سہل بن سعد

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search

سہل بن سعد کم عمر صحابہ میں بلند مقام رکھتے تھے۔ آخری مدنی صحابی تھے یعنی مدنی صحابہ میں سے سب سے آخر میں 91 ھ میں 96 سال کی عمر میں وفات پائی۔

نام ونسب[ترمیم]

سہل نام، ابو العباس، ابو مالک، ابو یحییٰ کنیت، سلسلہ نسب یہ ہے، سہل بن سعد بن مالک بن خالد بن ثعلبہ بن حارثہ بن عمرو بن خزرج بن ساعدہ بن کعب بن خزرج اکبر۔ ہجرت نبوی سے 5 سال قبل پیدا ہوئے، باپ نے حزن نام رکھا ؛لیکن آنحضرت ﷺ جب مدینہ تشریف لائے تو بدل کر سہل کر دیا۔

اسلام[ترمیم]

ہجرت سے پیشتر سہل کے والد سعد بن مالک نے مذہب اسلام قبول کر لیا تھا، بیٹے نے اسی باپ کے سایہ عاطفت میں پرورش پائی تھی۔

غزوات میں شرکت[ترمیم]

غزوہ احد میں وہ اور لڑکوں کی طرح شہر کی حفاظت کر رہے تھے، آنحضرت ﷺ کو جب چشم زخم پہنچا اور دھویا گیا، اس وقت آپ کے پاس آ گئے تھے۔ میں غزوہ خندق ہوا، باایں ہمہ صغر سنی میں جوش کا یہ عالم تھا کہ خندق کھودتے اور مٹی اٹھا اٹھا کے کندھے پر لیجاتے تھے۔ حب رسول ﷺ کے نشہ میں چور تھے، آنحضرت ﷺ ایک ستون کے سہارے کھڑے ہوکر خطبہ دیا کرتے تھے، ایک روز منبر کا خیال ظاہر فرمایا، سہل اٹھے اور جنگل سے منبر کے لیے لکڑی کاٹ لائے۔[1] غزواتِ ما بعد میں بھی میدانِ جنگ کے قابل نہ ہو سکے، 15 برس کاسن ہوا اور تیغ زنی کے قابل ہوئے تو خود سر ورِ عالم ﷺ نے سفر آخرت اختیار فرمایا، [2]74ھ میں حجاج بن یوسف ثقفی کا دست سیاست دراز ہوا تو ان کو بلا کر پوچھا کہ تم نے حضرت عثمانؓ کی مدد کیوں نہ کی؟ جواب دیا کی تھی "بولا" جھوٹ کہتے ہو، اس کے بعد حکم دیا کہ ان کی گردن پر مہر لگادی جائے، یہ عتاب ان بزرگوں کے ذلیل کرنے اور اثر زائل کرنے کے لئے کیا گیا تھا، حضرت انسؓ اورحضرت جابرؓ بن عبداللہ بھی اسی جرم میں ماخوذ تھے۔

اہل بیت سے لگاؤ[ترمیم]

پیغمبر اسلام کی وفات کے وقت ان کی عمر 15 سال تھی۔ اور چھٹے امام جعفر صادق کا بچپن دیکھا تھا۔ پیغمبر اسلام اور حضرت علی سے روایات نقل کی ہیں۔ اس نے شام میں کربلا کے قیدیوں کے قافلے سے بھی زیارت کی اور شیعوں کے چوتھے امام سجاد کی مدد کی۔

وہ واقعہ غدیر کے ساتھ ساتھ کربلا اور اس کے بعد کے واقعات کے راوی ہیں۔ انہوں نے بازار شام میں کربلا کے قیدیوں کی آمد کے بارے میں بیان کیا: میں بیت المقدس جا رہا تھا۔ جب میں شام کے قریب پہنچا تو میں نے لوگوں کو دیکھا کہ وہ شہر کو سجا رہے ہیں اور جشن منا رہے ہیں۔ میں نے پوچھا: کیا شامیوں کی آج کوئی عید ہے جس کے بارے میں میں نہیں جانتا؟ میں نے جواب سنا: اے بوڑھے! کیا آپ صحرا سے آئے ہیں؟ میں نے کہا: میں سہل ابن سعد ہوں اور میں نے رسول خدا کو دیکھا ہے۔ کہنے لگے: یہ حیرت کی بات ہے کہ آسمان خون نہیں بہاتا اور زمین اپنے لوگوں کو نگلتی نہیں! میں نے کہا: کیا ہوا؟ کہنے لگے: یہ نیزے پر جو سر ہے حسین بن علی نواسہ رسول کا ہے جو عراق سے تحفہ لائے ہیں! میں آگے بڑھا اور نیزوں پر سر دیکھے۔ ایک سر سب سے زیادہ پیغمبر اسلام سے ملتا جلتا تھا اور اس کے پیچھے عورتیں اونٹوں پر سوار تھیں۔ میں قریب گیا۔ میں نے پہلی خاتون سے پوچھا: وہ کون ہے؟ اس نے کہا: میں سکینہ ہوں، حسین کی بیٹی ہوں۔ میں نے کہا: میں سہل بن سعد ہوں، تیرے جد محمد کے ساتھیوں میں سے ہوں، اگر کسی چیز کی ضرورت ہو تو میں اسے فراہم کروں گا! اس نے کہا: نیزوں پر سر اٹھانے والے سے کہو کہ آگے بڑھے تاکہ لوگ اسے دیکھیں اور ان کی نظریں پیغمبر کی آل و عترت پر نہ پڑیں! سہل کہتے ہیں: میں نیزہ بردار کے پاس گیا اور اسے کچھ رقم دی اور کہا: اپنا سر والا نیزہ عورتوں کے آگے رکھو۔ اور اس نے قبول کر لیا۔ [3]

