پشتو زبان

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش
پشتو ( پښتو)
پښتو بہ خطِ نستعلیق
The Pashto.png
مستعمل صوبہ خیبر پختونخوا اور صوبہ بلوچستان (پاکستان)، افغانستان
خطہ جنوبی ایشیاء
کل مکلمین 65 ملین
خاندان_زبان ہند-یورپی
  • ہند-ایرانی
    • ایرانی
      • مشرقی-ایرانی
        • پشتو ( پښتو)
خطات عربی (ترمیم شدہ)
باضابطہ حیثیت
باضابطہ زبان افغانستان، پاکستان
نظمیت از پښتو اکېڈیمی
رموزِ زبان
آئیسو 639-1 ps
آئیسو 639-2 pus
آئیسو 639-3

پشتو زبان کی قدامت[ترمیم]

پٹھانوں کے دو گروہ ہیں۔ ایک گروہ کا کہنا ہے کہ پشتو آریوں سے پہلے کی زبان ہے۔ جب کہ دوسرے گروہ کا کہنا ہے کہ یہ عبرانی کی بگڑی ہوئی شکل ہے۔ جب کہ دوسر غیر جانب دار ماہرین اسے آریائی زبان قرار دیتے ہیں۔ لہذا اس پر تفسیلی بحث کی ضرورت ہے۔

پروفیسر پری شان خٹک لکھتے ہین کہ پشتو زبان کی قدامت ہزاروں سال تک پہنچتی ہے۔ مگر پشتو شاعری کا تحریری ثبوت 138 میںپہلی بار ہاتھ آیا ہے۔ مولانا عبدالقادر کا کہنا ہے کہ پشتو ہند آریا زبانوں کی ماں ہے اس لئے لب و لہچہ اور صوتیات میں یہ عربی و عبرانی زبانوں سے یعنی سامی زبانوں سے مختلف ہے۔

قیاس کہتا ہے پشتو جس دور سے گزری اور جیسے رنگ میں رہی ہے یقینا وقت وقت کے مختلف لہجوں میں بولی گئی ہو گی اور وقت وقت کے مختلف خطوں میں لکھی گئی ہوگی ۔ اس خیال کی اس بات سے بھی تقویت ملتی ہے کہ داریوس کبیر ( 516 ق م ) کے سنگی کتبوں میں جو میخی خط میں کندہ کیئے گئے ہیں ۔ تین جملے پشتو سے اس قدر مشابہ ہیں کہ خالص پشتو معلوم ہوتے ہیں ۔ وہ جملے بہت ٹھورے اختلاف کے ساتھ یوں ہیں ۔

نے اُرَیکہَ آہم۔ نے دِرَوعَنہ َ۔ نے زوُر گرَ ہ آہم ( قدیم سنگی کتبہ )

نے اڑیل یم۔ نہ درو غژن یم۔ نہ زور ور یم ( پشتو صورت )

نہ اڑیل ہوں۔ دروغ گو ہوں۔ نہ جابر ہوں ( اردو ترجمہ)

ایسے ہی سنگی کتبوں کا جو خروشتی یا کسی دوسرے براہمی خط میں کندہ ہیں اور پشتونوں کے علاقے میں پائے گئے ہیں، اگر بغور و بدقت نظر مطالعہ کیا جائے تو بہت ممکن ہے کہ ان میں کسی نہ کسی شکل میں پشتو نکل آئے ۔ کیوں کہ جیسا کہ شروع میں بیان کیا جا چکا ہے، ادھر اوستا ، پہلوی اور فارسی میں ، ادھر سنسکرت ، ہندی اور دیگر ملحقہ پراکرت میں پشتو کے سیکڑوں الفاظ آج بھی پائے جاتے ہیں۔ بہر کیف باقیدہ تحریری شکل میں پشتو ادب صرف عربی رسم الخط میں سامنے آیا۔

