خالد بن ولید

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
خالد بن ولید

سیف اللہ، الله کی تلوار
KhalidBinWalid.png
پیدائشمکہ
وفات642ء
مدینہ منورہ یا حمص، خلافت راشدہ
ممکنہ تدفین کی جگہ
مسجد خالد بن ولید، حمص، سوریہ
وفاداریقریش (625ء – 627ء یا 629ء)
محمد بن عبد اللہ (627ء یا 629ء– 632ء)
خلافت راشدہ (632ء – 638ء)
سروس/شاخخلافت راشدہ کی فوج
سالہائے فعالیت629ء–638ء
آرمی عہدہ
مقابلے/جنگیں
شریک حیاتاسماء بنت انس بن مدرک
ام تمیم بنت منھال
اولادسلیمان
عبد الرحمٰن
مہاجر

ابو سلیمان خالد بن ولید ابن مغیرہ المخزومی عربی: خالد بن الوليد بن المغيرة المخزومي؛ اسلامی پیغمبر محمد Mohamed peace be upon him.svg کے ایک جلیل القدر صحابی، عظیم سپہ سالار اور تاریخ ساز فاتح تھے۔ اور خلفائے راشدین ابو بکر (د. 632–634) اور عمر (د. 634–644) کے عہد میں عرب فوجی کمانڈر تھے۔ انہوں نے 632ء-633ء میں عرب میں باغی قبائل کے خلاف جنگوں میں اہم کردار ادا کیا۔ ابتدائی مہمات، 633ء-634ء میں ساسانی عراق میں اور 634ء-638ء میں بازنطینی شام کی فتح میں بھی اہم کردار ادا کیا۔

ابو سلیمان تاریخ کے ان چند فوجی کمانڈروں میں سے ایک ہیں جنہوں نے ساری زندگی جنگ میں شکست نہیں کھائی۔ خالد بازنطینی رومی سلطنت، فارسی ساسانی سلطنت اور ان کے اتحادیوں کے اعلیٰ افواج کے خلاف سو سے زائد لڑائیوں میں ناقابل شکست رہے۔

نسب اور ابتدائی زندگی

خالد کی کنیت ابو سلیمان اور سیف اللہ (الله کی تلوار) تھا۔ سلسلہ نسب یہ ہے، خالد بن ولید بن مغیرہ بن عبد اللہ بن عمرو بن مخزوم مخزومی۔‌ ماں کا نام لبانہ الصغریٰ بنت حارث تھا جو ام المومنین حضرت میمونہ اور لبابہ بنت حارث، والدہ عبد اللہ بن عباس کی ہمشیرہ تھیں۔ سلسلہ نسب ساتویں پشت (یعنی مرہ بن کعب بن لوی) میں حضرت ابو بکر اور رسول الله سے جا ملتا ہے۔ خالد کے ولید بن مغیرہ قریش کے شرفا اور سرداروں میں سے تھے اور مکے کے بڑے دولت مندوں میں ان کا شمار ہوتا تھا۔‌ خالد کا قبیلہ شجاعات و جنگ جوئی میں بھی ممتاز اور نامور تھا۔‌ قبیلہ قریش کی مذہبی قیادت بنو ہاشم اور بنو عبد الدار، سیاسی قیادت بنو امیہ اور عسکری قیادت خالد کے قبیلے، بنو مخزوم کے پاس تھی۔‌

خالد کی ولادت کی صحیح تاریخ کے بارے میں تاریخ کی کسی بھی کتاب میں ذکر نہیں ملتا ہے۔ اے آئی اکرم نے اپنی کتاب میں لکھا ہے کہ بچپن میں ایک دفعہ خالد بن ولید اور عمر بن خطاب نے کشتی لڑی جس میں خالد نے عمر کی پنڈلی توڑ ڈالی جو کافی علاج کے بعد ٹھیک ہو گئی۔[1] اس واقعے سے ثابت ہوتا ہے کہ دونوں ہم عمر تھے۔ خالد کے والد ولید بن مغیرہ تھے، جو حجاز کے مکہ میں مقامی تنازعات کے ثالث تھے۔ خالد کا خاندان زمانہ جاہلیت سے معزز چلا آتا تھا، فوج کی سپہ سالاری اور فوجی کیمپ کے انتظام کا عہدہ ان ہی کے خاندان میں تھا۔ ظہور اسلام کے وقت خالد اس عہدہ پر ممتاز تھے۔

کتابیات

ابتدائی ماخذ

ثانوی ماخذ

  • شبلی، ابو زید (2003) [1933]. اللہ کی تلوار (بزبان عربی). لاہور: دار الابلاغ، لاہور. 

انگریزی

حوالہ جات

  1. اکرم 2007, p. 1.