حافظ شیرازی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
حافظ شیرازی
Mohammad Shams al-Din Hafez.jpg 

معلومات شخصیت
پیدائش سنہ 1325[1][2][3]  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ پیدائش (P569) ویکی ڈیٹا پر
شیراز  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام پیدائش (P19) ویکی ڈیٹا پر
وفات سنہ 1389 (63–64 سال)[3][1][2]  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ وفات (P570) ویکی ڈیٹا پر
شیراز  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام وفات (P20) ویکی ڈیٹا پر
شہریت آل مظفر  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں شہریت (P27) ویکی ڈیٹا پر
عملی زندگی
پیشہ شاعر،  غنائی شاعر  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں پیشہ (P106) ویکی ڈیٹا پر
پیشہ ورانہ زبان فارسی،  تاجک زبان  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں زبانیں (P1412) ویکی ڈیٹا پر
مؤثر ابن عربی،  سنائی غزنوی،  انوری،  نظامی گنجوی،  افضل الدین خاقانی،  شیخ فرید الدین عطار،  حسین بن منصور حلاج  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مؤثر (P737) ویکی ڈیٹا پر

حافظ محمد شیرازی (پیدائش: 1315ء— وفات: 1390ء) فارسی کے عظیم ترین شاعر ہیں۔

ابتدائی زندگی[ترمیم]

حافظ کا نام محمد ،لقب شمس الدین اور تخلص حافظ تھا۔ حافظ نے خود اپنا نام یوں تحریر کیا ہے : محمد بن المقلب بہ شمس الحافظ الشیرازی۔ حافظ کے سال ولادت کے بارے میں محققین کا نقطہ نظر ایک دوسرے سے مختلف ہے۔ انسائکلو پیڈیا آف اسلام میں تحریر ہے کہ حافظ آٹھویں صدی کے آغاز میں پیدا ہوئے۔ آقای نفیسی نے حافظ کا سال پپیدائش 726 ہجری سے 729 ہجری کے درمیان قرار دیا ہے۔ مختلف شہادتوں کی بنیاد پر حافظ کا سال ولادت 726 ہجری مانا جاتا ہے۔ حافظ شیرازی کا ایک بیٹا 764 ہجری میں فوت ہوا۔ اس وقت حافظ کی عمر 37 سال تھی۔ اس سے نتیجہ نکلتا ہے کہ حافظ کا سال ولادت 726 ہجری ہے۔ اس طرح حافظ کا سال وفات 792 ہجری تحریر کیا گیا ہے۔ اس طرح وفات کے وقت حافظ کی عمر 65 سال تھی۔ حافظ کے دادا کا لقب غیاث الدین اور باپ کا لقب بعض تذکرہ نگاروں نے بہاءلدین اور بعض نے کمال لدین تحریر کیا ہے۔

عبد النبی نے "" میخانہ عبد النبی "" میں لکھا ہے کہ حافظ کا والد اصفہان میں رہتا تھا۔ بعد میں اپنا وطن چھوڑ کر تجارت کی غرض سے اہل و عیال کے ساتھ شیراز آن بسا۔ حافظ کی والدہ کازرونی تھی اور شیراز میں دروازہ کازرون میں رہتی تھی۔ والد کی وفات پر خواجہ کی ماں اور دو بھائی باقی رہ گئے۔ بھائیوں میں حافظ سب سے چھوٹے تھے۔ ان کے بڑے بھائی خواجہ خلیل عادل 775 ھجری میں وفات پا گئے جبکہ دوسرا بھائی ماں اور بھائی کو تنہا چھوڑ گیا۔ حافظ خمیر گیری کرکے روزی کماتا اور فرصت کے وقت قریبی مدرسے میں تعلیم حاصل کرتا۔ انہوں نے بعد میں شیراز کے نامور اساتذہ سے متداولہ علوم حاصل کیے اور قرآن مجید حفظ کیا اور اسی نسبت سے حافظ تخلص اپنایا۔ آپ نے الہیات، تفسیر ،فقہ اور حکمت کا مطالعہ کیا۔ علم ہندسہ اور موسیقی سے بھی آپ کو بہت لگاؤ تھا۔ آپ کے معاصر اور ہم درس نے آپ کو مولانا الاعظم، استاد تحاریرالادباء اور فخرالعلماء کے ناموں سے یاد کیا ہے۔

دورِ حافظ[ترمیم]