اگر یہ اعتراف کرلیا جاتا کہ پشتو ہند آریائی کی ایک شاخ ہے تو سارے عقدے حل ہوجاتے ۔ جب کہ انہیں یہ بھی اعتراف ہے کہ صدیوں کے تغیرات سے زبانیں کچھ سے کچھ ہوجاتی ہیں ۔ اس لئے ان کا کہنا ہے کہ پشتو وقت کے ساتھ مختلف لہجوں اور خظوں میں لکھی جاتی ہوگی ۔ اس سلسلے میں داریوش کے کتبے کے تین جملوں کا بالاذکر حوالہ دیاہے ان جملوں کے بارے میں ان کا کہنا یہ ہے کہ یہ پشتو ہے۔ یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ رنگ اور لہجہ مختلف ہوگیا تو وہ پشتو کیسے ہوگئی؟ اور دارانے اپنے کتبہ میں پشتو کو قدیم فارسی کے ساتھ کیوں جگہ دی ؟ کیا پشتو اس وقت اتنی ترقی یافتہ زبان تھی کہ اس کا استعمال ایک طاقت ور حکومت نے اپنے کتبہ میںجگہ دی اور قدیم فارسی اتنی اتنی غیر ترقی یافہ تھی وہ بنیادی ضرورتوں کو یا خیالات اور افکار کو پیش کرنے سے قاصر تھی کہ وہ روز مرہ پشتو کا محتاج ہوگئی؟ نعمت اللہ ہراتی نے سب سے پہلے پٹھانوں کو یہود نسل بتایا ہے ۔ پٹھانوں کو یہود نسل کہنے والوں کا دعویٰ ہے کہ پشتو عبرانی کی بگڑی شکل ہے۔

عجیب بات ہے پشتونوں کے دونوں گروہ اس دعویٰ کے مدعی ہیں ، کہ انہوں نے آریاؤں کو تہذیب و تمذن سے آشنا کیا ۔ آپ بالاالذکر پڑھ چکے ہیں کہ آریوں نے باختریوں سے کاشتکاری اور تہذیب و تمذن سے آشنا ہوئے۔

افغانوں کو یہود نسل پر اصرار کرنے والوں دعویٰ ہے کہ پشتو سامی زبان ہے۔ مگر درج ذیل خصوصیات بتاتی ہیں کہ پشتو آریائی زبان ہے۔

  • پشتو میں نمایاں حرف ڈندانے دار ہیں ، جو آریائی زبانوں کی خصوصیت ہے اور یہ حرف ( پ ، ٹ ، چ ، ژ ، ذ ، ڑ ، گ ) سامی زبانوں میں استعمال نہیں ہوتے ہیں اور سامی قومیں ان حرف کی ادائیگی نہیں کرسکتی ہیں۔
  • پشتو میں ابتدائی حرف صیح کے ساکن کا استعمال عام ہے ۔ جب کہ سامی زبانوں میں ابتدائی حرف ساکن نہیں ہوتا ہے ۔ یہی وجہ ہے اردومیں سامی یا عربی کے زیر اثر ’ سکول ‘ کو اسکول بولتے ہیں۔
  • پشتو میں سامی زبانوں کی طرح ایک ساتھ دو ساکن حرف استعمال نہیں ہوتے ہیں ۔ یہی وجہ ہے پشتو بولنے والے درخت اور گوشت بولنے میں دشواری پیش آتی ہے ۔ وہ اسے ’ دَرخَت ‘ اور گُوشَت سے ادا کرتے ہیں۔
  • مولانا عبدالقادر کا کہنا ہے کہ ’ ث ، ح ، ذ ، ص ، ض ، ط ، ظ اور ع ‘ عربی حرف ہیں ، پشتو کے کلمہ ان حرف سے نہیں بنتے ہیں ، اگر کسی کلمہ میں ان حرف کا استعمال ہوا ہے تو کلمہ عربی ہے یا معرب۔

پشتو کا ماخذ[ترمیم]

ڈاکٹر شہید اللہ کا کہنا ہے کہ پشتو ہند یوری زبانوں کے گروہ کی ہند آریائی شاخ سے تعلق رکھتی ہے ، اور ہند آریائی کی چھوتی شاخ ایرانی سے ماخذ ہے ۔ اس میں دردی گروہ ( باشگلی ، وائے لا ، دیرون اور تیراہی وغیرہ ) کی بعض صوتی خصوصیات شامل ہیں ۔ ایک روسی مشترق وی اے ابائیف کا کہنا ہے کہ پشتو میں لثوی اصوات آریائی اصوات کا حصہ نہیں رہے ہیں ، وہ لازمی دڑاوری زبان سے ماخذ ہیں ۔ افغانستان شروع ہی سے قوموں کی گزر گاہ رہا ہے ۔ یہ قبائل چاہے مشرق کی طرف چینی ترکستان کی طرف سے آئے ہیں ، یا مغرب میں یونان ، ایران و عرب ممالک کی سے اور ان قبائل تمام نے پشتو زبان کی تشکیل میں حصہ لیا ہے ۔ ظاہر ہے ان قبائل کی مختلف زبانوں نے اپنا اثر چھوڑا ہے ۔

