پشتون

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش


Pashtun
پښتانه
Paṣ̌tun
Sher Shah Suri by Breshna-cropped.jpg
Dost Mohammad Khan, Nawab of Bhopal-cropped.jpg
Mir Wais Hotak of Afghanistan.jpg
Shah Mahmud Hotak of Afghanistan.jpg
Portrait miniature of Ahmad Shah Durrani-cropped.jpg
Dost Mohammad Khan of Afghanistan-cropped.jpg
Lithograph of Akbar Khan in 1842-cropped.jpg
Abdur Rahman Khan of Afghanistan-cropped.jpg
MohammadAyoubKhan-cropped.jpg
King Amanullah of Afghanistan-cropped.jpg
Queen Soraya of Afghanistan-cropped.jpg
King Zahir Shah of Afghanistan in 1963-cropped.jpg
Abdul Ghaffar Khan-cropped.jpg
Madhubala in the 1949 film Dulari-cropped.jpg
SalimKhan-cropped.jpg
KaderKhan-cropped.jpg
Shahrukh Khan CE.jpg
Saif Ali Khan snapped at Imperial Hotel, New Delhi 05.jpg
Karzai in June 2014-cropped.jpg
Z Khalilzad-cropped.jpg
Konferenz Pakistan und der Westen - Imran Khan (4155877864) cropped.jpg
Ashraf Ghani Ahmadzai in July 2011-cropped.jpg
Shahid Afridi 2010-cropped.jpg
Malala Yousafzai at Girl Summit 2014-cropped.jpg
کل آبادی
Approx. 50 million (2011)[3]
علاقے جہاں یہ قبیلہ آباد ہے
 پاکستان 29,342,892 (2012) [4]
 افغانستان 12,776,369 (2012) [5]
 بھارت Over 6,000 families [6]
Flag of the United Arab Emirates.svg متحدہ عرب امارات 338,315 (2009) [7]
 ریاستہائے متحدہ امریکہ 138,554 (2010) [8]
Flag of Iran.svg ایران 110,000 (1993) [9]
 برطانیہ 100,000 (2009) [10]
 جرمنی 37,800 (2012) [11]
 کینیڈا 26,000 (2006) [12]
 روس 9,800 (2002) [13]
 آسٹریلیا 8,154 (2006) [14]
 ملائشیا 5,500 (2008)
Flag of Tajikistan.svg تاجکستان 4,000 (1970) [9]
زبانیں

Pashto
اردو, Dari and English as second languages

مذاہب

Islam (Sunni حنفی)
with small Shia minority

پشتون یا پختون (فارسی: پشتون ، اردو:پٹھان ،ہندیपश्तून:) ہند-جو کہ دنیا کے بیس بڑے شعوب میں سے ہے۔ جوکہ دنیا بھر میں پھیلے ہوئے ہیں جن میں افغانستان،پاکستان، بھارت اول نمبر پر ہیں۔ دنیا میں پشتون اپنے وفا اور غیرت کے نام سے جانے جاتے ہیں۔ لفظ پشتون کا مطلب ہوتا ہے غیرت و وفا والا اور اپنے عزت اور دین پر مر مٹنے والا۔پشتون قوم نے نہ صرف افغانستان اور پاکستان بلکہ دنیا کے کہیں ممالک میں ٹکانہ لگایا ہے۔ اس سے پہلے پشتونوں نے قیام پاکستان میں بھی بھرپور حصہ لیا۔

پس منظر[ترمیم]

پشتون کی اصلاح عموماً پٹھان اور افغان عموماً پشتو بولنے والے قبائل کے لئے استعمال ہوتی ہے۔ بعض اوقات پٹھانوں اور افغانوں کے درمیان امتیاز کیا جاتا ہے۔ افغان کی اصطلاح درانیوں اور ان متعلقہ قبائل کے لیے استعمال ہوتی ہے۔ لیکن یہ محض نام کا فرق ہے۔ یعنی ایرانی نام افغان قدرتی طور پر مغربی قبائل کے لئے استعمال ہوتا ہے اور پھٹان کا اطلاق جو مقامی نام کی بدلی ہوئی ہندی شکل ہے اور مشرقی قبائل پر استعمال کیا جاتا ہے۔ پشتون سے مراد پشتو بولنے والا اور پشتون دستور پر عمل کرنے والے کے ہیں۔

محل وقوع[ترمیم]

افغانستان میں دوسری نسلی اور لسانی وحدتیں بھی آباد ہیں، مگر نصف کے قریب پشتون آباد ہیں۔ ان کی اکثریت جنوبی و مشرقی افغانستان میں جلال آباد کے شمال سے قندھار اور وہاں سے مغرب کی جانب سبزوار کے علاقے میں آباد ہے۔ کابل و غزنی کے علاقے میں یہ زیادہ تر فارسی بولتے ہیں۔ اس طرح شمال و مغربی افغانستان بھی پشتون قبائل آباد ہیں۔ پاکستان کے صوبہ سرحد میں اکثر باشندے پشتون ہیں جو دیر و سوات سے جنوب کی جانب اور مشرق میں سبی تک جنوب و مشرق میں مستونگ تک ان کی آبادیاں پھیلی ہوئی ہیں۔ اس کے علاوہ یہ تقریباً تمام افغانستان میں آباد ہیں اور اس وقت ان کی سب سے بڑی تعداد کراچی میں آباد ہے جہاں خیال کیا جاتا ہے کہ پچیس سے تیس لاکھ پشتون آباد ہیں۔ جب کہ ان کی ایک بڑی تعداد بھارت اور دوسرے ملکوں میں بھی آباد ہے ۔

پشتون قبائل کی جغرافیائی تقسیم[ترمیم]

درانی سبزوار اور زمین داور سے قندھار اور چمن کے جنوب و مشرقی علاقہ تک آباد ہیں۔ ان کی شاخوں میں پوپل زئی بہ شمولیت سدو زئی اور بارک زئی ہیں۔ درانیوں کے بعد طاقت ور قبیلہ غلزئی ہے۔ ہوتک ان کی شاخ تھی، اب ان کی اہم شاخ سلیمان خیل ہے۔ خروٹی غلزئیوں کے قریب ہیں۔ یہ قلات غلزئی سے جلال آباد تک آباد ہیں۔ کاکڑ اور ترین بلوچستان کے اضلاع پشین اور زوب میں طرف آباد ہیں۔ سبی کے پنی ان کے ہمسائے ہیں۔ زوب کے شمال مغرب میں تخت سلیمان کے آس پاس شیروانی ملتے ہیں۔ وزیری جو درویش خیل اور محسود میں تقسیم ہیں دریائے گومل اور دریائے کرم کے درمیانی کوہستانی علاقہ سرحد کے دونوں طرف آباد ہیں۔ مشرقی جانب کی پہاڑیوں میں بٹانی اور لوہانی ملتے ہیں۔ کُروم زرین کے جنوب میں جو میدان ہیں ان میں مروت بستے ہیں ۔ وادی ٹوچی میں دوری اور بنوچی آباد ہیں۔ خٹک کوہاٹ کے میدانوں میں بسے ہوئے ہیں اور ان سلسلہ آبادی اٹک تک جاتا ہے۔ دریائے کرم کی بالائی وادی میں بنگش، شیعہ توری خیل اور دیگر قبائل پائے جاتے ہیں اور سرحد کے پار افغانستان کی جانب جاجی اپنے ہمسایہ منگل اور خوست وال کے ساتھ آباد ہیں بنگش کے شمال میں اورک زئی بستے ہیں تیراہ اور خیبر و کوہاٹ کے دونوں جانب آفریدی اور ان کے شمال میں شنواری آباد ہیں۔ دریائے کابل کے شمال میں ضلع پشاور اور افغانستان دونوں طرف مہمند برائے جمان ہیں اور ضلع پشاور کے خلیل ان کے رشتہ دار ہیں۔ مہمند کے مشرق میں پشاور کے علاقے اور شمال کے پہاڑوں (بنیر، سوات، دیر وغیرہ) کے علاقہ میں یوسف زئی اور ان کے حلیف منداں وغیرہ آباد ہیں۔ جو داردیوں کو پیچھے دھکیلتے ہوئے اور اپنے اندر ملاتے چلے جارہے ہیں۔ انہیں سواتی کہا جاتا ہے اور یہ مخلوط نسل کے لوگ ہیں۔ جنہیں یوسف زیؤں نے دریائے سندھ کے پا ہزارہ میں دھکیل دیا ہے۔ وادی کنڑ اور افغانستان کے دوسرے شمالی و مشرقی حصوں میں صافی پائے جاتے ہیں۔

نام[ترمیم]

پشتون (پختون)[ترمیم]

پشتون کی جمع پشتانہ یا پختانہ ہے، (شمال مشرق کی بولی میں پختون) لیسن نے اور اس تبع میں بعض اور لوگوں نے پشتون کا موازنہ ہیروڈوٹیس کے پکھتولیس Paktolies سے کیا ہے۔ یہ شناخت ممکن صحیح ہو اگرچہ یقینی نہیں ہے۔ کیوں کہ اس کو صوتی اور یگر وجوہ کی بنا پر رد کردینا لازم ہے۔ آخر جز ’اون‘ آنہ سے مشتق ہے اور یہ ممکن نہیں ہے کہ زمانہ قدیم کا صوتی مرکب جس کے نتیجے میں پشتو کا شت وجود میں آیا ہے۔ (بعد کی بولی میں خت) یونانی حروف سے ادا کیا گیا ہو۔ زیادہ قرین قیاس بات وہ ہے جو سب سے پہلے ماکوارٹ نے کہی تھی کہ اس نام کا تعلق بطلمیوس کے پارو فامیس کوہ بابا یا کوہ سفید میں آباد ایک قبیلہ پرسوا سے ہو۔ پشتو کا رس زمانہ قدیم کے رس سے مشتق ہوسکتا ہے اور غالباً اس کی قدیم شکل پرسوانہ تھی۔ مگر اس سے لازم نہیں آتا ہے کہ ان زیر بحث ایرانی قبیلوں کے درمیان کوئی رشتہ تھا۔ ہیروڈوٹسHerodatieis کے پکھتولیس اور بطلمیوس کے پرسوا سے پشتون سے تعلق اور اس کی تبدیلیوں کے بارے میں تفصیلی بحث کی ضرورت ہے۔ اس طرح ہی ہم کسی نتیجے پر پہنچ سکتے ہیں۔ یونانی عموماً ناموں کو بگاڑ کرکے لکھتے ہیں۔ اس لئے انہیں سمجھنے میں دشواری پیش آتی ہے۔ لیکن خوش قسمتی سے ہم اس کی حقیقت کے لیے دارا اول کے کتبہ بہستون سے مدد لے سکتے ہیں۔ غالب امکان یہ ہے کہ ہیروڈوٹس کے پکتھولیسPaktolies کو باختر یا باختریا & Bectaria Bectar جس کو دارا کے کتبے میں باختریش Bectarishکہا گیا ہے اور ہیروڈوٹس Herodatieis نے اس کا پختولیس Paktolies کے نام سے تذکرہ کیا ہے۔ تاہم بعد کے یونانی ماخذوں میں اس کا تذکرہ باکترا Baktra کے نام سے ملتا ہے اور اس کے لئے رگ وید Reg Veda میں پکھتا اور پکتھ اور اوستا Avesta میں اس کا نام بختہ اور بخت آیا ہے۔ اس کے لئے رگ وید میں پکھتا اور پکھت کے علاوہ اوستا میں بختہ بخت آیا ہے۔ نہ کہ اس سے مراد کسی خاص قبیلے یا گروہ سے ہے۔ جیسا کہ دعویٰ کیا جاتا ہے۔ اسطرح رگ وید میں آنے والا کلمہ بلہہ یا بلہکا جس کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ اس سے مراد بلخ ہے۔ تاہم یہ ممکن نہیں ہے۔ کیوں کہ اس وقت تک بلخ وجود میں نہیں آیا تھا۔ یونانی ماخذوں میں باختریہ کا نام باکتر اBaktra ملتا ہے۔ جب کہ بلخ کاتذکرہ یونانییوں کے یہاں بخپا Boxtapa کی شکل میں ملتا ہے تاہم سکندر کی مہموں میں بلخ کا تزکرہ نہیں ملتا ہے۔ غالباً اس وقت تک یہاں کوئی شہر وجود میں نہیں آیا تھا۔ بالہک یا بالہق آریائی زبان کا کلمہ ہے۔ اس کے معنی شہر کے ہیں۔ یہ ترکوں میں ’گوا بالق‘ یعنی خوبصورت شہر۔ غز بلیغ، قر بالیغ، قربلیق، غور بالیغ آیا ہے۔ مرکورٹ نے ’غز بالیغ‘ یعنی ترکوں کا شہر کوصیح تسلیم کیا ہے۔ غزبالیق ان کی دستاویزوں میں ملتا ہے جو قرہ خانی خاندان کے متعلق ہیں۔ صدیوں کے بعد منگولوں نے ’خان بالہق‘ یعنی خان کا شہر کا ذکر کیا ہے۔ اس لئے یقین سے کہا جاسکتا ہے کہ رگ وید میں آنے والا کلمہ بلہہ اور بلہکا سے مراد شہر کے ہیں نہ کہ کسی خاص شہر سے ہے۔ کیوں کہ رگ ویداور اوستا کی تدوین کے سیکڑوں سال بعد بلخ شہر وجود میں آیا ہے۔ اگر بلخ آریاؤں کے دور میں آباد ہوتا تو سکندر کی مہموں میں اس کا تذکرہ ضرور ملتا۔

بلخ کا سب سے پہلا تزکرہ یونانی نوآبادی کی حثیت سے یونانی سردار ڈیوٹس کی بغاوت کے دوران سنے کو ملتا ہے۔ یونانی نو آبادی سے تو یہ معلوم ہوتا ہے کہ یہ یونانیوں نے آباد کیا ہو۔ مگر نام سے اندازہ یہی معلوم ہوتا ہے کہ اسے مقامی باشندوں نے آباد کیا تھا اور بعد میں یونانیوں نے اسے اپنا مستقرر بنا لیا ہو اور مقامی باشندے اس کو بالق یا بالغ یعنی کے شہر کے نام سے پکارتے ہوں گے۔ اس لیے یونانوں نے بخپا کہا ہے جو رفتہ رفتہ بلخ میں بدل گیا۔

