قاسم بن حسن

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
قاسم بن حسن
معلومات شخصیت
پیدائش سنہ 667  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ پیدائش (P569) ویکی ڈیٹا پر
مدینہ منورہ  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام پیدائش (P19) ویکی ڈیٹا پر
وفات سنہ 680 (12–13 سال)  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ وفات (P570) ویکی ڈیٹا پر
واقعہ کربلا
مدفن روضۂ امام حسين  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام دفن (P119) ویکی ڈیٹا پر
والد حسن ابن علی  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں والد (P22) ویکی ڈیٹا پر
بہن/بھائی
فاطمہ بنت حسن،  حسین بن حسن،  ابو بکر بن حسن،  طلحہ بن حسن،  حسن المثنیٰ،  زید بن حسن  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں بہن/بھائی (P3373) ویکی ڈیٹا پر
عسکری خدمات
لڑائیاں اور جنگیں واقعہ کربلا  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں لڑائی (P607) ویکی ڈیٹا پر

قاسم بن حسن (7 شعبان 47 ہجری /2 اکتوبر 667 عیسوی – 10 محر 61 ہجری /10 اکتوبر 680 عیسوی)، حسن ابن علی اور جناب رملہ کے بیٹے اور علی بن ابی طالب و فاطمہ زہرا کے پوتے تھے۔

واقعہ کربلا

آپ نہایت جری تھے۔ واقعہ کربلا میں ارزق شامی جیسے نامی گرامی پہلوان کو میدان کربلا میں قتل کیا ۔ اور جب دشمنوں سے زیر نہ ہوئے تو سب نے اچانک چاروں طرف سے گھیر کر حملہ کیا  اور عمیر بن نفیل ازدی کے وار سے گھائل ہوئے ۔ گھوڑے سے گرنے کے بعد زندہ ہی پامال  سُم اسپاں ہو گئے اور شہید ہوئے۔[1][2] اس وقت ان کی عمر صرف 14 سال تھی۔[3]

مزید دیکھیے[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. Mahmoud M. Ayoub۔ Redemptive Suffering in Islam: A Study of the Devotional Aspects of Ashura in Twelver Shi'ism۔ Walter de Gruyter۔ صفحہ 117۔ آئی ایس بی این 978-3-11-080331-0۔ مورخہ 26 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔
  2. http://hubeali.co.uk/articles/Masomeen/Hazrat-Shahzada-Qasim-Ibn-e-Hassan-asws.pdf
  3. Ibn El-Neil۔ The Truth About Islam۔ Strategic Book Publishing۔ صفحہ 208۔ آئی ایس بی این 978-1-60693-259-9۔ مورخہ 26 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