عمرو بن خالد صیداوی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
عمرو بن خالد صیداوی
معلومات شخصیت

عمرو بن خالد اسدی صیداوی (شہادت: عاشورا 61 ھ)، شہدائے کربلا میں سے ہیں، وہ ان اشراف کوفہ میں سے ہیں جنہوں نے مسلم بن عقیل کی بیعت کی اور ان کی شہادت کے بعد اپنے غلام سعد کے ساتھ عذیب الہجانات کے مقام پر امام حسین کے قافلہ سے ملحق ہوئے اور روز عاشورا پہلے حملے میں اپنے غلام کے ہمراہ جام شہادت نوش کیا۔

زندگی[ترمیم]

پورا نام عمرو بن خالد بن حکیم بن حزام الاسدی الصیداوی تھا. کوفہ کے اشراف میں سے اور اہلبیت علیہم السلام کے سچے محب تھے۔ شروع میں جناب مسلم بن عقیل علیہ السلام کی نصرت کے لیے نکلے تھے مگر جب اہلِ کوفہ نے مسلم کا ساتھ چھوڑ دیا اور کامیابی کی کوئی صورت نظر نہ آئی تو یہ بھی روپوش ہو گئے یہاں تک کہ امام حسین علیہ السلام عراق کی حدود میں پہنچے اور آپ (ع) نے قیس بن مسہر صیداوی کو اپنی آمد کے اطلاع کے ساتھ کوفہ روانہ کیا. قیس راستے میں گرفتار ہو گئے اور ان کے قتل کا حکم ہوا مگر انہوں نے مرتے مرتے حسین علیہ السلام کی سفارت کے حق کو ادا کر دیا۔ اعلان کر کے کہ امام حسین علیہ السلام مقام حاجر تک پہنچ گئے ہیں جس کو جانا ہو ان کے پاس چلا جائے. یہ خبر عمرو بن خالد کو پہنچی تو وہ اپنے غلام سعد اور تین دوسرے ہمراہیوں کے ساتھ غیر معروف راستے سے ہو کر بہت تیز رفتاری کے ساتھ منزل عذیب الہجانات پر امام حسین علیہ السلام کی خدمت میں پہنچ گئے۔

جبکہ حُر بن یزید ریاحی امام (ع) کی نقل و حرکت کی نگرانی کے لیے پہنچ چکا تھا چنانچہ حُر نے مداخلت کی اور کہا کہ یہ لوگ آپ (ع) کے ساتھ نہیں آئے تھے اس لیے یا تو میں انہیں گرفتار کروں گا یا کوفہ واپس ہوں مگر امام (ع) نے فرمایا "اب جبکہ یہ میرے پاس پہنچ گئے ہیں اور میری امان میں آگئے تو میں انہیں تمہارے سپرد نہیں کر سکتا.

روزِ عاشور جنگ چھڑنے کے بعد یہ اور ان کے ساتھی وہ پانچ آدمی تھے جنہوں نے بیک وقت فوجِ دشمن پر حملہ کیا اور لشکر میں گھس کر شمشیر زنی کرنے لگے. لشکرِ یزید نے ان بہادروں کو چاروں طرف سے گھیر لیا اور جماعتِ حسینی سے بالکل جدا کر دیا۔ یہ دیکھ کر امام حسین علیہ السلام نے اپنے بھائی "ابو الفضل العباس علیہ السلام" کو ان کی مدد کے لیے بھیجا. آپ (ع) نے جا کر تنِ تنہا فوج پر حملہ کیا اور تلوار چلانا شروع کی یہاں تک کہ لشکر کو منتشر کر دیا اور ان زخمی بہادروں کو دشمن کے حلقہ سے نکال کر اپنی جماعت کی طرف واپس لے چلے. ابھی راستہ پورا طے نہیں ہوا تھا کہ دشمن تعاقب کے لیے آتے نظر آئے. عباس علیہ السلام نے ان بہادروں کو اپنے آگے کیا اور آپ (ع) خود بغرضِ حفاظت پیچھے ہو گئے تاکہ ان کو کوئی گزند نہ پہنچنے پائے. مگر دشمن کے قریب پہنچتے ہی زخمی بہادروں کے جوش کی انتہا نہ رہی اور وہ جناب عباس علیہ السلام کی حفاظت سے نکل کر دشمنوں پر جھپٹ پڑے اور با وجودیکہ زخموں سے بالکل بے حال تھے لیکن جان توڑ کر شمشیر زنی کی اور آخر ایک ہی جگہ پر گر کر شہید ہو گئے. جناب عباس علیہ السلام نے مجبورًا امام حسین علیہ السلام کی خدمت میں واپس آ کر اس واقعہ کی اطلاع دی. حضرت (ع) نے چند بار ان بہادروں کے لیے درگاہ باری سے رحمت طلب فرمائی.