قدیم زبانیں ابتدا میں آرامی رسم الخط میں لکھی جاتی تھیں۔ بعد میں اس رسم الخط میں ترمیم کرکے مقامی رسم الخط ترتیب دیئے گئے۔ سامی رسم الخط میں ’پ‘ نہیں ہوتا ہے۔ اس لئے عہد قدیم میں ’ب‘ اور ’پ‘ کی تمیز نہیں رکھی جاتی تھی اور مختلف کلموں میں ’ب‘ اور ’پ‘ متبادل استعمال ہوتے ہیں۔ مثلاً ’اسب۔ اسپ‘، ’دبیر۔ دپیر‘ تب۔ تپ‘ وغیرہ ہیں۔ علاوہ ازیں پ / ب دو لبی صوتے ہیں، اس لئے ماہرین لسانیات ان کو ایک سلسلے کے صوتے تسلیم کرتے ہیں اور یہ ترتیب پاننی اور دوسرے قدیم ماہرین لسانیات سے لے کر آج دور جدید کی تحریروں میں قائم ہے۔

سنسکرت میں ’خ‘ کا حروف نہیں ہے اور یہ سنسکرت میں ’کھ‘ میں بدل جاتا ہے۔ یعنی ’ک اور خ‘ کے بین اس کی آواز ہے۔ اس لئے رگ وید میں یہ کلمہ پکھتا پکھت آئے ہیں۔ جب کہ یہ کلمات اوستا میں بخت اور بختہ آئے ہیں جو کہ باختریہ کے ہی ہند آریائی اور ایرانی دو مختلف لہجے ہیں۔ قدیم یونانی میں ’خ‘ کے لئے X استعمال ہوتا تھا۔ جو اب ’ک اور س‘ کی درمیانی آواز دیتا ہے۔ اس لئے ہیروڈوٹس نے پکھت یا پکتھ (باختریہ) کے لئے یونانی تلفظ میں پکھتولیس سے ادائیگی کی تھی۔

رگ وید میں ’داش راجیہ‘ کے نام سے دس بادشاہوں کی لڑائی کا ذکر آیا ہے۔ یہ ایک بڑی جنگ تھی جس میں ’بھرت‘ قبیلہ کے خلاف دس قبائل نے متحدہ ہو کر جنگ لڑی۔ جس میں سیاسی اقتدار کا فیصلہ بھرت کے حق میں ہوا اور قبائلی اتحاد کو شکست ہوئی۔ ان دس شکست خوردہ قبیلوں میں ایک پکھتا بھی تھا جو کہ دریائے کروُمو (کرم) کے منبع کے علاقہ میں رہتا ہے۔ اس پکھت کے بارے خیال کیا جاتا ہے کہ یہ پختون یا پٹھان ہیں۔ مگر یہ گمان غلط ہے۔ یہ قبیلہ باختریہ کے علاقہ سے تعلق رکھتا ہو اس نسبتی کلمہ مطلب ہے باختروی ہے۔ قرین ترین قیاس یہی ہے کہ کلمہ پشتون (پختون) ’پار تو‘ جو کہ داراکے کتبہ میں پارتھیا کے ’رت‘ سے پشتون کا شت وجود میں آیا ہے۔

قدیم ایرانی زبانوں میں بعض اوقت ’ر‘ کی جگہ ’ش یا س، یا چ‘ استعما، ہوتا تھا اور یہ تینوں حروف ایک دوسرے کی جگہ استعمال ہوئے ہیں۔ مثلاً قدیم فارسی زبان میں اوستا کے ’ر‘ کی جگہ ’ش‘ استعمال ہوا ہے مثلاً ’مرت یہ‘ اوستا میں، جبکہ قدیم فارسی میں مشیہ آیا ہے۔ اس طرح سوغدی (چغدی) زبان میں میانہ فارسی کے ’تھ + ر‘ کی جگہ ’ش‘ بھی استعمال ہوا ہے۔ ایک قدیم کتاب جو اوستا میں لکھی گئی تھی، اس میں فریدون کے لڑکے کا نام توچ آیا ہے۔ جب کہ فردوسی نے یہ نام تور لکھا ہے جو غالباً اس کا اصل تلفظ ہے۔ قدیم زبانوں میں اس طرح ’چ‘ ’ش‘ کے متبادل کے طور پر استعمال ہوا ہے۔ مثلاً تاشقند کے لئے قدیم زمانے میں تاش اور شاش دونوں استعمال ہوتے تھے۔ اس لئے قرین ترین قیاس ہے کہ ’پار تو‘ جو کہ دارا کے کتبہ میں پارتھیا کے ’رت‘ سے پشتون کا ’شت: وجود میں آیا ہے۔

پٹھان[ترمیم]

یہ اصطلاح عام طور پر شمالی مغربی اور بلو چستان کے پشتو بولنے والے قبائل کے لئے استعمال کی جاتی ہے۔ مگر پشتون مورخین کا دعویٰ ہے پٹھان ہیں اور صرف قیس عبدالرشید کی نسل سے تعلق رکھنے والے ہی پٹھان ہیں، مزید ان کا کہنا ہے کہ قیس عبدالرشید کو اس کی بہادری پر حضور ﷺ نے اس کی بہادری سے خوش ہوکر پٹھان کا خطاب دیا تھا۔ مگر اسماء رجال کی کتابوں اور شرح صحابہ کی کتابوں میں اس کا کوئی ذکر نہیں ملتا ہے۔ فرشتہ کا کہنا ہے کہ افغانوں کو پٹھان اس لئے کہا جاتا ہے کہ یہ پہلے پہل سلاطین کے عہد میں ہندوستان آئے تو یہ پٹنہ میں مقیم ہوگئے تو اہل ہند انہیں پٹھان کہنے لگے۔ مگر یہ بیانات ہیں موضع اور تاریخ سے ماخذ نہیں ہیں اس لیے ان کا حقائق سے کوئی واسطہ نہیں ہے۔

پروفیسر احمد حسین دانی کا کہنا ہے کہ افغان اور پٹھان میں امتیاز نہ پٹھانوں کے نذدیک صحیح ہے اور نہ ہی تاریخی طور پر درست۔ سولویں صدی سے پہلے یہ کلمہ کسی کتاب میں نہیں ملتا ہے۔ لیکن ٹھ کا استعمال بتاتا کہ یہ ہند آریائی کلمہ ہے۔ غالب امکان یہی ہے کہ یہ کلمہ دو لفظوں پارت + استھان = پارٹھان سے مل کر بنا ہے۔ یعنی اس کی ابتدائی شکل پارٹھان ہوگی۔ پارت قدیم زمانی میں موجودہ خراسان کو بولتے تھے اور استھان ہند آریائی کلمہ ہے، جس کے معنی جگہ یا ٹھکانے کے ہیں۔ پارتھی جنہوں نے قدیم زمانے میں شمالی برصغیر کو پنے قبضہ میں کرلیا تھا اور انہوں نے ستھیوں کے ساتھ مل کر شمالی ہندمیں نیم آزاد حکومتیں (سٹراپی) قائم کیں تھیں۔ غالب امکان یہی ہے کہ کلمہ پٹھان پارٹھان یا پارتھان سے بنا ہے اور اس کلمہ میں تکرار سے ’ر‘ خارج ہوگیا، اس طرح یہ پٹھان بن گیا۔

اکثر زبانوں میں ’ر‘ خارج ہوجاتا ہے اور اس کا کوئی قائدہ متعین نہیں ہے۔ مثلاً آذری زبان میں فعل کے صعیفے، جمع، مخاطب اور صیفعہ غائب میں ہمیشہ ’ر‘ گر جاتا ہے۔ مثلاً Dir کی جگہ Di بولا جاتا ہے۔ اس طرح سنسکرت میں بھی بعض اوقات ’ر‘ گر جاتا ہے مہا بھارت میں کوہ آبو کا نام ’آربو‘ اور ’اربد‘ آیا ہے۔ اشکانی کے بانی کا نام ارشک تھا اور اس کے نام سے یہ خاندان اشکانی مشہور ہوا۔ اس میں سے بھی ’ر‘ خارج ہوگیا۔ خود پشتو میں ’لڑکے‘ کو ’ر‘ خارج کر ’لکا‘ کہتے ہیں۔

پارتی آریائی تھے اس لئے ایرانیوں اور برصغیر کے باشندوں کے ہم نسل تھے، اس لئے ان کا مذہب اور زبان تقریباً ایک تھی۔ صرف لہجہ کا فرق تھا کیوں کہ قدیم ایرانی کے غیر کشیدہ حروف صیح میں بدل گئے۔ اس پارتھی سے پارتی، پارتھ سے پارت اور پارتھیا سے پارتیا کہلانے لگے جبکہ یہ جگھڑالو حروف ہند آریائی میں بدستور استعمال ہوتے رہے بلکہ ان کی بندشیں بڑھ گئیں۔ بھارت ہندو دیوملائی ہیرو تھا جس کے نام پر اس ملک کا نام رکھا گیا ہے۔ رگ ویدمیں بھارت قبیلے کا ذکر ملتا ہے، جو سروتی و جمنا کے کنارے آباد ہوا تھا۔ ان بندشوں کے بڑھ جانے سے پارت ہی بھارت ہوگیا۔ اس طرح بالاالذکر کلمات بھٹی، بھاٹی، بھٹ، بھٹہ اور بھٹو میں تبدیل ہوگئے۔ ان سب کلمات کی اصل ایک ہی ہے۔

پ / پھ / ب / بھ دو لبی صوتے ہیں اور یہ سب مسودے ہیں، اس لئے ماہرین لسانیات ان کو ایک سلسلے کے صوتے تسلیم کرتے ہیں اور یہ ترتیب پاننی اور دوسرے قدیم ماہرین لسانیات سے لے کر آج دور جدید کی تحریروں میں قائم ہے۔ یہی وجہ ہے آج بھی پنجابی میں بھائی کو پرا اور بھابی کو پابی کہا جاتا ہے۔ جب کہ سنسکرت میں بھائی، بھرائی کہلاتا ہے۔ بٹ ایک کشمیری قبیلہ ہے اور ہند آریائی میں یہ بھٹ کہلاتا ہے۔ نام نہاد قیس عبدالرشید کا نام نہاد لڑکا بٹن جس کاایک تلفظ بطان بتایا جاتا ہے۔ اس سے ایک قبیلہ بٹانی نکلا ہے، بٹائیوں کو ڈیرہ جات میں بھٹانی کہا جاتا ہے۔ اس سے بھی تصدیق ہوتی ہے ان سب کلمات کی اصل ایک ہی ہے اور یہ کلمات پارت یا پارتھیاکے معرب ہیں۔

پشتون روایت[ترمیم]

پشتون روایات کا اہم ماخذ نعمت اللہ ہراتی کی مخزن افغانی ہے۔ اس کتاب میں جو نسب نامے دیئے گئے ہیں وہ تاریخی ماخذ کے طور پر قابل اعتماد نہیں ہیں۔ تاہم ان روایتوں کے سلسلے میں جو سترویں صدی میں افغانوں میں پھیلی ہوئیں تھیں قابل قدر ہے۔ ان روایات کے مطابق بشتر افغانوں کا مورث اعلیٰ قیس عبدالرشید جو ساول یا طالوت کے ایک پوتے افغانہ کی نسل سے تھا۔ ان روایات کے مطابق پشتونوں کا مورث اعلیٰ قیس عبدالرشید حضرت خالد بن ولید کے ہاتھ پر مشرف بہ اسلام ہوا تھا اور اس قیس کے تین بیٹے سربن یا سرابند، بُٹن یا بَٹن اور گرگشت یا غرغشت تھے۔ سرابند کے دو بیٹے شرخبون اور خرشبون تھے۔ زیادہ تر افغان قبائیل ان کی اولاد ہیں۔ باقی ماندہ قبائیل کڑلان کی نسل سے بتائے جاتے ہیں۔ معلوم ہوتا ہے مصنف کو کڑرانی گروہ کے قبائیل کا علم نہیں تھا۔ اس لئے کڑلانی گروہ کے قبائیل کو صراحۃً پشتون تسلیم کیا جاتا ہے۔

یورپی محقیقین نے پشتونوں کے دعویٰ کی تائید میں چند رسومات کو پیش کیا ہے جو کہ بنی اسرائیل میں بھی مروج تھیں۔ مگر ہم چند رسومات کی بنا پر افغانوں کو بنی اسرائیل نہیں ٹہراسکتے ہیں۔ جب کہ افغانوں میں یہ رسومات عام بھی نہیں ہیں۔ پشتونوں کی یہ نام نہاد رسومات کو آریائی قوموں میں بھی پائی جاتی ہیں۔

بیوا کی شادی دیور سے کرنے کا جٹوں میں رواج ہے۔ اس طرح ادلہ بدلہ اور لڑکی کے پسے لینا برصغیر کی دوسری اقوام بھی رواج ہے، ہندو سے مسلمان ہونے والی قوموں میں اس کا عام رواج ہے۔ اس کی بہت سی وجوہات ہیں مثلاً راجپوتوں میں یہ غیرت کا مسلۂ ہوتی ہے، جب کہ دوسری اقوام میں جائیداد کا بٹوارہ اور جاٹوں میں یہ ادلہ بدلہ ہوتی ہیں۔

جنرل جارج میکمن کا کہنا ہے کہ پنجاب کے مسلمان راجپوتوں کے خصاص کا مقابلہ اگر پٹھانوں سے کیا جائے تو کچھ زیادہ فرق نہیں آتا ہے، ماسوائے پہاڑی ماحول کا اثر ہے اور دوسری طرف پنجاب کے میدانوں میں ایک منضبط زندگی ہے۔ پشتونوں کے نام زیادہ تر یہودانہ ہیں لیکن یہ بات شاید دوسرے مسلمانوں پر بھی صادق آتی ہے۔

جیمز ٹاڈ کا کہنا ہے کہ قدیم زمانے میں بحیرہ خزر سے لے کر گنگا کے کنارے ایک ہی قوم یادو یا جادو آباد تھے اور ان کی اصل اندوسیتھک ہے۔ ان یادو کی نسبت سے پشتونوں کو یہ گمان ہوا کہ وہ یہود النسل ہیں۔

پشتون نسل[ترمیم]

مختلف پشتون قبائل نسلاً ایک دوسرے سے بہت مختلف ہیں۔ B S Guha کے بیان کے مطابق باجور کے پشتوں چترال کے کاشوں سے قریبی رشتہ رکھتے ہیں۔ غالباً اس لیے وہ افغانوں رنگ میں رنگے ہوئے درد ہیں۔ دوسری طرف بلوچستان چوڑے سر والے پشتون اپنے بلوچ ہمسائیوں سے ملتے جلتے ہیں۔ پشاور اور ڈیرہ جات کے میدانی علاقہ میں کس قدر ہندی خون کی آمزش ہے اور بعض قبائل میں ترک منگول اثر کی علاماتیں پائی جاتی ہیں، لیکن عام طور پر کہا جاسکتا ہے پشتون بحیرہ روم کی لمبوتری کھوپڑی والی ایرانی افغانی نسل سے تعلق رکھتے ہیں۔ ان کی ناک اکثر خم دار کھڑی ہوتی ہے جو سامیوں سے مخصوس سمجھی جاتی ہے۔ اس قسم کی ناک بلوچوں اور کشمیریوں میں بھی پائی جاتی ہے۔ پشتونوں کے بال عموماً سیاہ ہوتے ہیں لیکن ساتھ ہی مستقل ایک اقلیت بھورے یا سنہرے بالوں۔ اس سے ان میں شمالی نارڈی Nordic خون کی آمزش ظاہر ہوتی ہے، ان کی ڈارھیاں گھنی ہوتی ہیں۔