حافظ شیرازی کی زندگی کا زمانہ 726 سے 792 ہجری شمار کیا جاتا ہے۔ یہ ایران میں جنگ و جدال اور ناآرامی کا زمانہ تھا۔ تیموری حملوں کے نتیجے میں ایران کی بستیاں تباہ و برباد ہو گئیں۔ اس کے باوجود علما اور شعرا علمی اور عرفانی محفلیں برقرار رکھتے تھے۔ حافظ نے شیخ مجدالدین، شیخ بہاؤالدین، سید شریف جرجانی اور شمس الدین عبد اللہ شیرازی سے استفادہ کیا۔ انہیں شیراز سے بے حد محبت تھی اسی لیے انہوں نے مصلی اور رکن آباد سے دوری اختیار نہ کی۔ اپنی پوری زندگی میں یزد اور ہرمز کی جانب دو مختصر سفر کیے جو ان کے لیے خوشگوار نہ تھے۔ دیوان حافظ سے یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ ان کے اہل و عیال بھی تھے جن کی رفاقت میں وہ اپنے دکھ بھول جایا کرتے تھے۔ ان کا ایک بیٹا ان کی زندگی میں ہی فوت ہو گیا مگر اس کے باوجود ان کے دل سے اپنے گھر اور اہل خانہ کی محبت کم نہ ہوئی۔

برصغیر[ترمیم]

حافظ دربار سے بھی وابستہ رہے۔ ابو اسحاق نے 743 ھجری میں شیراز پر حکومت قائم کر لی۔ وہ حافظ سے ہمیشہ مربیانہ سلوک کرتا تھا اور بہت مہربانی سے پیش آتا تھا۔ ایران کے بادشاہوں کے علاوہ برصغیر کے سلاطین بھی حافظ کے کلام کو عزت کی نگاہ سے دیکھتے تھے۔ محمود شاہ دکنی نے حافظ شیرازی کو اپنے دربار میں آنے کی دعوت دی حتی محمود شاہ نے اس کے لیے زاد راہ بھی ارسال کیا مگر شیراز کی محبت آڑے آئی اور سفر کی صعوبتوں سے فرار کے لیے حافظ نے وہاں حانے کا ارادہ ترک کر دیا اور محمود شاہ کی خدمت میں ایک غزل لکھ کر ارسال کر دی۔

انتقال[ترمیم]

حافظ نے 791 ہجری میں شیراز کے مقام پر وفات پائی اور مصلی کے مقام پر دفن ہوئے۔ ان کا مزار ہر خاص و عام کی زیارت گاہ ہے ۔

نمونہ کلام[ترمیم]

پیش از اینت بیش از این اندیشهٔ عشّاق بودمهرورزی تو با ما شهرهٔ آفاق بود
یاد باد آن صحبت شب‌ها که با نوشین‌لبانبحث سرّ عشق و ذکر حلقهٔ عشّاق بود
پیش از این کاین سقف سبز و طاق مینا برکشندمنظر چشم مرا ابروی جانان طاق بود
سایهٔ معشوق اگر افتاد بر عاشق چه شدما به او محتاج بودیم او به ما مشتاق بود
حسن مهرویان مجلس گرچه دل می‌برد و دینبحث ما در لطف طبع و خوبی اخلاق بود
شعر حافظ در زمان آدم اندر باغ خلددفتر نسرین و گل را زینت اوراق بود

تصانیف[ترمیم]

حافظ کی زندہ جاوید تصنیف اس کا دیوان ہے جو غزلیات، قصائد ،قطعات اور رباعیوں پر مشتمل ہے۔ یہ دیوان انہوں نے خود مرتب کیا بلکہ ان کے معاصر محمد گل اندام نے ترتیب دیا۔ مگر افسوس کی بات یہ ہے محمد گل اندام کا مرتب کردہ دیوان بھی آج موجود نہیں۔ اس کے علاوہ حافظ نے تفسیر قرآن بھی تحریر کی۔ محمد گل اندام کے بقول حافظ شیرازی نے کشاف اور مصباح کے حواشی بھی تحریر کیے

حوالہ جات[ترمیم]

  1. ^ ا ب مکمل کام یہاں دستیاب ہے: http://www.larousse.fr/encyclopedie/ — اخذ شدہ بتاریخ: 24 مئی 2018 — عنوان : Encyclopédie Larousse en ligne
  2. ^ ا ب مکمل کام یہاں دستیاب ہے: http://www.larousse.fr/encyclopedie/ — اخذ شدہ بتاریخ: 24 مئی 2018 — عنوان : اوپن ڈیٹا پلیٹ فارم — اجازت نامہ: آزاد اجازت نامہ
  3. ^ ا ب مکمل کام یہاں دستیاب ہے: http://www.larousse.fr/encyclopedie/ — اخذ شدہ بتاریخ: 24 مئی 2018 — خالق: گیٹی ریسرچ انسٹی ٹیوٹ نقص حوالہ: نادرست <ref> ٹیگ؛ نام "8cf7de326f7c345b5dfbcbb693751ae6f04989bd" مختلف مواد کے ساتھ کئی بار استعمال ہوا ہے۔