عبد اللہ بن رواحہ

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
عبد اللہ بن رواحہ
(عربی میں: عبدالله ابن رواحة خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقامی زبان میں نام (P1559) ویکی ڈیٹا پر
معلومات شخصیت
پیدائش مدینہ منورہ  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام پیدائش (P19) ویکی ڈیٹا پر
وفات سنہ 629  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ وفات (P570) ویکی ڈیٹا پر
موتہ  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام وفات (P20) ویکی ڈیٹا پر
وجۂ وفات لڑائی میں مقتول  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں وجۂ وفات (P509) ویکی ڈیٹا پر
شہریت عرب  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں شہریت (P27) ویکی ڈیٹا پر
عملی زندگی
نمایاں شاگرد انس بن مالک  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں شاگرد (P802) ویکی ڈیٹا پر
پیشہ شاعر،  فوجی  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں پیشہ (P106) ویکی ڈیٹا پر
عسکری خدمات
لڑائیاں اور جنگیں غزوۂ بدر،  غزوہ احد،  غزوہ خندق،  غزوہ خیبر،  جنگ موتہ  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں لڑائی (P607) ویکی ڈیٹا پر

عبد اللہ بن رواحہانصاری بیعت عقبہ ثانیہ میں شامل ہونے والے مدینہ کے صحابی اور مدینہ کے بارہ نقیبوں میں سے ایک نقیب ہیں
آپ دور جاہلیت میں اہل عرب کے چوٹی کے شعرا میں شمار ہوتے تھے۔ اسلام قبول کرنے کے بعد آپ کی شاعری دین اسلام کے لیے وقف ہو گئی۔ آپ انصار میں سے تھے۔ آپ کی قائدانہ صلاحیتوں کا اندازہ اس سے لگایا جا سکتا ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے متعدد مرتبہ اپنی عدم موجودگی میں آپ کو اہل مدینہ کا حاکم مقرر فرمایا۔ حضور صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کو آپ کے شعر بہت پسند تھے اور آپ کئی مرتبہ ان اشعار کو گنگنایا کرتے تھے۔
سیدنا عبد اللہ دعوت دین میں بہت سرگرم تھے۔ انصار کے بہت سے لوگ آپ کی دعوتی سرگرمیوں کے نتیجے میں ایمان لائے جن میں سیدنا ابو دردا جیسے جلیل القدر لوگ بھی شامل ہیں۔ حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے عبد اللہ کے دعوتی اجتماعات کو ایسے اجتماعات قرار دیا جن پر فرشتے بھی فخر کرتے ہیں۔
جنگ موتہ کے لیے روانہ ہونے سے قبل عبد اللہ نے حضور صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم سے عرض کیا، "یا رسول اللہ! عین ممکن ہے کہ میں آپ سے دوبارہ نہ مل سکوں۔ مجھے نصیحت فرمائیے۔" آپ نے فرمایا، "عبد اللہ! تم ایسی سرزمین پر جا رہے ہو جہاں اللہ تعالیٰ کو سجدہ کرنے والے کم ہی ہیں۔ جس قدر سجدے ممکن ہو سکیں، کرنا۔ اللہ کو کثرت سے یاد رکھنا، کیونکہ وہی مدد کرنے والا ہے اور تمہیں ہمیشہ اس کی مدد کی ضرورت ہو گی۔ اگر تم یہ محسوس کرو کہ تمہارے اعمال اچھے نہیں، تو ان خیالات کی وجہ سے شیطان کی جانب سے دین اور عبادت سے دور کرنے کی کوششوں کو کامیاب نہ ہونے دینا۔ اگر تمہیں اپنے دس گناہ یاد ہوں تو عبادت کر کے (اور توبہ کی مدد سے ) انہیں نو کرنے کی کوشش کرنا۔ اپنے اعمال کو مزید برا کرنے کی بجائے اس موقع کو اپنی اصلاح کے لیے استعمال کرنا۔
آپ ایک مرتبہ بے ہوش ہو کر پڑے جس پر آپ کی بہن رو رو کر بین کرنے لگیں اور آپ کے فضائل بیان کرنے لگیں۔ جب آپ کو ہوش آیا تو آپ نے انہیں فرمایا، "مجھ سے پوچھا جا رہا تھا کہ کیا تم ایسے ہی ہو؟" جنگ موتہ میں آپ سیدنا زید اور جعفر کے بعد تیسرے قائد سیدنا عبد اللہ بن رواحہ تھے۔ بے جگری سے لڑے اور جام شہادت نوش فرمایا۔ اس موقع پر آپ کی نصیحت کے مطابق آپ کی بہن نے کوئی بین نہ کیا۔

حوالہ جات[ترمیم]

بیرونی روابط[ترمیم]

مزید تفصیلات کے لیے دیکھیے