آلف کیرو کا کہنا ہے کہ پشتونوں کی روایات چھٹی صدی قبل عیسوی میں بنی اسرائیل سے جلاوطنی سے شروع ہوتی ہیں۔ جو 559 ق م سائرس کی تخت نشینی کا سال تھا۔ اس خاندان کی حکومت 331 ق م میں سکندر نے ختم کردی تھی۔ اس دوران کی صدیوں میں افغانستان صوبہ سرحد اور پنجاب کا کچھ حصہ ایران کی سلطنت کا حصہ رہے اور ان اقوام پر ایرانی تاریخ و تہذیب کے اثرات اسلام کے اثرات سے گہرے اور پرانے ہیں۔

پشتون، ایرانیوں اور آریاؤں اور برصغیر کے ہم نسل ہیں یعنی آریا نسل۔ گو پشتون قبائیل ایک دوسرے سے مختلف ہیں تاہم تاہم ان میں اس کی وجہ دوسری نسلوں کا اختلاط ہے اور برصغیر کے آریاؤں کی نسبت ان میں میل کم ہوا ہے۔ جب کہ برصغیر کے باشندوں میں کثرت سے میل ہوا ہے، اس لئے یہ برصغیر کی آریا اقوام سے مختلف ہیں۔ تاہم یہ کشمیریوں اور راجپوتوں کی ان کی نسلی خصوصیات ملتی ہیں۔ ایران، افغانستان اور برصغیر کی اکثر اقوام کا تعلق مشترک نسلی سرچشمہ سے ہے جو کہ اب علیحدہ علیحدہ نسلی تشخص کی دعویٰ دار ہیں۔ قدیم حملہ آوار اقوام جو اس علاقہ میں حملہ آور ہوئی اور پھر اس علاقہ میں آباد بھی ہوئیں لیکن اب ان کا نام ہی صرف تاریخ کے صفحوں پر رہے گیا ہے اور وہ بظاہر نست و نابود ہوگئیں ہیں۔ مگر حقیقت میں یہ اقوام فنا نہیں ہوئیں ہیں بلکہ نئے ناموں کے ساتھ وجود میں آگئیں ہیں۔ اگرچہ وقت کے فاصلوں نے ان کے نام ہی مختلف نہیں کردیئےاور اب ان کی مذہبی اور لسانی صورتیں بھی بدل گئیں ہیں۔ کیوں جب مختلف نسلی اور لسانی گروہ کسی جغرافیائی خطہ میں آباد ہوتے تو رفتہ رفتہ ان کے مفادات بھی مشترک ہوجاتے ہیں۔ اس طرح ان کے صدیوں کے میل جول سے یک نسلی اور لسانی قوم وجود میں آگئی۔

برصغیر پر جو قومیں حملہ آور ہوئیں ان کی باقیات افغانستان میں بھی آباد ہوئیں۔ ان میں آریا سے لے کر ترکوں تک کی وہ تمام اقوام شامل ہیں۔ برصغیر کی آباد اقوام جن میں راجپوت، گوجر اور جاٹ وغیرہ اور دوسری اقوام کی باقیات افغانستان سے لے کر برصغیر میں آباد ہیں۔ اگرچہ الگ خطہ، الگ لسان، الگ ثقافت اور الگ مذہب اور صدیوں کی گرد نے ان کی شکل مختلف ہوگئیں ہیں۔ افغانوں کے وضح کئے ہوئے شجرہ نسب میں ان کے مورث قیس (کش) سربنی، بٹن، غرغشت، کڑران، خر، لو اور دوسرے ناموں کا تعلق بھی اور برصغیر کی روایتوں سے ہے۔ بیلیو کا کہنا ہے کہ پشتونوں کی تین شاخیں اپنے کو قیس کی اولاد بیان کرتے ہیں۔ ان کی ایک شاخ سرابند کے نام سے موسوم ہے۔ یہ کلمہ پشتو زبان میں اس نام کا ترجمہ ہے جو پرانے زمانے مین سورج بنسی کا نام تھا۔ اس طرح سربن کے لڑکے کرشیون، شرخیون اور اس کے پوتے شیورانی (شیرانی) کے نام راجپوتوں اور برہمنوں کے عام نام کرشن، سرجن اور شیورانی کی تبدیل شدہ صورتیں ہیں۔ اس کا خیال ہے کہ پشتون یہودیوں کی نسبت راجپوتوں سے زیادہ مشابہت رکھتے ہیں۔

قومیت کی تشکیل[ترمیم]

بارویں صدی میں منگولوں کا حملہ قدتاً تبدیلوں کا سبب بنا۔ کیوں کہ اس حملے کی بدولت جہاں سیاسی تبدیلیاں واقع ہوئیں، وہیں یہ پشتون یا پٹھان قومیت کی تشکیل کا پیش خیمہ بنا۔ کیوں کہ منگولوں کے حملے کی باعث مقامی حکومتیں ختم ہوگیں اور مختلف نسلی گروہ منتشر ہوگئے اور وہ آپس میں اختلاف رکھنے کے باوجود قومی اور مقامی سطح پر اتحاد کے لئے مجبور ہوگئے۔ وہاں کے مختلف نسلی گروہ جو مسلمان ہوچکے تھے نے متحد ہو کر منگولوں کے خلاف مزاحمت کی۔ اس طرح قدرتاً منگولوں کا حملہ پشتونوں کی قومیت کی تشکیل کا سبب بنا۔ اس طرح مختلف نسلی اور لسانی گروہ جن کی روایات اور شناخت مختلف تھیں اس اتحاد کی بدولت مشترک ہوگئیں اور انہوں نے رفتہ رفتہ یک جدی یا پشتون کا روپ دھار لیا ۔

افغانستان میں آباد ہونے والی اقوام مسلمان ہوگئیں۔ برصغیر میں آباد ہونے والے گروہ بت پرست ہونے کی وجہ سے باآسانی مقامی اقوام میں جذب ہوکر مقامی مذہبی اساطیر کا حصہ بن گئے اور اپنا نسلی تشخص کو بھلا اپنی نئی پہچان اپنا لی اور یہی کچھ پشتونوں نے کیا، انہوں نے مسلم روایات کو اپنایا اور ان سے نسلی تعلق برتری کے لیے مختلف دعویٰ کئے گئے ہیں اور ان کی صداقت کے لیے مختلف فسانے گھڑے گئے۔ مگر اس کے باوجود برصغیر میں آباد کی قوموں کی روایات پشتونوں کی روایات بہت ملتی ہیں اور ان کا مطالعہ کریں تو بخوبی اندازہ ہوتا ہے کہ ان کا نسلی سرچشمہ ایک ہی ہیں۔

قبول اسلام[ترمیم]

کیرو کا کہنا ہے کہ اس قوم پر ایرانی اثرات اسلام کے اثرات سے زیادہ گہرے اور پرانے ہیں۔ مزید اس کا کہنا ہے کہ سفید ہنوں کے خاتمہ اور محمود غزنوی کا زمانہ (چارسو سال) ایران کی مشرقی سرحد تاریخی لحاظ سے گمنام اور تاریک ہے۔ صرف چند سکوں سے کچھ حالات معلوم کئے جاسکتے ہیں۔ عرب چارسو سال تک افغانستان و گندھارا کو فتح نہیں کر سکے۔ جب کہ عرب مکمل طور پر کابل و غزنی کو مکمل طور پر فتح نہیں کرسکے اور وہ کوہ سلیمان تک تو بالکل پہنچ نہیں سکے۔ اسلام کی ابتدائی دو صدیوں میں عربوں کا اثر صرف سیستان تک رہا۔ وہ ہرات اور بست سے آگے مشرق کی طرف نہیں بڑھے۔ زاابلستان اور کابل پر بدستور ہندو شاہی حکومت کررہے تھے۔ اس لئے گندھارا اور اس کی ملحقہ آبادی مسلمان نہیں تھی۔

پشتونوں نے چوتھی صدی ہجری میں اسلام قبول کیا تھا۔ تاہم ان کا دعویٰ ہے کہ انہوں نے اسلام پہلی صدی ہجری بلکہ دور نبوت میں ہی اسلام قبول کرلیا تھا۔ مگر یہ تمام روایات موضوع ہیں اور وضع کی گئیں ہیں۔ چوتھی صدی ہجری تک اس علاقہ میں مسلمانوں اور مقامی باشندوں میں لڑائیاں ہورہی تھیں۔ اس وقت زابل، کابل، بست جروم اور دوسرے علاقوں کے مقامی حکمران غیر مسلم تھے۔ ابن کثیر لکھتا ہے کہ افغانستان کے بڑے بڑے شہروں میں گو اسلام تھا، مگر خود پشتون ابھی تک مسلمان نہیں تھے اور کافر سمجھے جاتے تھے۔ یہ علاقہ صفاریوں کے دور میں مسلمانوں کے قبضہ میں آئے تھے اور افغانستان کے اکثر قبائل محمود غزنوی کے دور میں مسلمان ہونا شروع ہوئے تھے۔ ابن حوقل چوتھی ہجری میں غور کے علاقے میں آیا تھا۔ وہ کہتا ہے کہ یہاں کچھ مسلمان پائے جاتے ہیں باقی کافر ہیں۔ محمود غزنوی نے غور پر حملہ کیا اور محمد بن سوری کو گرفتار کر کے لے جارہا تھا کہ اس نے راستے میں وفات پائی۔ العتبی اس کے بارے میں لکھتا ہے کہ یہ اپنے نام کے باوجود مسلمان نہیں تھا۔ حدود العالم میں ہے کہ یہ ہندو تھا۔ محمود غزنوی نے اس کے بیٹے ابو علی کوحکمران بنا دیا جو کہ راسخ العقیدہ مسلمان تھا۔ صاحب حدود العالم قندھار شہر کو برہمنوں اور بتوں کی جگہ، لمغان کو بت خانوں کا مرکز، بنیہار کو بت پرستوں کا مقام خیال کرتا ہے۔ اس وقت بست، رخج اسلامی شہر تھے اور کابل کی نصف آبادی مسلمانوں کی اور نصف ہندوں کی تھی۔ الاصطخری غور کو دارلکفر قرار دیتا ہے جہاں مسلمان بھی رہتے ہیں۔ منہاج سراج لکھتا ہے کہ امیر سوری کے عہد میں بعض علاقے مثلاً ولشان بالا و زیر ابی شرف اسلام نہیں ہوئے تھے اور ان میں باہم جھگڑے ہونے لگے۔ صفاریوں نے نیمروز سے بست و زمند کا قصد کیا۔ یعقوب لیث نے تگین آباد (رخج) کے امیر لک لک (لویک) پر حملہ کردیا۔ غوریوں کے مختلف گروہ سنگان کی سرحد پر پہنچ گئے (غالباً حملے کی وجہ سے) اور وہاں سلامت رہے۔ لیکن ان کی لڑائی جھگڑے جاری رہے اور یہ لڑائی اہل اسلام اور اہل شرک کے درمیان تھے۔ چنانچہ گاؤں گاؤں میں جنگ جاری تھی۔ چونکہ غور کے پہاڑ بہت اونچے تھے اس لئے کسی غیر کو ان پر تسلط پانے کا شرف نہیں ملا۔

البیرونی لکھتا ہے کہ ہندوستان کے مغربی کوہستان میں افغانستان میں افغانوں کی بہت سی قومیں رہاش پزیر ہیں اور وہ سندھ تک پھلی ہوئی ہیں۔ وہ ان کے متعلق لکھتا ہے کہ کہ جنگ جو وحشی قبائل ہندوستان کی سرحد سے کابل تک آباد ہیں اور یہ ہند المذہب ہیں۔ سبکتگین نے پہلے پہل کابل و گندھارا سے ہندوئں کو نکالنے کی کوشش کی۔ اس نے دودفعہ جے پال کو لمغان اور ننگرباد میں شکست دی اور انہیں وادی کابل کے بالائی علاقے سے نکال باہر کیا اور دریائے سندھ کے مغربی کنارے بھی خالی کرالئے، بلکہ ہندوستان پر بھی حملے کیئے۔

غوری قبائل چوتھی صدی ہجری تک مسلمان نہیں ہوئے تھے۔ محمود غزنوی کے دور سے پہلے تک اس اطراف میں نہ اسلامی درسگاہیں تھیں نہ ہی اسلامی تعلیم کا رواج تھا اور نہ ہی مسلمان علماء یہاں پھیلے تھے۔ چوتھی صدی ہجری میں محمود غزنوی کے دور میں یہاں کے قبائل نے اسلام قبول کیا تھا۔

تاریخ[ترمیم]

عربوں کے حملے کے وقت علاقہ غور میں جہان پہلوان کی حکمرانی تھی۔ بعد کے دور میں یہاں غوری حکمران ہوئے۔ غالباً یہ جہان پہلوان کے اخلاف تھے اور اس علاقے کی نسبت سے غوری مشہور ہوئے۔ اس طرح پہلی پستون حکومت غوریوں کی مملکت تھی جو مسلمانوں کی آمد سے قبل غور کے علاقے میں قائم ہوئی تھی اور اسلام قبول کرنے کے بعد میں اپنے عروج کے زمانے میں بنگال سے لے کر خوارزم تک پھیلی ہوئی تھی۔ ان کی سلطنت تیرویں صدی میں پہلے خوارزم شاہیوں اور پھر منگولوں نے مٹا دیا اور اس علاقے میں ایلخانی سلطنت قائم ہوگئی۔ 

کیرو لکھتا ہے کہ ترکی النسل محمود غزنوی کی حکومت لودھیوں کی شکست اور بابر کا عہد 1526ء کے آغاز اور پھر شیر شاہ سوری 1539ء تا 1555؁ء کا عرصہ افغانوں کے عروج و ملکی اثرات و غلبہ اور ان کے مسلمان ہونے اور پشتونوں کے قیام سلطنت (نہ کہ آبائی وطن) کا زمانے ہے۔ اس زمانہ کی پہلی دو صدیوں میں مرکز حکومت غزنی رہا اور آخر کی تین صدیوں میں دہلی و ہندوستان کے دوسرے علاقہ میں۔ ان دونوں زمانے میں افغان ہر اول دستہ رہے۔ پہلے بطور تنخوادار ملازموں کے اور بعد میں خود صاحب حکومت ہونے کے۔ اس تمام عرصہ میں ان کے وطن پر کسی نے باہر سے حملہ ہوا اور نہ انہوں نے خود منعظم حکومت قائم کی۔ اس عرصہ میں ان کا وطن مختلف قبیلوں کی پروش گاہ رہا۔ جہاں سے جنگ آزما سپاہی مہیا ہوتے رہے۔