ترخان میں بعض اوراق ایک اور زبان کے ملے ہیں ، جسے سغدی زبان قرار دیا گیا ہے اور یہ ہند سکاتی یا سکاتی گروہ سے تعلق رکھتی ہے ، جو مشرقی ایرانی زبانیں کہلاتی ہیں جن کی نمائندگی پشتو اور پامیر کی بعض زبانیں ( سری ، قولی ، دخی وغیرہ ) کرتی ہیں ۔

سیکاتی یا سیھتی یا ساکا افغانستان کے شمالی علاقوں میں عہد قدیم سے آباد تھے ۔ یہ آریوں کے ہم نسل تھے ۔ یہ بعد کے زمانے میں افغانستان پر چھاگئے اور انہوں نے افغانستان پر حکومت بھی کی ۔ ان کی حکومتیں افغانستان سے ختم ہوگیں ، مگر ان کے اثرات افغانستان پر بدستور قائم رہے ۔ ساکاؤں کے جہاں افغانستان پر گہرے اثرات پڑے وہاں ان کے اثرات مقامی زبانوں پر بھی پڑے ۔ مثلاً پشتو میں دریا کو سین بولتے ہیں یہ بھی ساکائی کلمہ ہے ۔ آج شمالی برصغیر اور رجپوتانے کے اکثر دریاؤں نہروں اور نالوں کے نام سین ، سون اور سندھ کی شکل میں ملتے ہیں ۔

ترکی النسل قبائل میں یوچی، ہن اور ترک شامل ہیں ۔ انہوں نے اس علاقے پرطویل عرصہ تک حکومت کی ۔ ان قبائل کی حکومتیں اگرچہ برصغیر خاص کر شمالی برصغیر پر بھی قائم ہوئیں ۔ مگر وہاں ان کا تسلط زیادہ عرصہ تک قائم نہیں رہا اور دوسری اہم بات یہ ہے یہ قبائل برصغیر کی ثقافت کے زیر اثر آجانے کی وجہ سے اپنے وہ گہرے اثرات مرتب نہیں کئے ۔ جو انہوں نے افغانستان میں چھوڑے ہیں اور آج بھی بہت سے افغان قبائل ترکی النسل ہیں ۔ یہی وجہ ہے ترکی زبان کے اثرات پشتو پر بھی پڑے اور خاص کر ’ ف اور ق ‘ کا پشتو میں استعمال عام ہوا ۔

عربوں کے دور میں عربی کا نمایاں اثر پڑا اور خاص سامی یا عربی حروف کا پشتو میں استعمال ہوا ۔ اس سے پہلے یہاں ’ ث ، ح ، ڈ ، ص ، ض ط ، ظ اور ع ‘ کا استعمال یہاں کی زبانوں میں نہیں ہوتا تھا اور بہت سے عربی الفاظ یا ان کے معرب پشتو میں استعمال ہوئے ۔

پشتو آریائی کی ایرانی شاخ سے تعلق رکھتی ہے ۔ اس کے اکثر الفاظ اوستا ، فارسی اور سنسکرت کے قریب ہیں ۔ بقول جمال الدین افغانی کہ حق تو یہ ہے لوگ ایرانی الاصل ہیں اور ان کی زبان ژند و اوستا سے ماخوذ ہے اور آج کل کی فارسی سے بہت مشابہہ رکھتی ہے ۔ جدید مورخین مثلاً فرانسس فغورمان وغیرہ اس کی تعاید کرتے ہیں ۔

اس کی تعائید میں درج ذیل کچھ الفاظ پیش کئے جارہے ہیں، جس سے بخوبی اندازہ ہوتا ہے کہ پشتو آریائی زبان ہے۔

