سہل بن سعد

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search

سہل بن سعد کم عمر صحابہ میں بلند مقام رکھتے تھے۔

نام ونسب[ترمیم]

سہل نام، ابو العباس، ابو مالک، ابو یحییٰ کنیت، سلسلہ نسب یہ ہے، سہل بن سعد بن مالک بن خالد بن ثعلبہ بن حارثہ بن عمرو بن خزرج بن ساعدہ بن کعب بن خزرج اکبر۔ ہجرت نبوی سے 5 سال قبل پیدا ہوئے،باپ نے حزن نام رکھا ؛لیکن آنحضرت ﷺ جب مدینہ تشریف لائے تو بدل کر سہل کر دیا۔

اسلام[ترمیم]

ہجرت سے پیشتر سہل کے والد سعد بن مالک نے مذہب اسلام قبول کر لیا تھا، بیٹے نے اسی باپ کے سایہ عاطفت میں پرورش پائی تھی۔

غزوات میں شرکت[ترمیم]

غزوہ احد میں وہ اور لڑکوں کی طرح شہر کی حفاظت کر رہے تھے،آنحضرت ﷺ کو جب چشم زخم پہنچا اور دھویا گیا،اس وقت آپ کے پاس آ گئے تھے۔ میں غزوہ خندق ہوا، باایں ہمہ صغر سنی میں جوش کا یہ عالم تھا کہ خندق کھودتے اور مٹی اٹھا اٹھا کے کندھے پر لیجاتے تھے۔ حب رسول ﷺ کے نشہ میں چور تھے، آنحضرت ﷺ ایک ستون کے سہارے کھڑے ہوکر خطبہ دیا کرتے تھے،ایک روز منبر کا خیال ظاہر فرمایا، سہل اٹھے اور جنگل سے منبر کے لیے لکڑی کاٹ لائے۔[1] غزواتِ ما بعد میں بھی میدانِ جنگ کے قابل نہ ہو سکے، 15 برس کاسن ہوا اور تیغ زنی کے قابل ہوئے تو خود سر ورِ عالم ﷺ نے سفر آخرت اختیار فرمایا، [2]

وفات[ترمیم]

91ھ میں 96 سال عمر میں وفات ہوئی۔

فضل وکمال[ترمیم]

حضرت سہلؓ مشاہیر صحابہؓ میں ہیں،اکابر صحابہؓ کے فوت ہونے کے بعدان کی ذات مرجع انام بن گئی تھی،لوگ نہایت ذوق وشوق سے حدیث سننے آتے تھے۔ آنحضرتﷺ کے زمانہ میں اگرچہ صغیر السن تھے،تاہم آپ سے حدیث سنی تھی بعد میں حضرت ابی بن کعبؓ، عاصم بن عدیؓ ،عمرو بن عبسہؓ سے اس فن کی تکمیل کی،مروان سے بھی چند روایتیں لیں، اگرچہ وہ صحابی نہ تھا راویانِ حدیث اورتلامذہ خاص کی ایک جماعت تھی جن میں بعض کے نام یہ ہیں: حضرت ابوہریرہؓ ،حضرت ابن عباسؓ، حضرت سعید بن مسیب، ابو حازم بن دیناز زہری، ابو سہل صبحی،عباسؓ بن سہل(لڑکے تھے) وفاء بن شریح حضرمی ،یحییٰ بن میمون حضری عبد اللہ بن عبدالرحمن بن ابی ذباب ،عمروبن جابر حضرمی۔ روایات کی تعداد 188 ہے جن میں سے 28 متفق علیہ ہیں۔

اخلاق[ترمیم]

حب رسول ﷺ کے نشہ میں چور تھے، آنحضرتﷺ ایک ستون کے سہارے کھڑے ہوکر خطبہ دیا کرتے تھے،ایک روز منبر کا خیال ظاہر فرمایا، حضرت سہلؓ اٹھے اور جنگل سے منبر کے لیے لکڑی کاٹ لائے۔ [3] ایک مرتبہ آنحضرتﷺ کو بیر بضاعہ سے پانی پلایا تھا۔ [4] حق گوئی خاص شعار تھی،آل مروان میں سے ایک شخص مدینہ کا امیر ہوکر آیا،حضرت سہلؓ کو بلا کر کہا کہ علیؓ کو برا کہو، انہوں نے انکار کیا تو کہا کہ اچھا اتنا ہی کہدو کہ "خدا نعوذ باللہ) ابو تراب پر لعنت کرے،حضرت سہلؓ نے جواب دیا کہ یہ علیؓ کا محبوب ترین نام تھا اورآپﷺ اس نام سے بہت خوش ہوتے تھے اس کے بعد ابو تراب کی وجہ تسمیہ بتلائی تو اس کو بھی خاموش ہونا پڑا۔ [5]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. مسند احمد حنبل
  2. مسند ابی مبارک:116
  3. (مسند:5/337)
  4. (مسند:5/338)
  5. (مسلم:1/326)