو جاتی ہے۔ رحمان باباؒ کی ولادت لگ بھگ 1042ہجری بمطابق 1632ء میں پشاور کے قریب بہادر کلی میں ہوئی۔ آپؒ نے ملّامحمد یوسف زئی سے تصوف وفقہ کی تعلیم حاصل کی پھر کوہاٹ تشریف لے گئے اور وہاں کے مختلف علما سے تعلیم حاصل کی۔ آپ ؒجوانی ہی سے زہدوریاضت کی طرف مائل تھے اور دنیا اور اہل دنیا سے ابتداہی سے بے نیاز تھے۔ عبد الرحمان نوجوانی ہی میں فقیری اور تصوف کی طرف مائل تھے۔ علم دین حاصل کی۔ اس لیے بڑے خان کا یہ بیٹا ملا اور صوفی کہلایا۔ آپ اسلامی تعلیمات کے بڑے عالم اور متقی انسان تھے یہی وجہ ہے کہ پشتونوں میں ان کا بہت احترام رہا ہے اور اسی احترام کی وجہ سے انہیں ’’بابا‘‘ کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔

شاعری[ترمیم]

عبدالرحمن مہمند کی شاعری

آپ کی شاعری کو پشتو کی اعلیٰ شاعری میں شمار کیا جاتا ہے۔ آپ مشہور پشتون شاعر اور بہادر جنگجو خوشحال خان خٹک کے هم عصر ہیں۔ اور آپ نے ہر قسم کے فلسفہ اور علم کو اپنی شاعری میں بیان کرنے کی کوشش کی ہے۔ آپ کا ایک شعر:

؎کہ رڼا دہ پیروی د محمدﷺدہ
ګڼہ نشتہ پہ جہان بلہ رنڑا

یعنی اگر اس جہان میں اگر کوئی ہدایت اور پیروی کے لائق روشنی ہے تو وہ صرف محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات اقدس کی راہ ہے۔ ورنہ اس جہاں میں اس کے علاوہ کوئی روشنی والا راستہ نہیں ہے۔

اپنے نام کی مناسبت سے شعر[ترمیم]

رحمان بابا لوگوں میں رحمان کے نام کے نام سے مشہور تھے اور ہے اس لیۓوہ کہتے ہیں

ما رحمان تہ چی رحمان وائی کافر دی
زہ رحمان دخپل رحمان عبد الرحمان یم

مجھ رحمان کو اگر کوئی رحمان کہے تووہ کافر ہے میں رحمان تو اپنے رب کا عبد الرحمان(اللہ کا بندہ)ہو ں-

رحمان بابا کی شاعری[ترمیم]

رحمان بابا فرماتے ہیں کہ

انسانيت سه په دولت نه دے رحمانه بت که سرو زرو نه جوړ کړے انسان نه دے

انسانیت دولت سے پیدا نہیں ہوتی اے رحمان بت سونے کا ہو توبھی انسان نہیں بن جاتا

کر د ګلو ګړه چي سيمه دے ګلزار شي اغزي مه کره په پښو کي به دے خار شي

پھولوں کی فصل اگاؤ کہ راستے گلزار ہو جائیں کانٹے مت بوؤ کہ پیروں میں چبھیں

دمکې په بزرګۍ کي هیڅ شک نشته ولي خر به حاجي نشي په طواف

کعبہ کی بزرگی میں مجھے کوئی شک نہیں لیکن گدھا طواف سے حاجی نہیں بن جاتا

عقل مه غواړه رحمانه بخت دي خه وي عقل منده ده بختاورو غلامان وى

الله سے بخت مانگو عقل مت مانگو اے رحماؔن کیونکہ عقلمند اکثر بخت والوں کے غلام ہوتے ہیں

د زړه راز به یار ته نه وایی رحمانه هغه یار به یار لری تا به رسوا کړی

رحماؔن اپنے دل کا راز اپنے یار کو نہیں بتانا اس یار کا بھی کوئی یار ہوگا جو تمہیں رسوا کر دے گا

کوهے مه کنه دبل سړي په لار کښې چې هم ستابه دکوهي په غاړه

کسی کے راستےمیں گڑھا مت کھودو!! کہیں اس میں خود ہی نہ گر جاؤ

که ته نه کړې په بل چا باندې غرض بل به نه کاندي په تا باندې غرض
خلوتيان په خپل خلوت کې فراغت دی د رسوا دی په رسوا باندې غرض
دا دنیا په احمقانو ده ودانه دانا نه کا په دنیا باندې غرض
زه رحمان د عشق په درد کی هسې خوښ یم چې مې نشته په دوا باندې غرض

نہ رکھ کوئی دنیا سے بے جا غرض کوئی تجھ سے رکھے گا پھر کیا غرض

یہاں ترکِ دنیا میں ہے عافیت کہ رُسوا سے رکھتا ہے رُسوا ہی غرض

یہ دنیا تو ہے احمقوں سے بھری کہاں اس سے رکھتا ہے دانا کچھ غرض

وہ آسودہ ہے لذتِ درد سے رحماؔن کو دواؤں سے ہے کیا غرض

ته چه ماته وایی چه په څه کوې ژړا نه درمعلومیږې دغه خپل جور و جفا
ته چه جور و جفا کړې زه ژړه کوم دلبر ستا که دغه نه وی دا به هم نه وه ځما

