قاضی محمد عیسی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں

قاضی محمد عیسیٰ (پ: 1913 18 جولائی ء-1976، 19 جون ) تحریک پاکستان بلوچستان کے سرگرم رکن تھے انھوں نے ہی قائد اعظم کے کہنے پر مسلم لیگ بلوچستان کا قیام عمل میں لایا۔

ابتدائی زندگی[ترمیم]

انکے والد قاضی جلال الدین افغانستان سے ہجرت کر کے بلوچستان کے علاقے پشین میں آبسے تھے وہ ریاست قلات میں وزیر اعظم کے عہدے پر بھی فائز رہے تھے۔
قاضی عیسیٰ چار سال کے تھے جب والد صاحب فوت ہوۓ۔انھوں نے میٹرک کا امتحان سنڈیمن ہائی سکول کوئٹہ سے پاس کیا اور سینیئر کیمبرج کا امتحان گرامر سکول کوئٹہ سے دیا۔
وہ بلوچستان کے پہلے شخص تھے جو قانون کے تعلیم کے لۓ لندن گۓ۔1939ء میں وطن واپس آۓ اور وکالت کا ارادہ کیا۔اس واقت نواب آف پالن پور (ریاست روجپوتانہ )کی درخواست پر ممبئی چلے گۓ۔

سیاسی زندگی[ترمیم]

ممبئی میں انکی ملاقات محمد علی جناح سے ہوئی۔ کہتے ہیں کہ قائد اعظم نے انسے پہلا سوال یہ کیا۔ "کیا بلوچستان میں مسلم لیگ قائم ہے؟ قاضی نے جوب دیا کی میں ابھی وکالت ختم کر کے آیا ہوں مجھے خبر نہیں۔"
پھر قائد نے انھیں مسلم لیگ کے مقاصد سے آگاہ کیا وہ قائد کی باتوں سے اسقدر متاثر ہوۓ کہ اسی وقت مسلم لیگ کے قیام کیلۓ مصمم ارادہ کرلیا۔
بلوچستان میں واپس آکر انھوں نے مسلم لیگ کی داغ بیل ڈالی اور اپنے ساتھیوں سردار محمد عثمان جوگیزئی، سیٹھ محمد،ملک شاہ جہاں،ملک جان محمد کاسی، ارباب کرم خان،غلام محمد ترین، میر جعفر خان جمالی اور سیٹھ محمد اعظم بلوچ کے ہمراہ اس پارٹی کو اسقدر استحکام بخشا کہ چند مہینوں کے اندر تحصیل اور ضلع کی سطح پر مسلم لیگ منظم ہوگئی۔
وہ مسلم لیگ کے سب سے کم عمر رکن مجلس عاملہ تھے۔1942ء میں انھوں نے بلوچستان میں مسلم لیگ کا ایک عظیم جلسہ منعقد کرایا جس میں انکی دعوت پر نواب لیاقت علی خان بھی تشریف لاۓ۔
1943ء میں قائد اعظم دو ماہ کیلۓ بلوچستان آۓ تو انکے گھر پر قیام کیا۔
1945 ء میں کوئٹہ میں آل انڈیا مسلم لیگ کا پہلا جلسہ ہوا جلسے کیلۓ خوب تیاری کی گئی ۔تیاری کو دیکھ قائد اعظم بہت خوش ہوۓ اور کہا" میں کسی کی تعریف کرنے کا عادی نہیں ہوں لیکن آج تعریف کرنے کیلۓ مجبور ہوں اور بجا طور پر فخر سے کہتا ہوں کہ قاضی عیسیٰ کا انتخاب بلوچستان کیلۓ بالکل درست تھا۔
1945-44ء میں صوبہ سرحد کے ضمنی انتخابات میں چار نشستوں پر مسلم لیگ کی کامیابی کے پیچھے قاضی صاحب کی محنت کا ہاتھ تھا۔۔ جس سے مسلم لیگ کو بڑی تقویت ہوئی۔کہتے ہیں وہ قیام پاکستان کی خاطر روزانہ چالیس ہزار میل سالانہ سفر کرتے تھے۔

وہ آل انڈیا مسلم لیگ کے سیکٹری نشرواشاعت جیسے عہدوں پر بھی فائز رہے۔
وہ برازیل میں پاکستان کے پہلے سفیر تھے۔

لاہور جلسہ[ترمیم]

23 مارچ 1940ء میں انھوں لاہور جلسے میں بلوچستان کے وفد کی نمائندگی کی اور قرارداد پاکستان کی تائید میں تقریر بھی کی لیاقت علی خان نے تقریر کی طوالت کو دیکھ کر گھنٹی بجائی لیکن قائد اعظم نے روک لیا و انکے تقریر سے کافی متاثر تھے۔

صحافت[ترمیم]

مسلم لیگ کو متعارف کرانے کیلۓ انھوں نے الاسلام نامی اخبار بھی جاری کیا اور مسلم گارڈز قائم کی۔

سماجیت[ترمیم]

انھوں نے انٹر کالج کوئٹہ کو ڈگری کالج کا درجہ دلانے اور بلوچستان میں پہلا گرلز کالج قائم کرانے میں قاضی صاحب کا کافی دخل تھا۔

وفات[ترمیم]

[[ 19 جون]]1976ء کو یہ مرد مجاہددل کا دورہ پڑنے سے جہان فانی سے کوچ کر گیا۔ انکی قبر پشین میں ہے۔