== سخر|| ہوسور || ہورسور || خسر || سسر نمر/لمر || سوریے||-||آفتاب||سورج

پشتو سنسکرت اوستا فارسی اردو معنی
ستورے ستاری ستوبہ ستارہ ستارہ
مخ مکر درکھ رخ چہرہ
شپہ جرمن شپ شب رات/شب
ژبان/ژبہ - زبان زبان
خاخ شاکھ ۔ شاخ شاخ
اُبہ آپ آپ آب پانی
سرمن چرمن جرمن چرم چنرہ/کھال
پلار پائری پتر پدر باپ
غرما گرما گر ۔ دوپہر
غوا گؤ گؤ گاؤ گائے
تاوا /کشتئی نؤ نااؤ ۔ کشتی
اسپہ اشو اسپ اسب گھوڑا
ذات جات زات زاد ذات

پشتو میانہ فارسی (پہلوی) سے قریب ہے۔ اس میں فرق ’ل‘ کا ہے۔ میانہ فارسی میں جہاں ’ر‘ استعمال ہوا ہے، وہاں پشتو میں ’ل‘ یا ’ڑ‘ استعمال ہوا ہے۔ قدیم ایرانی زبانوں (اوستا، قدیم فارسی، پہلوی) میں ’ل‘ استعمال نہیں ہوا ہے۔ پشتو میں ایرانی الفاظ کی اندورنی ’د‘ کی جگہ ’ل‘ استعمال ہوا ہے، اور ہندوستانی زبانوں کی قربت کی وجہ سے اس زبان میں کوزی حروف بھی مروج ہیں۔

پشتو فارسی اردو
پُل پُل پُد
پلار پدر باپ

ترکی النسل قبائل میں یوچی، ہن اور ترک شامل ہیں۔ انہوں نے اس علاقے پرطویل عرصہ تک حکومت کی۔ ان قبائل کی حکومتیں اگرچہ برصغیر خاص کر شمالی برصغیر پر بھی قائم ہوئیں۔ مگر وہاں ان کا تسلط زیادہ عرصہ تک قائم نہیں رہا اور دوسری اہم بات یہ ہے یہ قبائل برصغیر کی ثقافت کے زیر اثر آجانے کی وجہ سے اپنے وہ گہرے اثرات مرتب نہیں کئے۔ جو انہوں نے افغانستان میں چھوڑے ہیں اور آج بھی بہت سے افغان قبائل ترکی النسل ہیں۔ یہی وجہ ہے ترکی زبان کے اثرات پشتو پر بھی پڑے اور خاص کر ’ف اور ق‘ کا پشتو میں استعمال عام ہوا۔ ترکی النسل قبائل کا اثر پشتو کی تشکیل اور ارتقاء باعث بنا اور پشتو میں ایرانی ’گ‘ کی جگہ ’غ‘ استعمال ہوا۔ مثلاًً

ایرانی پشتو معنی
گان غان نسبتی کلمہ ہے جو کلمہ کے اسمی لاحقہ کے آخر میں آتا ہے۔
گر غر پہاڑ
گرما غرما دوپہر

دولہجے[ترمیم]

ہندآریائی زبانوں کی قربت کی سے حنکی حرف استعمال ہوتے ہیں اور یہ زبان دوحصوں میں تبدیل ہوگئی، ایک مشرقی اور دوسری مغربی۔ پشتو بولنے والے اس طرح دو طبقوں میں مستقیم ہیں ایک وہ ’ژ‘ اپنی اسی آواز کے ساتھ بولتے ہیں جو پشتو میں پائی جاتی ہیں۔ دوسرے وہ جو ’ژ‘ کی جگہ ’گ یا ج‘ بولتے ہیں۔ اس امتیاز کے لئے عام طور پر ’ژ اور ش‘ بولنے والے خٹک لہجے کے پشتون اور ’گ، ج اور خ بولنے والے یوسف زئی لہجے کے پختون کہلاتے ہیں۔