تم مجھ سے پوچھتے ہو میرے آنسوؤں کے متعلق لیکن میرے دل کو نہیں دیکھا، جو بے وفا نہیں

اس نے محبت میں تگ و تاز کی کیا کیا وحشتیں سہیں بس اس غم سے میرے آنسو بہنے ہی والے ہیں

ساقي جام د باده راوړه چه بيخود شمخداي ځوك مه كږه په خودۍ كښي محبوس
رحمان حسن د يار وينم په پرده كښينه پټيږي نور د شمع په قانوس

خودی کے ہوش اُڑ جائیں وہ مے پلا اے ساقی میں ایک عمر سے اپنی خودی میں ہوں محبوس

غیب میں بھی حضوری ہے یار کی رحمان کہ روک سکتا نہیں نورِ شمع کو فانوس

رحمان بابااور اخلاص[ترمیم]

اخلاص کے حوالے سے عبد الرحمن بابا کے دیوان میں ایک پوری نظم موجود ہے۔ اس نظم کو پڑھ کر اندازہ ہوتا ہے رحمان بابا نے نبی کریم ۖ کی مشہور حدیث اعمال کا دارومدار نیت پر ہوتا ہے کے مفہوم پر بیان اخلاص کے بغیر ہر قسم کے عمل کو بے کار قرار دیا ہے کوئی عمل کتنا ہی اچھا کیوں نہ ہو لیکن نیت درست نہ ہو تو بیکار چلا جاتا ہے۔ جو عمل خالص اللہ پاک کی رضا اور اس کی خوشنودی کے لیے کیا جائے وہ مبنی بر اخلاص ہے :

ګوره څه بلند مقام دي د اخلاصچه جهان واړه غلام دي د اخلاص
که له زمکي و آسمان ته خاته ګران ديدا سفر په یوه ګام دي د اخلاص
څه عجب دي له هما ئې په دام نښليهر صیاد څخه چه دام دي د اخلاص
د رحمان کلام په دا سبب شیرین ديچه ئې هر کلام کلام دي د اخلاص

ہم دوشِ ثریا ہے بلند مقامِ اخلاص لیکن جہاں میں کم ملتے ہیں غلامِ اخلاص

بے وقوف ہے جو جنت کو آسمان میں ڈھونڈتا ہے اس کا سفر تو اخلاص کے چند قدموں سے ہوتا ہے

عجب نہیں کہ صیاد کو ہما ہاتھ لگ جائے گر وہ بھی پھیلائے محبت سے دامِ اخلاص

میری شیرنی گفتار پر حیرت کیسی ہے گفتہء رحمان کلامِ اخلاص

رحمان بابا اور مجاز[ترمیم]

رحمان بابا فرماتے ہیں کہ

زہ رحمن چې يار ووينم وايم خدايہ خېرکړېگډہ ښاپېرۍ دہ د بني آدم لـہ زاتـه
زہ رحمـن پـہ خلـقـو د زلـفـو بـنـد يـملا د پاسہ سور پېـزوان او بلـہ نتـه
معشـوقـہ ک د خپـل سـر پـہ بهـا مـومـيو رحمـن و تـہ وړيـا دہ بهـانـہ ده
هم نغمې کانـدي هـم رقـص او هـم خـانـديد رحمـن پہ شعـر تُـرکـی د بـاگـرام
سهل کار دی کـہ رحـمـن پـہ زړہ ازار شـيچـې خاطرر د هغې مستې آزار نـہ شـه
ارغـوانـي جـامـې چـې اغونـدي رحـمـانـہبيا ئې جوړ کړہ ستا د قتل اسبابونه

رحمان بابا اور دنیا[ترمیم]

هوښيار مہ گڼہ هوښيار ددې دُنيابې وقوف دی وقوف دار د دې دُنيا
روښنائي پہ هغو زړونو دہ حرامچې پرې کښېني گرد غُبار د دې دُنيا

رحمان بابا عشق رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم میں گُم رہتے تھے انہیں دنیا کی کوئی فکر نہیں ہوتی تھی انہوں نے دنیا کے متعلق مزید کہا ہے کہ :

څوک دې راکاندي قسم پہ کردگارک درهم لرم پہ کور کې يا دينار

رحمان بابا نے دنیاوی مال و دولت کے بارے میں کہا ہے کہ:

زہ دينار او درهم نہ لرم پہ کور کېولې نور عالم مې بولي دُنيا دار
هم پہ دا چې نہ لہ ځايہ چېرتہ خوځمنہ د هېڅ يوہ مخلوق يم منت بار

رحمان بابا کی شاعری دنیا کو ترک کرنے اور مکمل تسلی بخش شاعری ہے:

دا دُنـــيــا دہ بــې وفــابـې وفـا دہ بـې وفـا
نہ ئې مـخ شتہ نہ ئې څټ شتہلـکـہ لـوټـہ د صحـرا
پـہ يـوہ گــړۍ ئـې مــخ ويپہ يـوہ گـړۍ ئـې شـا
خدائ څوک پېښ مہ کړہ رحمانہپـہ دا هـسـې رنـگ بلا

حوالہ جات[ترمیم]