شہاب الدین غوری کے نائب قطب الدین ایبک نے 1193؁ء میں دہلی پر قبضہ کیا۔ لیکن غزنوی دور کے امراء اور سالاران فوج کے اثر و رسوخ میں کوئی فرق نہیں آیا۔ کیوں کہ ترکی امراء کی تعداد تھوڑی تھی۔ لہذا سلطنت کے تحفظ اور توسیع اکا انحصار پشتون سپاہیوں کی کار کردگی پر تھا اور منگولوں کے پے درپے حملوں کے باعث ترکستان اور ایران سے آمد و رفت کا سلسلہ التمش کے زمانے میں ٹوٹ گیا تھا اور سلاطین دہلی نے ہندوستان کو ہی اپنا وطن تسلیم کرلیا تھا۔ سلطان بلبن ترکوں سے زیادہ پشتون لشکریوں پر بھروسہ کیا کرتا تھا۔ چنانچہ اس کی فوج کا نگران اعلیٰ ملک فیروز خلجی تھا۔

بلبن کی وفات کے بعد کیفباد حکمران ہوا۔ جب کیفباد پر فالج گرا اور وہ بے دست پا ہوگیا تو ملک خلجی فوج لے کے چڑھ آیا۔ افغان سرداروں نے ملک فیروز خلجی کو بادشاہ منتخب کرلیا۔ اس طرح 1290ء؁ میں دہلی میں پہلی پٹھان سلطنت قائم ہوگئی۔ جلال الدین فیروز خلجی کے اس کارنامے پر کہ اس نے ہندوستان میں پہلی پشتون سلطنت قائم کی تھی اس کے ہم وطن صدیوں تک اس پر فخر کرتے ہے۔ چنانچہ خوشحال خٹک 1650ء؁ میں لکھتا ہے کہ

بیا سلطان جلال الدین پوہ سربر کخئا ست چمیہ پو اصل کخے غلچی داد لایت ودہ

اس خاندان کا سب سے مشہور بادشاہ علاؤالدین خلجی تھا۔ جو جلاؤالدین فیروزکا بھتیجا اور داماد تھا۔ جو اپنے چچا کو قتل کرکے تخت پر بیٹھا تھا۔ یہ پہلا حکمران تھا جس نے جنوبی ہند کو فتح کیا۔ اس کے علاوہ یہ اپنی دور رس اصلاحات کی وجہ سے تاریخ میں مشہور ہوا۔ اس خاندان کا آخری حکمران اس کا بیٹا قطب الدین مبارک خلجی تھا جس کو اس کے نومسلم غلام خسرونے قتل کرکے اس خاندان کا خاتمہ کردیا۔ 1426ء؁ میں مالوہ کی حکمرانی خلجیوں نے حاصل کرلی۔ اس خاندان کا بانی محمود خلجی تھا۔ اس نے اپنے برادر نسبتی کو ذہر دے کر ہلاک کردیا اور خود تخت پربیٹھ گیا۔ یہ ایک بیدار مغز بادشاہ تھا۔ اس کا سنتیس سالہ دور حکومت کا بیشتر حصہ گرد و نواع کی حکومتوں سے لڑنے اور سلطنت کی توسیع میں گزرا۔ اس خاندان کا آخر حکمران باز بہادر تھا۔ اس کو اکبر کی فوجوں نے 1561ء؁ میں تخت سے محروم کردیا۔ تیمور نے برصغیر کی حکمرانی سید خاندان کے حوالے کردی تھی اور سید خاندان کے مبارک شاہ کو بہلول لودھی نے 1451ء؁ میں سیّد خاندان کو تخت سے بے دخل کر کے خاندان لودھی خاندان کی بنیاد رکھی۔ اس طرح برصغیر میں ایک پشتون حکومت پھر قائم ہوگئی۔

بہلول لودھی نے اپنی سلطنت مستحکم کرنے کی غرض سے پشتونوں کے قومی جزبہ کو ابھارا اور ان کو جاگیروں کا لالچ دے کر ترک وطن پر آمادہ کیا۔ بہلول کی دعوت پر بہت سے پٹھان قبائل ہندوستان میں آباد ہوگئے۔ بہلول نے اپنی سلطنت کی آدھی زمین پشتونوں میں بطور جاگیر تقسیم کردی اور ان جاگیروں کو مورثی بنا دیا۔

لودھیوں نے ہندوستان پر 1451ء؁ تا 1526ء؁ تک حکومت کی ہے۔ اس خاندان کا سب سے نامور حکمران سکندر لودھی تھا۔ اس کا بیٹا ابراہیم لودھی جو اس کے بعد حکمران بنا۔ اس نے اپنی کوتابینی سے امراء کو دشمن بنا لیا۔ جنہوں نے بابر کو ہندوستان پر حملہ کرنے کی دعوت دی۔ بابر نے پانی پت کے میدان میں اسے شکست دی اور ابراہیم لودھی مارا گیا، اس کے ساتھ ہی ہندوستان پر سے لودھی خاندان کو خاتمہ ہوگیا۔

بابر جس کی طبعیت کابل کی بادشاہی پر قانع نہ ہوئی اور وہ ہندوستان کو فتح کرنے کے منصوبے بنانے لگا۔ وہ سرحد، دیپالپور، سیالکوٹ، لاہور، سرہند، پانی پت اور دہلی کو فتح کرتا ہوا آگرے میں داخل ہوگیا۔ مگر اس کو ہندوستان میں فقط چار سال حکومت کرنے کا موقع ملا۔

سوری خاندان کی حکومت (1540؁ء تا 1555ء؁) تک رہی ہے۔ اس خاندان کا بانی شیر شاہ سوری نے اپنے فہم و فراست سے اور سازشوں کے ذریعے ایک اتالیق سے ترقی کرکے بہار و بنگال کی حکومتوں کو زیر کرلیا اور اپنی طاقت بڑھایا تھا کہ ہمایوں شیر شاہ کی سرزش کے لئے بنگال پہنچا۔ شیر شاہ جو علاقائی حکمران تھا اور اس قابل نہیں تھا کہ ہمایوں سے دو بدو جنگ کرسکے۔ لہذا اس نے ہمایوں کو اپنی اطاعت کا یقین دلایا اور ہمایوں مطمین ہوگیا۔ شیر شاہ سوری نے ہمایوں کی غفلت کا فائدہ اٹھایا اور اس کے لشکر پر شب خون مارا جس سے ہمایوں کے لشکر میں انتشار اور بگڈر مچ گئی اور مغل حکومت کا بنیادی ڈھانچہ مستحکم نہ ہونے کی وجہ سے اور اپنے بھائیوں کی دغابازی کی وجہ سے ہمایوں کہیں رک نہ پایا اور نہ ہی لشکر فراہم ہوسکا۔

فرشتہ لکھتا ہے کہ سوری اپنا شیر شاہ سوری نے جب مغلوں سے لڑنے کے لئے کمر باندھی تو اس نے پشتونوں کو یہ کہہ کر جوش دلایا کہ مغل غاصب اور غیر ملکی ہیں، انہوں نے تمہای سلطنت پر قبضہ کرلیا ہے۔ لہذا تمہارا قومی فریضہ ہے کہ مغلوں کے خلاف نبرآزما ہو جاؤ۔ چنانچہ اس کی دعوت پر بہت سے پشتون فوج میں شامل ہوگئے۔

شیر شاہ سوری کے براقتدار میں آنے کا بڑا سبب مغلوں کی داخلی کمزوری اور ہمایوں کی لاپروائی تھی۔ اس کی حکومت کے مستحکم ہونے میں اس کی قائدانہ صلاحیتوں سے زیادہ حالات تھے جس کا اس نے فائدہ اٹھایا۔ اس کا دور حکومت مختصر لیکن شاندار تھا۔ یہ پورا دور جدو جہد کا تھا۔ اس نے مغلوں کو غیر اور غاصب کہہ کر اپنے بھائی بندوں کو اکھٹا کرلیا۔ مگر اس کی موت کے بعد ہی یہ طسلم ٹوٹ گیا۔ ایک بار پھر اس کے بیٹوں کے درمیان میں تخت نشینی کی جنگوں کے علاوہ درباری سازشیں ابھر آئیں۔ یہی وجہ ہے مغلوں کو دوبارہ ہند پر قبصہ کرنے میں کوئی دشواری پیش نہیں آئی۔

اٹھارویں صدی میں قندھار کے علاقہ میں قندھار کے علاقہ میں غلزئیوں کی ہوتکی شاخ نے میر اویس کی سردگی میں ایرانی حکومت کے انتشار سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اپنی حکومت قائم کرلی۔ لیکن اس کو استحکام حاصل نہیں حاصل ہوسکا۔ کیوں کے اسے دوسرے قبائل کی حمایت حاصل نہیں تھی اور اسے افغان قبائل کی مخالفت کا سامنا کرنا پڑا۔ جن میں ابدالی سرفہرست تھے۔ دوسری طرف ایرانی حکومت بھی اس کی مخالفت کررہی تھی۔ مگر ایرانی خود بھی انتشار کا شکار تھے۔ اس لئے وہ خود اس کے خلاف کوئی اقدام نہیں کرسکے۔ جب کہ میر اویس کے پوتے اشرف نے ایرانی انتشار کا فائدہ اٹھاتے ہوئے اصفہان پر قبضہ کرلیا۔ اصفہان پر دوبارہ قبضہ اور ہوتکی حکومت کا خاتمہ نادر شاہ افشار نے کیا۔

اٹھارویں صدی عیسوی میں نادر شاہ افشار نے افغانستان پر مکمل قبضہ کرلیا۔ مگر نادر شاہ کے قتل ہوتے ہی ایرانی حکومت ایک دفع پھر انتشار کا شکار ہوگئی۔ نادر شاہ درانی کے افغانی جرنیل احمد شاہ ابدالی نے اس انتشار کو دیکھتے ہوئے اپنے ساتھیوں کے ہمراہ قندھار آگیا اور اس نے موجودہ افغانستان کی بنیاد رکھی۔

بالاالذکر ہوچکا ہے کہ افغانوں کی عصبیت خاندانی اور قبائیلی ہوتی ہے۔ مگر یہ بھی حقیقت ہے کہ پشتونوں نے مختلف حکومتوں کے قیام اور استحکام کے لئے بہت مختلف خذمات انجام دیں ہیں، جنہیں ہم نذر انداز نہیں کرسکتے ہیں۔ تاہم جہاں پشتون حکومتوں کے قیام میں جہاں یہ مدد گار ہوئے وہاں یہ ان کی شکست و رنجیت میں بھی ان کا حصہ رہا ہے۔ برصغیر میں پشتون حکمرانوں کی دعوت پر ان کی بڑے پیمانے پر آمد اور آباد کاری بھی ہوئی اور ان حکمرانوں کی حکومتوں میں یہ بڑے بڑے عہدوں پر فائز رہے۔ مگر ان کی شورش اور سازشوں کی وجہ سے یہ حکومتیں ذوال پزیر ہوئیں۔ ان میں لودھی، سوری کے علاوہ بنگال اور بہار کی حکومتیں قابل ذکر ہیں۔ یہاں تک افغانستان کی ابتدائی ہوتک حکومت بھی ان کی مخالفت کا شکار رہی۔ جب کہ افغانستان کی بنیاد رکھنے والے ابدالی خاندان کی حکومت سازشوں اور مخالفتوں کی وجہ سے صرف تین پشت تک قائم رہی۔ یہی حال افغانستان کی دوسری حکومتوں کا ہوا۔

افغانستان کی حکومتیں[ترمیم]

اٹھارویں صدی سے بیشتر افغانستان کا ایک حصہ ایران کے ماتحت تھا، دوسرا حصہ ہندوستان کے ماتحت تھا تیسرا حصہ بخارا کے ازبک خوانین کے ماتحت تھا۔ اٹھارویں صدی میں نادر شاہ افشار نے افغانستان کو تسخیر کرلیا۔

احمد خان جو نادر شاہ کی فوج میں جرنیل تھا نادر شاہ کے قتل کے بعد افغانستان کا نظم و ضبط سنبھال لیا اور موجودہ افغانستان کی بنیاد رکھی۔ اس کی وفات کے وقت (1773ء کے وقت اس کی حدودیں مشہد، بلوچستان، کشمیر و پنجاب پر مشتمل تھا۔ اس کا بیٹا تیمور شاہ (1773ء تا 1793ء) ایک کمزور حکمران تھا۔ دارلحکومت قندھار سے کابل لے گیا اور بہت سے ہندوستانی علاقے نکل گئے اور قبائلی اختلاف ابھر آئے۔

تیمور شاہ کا فرزند زمان شاہ (1793ء تا 1799ء) کی حکومت کا آغاز بھائیوں کے جھگڑوں اور قبائلی کشمکش سے ہوا۔ پہلے یہ اپنے بھائیوں کا دبانے میں کامیاب ہوگیا، بعد میں اپنے بھائی محمود شاہ کے ہاتھوں گرفتار ہوا جس نے اسے اندھا کردیا۔

محمود شاہ (1799ء تا 1803ء) اول مرتبہ کو اس کے بھائی شاہ شجاع نے اقتدار سے محروم کردیا، مگر یہ قید سے بچ نکلا اور (دوبارہ 1810ء تا 1818ء) اس نے اپنے بھائی شاہ شجاع کو شکست دے کر تخت پر قبضہ کرلیا۔ اس کا وزیر فتح خان جو اس کا بڑا حامی تھا، اس کی برطرفی پر قبائل نے بغاوت کردی۔ وہ ہرات کے سوا جہاں 1829ء حکمران رہا باقی علاقوں سے دست بردار ہوگیا اور فتح خاں کے بھائیوں نے مستقل ریاستیں قائم کرلیں۔

شاہ شجاع اپنے بھائی کو شکست دے کو حکمران بنا۔ اس نے انگریزوں سے تعلقات بڑھائے مگر اسے محمود شاہ نے برطرف کردیا۔ شاہ شجاع، رنجیت سنگھ اور ایسٹ انڈیا کمپنی کے درمیان ایک معاہدہ ہوا کہ شاہ شجاع کو افغانستان کا تخت واپس دلایا جائے گا۔ 1829ء میں ایک انگریزی فوج کابل پہنچی اور دوست محمد کو گرفتار کرکے ہندوستان بھیج دیا گیا۔ شا شجاع تخت پر بیٹھ گیا لیکن اس سے ملک میں سخت بیچینی پھیلی اور برطانوی اثر کے خلاف سخت سورش پیدا ہوگئی۔ دوست محمد کے بیٹے اکبر خان کی سردگی میں حملے کئے گئے اور تین فوجی قتل کردیے گئے۔ ایک اور انگریزی فوج کابل پہنچی جس نے کابل پر قبضہ کرلیا اور مجرموں کو سزا دی گئی۔ مگر انگریزی فوج نے ٹہرنا مناسب نہیں سمجھا اور واپس چلی گئی اور دوست محمد 1852ء میں پھر حکمران بن گیا۔

