جمال الدین افغانی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
جمال الدین افغانی
Jamaluddin-al-afghani.jpg 

معلومات شخصیت
پیدائش سنہ 1837[1][2] اور سنہ 1839[3]  ویکی ڈیٹا پر تاریخ پیدائش (P569) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
اسعدآباد (کنر)، افغانستان  ویکی ڈیٹا پر مقام پیدائش (P19) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
وفات 9 مارچ 1897 (59–60 سال)[4]  ویکی ڈیٹا پر تاریخ وفات (P570) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
استنبول  ویکی ڈیٹا پر مقام وفات (P20) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
مدفن صوبہ کابل  ویکی ڈیٹا پر مقام دفن (P119) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
شہریت Flag of Afghanistan (2002–2004).svg افغانستان  ویکی ڈیٹا پر شہریت (P27) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
عملی زندگی
تلمیذ خاص محمد عبدہ  ویکی ڈیٹا پر شاگرد (P802) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
پیشہ الٰہیات دان  ویکی ڈیٹا پر پیشہ (P106) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
پیشہ ورانہ زبان ترک زبان[5]، عربی، پشتو  ویکی ڈیٹا پر زبانیں (P1412) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
P islam.svg باب اسلام

مسلم رہنما۔ پورا نام سید محمد جمال الدین افغانی۔ والد کا نام سید صفدرخان۔ مشرقی افغانستان کے کنڑ صوبے کے اسعد آباد[6] میں پیدا ہوئے۔ پان اسلام ازم یا وحدت عالم اسلام و ہندو مسلم اتحاد کے زبردست داعی اور انیسویں صدی میں دنیائے اسلام کی نمایاں شخصیت تھے۔

آپ نے اسلامی ممالک کو مغربی اقتدار سے آزاد کرانے کی جدوجہد کی۔ آپ کا مقصد مسلم ممالک کو ایک خلیفہ کے تحت متحد کرکے ان کا ایک آزاد بلاک بنانا تھا۔

آپ عہد شباب میں افغانستان کے امیر محمد اعظم خان کے وزیر رہے۔ انگریزوں کی سازش سے افغانستان میں بغاوت ہوئی تو ہندوستان آ گئے۔ مگر یہاں دو ماہ سے بھی کم قیام کی اجازت ملی۔ یہاں سے آپ ترکی گئے مگر وہاں بھی درباری علما اور مشائخ نے ٹکنے نہ دیا تو مجبوراً قاہرہ کا رخ کیا۔ قاہرہ میں آٹھ سال تک رہے اور اپنے نظریات کی بڑے زور و شور سے تبلیغ کی۔ اب آپ کا حلقۂ اثر بہت وسیع ہو گیا تھا۔ اور اسلامی ملکوں میں انگریزوں کے مفادات پر ضرب پڑ رہی تھی۔ اس خطرے کے سدباب کے لیے انگریزوں نے خدیو مصر پر دباؤ ڈالا اور اس کے حکم پر آپ کو مصر چھوڑنا پڑا۔ مصر سے آپ پیرس گئے اور وہاں ’’العروۃ الوثقٰی ‘‘ کے نام سے ایک رسالہ عربی زبان میں جاری کیا۔ یہ رسالہ وحدت اسلامی کا نقیب تھا۔ مگر یہ دس ماہ سے زیادہ عرصے تک جاری نہ رہ سکا۔ آپ نے روس انگلستان اور حجاز کا بھی سفر کیا۔ آخری عمر میں سلطان ترکی کی دعوت پر قسطنطنیہ گئے تھے۔ یہیں سرطان کے مرض میں مبتلا ہو کر وفات پائی۔ ایک خیال یہ ہے کہ دربارِ ترکی کے ایک عالم نے انہیں حسد کی وجہ سے زہر دے کر شہید کیا۔ آپ کے قریبی ساتھیوں اور شاگردوں میں شیخ محمد عبدہ مصری بہت مشہور ہیں۔

مزید پڑھیے[ترمیم]

بیرونی روابط[ترمیم]

  • ["From Reform to Revolution, Louay Safi, Intellectual Discourse 1995, Vol. 3, No. 1 ربط

حوالہ جات[ترمیم]

  1. http://data.bnf.fr/ark:/12148/cb12820103j — اخذ شدہ بتاریخ: 10 اکتوبر 2015 — اجازت نامہ: آزاد اجازت نامہ
  2. دائرۃ المعارف بریطانیکا آن لائن آئی ڈی: https://www.britannica.com/biography/Jamal-al-Din-al-Afghani — بنام: Jamal al-Din al-Afghani — اخذ شدہ بتاریخ: 9 اکتوبر 2017 — عنوان : Encyclopædia Britannica
  3. مکمل کام یہاں دستیاب ہے: http://www.oxfordreference.com/view/10.1093/acref/9780195382075.001.0001/acref-9780195382075 — مصنف: ایمائنول کواکو اور ہینری لوئس گیٹس — عنوان : Dictionary on African Biography — ناشر: اوکسفرڈ یونیورسٹی پریسISBN 978-0-19-538207-5
  4. https://pantheon.world/profile/person/Jamāl_al-Dīn_al-Afghānī — اخذ شدہ بتاریخ: 9 اکتوبر 2017
  5. http://data.bnf.fr/ark:/12148/cb12820103j — اخذ شدہ بتاریخ: 10 اکتوبر 2015 — اجازت نامہ: آزاد اجازت نامہ
  6. From Reform to Revolution, Louay Safi, Intellectual Discourse 1995, Vol. 3, No. 1 LINK