عمرو بن جنادہ انصاری

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
عمرو بن جنادہ انصاری
معلومات شخصیت
مکمل نام عُمرو بن جنادہ بن حرث انصاری
دینی مشخصات
جنگوں میں شرکت واقعہ کربلا
وجہ شہرت شہید کربلا

عُمرو بن جنادہ انصاری حضرت امام حسین کے ان اصحاب میں سے ہیں جنہوں نے کربلا میں امام پر اپنی جان نچھاور کی۔ اپنے باپ جنادة بن حرث کی شہادت کے بعد اپنی ماں کے حکم پر امام حسین (ع) سے اذن جہاد لے کر میدان جنگ میں مبارزہ کیا اور آخر کار جان کا نذرانہ پیش کیا۔

نام و نسب[ترمیم]

بعض نے ان کا نام عُمَر نقل کیا ہے۔ [1] ان کے باپ کا نام جنادة بن حرث تھا جو رسول خدا(ص) کے صحابہ اور امام علی کے مخلص شیعوں میں سے تھے جنہوں نے جنگ صفّین میں شرکت کی۔[2] ایک نقل کے مطابق ان کی والدہ بحریہ بنت مسعود خزرجی شجاع اور فداکار عورتوں میں سے تھیں نیز وہ کربلا میں موجود تھیں۔ [3]

کاروان امام حسین میں شمولیت[ترمیم]

ایک نقل کے مطابق شہادت کے وقت عمرو بن جنادہ کی عمر 21 سال[4] ایک اور نقل کے مطابق گیارہ سال یا نو سال تھی۔[5] وہ اپنے والدین کے ساتھ مکہ میں امام حسین (ع) کے قافلے میں شامل ہوئے۔[6] روز عاشور باپ کی شہادت کے بعد ان کی ماں نے انہیں جہاد کا حکم دیتے ہوئے کہا: بیٹا جاؤ اور حسین کی مدد کرو۔ وہ امام کے پاس آئے اور میدان کارزار میں جانے کی اجازت طلب کی۔ پہلے امام نے اجازت نہیں دی انہوں نے تکرار کیا۔ امام نے فرمایا: باپ شہید ہو چکا ہے ممکن ہے اس کی ماں اس کے میدان میں جانے پر راضی نہ ہو۔ عمرو نے جواب دیا: اے فرزند رسول! ماں نے ہی مجھے آپ کی نصرت کا حکم دیا ہے اور مجھے جنگی لباس زیب تن کیا۔ امام نے انہیں اجازت دی اور وہ میدان میں گئے۔ [7]

رجز[ترمیم]

عمرو نے میدان جنگ میں درج ذیل رجز پڑھے:[8]

امیری‌ حُسَینٌ وَ نِعْمَ الامیرُسُرُور فُؤادِ البَشیر النّذیرِ
میرا امیر حسین ہے اور وہ اچھا امیر ہےوہ بشیر و نذیر رسول کے دل کی ٹھنڈک تھا
عَلِیٌّ وَ فاطِمَةٌ والِداہُفَہَلْ تَعْلَمُونَ لَہُ مِنْ نَظیرٍ
علی اور فاطمہ اس کے والدین ہیںکیا تم اس کی کوئی نظیر جانتے ہو؟
لَہُ طَلْعَةٌ مِثْلُ شَمْسِ الضُّحی لَہُ غُرَّةٌ مِثْلُ بَدْرِ الْمُنیرِ
اس کا چہرہ سورج کی مانند ہےاس کی پیشانی بدر منیر کی مانند ہے

بعض نے ان کے یہ رجز نقل کیے ہیں: [9]

اضِقُ الخِناقَ مِنَ ابْنِ ہِنْدٍ وَ ارْمِہِفی عَتْرِہِ بِفَوارِسِ الانْصارِ
میں ہند کے بیٹے پر راہ حیات تنگ کردوں گااورمیں انصار کے سواروں کی مدد سے اس پر تیر ماروں گا
و مُہاجرینَ مُخَضِّبینَ رِماحَہُمْتَحْتَ الْعِجاجَةِ مِنْ دَمِ الْکفَّارِ
مہاجرین نے اپنے نیزے خون سے رنگین کئےگرد و غبار کے تلے کفار کے خون سے
خُضِبَتْ عَلی عَہْدِ النَّبِی محمّدٍفَالْیومَ تُخْضَبُ مِنْ دَمِ الْفُجّارِ
محمد نبی کے دور کی مانند رنگین ہونگےآج فجار کے خون سے
وَالْیوْمَ تُخْضَبُ مِنْ دِماء مَعاشِرٍرَفَضُوا الْقُرآنَ لِنُصْرَةِ الاشْرارِ
آج اس ایک جماعت کے خون سے رنگین ہونگےجنہوں نے اشرار کی نصرت کی خاطر سے قرآن کو چھوڑ دیا
طَلَبُوا بِثارِہِمْ بِبَدرٍ وَانْثَنُوابِالْمُرْہِفاتِ وَبالْقَنَا الْخَطّارِ
وہ بدر کے اپنوں کے خونوں کا بدلہ طلب کر رہے ہیں
وَاللہ رَبّی‌ لا ازالُ مُضارباًلِلْفاسقینَ بِمُرْہَفٍ بَتَّارِ
خدا کی قسم! میں مسلسل مبارزہ کروں گا فاسقین سے تیز تلوار کی مدد سے
ہذا عَلی الْیوْمَ حَقَّ واجِبٌفی‌ کلِّ یوْمٍ تعانُقٌ وَحَوارِ
یہ آج کے دن مجھ پر واجب ہےہر دن روبرو ہونے اور نصرت کرنے کا دن ہے