دوست محمد فتح محمد کا بھائی اور غزنی کا حکمران اور بارک زئی خاندان کا بانی تھا۔ وہ ۶۲۸۱ء؁ میں کابل پر اور 1834ء میں قندھار پر قابض ہوگیا۔ اور 1835ء میں افغانستان کا حکمران بنا۔ پہلی دفعہ 1935ء تا 1829ء اور دوسری دفعہ 1842ء تا 1863ء تک حکمران رہا۔ اس نے 1855ء میں قندھار پر دوبارہ قبضہ کرلیا۔ 1855ء میں اس نے ایرانیوں کے خلاف انگریزوں سے معاہدہ کیا۔ کیوں کہ ایران نے ہرات پر قبضہ کرلیا تھا۔ برطانیہ نے 1856ء میں ایران کے خلاف اعلان جنگ کردیا۔ مارچ 1857ء میں ایران ہرات سے دستبردار ہوگیا اور افغانستان کی آزادی کو تسلیم کرلیا۔ دوست محمد نے دس مہینے کے محاصرے کے بعد ہرات اس حاکم سے واپس ہوگیا جو ایران کے بعد ہرات پر قابض ہوگیا تھا۔

دوست محمد خان کی وفات کے بعد افغانستان میں خانہ جنگی شروع ہوگئی۔ برطانیہ نے دوست محمد کے تیسرے فرزند شیر علی کی حکومت کو تسلیم کرلیا۔ تاہم اس کو اپنے بھائیوں سے دعویٰ منوانے میں بڑی مشکلات پیش آئیں۔ 1870ء میں یہ حکومت پر قبضہ کرنے میں کامیاب ہوگیا۔ اس نے برطانیوی دباؤ میں توازن پیدا کرنے کے لئے روس سے تعلقات بڑھائے اور 1878ء میں روس سے باہمی امداد کا معاہدہ کیا۔ اس پر برطانیوی حکومت نے اصرار کیا کہ اس کا بھی ایک مشن منظور کیا جائے۔ شیر علی کے نتیجے میں دوسری جنگ (1878ء تا 1879ء) ہوئی۔ اسی دوران 1879ء میں شیر علی نے وفات پائی۔

یعقوب خان (1879ء تا 1880ء) امیر شیر علی کا فرزند مسند نشین ہوا۔نگریز ملک کے بڑے حصہ کو پامال کرچکے تھے۔ لہذا معاہدہ گندمک پر مجبور ہوا۔ اس کے مطابق انگریزوں کو درہ خیبر پر قبضہ کا حق مل گیا اور خارجہ پالیسی کا انتظام برطانیہ کے ذمہ اور اسے تجارت کی کامل آزادی مل گئی اور ہر سال امیر کو دس ہزار پاونڈ امداد منظور کی۔ اس نتیجہ میں برطانیہ کہ خلاف بغاوت ہوئی اور برطانوی سفیروں کا قتل ہوا۔ برطانیہ نے کابل کی طرف پیش قدمی کی۔ امیر یعقوب نے حکومت سے دستبرداری اور خود کو برطانیہ کے حوالے کردیا۔

عبدالرحمٰن (1880 تا 1901ء) امیر شیر علی کا بھتیجا اور اس کے مخالف تھا جو روس میں پناہ لیا ہوا تھا۔ اسے وہاں سے بلا کر امیر بنایا گیا۔ اس نے معاہدہ گندمک کو قبول کرلیا لیکن فراست کے ساتھ روسیوں کو انگریزوں کے خلاف اور انگریزوں کو روسیوں کے خلاف استعمال کرتارہا۔ یوں ملک کو بچا کر اور ساتھ ہی اس نے بہت سے قبائل کو مسخر کرکے اپنا اقتدار کو قائم کیا۔

1885ء میں پنج دہ سرحدی جھگڑے میں روسی اور افغانی فوجوں چھڑپیں ہوئیں۔ اس سے روس اور برطانیہ کے درمیان نازک صورت حال پیدا ہوگئی، لیکن 1886ء میں گفت شنید کے ذریعے معاملات طہ کئے گئے۔ اس کے عہد میں افغانستان کی سرحدیں متعین کی گئیں۔ برطانیہ میں کے ساتھ معاہدہ ڈیوڈینڈر (1863ء) اس کے مطابق چترال سے بلوچستان تک ہندوستان و افغانستان کی سرحدیں متعین ہوگئی۔ روس کے ساتھ ایک طویل کشمکش کے بعد پامیر کی سرحد کافیصلہ 1890ء میں افغانستان نے ایک تنگ پٹی رکھی جو روس کو برطانوی مقبوضات کو ایک دوسرے سے جدا کرتی ہے۔

حبیب اللہ خان (1901ء تا 1919ء) یہ کم اثر و رسوخ والا حکمران تھا اور حرم و علماء کے زیر اثر تھا۔ جب کہ یورپی خیالات بترویج پھیل گئے۔ روس کی سرگرمیوں کے جواب میں برطانیہ سے نیا معاہدہ جس میں سابقہ معاہدوں کی تصدیق کی گئی۔ 1907ء میں برطانیہ اور روس کے درمیان سمجھوتے جس کے مطابق روس نے افغانستان میں برطانیہ کی مقتدر حثیت تسلیم کرلی اور افغانستان کے معاملات میں دخل نہ دینے کا عہد کیا۔

افغانستان پہلی جنگ عظیم میں غیر جانبدار رہا۔ کیوں کے ہندوستان نے اس کے لئے بھاری رقم اس کے لئے دی تھی۔ اگرچہ جرمنی اور ترکی مشنوں نے اس پرزور ڈالا اور مذہبی پروپنگنڈا بھی ہوا کہ افغانستان کو ترکی کا ساتھ دینا چاہیے۔ مگر حبیب اللہ انگریزوں کے تابع ہوگیا تھا اور 1919ء میں قتل کردیا گیا۔ قدامت پسندوں نے اس کے بھائی نصراللہ خان کے امیر ہونے کا اعلان کردیا۔ لیکن اس کے بیٹے امان اللہ خان جس کی فوج حامی تھی اور وہ کابل کا حاکم تھا دارلحکومت کو اس نے اپنے قبضہ میں رکھا، جس پر نصراللہ دستبردار ہوگیا۔

امان اللہ خان (1919ء تا 1929ء) افغانستان میں انگریزوں کے خلاف جزبات کا طوفان موجزن تھا۔ ہندوستان چار سالہ جنگ کرتے کرتے تھک چکا تھا۔ امان اللہ نے صورت حال سے فائدہ اٹھایا اور برطانیہ کہ خلاف جنگ کا اعلان کردیا اور ہندوستانی مسلمانوں سے بھی برطانیہ کے خلاف اٹھ کھڑے ہونے کی اپیل کی۔ چند ابتدائی کامیابیوں کے بعد اسے پیچھے ہٹنا پڑا اور خود انہیں بھی خطرہ ہوگیا۔ چونکہ طویل جنگ کے لئے کوئی تیار نہیں تھا اس لئے گفت شنید ہوئی اور برطانیہ سے 1921ء میں معاہدہ ہوا اور اس میں افغانستان کی آزادی تسلیم کیا گیا اور اسے تمام طاقتوں سے براہ راست تعلق پیدا کرنے کا حق مل گیا اور برطانیہ نے امدادی رقوم بند کردیں۔ 1921ء میں امان اللہ نے روس نے ترقی کا اور ایران سے ایک دوسرے کے خلاف عدم جارحیت معاہدہ کیا اور اس کے بعد امان اللہ آہستہ آہستہ روس پر انحصار کرنے لگا۔

1933ء میں ترکی کے دستور کے نمونے پر دستوری اصلاحات ایک قومی مجلس کا اعلان کیا۔ جس کے نصف ممبر منتخب اور نصف نامرز تھے، جسے قانون سازی کے بعض اختیار دیے گئے تھے۔ مگر بیشتر اختیارات امیر نے اپنے پاس رکھے گئے تھے۔ اس کی خواہش تھی کہ ملک کو تیزی سے نئے اصول پر لے آئے۔ 1926ء میں امان اللہ نے بادشاہ کا لقب اختیار کیا۔ 1929ءمیں روس کے ساتھ معاہدہ کیا۔ جس میں پہلے معاہدوں کی توثیق نیز غیر جانبداری اور عدم مداخلت کا کیا۔ 1927ء میں ایران کے ساتھ دوستی اور حفاظت کا معاہدہ، ترکی کے ساتھ 1928ء ترکی کے ساتھ دوسرا معاہدہ کیا۔ 1928ء میں امان اللہ خان اور اس کی ملکہ نے ہندوستان، مصر اوریورپ کی سیاحت کی، جہاں اپنے ملک کے لئے اقتصادی اور مشاورتی معاہدے کئے اور ملک کی ترقی کے لئے نئے خیالات لے کر آئے۔ لیکن ملک میں ان کی مخالفت ہوئی، جس کو مذہبی اور قبائلی حلقے ہوا دے رہے تھے اور بغاوت کا آغاز ہوگیا۔ امان اللہ خان نے دیکھا کہ وہ مخالفت روک نہیں سکتا ہے تو اپنے بھائی عنایت اللہ خان کے حق میں دستبردار ہوگیا۔ عنایت اللہ خان آرام پسند اور بے اثر شخص تھا۔ ایک قزاق بچہ سقہ نے ٹھورے سے آدمیوں کے ساتھ کابل پر قبضہ کرلیا اور حبیب اللہ کے لقب سے اپنی بادشاہی کا اعلان کردیا۔ اس کے خلاف کئی دعوے دار اٹھ کھڑے ہوگئے۔ ان میں ایک امان اللہ بھی تھا۔ اس نے قندھار میں فوج جمع کرلی لیکن کابل پر پیش قدمی کرتے ہوئے شکست کھائی۔

محمد نادر شاہ (1929ء تا 1933ء) ایک ممتاز فوجی افسر تھا اور یورپ سے آیا تھا۔ اس نے فوج جمع کرکے کابل پر قبضہ کرلیا اور اپنی بادشاہی کا اعلان کردیا۔ حبیب اللہ خان مارا گیا لیکن کئی دعوے دار کھڑے ہوگئے۔ نادر شاہ نے انہیں شکست دے دی۔ اس کی پالیسی ایسی تھی کے ملک کو جدید اصولوں پر لانے کا کام کیا جائے لیکن اس کی نمائش کم کی جائے۔ اس نے نئے دستور کا اعلان کیا جو کہ 1923۱ء کے نمونے کا تھا لیکن اس میں دو ایوان تھے۔ ایک ایوان نامرز ممبر کا تھا اور دوسرے ایوان کے ممبر منتخب ہوتے تھے۔ 1933ء میں نادر شاہ کو شہید کردیا گیا۔

محمد ظاہر شاہ (1933ء تا 1979ء) نادر شاہ کا فرزند تھا، اس کو اپنے چچاؤں کی حمایت حاصل تھی۔ اس نے اپنے باپ کی پالسیوں کو جاری رکھا۔ اس کے عہد میں بھی مقامی بغاوتوں نے سر اٹھایا۔ پاکستان کی آزادی کے وقت اس نے صوبہ سرحد کے ان علاقوں پر اپنا دعویٰ ظاہر کیا جو کہ ڈیوینڈر معاہدے کے تحت ہندوستان کے حوالے کئے تھے اور صوبہ سرحد میں پختونستان کا نعرہ لگوایا۔ گو اس کو پاکستان میں چند ایک کے سوا کوئی اہمیت نہیں دی۔ 1979ء میں اس کے قریبی عزیز داؤد خان نے تخت پر قبضہ کرلیا۔ ظاہر شاہ ملک سے فرار ہونے میں کامیاب ہوگیا۔

داؤد خان نے ظاہر شاہ کو اقتدار سے بے دخل کرکے ملک کے جمہوریہ کا اعلان کردیا۔ اس نے پختونستان کے مسئلہ کو اٹھایا۔ لیکن 1979ء نور محمد تراکی کی روسیوں کی مدد سے بغاوت کردی اور قتدار پر قبضہ کرلیا داؤد خان مارا گیا اور روسی فوجیں ملک میں داخل ہوگئیں اور ایک کڑور سے زیادہ پناہ گزین پاکستان اور دوسرے ملکوں میں پناہ گزین ہوگئے۔ پاکستان میں ان کی تعداد ساٹھ لاکھ سے زائد تھی۔ مقامی باشندوں نے روس کے خلاف مسلح مزاحمت شروع کردی۔ یہ لوگ جو منشر اور غیر تربیت یافتہ تھے۔ پاکستان نے انہیں منعظم کیا اور تربیت فراہم کی اور انہیں محدود پیمانے پر اسلحہ بھی دیا اور ان کی رہنمائی کی۔ بعد میں امریکہ بھی ان کی مدد کرنے لگا۔ اس طرح مجاہدین کو جدید ترین اسلحہ ملنے لگا اور مجاہدین نے اپنی جدوجہد تیز سے تیز تر کردی گئی۔

روس نے دس سال افغانستان میں قبضہ سے شدید نقصان اٹھایا اور اس سے اس کے اقتصادی ڈھانچہ کو شدید نقصان اٹھایا اور اس سے ایک پاکستان سے ایک معاہدے کے تحت 1990ء میں افغانستان کی کٹ پتلی حکومت جس کا سربراہ ببرک کارمل تھا بے مدد گار چھوڑ کر واپسی اختیار کرلی۔ مجاہدین نے کابل کا رخ اختیار کیا اور کابل پر قبضہ کرلیا۔ لیکن اس ساتھ ہی مجاہدین ببرک کارمل نے ازبک ملشیا کے سربراہ رشید دوستم کے ساتھ مل کر مزاحمت گئی۔

