پشتو زبان

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش
پشتو ( پښتو)
پښتو بہ خطِ نستعلیق
The Pashto.png
مستعمل صوبہ خیبر پختونخوا اور صوبہ بلوچستان (پاکستان)، افغانستان
خطہ جنوبی ایشیاء
کل مکلمین 65 ملین
خاندان_زبان ہند-یورپی
  • ہند-ایرانی
    • ایرانی
      • مشرقی-ایرانی
        • پشتو ( پښتو)
خطات عربی (ترمیم شدہ)
باضابطہ حیثیت
باضابطہ زبان افغانستان، پاکستان
نظمیت از پښتو اکېڈیمی
رموزِ زبان
آئیسو 639-1 ps
آئیسو 639-2 pus
آئیسو 639-3

پشتو جسے مقامی طور پر پښتو لکھا جاتا ہے، پاکستان کی ایک صوبائی زبان اور افغانستان کی قومی زبان ہے۔ اسے پختو بھی کہتے ہیں۔ یہ ایک ہند۔ایرانی زبان ہے۔ اسے ہندی میں پٹھانی اور فارسی او عربی میں افغانی کے نام سے پہچانا جاتا ہے۔ یہ افغانستان میں 35 سے 60 فیصد جبکہ پاکستان میں 15 سے 25 فیصد لوگوں کی مادری زبان ہے اور پاکستان میں پنجابی کے بعد دوسری سب سے بڑی زبان ہے.پشتو افغانستان کی سرکاری اور قومی زبان بھی ہے. اِسی وجہ سے اِسے بین الاقوامی حیثیت حاصل ہے۔پشتو تاریخی لحاظ سے اردو سے بہت پہلے وجود میں آئی تهی بلکہ اردو کے بے شمار الفاظ جو فارسی میں بھی استعمال ہوتے ہیں اس زبان سے لئے گئے تھے۔. اس کے علاوہ رسول اللہ کے زمانے میں بهی اس زبان کا ثبوت اس واقعے سے ملتا ہے کہ خالد بن ولید نے ایک پشتون صحابی قیس عبدالرشید کو رسول اللہ سے ملایا. [1]

لہجے[ترمیم]

کئی وجوہات کی بناء پر پشتو کی بے شمار بولیاں ہیں. تاہم، مجموعاً پشتو کی اصل میں دو لہجے ہیں: نرم یا مغربی لہجہ اور سخت یا مشرقی لہجہ. اِن دونوں بولیوں میں فرق کچھ حروفِ علّت اور آوازوں کا استعمال ہے.
قندہار کی بولی سب بولیوں میں معتدل ہے. یہ لہجہ عرصہ دراز سے اپنی اصل حالت برقرار رکھے ہوئے ہے.

جغرافیائی تقسیم[ترمیم]


پاکستان میں پشتو بولنے والے زیادہ تر پاکستان کے مغربی علاقوں جیسے صوبہ خیبر پختونخوا ، وفاق کے زیرِ انتظام قبائلی علاقہ جات اور بلوچستان میں ہیں۔ اس کے علاوہ پشتو بولنے والے گروہ سندھ کے بڑے شہروں جیسے حیدرآباد اور کراچی میں بھی آباد ہیں بلکہ سب سے زیادہ اگر پشتو کسی شہر میں بولی جاتی ہے تو وہ کراچی ہے جہاں پشاور سے بھی زیادہ لوگ پشتو بولتے ہیں، کراچی میں 7 ملین پشتو متکلمین آباد ہیں[2] .اسی طرح پاکستان کے صوبہ پنجاب میں پشتو بولنے والے افراد میانوالی،اٹک ،ڈیرہ غازی خان اور شمال مغربی پنجاب کے دیگر علاقوں میں آباد ہیں اور صوبائی دارالحکومت لاہور میں بهی پشتو بولنے والے ہیں۔

افغانستان میں پشتو سب سے بڑی زبان ہے جو تقریبا 42 فیصد سے بھی زیادہ افراد کی مادری زبان ہے۔پشتو افغانستان کی دفتری زبان ہے جس کی وجہ سے اسے ایک بین الاقوامی حیثیت حاصل ہے۔کچھ ذرائع کے مطابق پشتو افغانستان کی 55 سے 60 فیصد لوگ بولتے ہیں۔افغان جنگ کے دوران 7 ملین سے زائد پشتون افغان پاکستان آئے ہیں جن کا شمار پاکستانی مردم شماری میں نہیں کیا گیا تھا۔

دفتری حیثیت[ترمیم]

پښتو زبان (بمع فارسی) افغانستان کی سرکاری، دفتری اور قومی زبان ہے. یہ ایک سماجی اور ثقافتی ورثے کا خزانہ بھی ہے.