نسب[ترمیم]

ابو خالد عمرو بن خالد بن حَکیم بن حِزام اَسَدی صِیداوی، اشراف کوفہ اور محب خاندان پیغمبر (ص) میں سے تھے۔[1]

واقعہ کربلا[ترمیم]

سماوی کے مطابق، عمرو نے کوفہ میں مسلم بن عقیل کے ہاتھوں پر بیعت کی۔ مسلم کی شہادت کے بعد مخفی ہونے پر مجبور ہو گئے۔[2] البتہ تستری نے ان کے بیعت کے سلسلہ میں شک کا اظہار کیا ہے۔[3]

عمرو واقعہ کربلا میں اپنے غلام سعد، مجمع بن عبد اللہ عائذی اور نافع بن ہلال کے ہمراہ کوفہ سے خارج ہوئے اور طرماح کی راہنمائی میں عذیب الہجانات نامی قیام گاہ پر امام حسین کے قافلہ سے ملحق ہوئے۔ حر انہیں گرفتار یا واپس کرنا چاہتا تھا مگر امام (ع) نے اسے ایسا کرنے سے روک دیا۔[4] بعض منابع میں نافع بن ہلال کی جگہ جابر بن حارث سلمانی کا نام نقل ہوا ہے۔[5]

شہادت[ترمیم]

عمرو روز عاشورا اپنے غلام سعد کے ہمراہ پہلے حملے میں شہید ہوئے۔[6] روز عاشورا انہوں نے اپنے چار ساتھیوں کے ساتھ جو طرماح کی رہنمائی میں عذیب الہجانات نامی مقام پر امام حسین کے قافلہ سے ملحق ہوئے تھے، عمر بن سعد کے لشکر پر حملہ کیا۔ عمر بن سعد کی فوج نے ان کا محاصرہ کر لیا تو عباس بن علی نے دشمن کی فوج پر حملہ کیا اور انہیں نجات دلائی۔ انہوں نے دوبارہ حملہ اور جنگ کی یہاں تک کہ سب کے سب ایک ہی مقام پر درجہ شہادت پر فائز ہوئے۔[7] وہ دیگر شہدائے کربلا کے ساتھ حرم امام حسین میں واقع گنج شہداء میں دفن ہیں۔

حوالہ جات[ترمیم]

  1. سماوی، ابصار العین، 1419ق، ص117؛ تستری، قاموس الرجال، 1417ق، ج8، ص94.
  2. سماوی، ابصار العین، 1419ق، ص117 ص114-115.
  3. تستری، قاموس الرجال، 1417ق، ج8، ص94.
  4. بلاذری، انساب الاشراف، 1397ق، ج3، ص172.
  5. ابو مخنف، وقعہ الطف، 1417ق، ص238.
  6. طبری، تاریخ الأمم و الملوک، 1967م، ج5، ص446؛ ابن اثیر، الکامل، 1965م، ج4، ص74.
  7. ابو مخنف، وقعہ الطف، 1417ق، ص239-238.

مآخذ[ترمیم]

  • ابن اثیر، علی بن محمد، الکامل فی التاریخ، بیروت، دار صادر، 1385ق/1965 ع
  • ابو مخنف کوفی، لوط بن یحیی، وقعة الطف، قم، جامعہ مدرسین حوزه علمیہ، چاپ سوم، 1417ق
  • امین، سید محسن، أعیان الشیعہ، بیروت، دار التعارف للمطبوعات، 1406ق
  • بلاذری، احمد بن یحیی، انساب‌ الأشراف، تحقیق محمد باقر محمودی، بیروت، دار التعارف للمطبوعات، 1977ق/1397 ع
  • تستری، محمد تقی، قاموس الرجال، قم، جامعہ مدرسین حوزه علمیہ، چاپ دوم، 1417ق
  • سماوی، محمد بن طاہر، ابصار العین فی أنصار الحسین، قم، دانشگاه شہید محلاتی، 1419ق
  • طبری، محمد بن جریر، تاریخ الأمم و الملوک، تحقیق محمد أبو الفضل ابراہیم، بیروت، دار التراث، 1387ق/1967 ع