ہزارہ لوگ

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش
کریم خليلي ایک افغان سیاستدان ہیں اور ہزارہ کمیونٹی سے ہیں
افغانستان میں مختلف فرقوں کے پھیلاؤ کا نقشہ - ہزارہ علاقہ من گھڑت سبز رنگ میں ملک کے مشرق میں ہے
«مضمون ہندکوان: سے مغالطہ نہ کھائیں»۔


ہزارہ (هزاره، Hazara) وسطی افغانستان میں بسنے والا اور دری فارسی کی ہزارگی بولی بولنے والا ایک برادری ہے۔ یہ تقریبا تمام شیعہ اسلام کے پیروکار ہوتے ہیں اور افغانستان کا تیسرا سب سے بڑی برادری ہے. افغانستان میں ان کی آبادی کو لے کر تنازعہ ہے اور یہ 26 لاکھ سے 54 لاکھ کے درمیان میں مانی جاتی ہے. کل مل کر یہ افغانستان کی کل آبادی کا تقریبا 18٪ حصہ ہیں. پڑوس کے ایران اور پاکستان کے ممالک میں بھی ان کے پانچ - پانچ لاکھ افراد آباد ہیں. پاکستان میں یہ زیادہ تر پناہ گزین کے طور پر جانے پر مجبور ہو گئے تھے اور زیادہ تر کوئٹہ شہر میں آباد ہیں. جب افغانستان میں طالبان اقتدار میں تھی تو انہوں ہزارہ لوگوں پر ان کے شیعہ ہونے کی وجہ سے بڑی سختی سے حکومت کی تھی، جس سے باميان صوبہ اور دايكدي صوبہ ہزارہ جیسے - وزیر علاقوں میں بھوک اور دیگر وپداے پھیلی تھیں. [1] [2 ]

ہزارہ کمیونٹی کی جڑیں[ترمیم]

علماء کرام کو پکا نہیں معلوم کہ ہزارہ کا نام کہاں سے آیا ہے. بہت سے سمجھتے ہیں کہ یہ منگول سلطنت کی طرف سے استعمال ہونے والے 'ہزار' فوجیوں کے دستوں کی طرف سے آیا ہے. ممکن ہے کہ ہزارہ انہیں منگول لوگوں کی نسل سے ہیں جو وسطی دور میں پورے وسطی ایشیا پر چھا گئے تھے. کچھ ہزارہ افراد کے نام روایتی طور سے منگول شخصیات پر ہوتے ہیں، جیسے کہ 'تلي خان ہزارہ' جو چنگیز خان کے سب سے چھوٹے بیٹے تول خان کے اعزاز میں رکھا جاتا ہے. انواشكي (یعنی جنٹكس) میں پتروش گروپ کے اعتبار سے بھی ہزارہ مردوں میں چنگیز خان سے سب سے زیادہ فیصد مقدار میں ملنے والے مرد ہیں. ہزارہ لوگ اکثر شکل - سورت سے بھی منگول نسل کے لگتے ہیں. مذہبی اعتبار سے بھی ترکی - منگول الخان سلطنت بعد میں شیعہ مذہب کو اپنا چکا تھا اور ہزارہ لوگوں کا شیعہ ہونا بھی اس بات سے میل اکاؤنٹ ہے. [3] [4]

دیگر عالم بولتے ہیں کہ ہزارہ پاک منگول نہیں ہیں بلکہ منگولوں اور وسطی ایشیا کی دیگر قدیم ذاتوں کا مرکب ہیں، جیسے کہ تشاري لوگ ، كشا لوگ یا اس علاقے کے کوئی ایرانی زبانیں بولنے والے لوگ. [5]

انہیں بھی دیکھیں[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]