وفات[ترمیم]

91ھ میں 96 سال عمر میں وفات ہوئی۔سن مبارک 96 سال تک پہنچ چکا تھا آنحضرتﷺ کہ جمال الکمال کے دیکھنے والوں سے مدینہ خالی تھا دیگر صوبے بھی صحابہؓ کے سایہ سے عموما محروم ہوچکے تھے وہ خود فرمایا کرتے تھے کہ مرجاؤں گا تو کوئی قال رسول اللہ کہنے والا باقی نہ رہے گا، آخر 91ھ میں بزم قدس نبوی کی یہ ٹمٹماتی ہوئی شمع بھی بجھ گئی۔

فضل وکمال[ترمیم]

حضرت سہلؓ مشاہیر صحابہؓ میں ہیں، اکابر صحابہؓ کے فوت ہونے کے بعدان کی ذات مرجع انام بن گئی تھی، لوگ نہایت ذوق وشوق سے حدیث سننے آتے تھے۔ آنحضرتﷺ کے زمانہ میں اگرچہ صغیر السن تھے، تاہم آپ سے حدیث سنی تھی بعد میں حضرت ابی بن کعبؓ، عاصم بن عدیؓ، عمرو بن عبسہؓ سے اس فن کی تکمیل کی، مروان سے بھی چند روایتیں لیں، اگرچہ وہ صحابی نہ تھا راویانِ حدیث اورتلامذہ خاص کی ایک جماعت تھی جن میں بعض کے نام یہ ہیں: حضرت ابوہریرہؓ، حضرت ابن عباسؓ، حضرت سعید بن مسیب، ابو حازم بن دیناز زہری، ابو سہل صبحی، عباسؓ بن سہل(لڑکے تھے) وفاء بن شریح حضرمی، یحییٰ بن میمون حضری عبد اللہ بن عبدالرحمن بن ابی ذباب، عمروبن جابر حضرمی۔ روایات کی تعداد 188 ہے جن میں سے 28 متفق علیہ ہیں۔

اخلاق[ترمیم]

حب رسول ﷺ کے نشہ میں چور تھے، آنحضرتﷺ ایک ستون کے سہارے کھڑے ہوکر خطبہ دیا کرتے تھے، ایک روز منبر کا خیال ظاہر فرمایا، حضرت سہلؓ اٹھے اور جنگل سے منبر کے لیے لکڑی کاٹ لائے۔ [4] ایک مرتبہ آنحضرتﷺ کو بیر بضاعہ سے پانی پلایا تھا۔ [5] حق گوئی خاص شعار تھی، آل مروان میں سے ایک شخص مدینہ کا امیر ہوکر آیا، حضرت سہلؓ کو بلا کر کہا کہ علیؓ کو برا کہو، انہوں نے انکار کیا تو کہا کہ اچھا اتنا ہی کہدو کہ "خدا نعوذ باللہ) ابو تراب پر لعنت کرے، حضرت سہلؓ نے جواب دیا کہ یہ علیؓ کا محبوب ترین نام تھا اورآپﷺ اس نام سے بہت خوش ہوتے تھے اس کے بعد ابو تراب کی وجہ تسمیہ بتلائی تو اس کو بھی خاموش ہونا پڑا۔ [6]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. مسند احمد حنبل
  2. مسند ابی مبارک:116
  3. شیخ عباس قمی، نفس المہموم، صفحہ 205
  4. (مسند:5/337)
  5. (مسند:5/338)
  6. (مسلم:1/326)

سانچے[ترمیم]