1995ء میں ملا عمر نے اس خانہ جنگی سے تنگ آکر قندھار میں طا لبان کومنعظم کیا۔ جس میں علماء اور مذہبی عناصر شامل تھے۔ طالبان نے ان گروپوں کے خلاف کاروائی کی جو اقتدار کے لئے آپس میں لڑ رہے۔ طالبان نے کابل پر قبضہ کرلیا اور ببرک کارمل کو گرفتار کرکے پھانسی دے گئی۔ طلبان نے ملک کا بیشتر حصہ ان کے تسلط سے آزاد کرالیا۔ مخالف گروپ جس میں سابقہ کمونسٹ عناصر بھی شامل تھے اور آپس میں لڑ رہے تھے وہ طلبان کی کامیابیوں کو دیکھتے ہوئے متحد ہوگئے اور ایک گروپ میں ضم ہوگئے جو کہ شمالی اتحاد کے نام سے موسوم ہوا اور اسے امریکہ روس اور یورپی ممالک کی حمایت حاصل تھی۔ اگر چہ ان اتحادیوں کے قبضہ میں صرف شمال کا کچھ علاقہ رہے گیا تھا۔ عوام جو خانہ جنگی سے تنگ آگئے تھے انہوں نے طالبان کا خیر خیر مقدم کیا اور ملک میں امن قائم کیا۔ طالبان کی حکومت کو صرف تین ملکوں پاکستان سعودی عرب اور شارجہ نے تسلیم کیا۔ اس کی وجہ طالبان کو انتہا پسندانہ روئیہ تھا اور انہوں نے بیرونی مالک سے تعلقات پر کوئی توجہ نہیں دی۔ جس کی وجہ سے افغانستان مغرب مخالف عناصر کا گڑھ بن گیا۔ جس میں القائدہ اور اسامہ بن لادن شامل تھا۔

گیارہ ستمبر2001ءکے واقع کا امریکہ اس کا الزام القائدہ پر لگایا اور افغانستان سے مطالبہ کیا کہ اسامہ بن لادن کو امریکہ کے حوالے کردے اور دوسری صورت میں دھمکی دی کہ دوسری صورت میں امریکہ افغانستان پر حملہ کرکے مجرموں کو قرار واقعی سزا دی جائے گی ۔ مگر طالبان نے امریکہ کے حوالے کرنے سے انکار کردیا اور ان کا کہنا ہے کہ یہ القائدہ پر محض الزام ہے ۔ پاکستان نے کوشش کی کہ طالبان اسامہ بن لادن کو امریکہ کے حوالے کر کے افغانستان کو ممکنہ تباہی سے بچالے ۔ مگر طالبان اپنے انکار پر ڈٹے رہے ۔ پاکستان اور دوسرے ممالک نے افغانستان سے اپنے تعلقات ٹوڑ لئے اور اس طرح افغانستان پوری دنیا میں تنہاہ رہے گیا ۔ امریکہ اور اس کے اتحادیوں نے میں افغانستان پر مزائلوں اور فضائی حملے طالبان اور القائدہ کے ٹھکانوں پر ممکنہ حملے کئے ۔ دوسری طرف شمالی اتحاد جس کو امریکہ کی پوری مدد حاصل تھی ۔ مگر شمالی اتحاد طالبان کو پیچھے ڈھکیلنے میں ناکام رہے ۔ لیکن طالبان پنتیس دن مزاحمت کرنے کے بعد مزار شریف اور کابل خالی کردیئے اور ملک کے باقی حصوں پر اقتدار مقامی یا قبائلی سرداروں کے حوالے کرکے خود رپوش ہوگئے ۔ امریکہ اور اس کے اتحادیوں کی فوجیں افغانستان میں اتر گیں ۔ امریکہ نے ایک جلاوطن رہنما حامد کرزئی جو اعتدال پسند تھا کی سردگی میں ایک غبوری حکومت تشکیل دی ۔ جس میں شمالی اتحاد کو اہم عہدے دیئے گئے ۔

جینوا میں اقوام متحدہ کے زیر اہتمام اقوام متحدہ کے سیکٹری جنرل کوفی عنان کی صدارت میں مختلف نسلی گروہوں جلاوطن افغانوں کے علاوہ سابقہ ظاہر شاہ کے نمائندوں کا اجلاس جس میں افغانستان کا آئندہ لائمہ عمل کا انتخاب طے کرنے کے لئے ہوا ۔ اس اجلاس میں پاکستان ، امریکہ اور روس کے نمائندے مبصر کی حثیت سے شریک ہوئے ۔ اس اجلاس میں آئندہ طرز حکومت کے لئے لوئی جرگہ کے ناموں کا انتخاب ہوا ۔ اس اجلاس میں ناموں کے انتخاب پر پشتو بولنے والوں نے سخت احتجاج کیا کہ انہیں غبوری حکومت کی طرح جس میں ان کی آبادی سے کم عہدے دیئے گئے تھے ، اس طرح لوئی جرگہ میں ان کی نمائندگی ان کی آبادی کے تناسب سے کم دی گئی ہے ۔ سخت اختلاف رائے کے بعد لوئی جرگہ کے ناموں کا انتخاب ہوا اور یہ طہ پایا گیا کہ لوئی جرگہ طرز حکومت طہ کرے گا ۔

لوئی جرگہ کا اجلاس کابل میں ہوا ۔ جس میں سخت طرز حکومت پر سخت اختلاف رائے ہوا اور یہ طہ پایا گیا کہ دوسال تک یہی غبوری حکومت حامد کرزئی کی قیادت میں رہے اور اس دوران غبوری حکومت آئین بھی تشکیل دے اور الیکشن بھی کرائے ۔

اب جب کہ افغانستان میں بظاہر ایک منتخب حکومت قائم ہے اور ایک آئین بھی تشکیل بھی دے دیا ہے ۔ اب کرزئی حکومت صرف کابل تک محدود رہے گئی ہے اور ملک میں باقی جگہ قبائلی یا علاقائی سرداروں کی حکمرانی ہے اور اکثر اتحادیوں کی طلبان سے جھڑپیں ہوتی رہتی ہیں ۔ اتحادیوں کا سب سے کمزور پہلو یہ ہے کہ اسامہ بن لادن اور ملا عمر ابھی تک امریکہ کی پہنچ سے دور ہیں اور اس دوران امریکہ نے کوشش کی کہ طالبان کے کسی ڈھرے کو الگ کرکے اقتدار اپنی شرائط پر ان کے حوالے کردے ۔ مگر امریکہ کو اس میں ناکامی ہوئی ہے ۔ بلاشبہ یہ کہاجاسکتا ہے کہ جب تک اتحادی افواج ملک میں رہیں گی کرزئی حکومت قائم رہے گی ۔


پشتون ولی[ترمیم]

پشتون قبائل کا معاشرتی آئین و دستور یا ضابطہ اخلاق جو پشتون ولی کے معنوں میں استعمال ہوتا ہے۔ یہ ضابطہ اخلاق (معیار) سے واقفیت نظم و نسق کے نقطہ نظر سے کم اہم نہیں ہے۔ یہ ماضی میں بھی رائج تھا اور ہنوز اکثر لوگوں کے اعمال و افعال پر اثر انداز ہوتا ہے۔ یہ چند تبدیلوں کے ساتھ تمام پشتون قبائل میں رائج رہا ہے۔ اگرچہ رفتہ رفتہ اس کا اثر کم ہوتا جا رہا ہے۔ پشتون ولی یہ درج ذیل کیا جارہا ہے۔

  1. خون کا بدلہ۔ (بدل)
  2. پناہ لینے والے کے لئے آخری دم تک لڑنا۔
  3. سپرد کردہ جائیداد کی آخری دم تک حفاظت کرنا۔
  4. مہمان نوازی اور مہمان کے جان و مال کی حفاظت کرنا۔
  5. ہندو، کمین، عورت اور کم سن بچے کو قتل کرنے سے پر ہیز کرنا۔
  6. مجرم کے خاندان کی کسی عورت کی درخوات پر لڑائی بند کرنا۔
  7. اس آدمی کو مارنے سے گریز کرنا جو کسی پیر کی زیارت میں داخل ہوگیا ہو۔
  8. جو ہتھیار ڈال دے یا منہ میں گھانس ڈال کر پناہ مانگے اس کی جان بخشنا۔ (ننواتے)
  9. ملا ، سیّد اور عورت سر پر قران رکھ کو آئے تو لڑائی بند کردینا۔
  10. سیاہ کار کو موت کے گھات اتارنا۔

یہ ضابطہ پشتونوں میں بہت اہم رہے ہیں۔ زن، زر اور زمین بالخصوص آخری الذکر افغانوں میں ہمیشہ کشت و خون کے محرکات رہے ہیں اور ان ضوابط کی بناء پر ہمیشہ پشتون قبائل کے درمیان کشت و خون جاری رہا ہے۔

پشتونوں کے ضابطہ معاشرت نہ صرف پشتونوں میں بلکہ برصغیر کی دوسری قوموں خاص کر بلوچوں، جٹوں اور راجپوتوں میں چند تبدیلوں کے ساتھ رائج رہے ہیں۔ اگرچہ یہ بطور ضابطہ کے مروج نہیں تھے۔ مگر وہ اس سے رد گردانی کا سوچ نہیں سکتے ہیں۔ گویا یہ آریائی دستور ہیں اور انہیں باقیدہ ضابطہ کے تحت بلوچوں اور پشتونوں میں ارتقائی شکل اختیا ر کی۔

جرگہ[ترمیم]

اصل مضمون کے لئے ملاحظہ کریں: جرگہ

قبائیلی علاقوں میں ہر یا اور قبیلے کی ایک نمائندہ مجلس یاپنچایت جرگہ کہلاتی ہے۔ قبائیلی جرگہ کے علاوہ علاقائی جرگہ بھی ہوتا ہے جو عموماً مختلف قبائل کے درمیان تنازع کو طہ کرانے کے لئے مصالحت کروانے والے قبائل فریقین کا جرگہ بلاواتے ہیں اور اس میں خود بھی شریک ہوتے ہیں۔ یہ علاقائی جرگہ ہوتا ہے۔ قبائیلی علاقہ میں پولیٹکل احکام بھی بلواتے ہیں۔اس طرح مفرور، شورش پسند اور بغاوت کے مرتب افراد کے خلاف تعزیاتی کاروائیاں اور علاقہ بدر کیا جاتا ہے۔ اس طرح جرگہ کی بدولت حکومت قبائیلی معملات میں دخل دیئے بغیر باآسانی ناپسندہ افراد کے خلاف کاروائی کرسکتی ہے۔ اس لیے ان جرگوں کے فیصلوں کو عدالتیں بھی تسلیم کرتی ہیں۔

پشتون قبائل سخت انفرادیت پسندی، خود پسندی اور شورش پسند ہونے کی وجہ سے ان پر حکم چلانا ممکنات میں شامل نہیں ہے۔ یہی وجہ ہے یہ ایک سردار کے ماتحت میں نہیں ہوتے ہیں۔ یہ اپنے معتبر خود منتخب کرتے ہیں جو کوئی خاص اختیارات کے مالک نہیں ہوتے ہیں۔ انہیں بھی فیصلے کرنے کااختیار نہیں ہوتا ہے۔ اس لئے انہیں اپنے فیصلے منوانے کے لئے اور اپنے مخالفین کو دبانے کے لئے دوسرے الفاظوں میں اپنی معتبری محفوظ رکھنے کے لئے مختلف ہتھکنڈوں سے کام لیتے ہیں۔ ان میں اثر و رسوخ، سازش، پشت پناہی اور مال و دولت کا استعمال شامل ہے اور جرگہ کے ذریعے قبائیلی عمائدین کو مٹھی میں رکھا جاتا ہے۔ دوسرے الفاظوں میں اپنی معتبری کو محفوظ رکھا جاتا ہے۔ اس طرح جرگہ کے فیصلے بھی عموماً طاقت کے توازن کے مطابق ہوتے ہیں۔ ایک عام جرگہ کے فیصلے عموماً تین طرح سے نافذ کئے جاتے ہیں۔ یہ فیصلے دوغہ کہلاتے ہیں۔

  1. نیکہ = یہ عموماً قتل یا تور (بدنامی) کے بدلے جرگہ کے فیصلہ سے مجرم سے ایک بھاری رقم لیجاتی ہے۔ لیکن مدعی خلاف ورزی کرے تو رقم واپس کردی جاتی ہے۔
  2. سورہ = اس کے معنی بدلے کی لڑکی کے ہیں۔ یہ عموماً کسی لڑکی کے اغوا یا مرضی کی شادی ہونے کی صورت میں بدلے میں لڑکی لی جاتی ہے۔
  3. (شڑونے = یہ کلمہ شڑل جس کے معنی بھگانا، دھتکارنا، دیس سے نکال نا اور شہر بدر کرنے کے ہیں اور شڑونے کے معنی نکلنے والے کے ہیں اور یہ کلمہ قندھار کے علاقہ میں کشندہ یا کشنوندہ بھی کہلاتا ہے۔

افغانستان میں لوئی جرگہ جو طالبان کے بعد حکومت کی تشکیل کے لئے اتحادیوں نے بلوایا تھا۔ لوئی کے معنی بزرگ کے ہیں اس طرح لوئی کے معنی بزرگ جرگہ کے ہیں۔ یہ سب سے پہلے احمد شاہ ابدالی نے اس لئے بلوایا تھا کہ افغانوں کو ایک علحیدہ ملک اور حکومت کے تحت منظم کیا جائے۔ اس جرگہ نے احمد شاہ ابدالی کو افغانستان کا پہلا بادشاہ مقرر کیا تھا۔ پاکستان کی آزادی کے وقت ایک قبائیلی جرگہ نے پاکستان میں شمولیت کا فیصلہ کیا تھا۔

جرگہ کی راویت صرف پٹھانوں میں ہی نہیں ہے بلکہ یہ بلوچستان، سندھ اور جنوبی پنجاب کے قبائیل میں بھی ہے۔ آزادی سے پہلے قلات کا شاہی جرگہ ہوا تھا جس نے پاکستان میں شمولیت کا فیصلہ کیا تھا۔ جرگہ کا طریقہ کار صرف پتھانوں سے ہی تعلق نہیں رکھتا ہے، بلکہ اس کا رواج وسط ایشیا اور منگولوں میں بھی تھا۔ چنگیز خان نے منگولوں کی قیادت سمھالنے سے پہلے منگولوں کی ایک نماندہ مجلس بلائی تھی جس نے اسے باقیدہ خان منتخب کیا۔ اس طرح تیمور کو امیر منتخب ایک قبائیلی مجلس نے کیا تھا جس میں قبائیلی سردار، عمائدین اور علماء تھے۔

چنگیز خان اور تیمور منتخب ہونے سے پہلے طاقت ور ہوچکے تھے اور دور دور تک ان کا کوئی مد،قابل نہیں تھا۔ مگر انہوں نے باقیدہ ایک اجلاس بلا کر خود کو منتخب کرا یا۔ یہ سے بخوبی اندازہ ہوتا ہے کہ جرگہ ان کی قدیم روایت میں سے ہے اور اس کی منظوری کے بغیر ان کا تقرر قانونی نہیں ہوتا ہے۔ غرض جرگہ کی روایات کی جڑیں قدیم زمانے سے آریاؤں اور وسط ایشیاء میں ملتی ہیں، اگرچہ اس وسیع پیمانے پر مقبولیت اور طاقت حاصل نہیں کرسکی، جس قدر پٹھانوں میں ہے۔ اس کی وجہ یہی سمجھ میں آتی ہے کہ جرگہ کو جہاں یا جس علاقے میں مقبولیت حاصل ہوئی وہاں جنگل کا قانون کے علاوہ کسی اور قانون کی عملدراری نہیں رہی ہے، اور اس کو روکنے کا موثر طریقہ جرگہ ہی ثابت ہوا ہے۔


