خالد بن ولید

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
خالد بن الوليد
KhalidBinWalid.png
سیف اللہ خالد رضی اللہ عنہ، عربی خطاطی میں
عرفی نام سیف اللہ
پیدائش 592ءمکہ، عرب
وفات 642ءحمص، شام
جائے دفن مسجد خالد بن ولید
وابستگی Flag of Afghanistan (1880–1901).svg خلافت راشدہ
نوکری/شاخ جیش خلفائے راشدین
سالہائے کار 632ء–638ء
عہدہ جامع
یونٹ گشتی محافظ
سالار کمانڈر (632–634)
جنگی سالار(634–638)
سالار گشتی محافظ دستہ (634–638)
فوجی گورنر عراق (633–634)
گورنر شام (637–638)

خالد بن ولید (عربی: خالد بن ولید بن المغیرۃ المخزومی) حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے سپہ سالار اور ابتدائی عرب تاریخ کے بہترین سپاہی تھے۔ محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے انتقال کے بعد انہوں نے ریاست مدینہ کے خلاف ہونے والی بغاوتوں کو کچلنے میں اپنا کردار ادا کیا۔ اس کے بعد خالد بن ولید نے ساسانی اور بازنطینی سلطنتوں کو شکست دیکر نہ صرف مدینہ کی چھوٹی سی ریاست کو ایک عالمی طاقت میں تبدیل کردیا۔ بلکہ پہلے درجہ کے عالمی فاتحین میں بھی اپنے آپ کو شامل کرالیا۔

قبول اسلام[ترمیم]

واقدی کا بیان ہے کہ آپ نے یکم صفر کو اسلام قبول کر لیا ۔اور معرکہ مؤتہ میں شامل ہوئے اس روز امارت نہ ہونے کی وجہ سے آپ امیر بنے اور اس روز آپ نے شدید جنگ کی جس کی مثال نہیں دیکھی گئی اور آپ کے ہاتھ سے 9 تلواریں ٹوٹ گئیں۔

خالد بن ولید نے 125 کے قریب جنگوں میں حصہ لیا اور کسی میں بھی شکست نہیں کھائی۔ وہ پیدائشی جنگجو سپاہی تھے۔ انہوں نے عربوں کے لیے جن علاقوں کو فتح کیا وہ اب بھی ان کے پاس ہیں۔ جبکہ باقی عالمی فاتحین نپولین، چنگیز خان، تیمور اور ہٹلر نے جو علاقے فتح کیے وہ ان کی زندگی میں ہی یا بعد میں ان سے چھن گئے۔

زندگی[ترمیم]

خالد بن ولید 592ء میں مکہ میں قبیلہ قریش کی ایک شاخ بنو مخزوم کے سردار ولید بن مغیرہ کے ہاں پیدا ہوئے۔ بنی مخزوم کی وجہ شہرت جنگ و جدل تھا۔

وہ شروع میں مسلمانوں کے مخالفین میں سے تھے اور احد کی جنگ کا پانسا مسلمانوں کے خلاف پلٹنے میں ان کا اہم کردار تھا۔ صلح حدیبیہ کے بعد مدینہ میں حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اسلام قبول کیا اور بقیہ زندگی اسلام کے لیے وقف کر دی۔

محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے جنگ موتہ میں ان کی بے مثل بہادری پر انہیں سیف اللہ یعنی اللہ کی تلوار کا خطاب دیا۔

محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم، ابوبکر اور عمر عرب نے چھوٹے چھوٹے عرب قبیلوں کو ایک جتھے میں بدل دیا۔ اور قبائلی جنگوں میں ضائع ہونے والی ان کی توانائیوں کو ایک سمت دے کر ایک ایسے زبردست طوفان میں تبدیل کر دیا جس نے جلد ہی پورے مشرق وسطی کو اپنی لپیٹ میں لے لیا اور ہمیشہ ہمیشہ کے لیے اس علاقے اور دنیا کی تاریخ بدل کر رکھ دی اور اسی صحرائی طوفان کا عنوان تھے خالد بن ولید۔

مشہور جنگیں[ترمیم]

نظم و ضبط[ترمیم]

مسلمانوں میں یہ تاثر عام پیدا ہو گیا تھا کہ خالد بن ولید ہر جنگ کی کامیابی کی ضمانت ہیں۔ اس پر خلیفہ ثانی عمر فاروقنے انہیں سپہ سالاری کے درجے سے ہٹادیا کہ فتح اللہ تعالٰیٰ کی مدد سے ہوتی ہے اور امیر کی اطاعت خالد بن ولید کے کردار کا اہم حصہ تھا۔ انہوں نے اسے بخوشی قبول کیا۔

وفات[ترمیم]

خالد بن ولید کو اپنے انتقال سے پہلے اس چیز کا بہت افسوس تھا کہ وہ میدان جنگ کے بجائے بستر پر اپنی جان دے رہے ہیں۔ وہ 21ھ 642ء میں شام کے شہر حمص میں وفات پاگئے۔ ان کی قبر مسجد جامعہ خالد بن ولید کا حصہ ہے۔ اپنی وفات پر انہوں نے خلیفۃ الوقت عمر فاروق کے ہاتھوں اپنی جائداد کی تقسیم کی وصیت کی۔

بیرونی روابط[ترمیم]