صرف و نحو[ترمیم]

پشتو فاعل-مفعول-فعل زبان ہے. صفت اسم سے پہلے آتا ہے. ہر جنس (مذکر/مؤنث)، اعداد (جمع/واحد) وغیرہ کے لئے الگ الگ صفت اور اسم استعمال کئے جاتے ہیں.

ذخیرہ الفاظ[ترمیم]

پشتو زبان زمانۂ قدیم سے دوسری زبانوں جیسے فارسی اور سنسکرت سے الفاظ لیتی رہی ہے. دوسری تہذیبوں اور گروہوں کے ساتھ تعلقات کی وجہ سے پشتو میں قدیم یونانی، عربی اور ترکی زبان کے بھی الفاظ ہیں. جدید الفاظ انگریزی سے لئے گئے ہیں.

تحریری نظام[ترمیم]

جنوب مرکزی ایشیاء میں طلوعِ اسلام کے بعد پشتو عربی رسم الخط کا ایک ترمیم شدہ نسخہ استعمال کرتی ہے. سترہویں صدی عیسیوی سے کئی رسم الخط استعمال کئے گئے. لیکن سب سے زیادہ نسخ رسم الخط کو ترجیحی بنیادوں پر استعمال کیا گیا. پښتو رسم الخط میں کئی ایسے حروف ہیں جو عربی کے کئی رسم الخطوط، جو دوسری زبانوں جیسے عربی، اُردو اور فارسی کے لئے استعمال کئے جاتے ہیں، اُن میں موجود نہیں. پشتو میں فارسی رسم الخط کا حرف ‘‘پ’’ (عربی رسم الخط میں اضافہ) بھی استعمال ہوتا ہے.

پښتو حروفِ تہجّی[ترمیم]

پشتو کے حروفِ تہجّی درج ذیل ہیں:
ا ب پ ت ټ ث ج ځ چ څ ح خ د ډ ذ ر ړ ز ژ ږ س ش ښ ص ض ط ظ ع غ ف ق ک ګ ل م ن ڼ ه و ى ئ ي ې ۍ

حروف صرف پښتو کیلئے مخصوص[ترمیم]

درج ذیل حروف صرف پشتو میں استعمال کئے جاتے ہیں:
ټ، ځ، څ، ډ، ړ، ږ، ښ، ګ ڼ، ې ،ۍ

پښتو کے پانچ ‘‘یا’’[ترمیم]

درج ذیل وہ پانچ ‘‘یا’’ ہیں جو پشتو تحریر میں استعمال ہوتے ہیں:
ی، ي، ې، ۍ، ﺉ

مثالیں[ترمیم]

نوٹ: درج ذیل میں پښتو کا یوسفزئی لہجہ استعمال کیا گیا ہے.
امر یا حکم (مذکر واحد):

  • پشتو: مدرسے تہ لاړ شه یا مدرسے ته ځه
  • اُردو: مدرسے جاؤ!

امر یا حکم (مؤنث واحد):

  • پشتو: ښونّّّځي ته لاړہ شه
  • اُردو: مدرسے جاؤ!

فعل حال ساده:

  • پشتو: زه ښونځی ته ځم
  • اُردو: میں مدرسے جاتا ہوں.

فعل حال مطلق:

  • پشتو: زه ښونځی ته تللی یم
  • اُردو: میں مدرسے جاچکا ہوں.

فعل ماضی ساده:

  • پشتو: زۀ مدرسے ته لاړم
  • اُردو: میں مدرسے گیا.

فعل ماضی مطلق:

  • پشتو: زۀ مدرسے ته تلے ووم
  • اُردو: میں مدرسے جاچکا تھا.

فعل ماضی عادی:

  • پشتو: زۀ به مدرسے ته تلم
  • اُردو: میں مدرسے جایا کرتا تھا.

مثالیں برائے استعمالِ فعل ‘‘کھانا’’:
فعلِ امر (حاضر واحد) :

  • پشتو: کُچ اوخورہ !
  • اُردو: مکھن کھاؤ !

فعلِ امر (حاضر جمع) :

  • پشتو: کُچ اوخورۍ !
  • اُردو: مکھن کھائیے !

مزید دیکھیے[ترمیم]

بیرونی روابط[ترمیم]

  1. ^ Meaning and Practice, Afghanistan Country Study: Religion, Illinois Institute of Technology (retrieved 18 January 2007).
  2. ^ http://www.pbs.org/frontlineworld/rough/2009/07/karachis_invisi.html