پشتو (پختو) زبان[ترمیم]

پشتو جنوبی و مشرقی افغانستان میں جلال آباد کے شمال میں قندھار اور وہاں سے مغرب کی جانب سبزوار تک بولی جاتی ہے۔ جب کہ کابل اور غزنی کے علاقہ میں فارسی بولی جاتی ہے۔ پاکستان میں خیبر پختون خواہ کے زیادہ تر باشندے دیر اور سوات سے جنوب کی طرف، نیز پنجاب کے بعض اقطلاع میں اور بلوچستان میں جنوب کی جانب کوئٹہ میں پشتو رائج ہے۔

ڈاکٹر شہید اللہ کا کہنا ہے کہ پشتو ہند یوری زبانوں کے گروہ کی ہند آریائی شاخ سے تعلق رکھتی ہے اور ہند آریائی کی چھوتی شاخ ایرانی سے ماخذ ہے۔ اس میں دردی گروہ (باشگلی، وائے لا، دیرون اور تیراہی وغیرہ) کی بعض صوتی خصوصیات شامل ہیں۔ ایک روسی مشترق وی اے ابائیف کا کہنا ہے کہ پشتو میں لثوی اصوات آریائی اصوات کا حصہ نہیں رہے ہیں، وہ لازمی دڑاوری زبان سے ماخذ ہیں۔ افغانستان شروع ہی سے قوموں کی گزر گاہ رہا ہے۔ یہ قبائل چاہے مشرق کی طرف چینی ترکستان کی طرف سے آئے ہیں یا مغرب میں یونان، ایران و عرب ممالک کی سے اور ان قبائل تمام نے پشتو زبان کی تشکیل میں حصہ یا اپنا اثر چھوڑا ہے۔

ترخان میں بعض اوراق ایک اور زبان کے ملے ہیں، جسے سغدی زبان قرار دیا گیا ہے اور یہ ہند سکاتی یا سکاتی گروہ سے تعلق رکھتی ہے، جو مشرقی ایرانی زبانیں کہلاتی ہیں جن کی نمائندگی پشتو اور پامیر کی بعض زبانیں (سری، قولی، دخی وغیرہ) کرتی ہیں۔

سیکاتی یا سیھتی یا ساکا افغانستان کے شمالی علاقوں میں عہد قدیم سے آباد تھے۔ یہ آریوں کے ہم نسل تھے۔ یہ بعد کے زمانے میں افغانستان پر چھاگئے اور انہوں نے افغانستان پر حکومت بھی کی۔ ان کی حکومتیں افغانستان سے ختم ہوگیں، مگر ان کے اثرات افغانستان پر بدستور قائم رہے۔ ساکاؤں کے جہاں افغانستان پر گہرے اثرات پڑے وہاں ان کے اثرات مقامی زبانوں پر بھی پڑے۔ مثلاً پشتو میں دریا کو سین بولتے ہیں یہ بھی ساکائی کلمہ ہے۔ آج شمالی برصغیر اور رجپوتانے کے اکثر دریاؤں نہروں اور نالوں کے نام سین، سون اور سندھ کی شکل میں ملتے ہیں۔اس طرح پشتو میں تلوار کو تور کو کہتے ہیں۔ جیمز ٹاڈ کا کہنا ہے کہ سیتھا میں تلوار کو تر کہتے ہیں۔ پشتو زبان جو جو سیکاتی گروہ کی زبان کہلاتی ہے اور یہ دوسری ایرانی زبانوں کی نسبت سیتھی زبان سے زیادہ متاثر ہے۔

عربوں کے دور میں عربی کا نمایاں اثر پڑا اور خاص سامی یا عربی حروف کا پشتو میں استعمال ہوا۔ اس سے پہلے یہاں ’ث، ح، ڈ، ص، ض ط، ظ اور ع‘ کا استعمال یہاں کی زبانوں میں نہیں ہوتا تھا اور بہت سے عربی الفاظ یا ان کے معرب پشتو میں استعمال ہوئے۔

پشتو آریائی کی ایرانی شاخ سے تعلق رکھتی ہے۔ اس کے اکثر الفاظ اوستا، فارسی اور سنسکرت کے قریب ہیں۔ بقول جمال الدین افغانی کہ حق تو یہ ہے لوگ ایرانی الاصل ہیں اور ان کی زبان ژند و اوستا سے ماخوذ ہے اور آج کل کی فارسی سے بہت مشابہہ رکھتی ہے۔ جدید مورخین مثلاً فرانسس فغورمان وغیرہ اس کی تعائید کرتے ہیں۔ اس کی تعائید میں درج ذیل کچھ الفاظ پیش کئے جارہے ہیں، جس سے بخوبی اندازہ ہوتا ہے کہ پشتو آریائی زبان ہے۔

== سخر|| ہوسور || ہورسور || خسر || سسر نمر/لمر || سوریے||-||آفتاب||سورج

پشتو سنسکرت اوستا فارسی اردو معنی
ستورے ستاری ستوبہ ستارہ ستارہ
مخ مکر درکھ رخ چہرہ
شپہ جرمن شپ شب رات/شب
ژبان/ژبہ - زبان زبان
خاخ شاکھ ۔ شاخ شاخ
اُبہ آپ آپ آب پانی
سرمن چرمن جرمن چرم چنرہ/کھال
پلار پائری پتر پدر باپ
غرما گرما گر ۔ دوپہر
غوا گؤ گؤ گاؤ گائے
تاوا /کشتئی نؤ نااؤ ۔ کشتی
اسپہ اشو اسپ اسب گھوڑا
ذات جات زات زاد ذات

پشتو میانہ فارسی (پہلوی) سے قریب ہے۔ اس میں فرق ’ل‘ کا ہے۔ میانہ فارسی میں جہاں ’ر‘ استعمال ہوا ہے، وہاں پشتو میں ’ل‘ یا ’ڑ‘ استعمال ہوا ہے۔ قدیم ایرانی زبانوں (اوستا، قدیم فارسی، پہلوی) میں ’ل‘ استعمال نہیں ہوا ہے۔ پشتو میں ایرانی الفاظ کی اندورنی ’د‘ کی جگہ ’ل‘ استعمال ہوا ہے، اور ہندوستانی زبانوں کی قربت کی وجہ سے اس زبان میں کوزی حروف بھی مروج ہیں۔

پشتو فارسی اردو
پُل پُل پُد
پلار پدر باپ

ترکی النسل قبائل میں یوچی، ہن اور ترک شامل ہیں۔ انہوں نے اس علاقے پرطویل عرصہ تک حکومت کی۔ ان قبائل کی حکومتیں اگرچہ برصغیر خاص کر شمالی برصغیر پر بھی قائم ہوئیں۔ مگر وہاں ان کا تسلط زیادہ عرصہ تک قائم نہیں رہا اور دوسری اہم بات یہ ہے یہ قبائل برصغیر کی ثقافت کے زیر اثر آجانے کی وجہ سے اپنے وہ گہرے اثرات مرتب نہیں کئے۔ جو انہوں نے افغانستان میں چھوڑے ہیں اور آج بھی بہت سے افغان قبائل ترکی النسل ہیں۔ یہی وجہ ہے ترکی زبان کے اثرات پشتو پر بھی پڑے اور خاص کر ’ف اور ق‘ کا پشتو میں استعمال عام ہوا۔ ترکی النسل قبائل کا اثر پشتو کی تشکیل اور ارتقاء باعث بنا اور پشتو میں ایرانی ’گ‘ کی جگہ ’غ‘ استعمال ہوا۔ مثلاًً

ایرانی پشتو معنی
گان غان نسبتی کلمہ ہے جو کلمہ کے اسمی لاحقہ کے آخر میں آتا ہے۔
گر غر پہاڑ
گرما غرما دوپہر

ہندآریائی زبانوں کی قربت کی سے حنکی حرف استعمال ہوتے ہیں اور یہ زبان دوحصوں میں تبدیل ہوگئی، ایک مشرقی اور دوسری مغربی۔ پشتو بولنے والے اس طرح دو طبقوں میں مستقیم ہیں ایک وہ ’ژ‘ اپنی اسی آواز کے ساتھ بولتے ہیں جو پشتو میں پائی جاتی ہیں۔ دوسرے وہ جو ’ژ‘ کی جگہ ’گ یا ج‘ بولتے ہیں۔ اس امتیاز کے لئے عام طور پر ’ژ اور ش‘ بولنے والے خٹک لہجے کے پشتون اور ’گ، ج اور خ بولنے والے یوسف زئی لہجے کے پختون کہلاتے ہیں۔

پشتو میں اس امتیاز کی فرضی لکیر اٹک سے افغانستان میں دور تک چلی گئی ہے۔ سر آلیف کیرو باالوضاحت سے بتلائی ہے کہ شمال مشرقی قبیلے پختو اور جنوب مغربی قبیلے پشتو بولتے ہیں۔ دونوں کے درمیان حد فاضل شرقاً و غرباً اٹک کے جنوب میں دریائے سندھ سے کوہاٹ اور وادی میراں زئی سے ہوتی ہوئی تل تک، وہاں سے دریائے کرم کے جنوب میں ہریوب اور درہ شترگردن تک چلی گئی ہے۔ اس حد کے شمال مشرق میں پختو بولی جاتی ہے اور یہ قبائل دیر، سوات، بنیڑ اور باجور کی زبان ہے۔ اس حد کے جنوب مغرب میں جو قبائل پشتو بولتے ہیں، ان میں خٹک، درانی اور قریب قریب (جلال آباد کے کچھ لوگوں کو چھوڑ کر) خوست، وزیرستان کے سارے قبائل بنوں، ڈیرہ جات کے قبائل اور ژوب اور بلوچستان کے دوسرے علاقے بھی جو قندھار کے قریب واقع ہیں پشتو بولتے ہیں۔

مغربی مشرقی معنی
زناور جناور جانور
سمسہ چمچہ چمچ
گژئی گلتی اولے
شیشہ خیخہ شیشہ


== پشتو (پختو) ادب == 
عبدالحئی حبیبی کا کہنا ہے کہ غوریوں کی زبان پہلے پشتو تھی۔گز شتہ صدی کے وسط میں پشتو کی کوئی کتاب سترویں صدی سے پہلے کی شائع ہوئی تھی۔ لیکن 1940ء۔ 1941ء میں عبدالحئی حبیبی نے سلیمان ماکو کے کچھ اجزاء شائع کئے۔ یہ ایسی نظموں پر مشتمل ہے جن کے متعلق دعویٰ کیا جاتاہے کہ یہ گیارویں صدی میں لکھی گئیں تھیں۔ 
1944ء؁ میں عبدالحئی حبیبی نے کابل میں محمد ہوتک کی ’پٹہ خزانہ‘ (تکمیل 1729ء؁) میں شائع کی۔ جس کے متعلق دعویٰ کیا گیاکہ یہ قندھار میں لکھی گئی تھی جو آٹھویں صدی سے مولف کے عہد تک کے 

شعرا کی بیاض ہے۔

ڑاورٹی لکھتا ہے کہ شیخ ملی نے 1417ء؁ میں یوسف زئیوں کی ایک تاریخ لکھی تھی۔ لیکن اس تصنیف کے متعلق کچھ معلوم نہیں ہے۔ایک مخطوطہ موجود ہے جو بایزید انصاری (م 1585ء؁)کی خیر البیان پر 

مشتمل ہے اس کا معائنہ کیا جاچکا ہے۔

سترویں صدی کی ابتدائی دور سے ہمارے پاس بایزید انصاری کے راسخ العقیدہ مد مقابل اخوندہ درویزہ کی دینی اور تاریخی کتاب (مخزن افغانی، مخزن اسلام) موجود ہیں، جو طعن و تشنع سے لبریز ہیں۔
سترھویں اور اٹھارویں صدی میں متعدد شعرا پیدا ہوئے۔ لیکن ان میں سے زیادہ تر فارسی کے نقال ہیں۔ یورپی معیار کی رو سے اور جدید افغانستان کے فومی شاعر کی حثیت سے ان میں سب سے نمایاں خوشحال خان خٹک (1022ھ / 1613ء تا 1106ھ / 1694ء) ہے۔
   سلیمان ماکو اور محمد ہوتک کی کتابیں معتدد لسانی اور تاریخی گنجلکیں پیدا کرتی ہیں اور ان کے صحیح ہونے کا سوال حتمی طور پر اس وقت تک طہ نہیں ہوسکتا ہے کہ جب تک ان کے اصلی مخلوطات لسانی 

تحقیقات کے لئے سامنے نہیں لائے جاتے ہیں۔

   اگر محمد ہوتک کی پٹہ خزانہ کی صحت تسلیم کرلی جائے تو یہ امر بھی پھر بھی مشتبہ رہتا ہے کہ محمد ہوتک نے نظموں کی جو تاریخی لکھی ہیں وہ کہاں تک درست ہیں۔
   پٹہ خزانہ اور حسن میمندی کے متعلق دعویٰ کی صھت کو تسلیم کرنا مشکل ہے۔ دیمز کا کہنا ہے کہ یہ بات فرض کرنے کے لئے کوئی شہادت نہیں ہے کہ غور کے باشندے شروع میں پشتو بولتے تھے۔ 

صاحب طبقات ناصری منہاج سراج جو غور میں رہائش پزیر رہا اور یہ غوریوں کا ہم عصر اور اس نے غور کے شاہی محل میں پرورش پائی تھی۔ اس کے غور کے حکمرانوں سے ذاتی تعلقات رہے اور اس کی کتاب طبقات ناصری غوریوں کے دور کے بارے میں مستند ماخذ ہے۔ مگر منہاج سراج ایسا کوئی تذکرہ نہیں کرتا ہے کہ غوری ابتدا میں پشتو بولتے تھے۔ اگر غوری ابتدا میں پشتو بولتے تھے تو عوام الناس کی زبان تو پشتو ہونی چاہیے تھی۔ مگر ہمیں ایسا کوئی سراغ نہیں ملتا ہے۔ اس طرح منہاج سراج نے غوریوں کے دور کے متعدد شعرا کا ذکر کر تا ہے، جس میں بعض ان میں حکمران بھی شامل تھے اور منہاج ان کا کلام بھی درج کیا ہے۔ ان میں علاؤالدین جہاں سوز قابل ذکر ہے۔ اس کے علاوہ اس نے اس دور کی علمی سرگرمیں پر بھی روشنی ڈالی ہے، مگر پشتو کے بارے میں کچھ نہیں کہتا ہے۔ یہی وجہ ہے ڈیمز کو کہنا پڑا کہ اس بات کی کوئی شہادت نہیں ملتی ہے کہ غوریوں کی زبان ابتدا میں پشتو تھی۔