پشتو میں اس امتیاز کی فرضی لکیر اٹک سے افغانستان میں دور تک چلی گئی ہے۔ سر آلیف کیرو باالوضاحت سے بتلائی ہے کہ شمال مشرقی قبیلے پختو اور جنوب مغربی قبیلے پشتو بولتے ہیں۔ دونوں کے درمیان حد فاضل شرقاً و غرباً اٹک کے جنوب میں دریائے سندھ سے کوہاٹ اور وادی میراں زئی سے ہوتی ہوئی تل تک، وہاں سے دریائے کرم کے جنوب میں ہریوب اور درہ شترگردن تک چلی گئی ہے۔ اس حد کے شمال مشرق میں پختو بولی جاتی ہے اور یہ قبائل دیر، سوات، بنیڑ اور باجور کی زبان ہے۔ اس حد کے جنوب مغرب میں جو قبائل پشتو بولتے ہیں، ان میں خٹک، درانی اور قریب قریب (جلال آباد کے کچھ لوگوں کو چھوڑ کر) خوست، وزیرستان کے سارے قبائل بنوں، ڈیرہ جات کے قبائل اور ژوب اور بلوچستان کے دوسرے علاقے بھی جو قندھار کے قریب واقع ہیں پشتو بولتے ہیں۔

مغربی مشرقی معنی
زناور جناور جانور
سمسہ چمچہ چمچ
گژئی گلتی اولے
شیشہ خیخہ شیشہ

[1]

لہجے[ترمیم]

کئی وجوہات کی بناء پر پشتو کی بے شمار بولیاں ہیں. تاہم، مجموعاً پشتو کی اصل میں دو لہجے ہیں: نرم یا مغربی لہجہ اور سخت یا مشرقی لہجہ. اِن دونوں بولیوں میں فرق کچھ حروفِ علّت اور آوازوں کا استعمال ہے.
قندہار کی بولی سب بولیوں میں معتدل ہے. یہ لہجہ عرصہ دراز سے اپنی اصل حالت برقرار رکھے ہوئے ہے.

جغرافیائی تقسیم[ترمیم]


پاکستان میں پشتو بولنے والے زیادہ تر پاکستان کے مغربی علاقوں جیسے صوبہ خیبر پختونخوا ، وفاق کے زیرِ انتظام قبائلی علاقہ جات اور بلوچستان میں ہیں۔ اس کے علاوہ پشتو بولنے والے گروہ سندھ کے بڑے شہروں جیسے حیدرآباد اور کراچی میں بھی آباد ہیں بلکہ سب سے زیادہ اگر پشتو کسی شہر میں بولی جاتی ہے تو وہ کراچی ہے جہاں پشاور سے بھی زیادہ لوگ پشتو بولتے ہیں، کراچی میں 7 ملین پشتو متکلمین آباد ہیں[2] .اسی طرح پاکستان کے صوبہ پنجاب میں پشتو بولنے والے افراد میانوالی،اٹک ،ڈیرہ غازی خان اور شمال مغربی پنجاب کے دیگر علاقوں میں آباد ہیں اور صوبائی دارالحکومت لاہور میں بهی پشتو بولنے والے ہیں۔

افغانستان میں پشتو سب سے بڑی زبان ہے جو تقریبا 42 فیصد سے بھی زیادہ افراد کی مادری زبان ہے۔پشتو افغانستان کی دفتری زبان ہے جس کی وجہ سے اسے ایک بین الاقوامی حیثیت حاصل ہے۔کچھ ذرائع کے مطابق پشتو افغانستان کی 55 سے 60 فیصد لوگ بولتے ہیں۔افغان جنگ کے دوران 7 ملین سے زائد پشتون افغان پاکستان آئے ہیں جن کا شمار پاکستانی مردم شماری میں نہیں کیا گیا تھا۔

دفتری حیثیت[ترمیم]

پښتو زبان (بمع فارسی) افغانستان کی سرکاری، دفتری اور قومی زبان ہے. یہ ایک سماجی اور ثقافتی ورثے کا خزانہ بھی ہے.

صرف و نحو[ترمیم]

پشتو فاعل-مفعول-فعل زبان ہے. صفت اسم سے پہلے آتا ہے. ہر جنس (مذکر/مؤنث)، اعداد (جمع/واحد) وغیرہ کے لئے الگ الگ صفت اور اسم استعمال کئے جاتے ہیں.

ذخیرہ الفاظ[ترمیم]

پشتو زبان زمانۂ قدیم سے دوسری زبانوں جیسے فارسی اور سنسکرت سے الفاظ لیتی رہی ہے. دوسری تہذیبوں اور گروہوں کے ساتھ تعلقات کی وجہ سے پشتو میں قدیم یونانی، عربی اور ترکی زبان کے بھی الفاظ ہیں. جدید الفاظ انگریزی سے لئے گئے ہیں.

