عبد العزی بن خطل

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search

عبد العزی بن خطلاس کا نام عبد اللہ بن خطل بھی ملتا ہے مرتد ہو کر مقتول ہوا۔

متعدد موٴرخین نے اس کے کاتبِ نبی ﷺ ہونے کی بات لکھی ہے، مثلاً: ابن سید الناس انصاری اور عراقی نے لکھا ہے کہ: یہ سرکار دوعالم صلی اللہ علیہ وسلم کی کتابت کرتا تھا، پھر مرتد ہو گیا اور حضور کے حکم سے قتل ہوا، اس وقت خانہٴ کعبہ کے غلاف سے چمٹا ہوا تھا [1]

لیکن ڈاکٹر محمد مصطفٰی اعظمی لکھتے ہیں کہ: ”اس کے کاتبِ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہونے پر کوئی معتبر سند موجود نہیں ہے بعض کتابوں میں یہ بھی ہے کہ وہ وحی کی کتابت میں اپنی طرف سے الٹ پھیر کر دیتاتھا؛لیکن یہ بات بھی بہت مضبوط نہیں ہے، اس کے قتل کیے جانے کی وجوہات بیان کرتے ہوئے عبدالبر نے لکھا ہے کہ:

نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو صدقات وصول کرنے کے لیے بھیجا، اس کے ساتھ ایک اور مسلمان کو کر دیا، اس نے اس مسلمان کو قتل کر دیا اور قتل کی سزا کے ڈر سے مرتد ہو کر مکہ مکرمہ بھاگ گیا اور مشرکین سے جا ملا:۔ (الدرر في المغازی والسیر 233) سیرت ابن ہشام میں یہ بھی ہے کہ ایک مسلمان غلام تھا،جو اس کی خدمت کرتا تھا، اس نے غلام کو حکم دیا کہ پہاڑی بکرا ذبح کرکے اس کے لیے کھانا تیار کرے اور خود سو گیا، جب اٹھا تو دیکھا کہ کھانا تیار نہیں ہے، بس کیا تھا کہ غلام کو جان سے ہی مار ڈالا اور ڈر کے مارے مرتد ہو کر مکہ مکرمہ بھاگ گیا، اورشقاوت اتنی بڑھ گئی کہ اپنی دو لونڈیوں سے سرکارِ دوعالم صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں گستاخی اور ہجو کے اشعار کہلواتا تھا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے مرتد ہونے کی وجہ سے اس کے خون کو مباح قرار دیا، فتحِ مکہ کے دن وہ قتل کر دیا گیا، اس وقت وہ خانہٴ کعبہ کے غلاف سے چمٹا ہوا تھا، اس کے ساتھ اس کی لونڈیوں کے قتل کا بھی حکم نافذ ہوا تھا۔ [2]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. عیون الاثر 2/316 المصباح المضئی 37/أ، العجالة السنیہ 247
  2. سیرة ابن ہشام 3/410، المغازی للواقدی 859، 860