اگرچہ عبدالحئی حبیبی نے تقلیمات طبقات ناصری میں متعدد ایسے کلمات کی طرف اشارہ کیا ہے جو کہ پشتو میں استعمال ہوتے ہیں۔ مگر خود عبدالحئی حبیبی کا کہنا ہے کہ پشتو پہلوی سے نکلی ہے، اوپر بالا الذکر 

ہوچکا ہے کہ پشتو پر حملہ آور قوموں کی زبان کے اثرات بھی پڑے ہیں اور پشتو ایرانی کی مشرقی شاخ جو کہ ساکائی یا سیکاتی گروہ سے تعلق رکھتی ہے اور مسلمانوں کی آمد کے وقت وہاں ترکی اقوام بھی آباد تھیں۔ وہاں اس وقت ان اقوام کی مقامی حکومتیں قائم تھیں اور وہاں مقامی طور پر ہند آریائی کی بولیاں، ترکی، سیھتی اور دوسری بولیاں بولی جاتی تھیں۔ لہذا ان اثرات کے تحت چند کلمات میں اس قسم کا اشارہ ملا ہے، تو اس کا مطلب ہرگز یہ نہ لیا جائے کہ پشتو کی تشکیل ساسانی عہد یا اس سے پہلے ہی تشکیل پاچکی تھی اور وہ علمی اور ادبی زبان بن چکی تھی جیسا کہ پشتو موخین دعویٰ کرتے ہیں۔ کیوں کے محض دعویٰ کے علاوہ کسی قسم کا ثبوت نہیں ملا ہے۔ لہذا یہ تمام نام نہاد دعویٰ بے بنیاد ہیں جن کا مقصد یہی ہے کہ حقیقت کے برعکس پشتو کی قدامت کو ثابت کیا جائے

مذہب[ترمیم]

تمام پشتون مسلمان ہیں اور ان کی اکثریت سنی اور حنفی فقہ سے تعلق رکھتی ہے البتہ ایک قلیل تعداد شیعہ ہے۔

ثقافت[ترمیم]

پشتو زبان کی ادبی اصناف پاک و ہند کی دوسری زبانوں سے ملتی جلتی ہیں۔ اس علاقے کے باشندوں کی زندگی قدرتی طور پر پھولوں کی طرح سیج نہیں ہے۔ اس لئے اس کے کتنے پہلو ہیں جو سنگین بھی اور نرم و نازک بھی ہیں، ان کا عکس ان کی موسیقی بھی دیکھائی دیتا ہے۔ ان میں مردانگی کی روایات بھی، رومان کی جھلکیاں بھی، زندگی کے میلے و نفیس بہاریں، رنگینیاں اور رعانیاں بھی ہیں۔ جو شادی بیاہ، رسموں ریتوں اور تہواروں میں جلوہ گر ہوتی ہیں۔ یہاں کے لوگ راگ و رنگ کے شوقین ہیں۔ ان کی زندگی میں حجرہ کو خاص دخل ہے۔ جہاں گاؤں کے لوگ جمع ہوکر مختلف معملات پر گفت و شندد کرتے ہیں۔ کوئی حجرہ ایسا نہیں ہے جہاں اسباب طرب یعنی رباب، گھڑا اور ڈھول نہ ہو۔ یہیں موسیقی کا اہتمام ہوتا ہے اور رقص کا بھی۔ یہ حقیقت ہے ہر پشتون دل و جان سے موسیقی کا دلدادہ ہوتا ہے۔

گیت[ترمیم]

ایک ایسی قوم جس کی زندگی ہی رزم کے لئے وقف ہو ایسے میں زندگی کے اس اہم پہلو سے ربط کیوں نہ ہو۔ یہی وجہ ہے ابتدا میں ہی لمبی چوڑی نظموں میں جنگ و جدل کے معرکوں اور لڑائیوں کی داستانیں قلمبند کی جاتی تھیں اور انہیں فخریہ مجلسوں، حجروں، میلوں اور تہواروں میں سنایا جاتا تھا۔ گویا شروع میں شاعری اور موسیقی کے ڈانڈے ملتے تھے۔ گیت اور نظمیں خود بخود خاص قسم کے ناچوں میں ڈھلتے چلے گئے۔ جن میں زندگی کے واقعات اور تاریخ کی رفتار اور چال دھال بھی تصرف اور رنگ آمیزی پیدا کرتی چلی گئی۔ تاآنکہ اس کی نمایاں اقسام یا اصناف مقرر ہوگئیں جو آج سنڈے، ٹپہ، لوبہ، رباعی، لہکتی، بدلہ، چار بیت اور غزل کے نام سے نمایاں ہیں۔ چنانچہ جو سات اصناف پشتو شاعری کی ہیں وہیں موسیقی کی بھی۔ گویا دونوں کی کائنات ایک ہی ہے۔

ساز[ترمیم]

پشتونوں میں بجائے جانے والے ساز عموماً قدیم ساز ہیں۔ ان سازوں کی خوبی یہ ہے کہ ان کی آواز سخت اور کڑخت ہے اور اس کو بجانے میں خاصہ زور لگانا پرھتا ہے اس لئے یہ جنگی ساز کہلاتے ہیں۔ یہاں کے رہنے والوں کے مزاج جس میں ایک قسم کا کڑخت پن آگیا کے مزاج کے مطابق ہیں۔ اس علاقہ میں جو ساز رائج ہیں ان میں رباپ (رباب) سریندہ، سرنا، زنگہ اور زیر بغلئی ہیں۔ یہ ساز اصل میں قدیم زمانے میں برصغیر میں بھی رائج تھے۔ مگر مسلمانوں نے نئی نئی جدتیں اور اختراع کیں اور نہ صرف ان میں تبدیلیاں کیں بلکہ نئے ساز بھی ایجاد کئے۔ صوبہ سرحد میں رائج سازوں دھنوں کو بجانے کے لئے موزوں ہیں، لیکن یہ راگ اور راگنیاں بجانے بجانے کے لئے یہ موزوں نہیں ہیں اور نہ ہی ان میں صلاحیت ہے۔ پشتو دھنوں کی خوبی یہ ہے کہ یہ سادی اور جوش سے بھری ہوئی ہے اور ان میں والہانہ پن ہے جو بے اختیار دل کو جھنجور دیتی ہیں۔

رقص[ترمیم]

پٹھانوں میں جو ناچ مروج ہیں وہ زیادہ تر ملی ناچ ہیں۔ ان میں بہت سے افرد ایک دائرے میں رقص کرتے ہیں، جس کے بیچ میں عموماً ڈھول نفری بجانے والے ہوتے ہیں۔ یہ بھنگڑا سے ملتے جلتے ہیں۔ بعض رقص میں نوجوان تلواریں ساتھ رقص کرتے ہیں اور بعض رقصوں میں چھڑیاں اور بعض رقصوں میں رومال استعمال کرتے ہیں اور ساتھ تالیاں بجاتے ہیں۔ اس طرح بعض جگہوں پر عورتیں اور مرد مخلوط ہوکر رقص کرتے ہیں اور کہیں صرف عورتیں ہی رقص کرتی ہیں۔ ان کے نام خٹک، انترا، بنگرہ، متاڈولہ اور بلبلہ وغیرہ ہیں۔

اس طرح کے دراصل صوبہ سرحد سے لے کر شمالی علاقوں، کشمیر، پنجاب،بلوچستان، راجپوتانہ میں عام ملتے ہیں، یہ دراصل ایک طرح کی قدیم زمانے کی جنگی مشق ہیں، جو فراغت کی وقت کی جاتی تھیں، تاکہ چاق وچوبن رہیں اور انہیوں نے رفتہ رفتہ رقص کی صورت اختیار کرلی ہیں اور اس میں عورتیں بھی حصہ لینے لگیں ہیں۔ یہ رقص برصغیر کی جنگی قوموں میں یا برصغیر پر حملہ آور قوموں میں قدیم زمانے سے عام رائج ہیں۔

[15]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. ^ Swarup, Shubhangi (29 January 2011). "The Kingdom of Khan". OPEN. http://www.openthemagazine.com/article/art-culture/the-kingdom-of-khan۔ اخذ کردہ بتاریخ 2014-07-17. "Salim Khan, scriptwriter and father of سلمان خان, remembers the Afghan tribe his family historically belongs to. “It is Alakozai,” he says."
  2. ^ http://daily.bhaskar.com/article/HAR-the-afghanistan-connection-with-saif-ali-khans-pataudi-family-and-his-begum-kare-4349905-PHO.html#seq=11
  3. ^ Ethnologue
  4. ^ خطا در حوالہ: غلط <ref> ٹیگ؛ حوالہ بنام CIA-Pak-pop کے لیے کوئی متن فراہم نہیں کیا گیا
  5. ^ خطا در حوالہ: غلط <ref> ٹیگ؛ حوالہ بنام CIA-Afghan-pop کے لیے کوئی متن فراہم نہیں کیا گیا
  6. ^ The History, Antiquities, Topography, and Statistics of Eastern India: In Relation to Their Geology, Mineralogy, Botany, Agriculture, Commerce, Manufactures, Fine Arts, Population, Religion, Education, Statistics, Etc., by Robert Montgomery Martin, Cambridge University Press. [1], pg. 145. "Of the Pathans, there are above 6,000 families, chiefly settled in نوادہ, Sheykhpura, and پٹنہ." Link here
  7. ^ "United Arab Emirates: Demography". Encyclopædia Britannica World Data. Encyclopædia Britannica Online. http://www.britannica.com/new-multimedia/pdf/wordat207.pdf۔ اخذ کردہ بتاریخ 15 March 2008.
  8. ^ 42% of 200,000 Afghan-Americans = 84,000 and 15% of 363,699 Pakistani-Americans = 54,554. Total Afghan and Pakistani Pashtuns in USA = 138,554.
  9. ^ 9.0 9.1 "Ethnologue report for Southern Pashto: Iran (1993)". SIL International. Ethnologue: Languages of the World. http://www.ethnologue.com/show_language.asp?code=pbt۔ اخذ کردہ بتاریخ 5 May 2012.
  10. ^ Maclean, William (10 June 2009). "Support for Taliban dives among British Pashtuns". Reuters. http://www.reuters.com/article/latestCrisis/idUSL861250۔ اخذ کردہ بتاریخ 6 August 2009.
  11. ^ Relations between Afghanistan and Germany: Germany is now home to almost 90,000 people of Afghan origin. 42% of 90,000 = 37,800
  12. ^ "Ethnic origins, 2006 counts, for Canada". 2.statcan.ca. 2006. http://www12.statcan.ca/english/census06/data/highlights/ethnic/pages/Page.cfm?Lang=E&Geo=PR&Code=01&Data=Count&Table=2&StartRec=1&Sort=3&Display=All&CSDFilter=5000۔ اخذ کردہ بتاریخ 17 April 2010.
  13. ^ "Perepis.ru" (ru میں). perepis2002.ru. http://www.perepis2002.ru/ct/doc/TOM_04_P1.doc.
  14. ^ "20680-Ancestry (full classification list) by Sex – Australia" (Microsoft Excel download). 2006 Census. Australian Bureau of Statistics. http://www.censusdata.abs.gov.au/ABSNavigation/prenav/ViewData?breadcrumb=POLTD&method=Place%20of%20Usual%20Residence&subaction=-1&issue=2006&producttype=Census%20Tables&documentproductno=0&textversion=false&documenttype=Details&collection=Census&javascript=true&topic=Ancestry&action=404&productlabel=Ancestry%20(full%20classification%20list)%20by%20Sex&order=1&period=2006&tabname=Details&areacode=0&navmapdisplayed=true&۔ اخذ کردہ بتاریخ 2 June 2008. Total responses: 25,451,383 for total count of persons: 19,855,288.
  15. ^ * معین انصاری ماخذ  : افغان۔ معارف اسلامیہ پ معارف اسلامیہ سلم معارف اسلامیہ بلخ معارف اسلامیہ آذری زبان معارف اسلامیہ فارسی۔ معارف اسلامیہ ترک معارف اسلامیہ مولانا عبدالقادر، پشتو معارف اسلامیہ غوری معارف اسلامیہ افغانستان معارف اسلامیہ عبدالحئی حبیبی تقلیمات طبقات ناصری جلد دوم ڈاکٹر معین الدین، قدیم مشرق جلد دوم ڈاکٹر معین الدین، عہد قدیم اور سلطنت دہلی ڈاکٹر ابولیث صدیقی۔ ادب و لسانیات ہیرالڈیم۔ سکندر اعظم نعمت اللہ ہراتی، مخزن افغانی ابو القاسم فرشتہ۔ تاریخ فرشتہ، جلد اول ، جلد دوم سدھیشورورما، آریائی زبانیں یحیٰی امجد۔ تاریخ پاکستان قدیم دور مفتی ولی اللہ فرح آبادی۔ عہد بنگیش۔ احمد یحیٰ سرہندی تاریخ مبارک شاہی۔ آبو۔ معلومات شہکار انسایئکلوپیڈیا سر جارج فریزر۔ شاخ زرین۔ جلد اول سیّد انوار الحق جیلانی۔ پشتو نامہ ویمرے۔ تاریخ بخارا جیمزٹاڈ۔ تاریخ راجستان جلد اول ۔ جلد دوم بھارت۔ اردو جامع انسائیکلوپیڈیا ڈاکٹر شیر بہادر پنی۔ تاریخ ہزارہ میر گل خان نصیر۔ بلوچستان تیمور۔ تزک تیموری ابن بطوطہ۔ سفرنامہ ابن بطوطہ، جلد اول مرزا غلام محمد قادیانی۔ مسیح ہندوستان میں علامہ سیّد سلیمان ندوی۔ عرب و ہند کے تعلقات سیّد مناظر حسین گیلانی۔ ایک ہزار سال پہلے لیفتنٹ جنرل جارج میکمن۔ شمال مغربی پاکستان اور برطانوی سامراج بلوچستان گزیٹیر شیر محمد گنڈا پور۔ تاریخ پشتون ہیرالڈلیم۔ منگول اور ان کا سردار سبط حسن، پاکستان میں تہذیب کا ارتقاء ولیم ایل لینگر۔ انسائیکلوپیڈیا تاریخ عالم جلد دوم جی لی اسٹریج۔ خلافت شرقی احمد یار خان آف قلات۔ مختصر تاریخ قوم بلوچ منو، منو ساشتر چودہدری وہاب الدین امرتسری۔ تاریخ کمبوہان مصتنسر حسین تاڑر۔ کے ٹو کہانی عاصمہ حسین۔ مغربی پاکستان کے لوک گیت اشفاق احمد۔ ہفت زبانی لغت سیّد جمال الدین افغانی۔ الافغان