شہادت[ترمیم]

کہتے ہیں عمرو نے شہید ہونے تک دشمن سے جنگ کی۔ مالک بن نسر بدی نے اس کا سر تن سے جدا کیا اور اسے امام حسین کے لشکر کی جانب پھینکا۔

اس کی ماں نے اسے اٹھایا اور کہا: شاباش میرے بیٹے! میرے قلب کی خوشی اور میرے نور چشم! یہ کہہ کر اسے دشمن کی جانب واپس لوٹا دیا۔ اس کے بعد خود عمود خیمہ لے کر دشمن پر حملہ آور ہوئی۔ امام نے اسے واپس کیا اور اس کے حق میں دعا فرمائی۔[10]

بعض نے ماں کے حملہ کرتے وقت کے یہ شعر لکھے ہیں:

[11]
انَا عَجُوزٌ فِی النِّساء ضَعیفَةٌبالِیةٌ خاویةٌ نَحیفَةٌ
میں عورتوں میں ضعیف ہوںپیر، نحیف اور ناتوان ہوں
اضْرِبُکمْ بِضَرْبَةٍ عَنیفَةٍدُونَ بَنی‌ فاطِمَةِ الشَّریفَةِ
(اس کے باوجود) میں تم پر محکم وار کروں گیشریف بنی فاطمہ سے دفاع کرتے ہوئے۔

خوارزمی نے لکھا کہ اس نے حملے میں دشمن کے دو افراد قتل کیے۔

غیر معروف زیارت ناحیہ میں عمرو اور ان کے باپ کا نام آیا ہے: اَلسلام علی جُنادة بن کعب الانصاری الخزرجی، و ابنہ عمرو بن جنادہ

مربوط روابط[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. سماوی، محمد بن طاہر، ابصارالعین فی انصارالحسین علیہ‌السلام، ج1، ص159.
  2. محلاتی، رسول، زندگانی امام حسین علیہ‌السلام، ج1، ص452- 453.
  3. مامقانی، عبد اللہ، تنقیح المقال، ج2، ص327.
  4. مقرم، مقتل الحسین علیہ‌السلام، ج1، ص253.
  5. مامقانی، عبد اللہ، تنقیح المقال، ج2، ص327.
  6. سماوی، محمد بن طاہر، ابصارالعین فی انصارالحسین علیہ‌السلام، ج1، ص159.
  7. جمعی از نویسندگان، ذخیرة الدارین، ج1، ص435.
  8. جمعی از نویسندگان،ذخیرة الدارین، ج1، ص435.
  9. خوارزمی، مقتل الحسین علیہ‌السلام، ج2، ص25.
  10. جمعی از نویسندگان، ذخیرة الدارین، ج1، ص435.
  11. مقتل الحسین خوارزمی ج2، ص26

منابع[ترمیم]

  • سماوی، محمد بن طاہر، إبصارالعین فی أنصارالحسین، دانشگاه شہید محلاتی، قم، اول، 1419ق.
  • رسولی محلاتی، سید ہاشم، زندگانی امام حسین علیہ السلام، دفتر نشر فرہنگ اسلامی، 1375ش.
  • عبداللّہ مامقانی، تنقیح المقال فی علم الرجال، چاپ سنگی نجف، 1349-1352ق.
  • مقرم، عبدالرزاق، مقتل الحسین (ع)، ترجمه: محمد مہدی عزیز الہی کرمانی، قم، نوید اسلام، 1381ش.
  • حسینی حائری شیرازی، عبد المجید بن محمدرضا، ذخیرة الدارین فیما یتعلق بمصائب الحسین علیہ السلام و أصحابہ، تحقیق باقر دریاب نجفی، قم، زمزم ہدایت.
  • خوارزمی، محمد بن احمد، مقتل الحسین علیہ السلام، قم، انوار الہدی، 1423 ق.