تحریری نظام[ترمیم]

جنوب مرکزی ایشیاء میں طلوعِ اسلام کے بعد پشتو عربی رسم الخط کا ایک ترمیم شدہ نسخہ استعمال کرتی ہے. سترہویں صدی عیسیوی سے کئی رسم الخط استعمال کئے گئے. لیکن سب سے زیادہ نسخ رسم الخط کو ترجیحی بنیادوں پر استعمال کیا گیا. پښتو رسم الخط میں کئی ایسے حروف ہیں جو عربی کے کئی رسم الخطوط، جو دوسری زبانوں جیسے عربی، اُردو اور فارسی کے لئے استعمال کئے جاتے ہیں، اُن میں موجود نہیں. پشتو میں فارسی رسم الخط کا حرف ‘‘پ’’ (عربی رسم الخط میں اضافہ) بھی استعمال ہوتا ہے.

پښتو حروفِ تہجّی[ترمیم]

پشتو کے حروفِ تہجّی درج ذیل ہیں:
ا ب پ ت ټ ث ج ځ چ څ ح خ د ډ ذ ر ړ ز ژ ږ س ش ښ ص ض ط ظ ع غ ف ق ک ګ ل م ن ڼ ه و ى ئ ي ې ۍ

حروف صرف پښتو کیلئے مخصوص[ترمیم]

درج ذیل حروف صرف پشتو میں استعمال کئے جاتے ہیں:
ټ، ځ، څ، ډ، ړ، ږ، ښ، ګ ڼ، ې ،ۍ

پښتو کے پانچ ‘‘یا’’[ترمیم]

درج ذیل وہ پانچ ‘‘یا’’ ہیں جو پشتو تحریر میں استعمال ہوتے ہیں:
ی، ي، ې، ۍ، ﺉ

مثالیں[ترمیم]

نوٹ: درج ذیل میں پښتو کا یوسفزئی لہجہ استعمال کیا گیا ہے.
امر یا حکم (مذکر واحد):

  • پشتو: مدرسے تہ لاړ شه یا مدرسے ته ځه
  • اُردو: مدرسے جاؤ!

امر یا حکم (مؤنث واحد):

  • پشتو: ښونّّّځي ته لاړہ شه
  • اُردو: مدرسے جاؤ!

فعل حال ساده:

  • پشتو: زه ښونځی ته ځم
  • اُردو: میں مدرسے جاتا ہوں.

فعل حال مطلق:

  • پشتو: زه ښونځی ته تللی یم
  • اُردو: میں مدرسے جاچکا ہوں.

فعل ماضی ساده:

  • پشتو: زۀ مدرسے ته لاړم
  • اُردو: میں مدرسے گیا.

فعل ماضی مطلق:

  • پشتو: زۀ مدرسے ته تلے ووم
  • اُردو: میں مدرسے جاچکا تھا.

فعل ماضی عادی:

  • پشتو: زۀ به مدرسے ته تلم
  • اُردو: میں مدرسے جایا کرتا تھا.

مثالیں برائے استعمالِ فعل ‘‘کھانا’’:
فعلِ امر (حاضر واحد) :

  • پشتو: کُچ اوخورہ !
  • اُردو: مکھن کھاؤ !

فعلِ امر (حاضر جمع) :

  • پشتو: کُچ اوخورۍ !
  • اُردو: مکھن کھائیے !

مزید دیکھیے[ترمیم]

بیرونی روابط[ترمیم]


  1. ^ * مولانا عبدالقار و سیّد انوار الحق ۔ پشتو ۔ معارف اسلامیہ * فارسی ۔ معارف اسلامیہ * جیمزٹاڈ ۔ تاریخ راجستان جلد اول * روشن خان ، افغانیوں کی نسلی تاریخ * سیّد جمال الدین افغانی ۔ الافغان * اشفاق احمد ۔ ہفت ابانی لغت * نعمت اللہ ہراتی ، مخزن افغانی شیر محمد گنڈا پور ۔ تاریخ پشتون* پردل خٹک : پشتو زبان * پری شان خٹک ؛ مقدمہ ۔ پشتو زبان
  2. ^ http://www.pbs.org/frontlineworld/rough/2009/07/karachis_invisi.html