جون بن حوی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
(جون (غلام ابو ذر) سے رجوع مکرر)
Jump to navigation Jump to search
جون بن حوی
معلومات شخصیت
تاریخ وفات سنہ 680  ویکی ڈیٹا پر تاریخ وفات (P570) کی خاصیت میں تبدیلی کریں

جون بن حوی (عربی: جون بن حوي) سوڈان اور مصر کے علاقے کے رہنے والے ایک سابق مسیحی اور آزاد کردہ غلام تھے۔ جو 10 محرم 61ھ (680ء) جنگ کربلا میں امام حسین کے ساتھ لڑتے ہوئے شہید ہوئے۔ جون ابوذر غفاری کے سابقہ غلام تھے، جن کو (حضرت ابوذر غفاری کو) خلیفہ عثمان غنی نے مدینہ بدر کیا اور وہ علی بن ابی طالب کے پاس چلے گئے تھے، جنہوں نے جون کو اپنے پاس رکھنے کا پوچھا۔ علی ابن ابی طالب کی شہادت کے بعد جون امام حسن مجتبیٰ کے پاس رہے اور پھر امام حسین کی خدمت میں رہے۔ جب امام حسین نے مدینہ چھوڑا، جون نے ان کی ہمراہی کے لیے اصرار کیا۔[1]

نسب[ترمیم]

جوْنِ بْنِ حُوَیِّ بن قتادة بن اعور بن ساعدة بن عوف بن کعب بن حویّ۔ اس کے علاوہ ان کے جریرہ، جریر، جون بن جوی، جون بن حریّ، جویرہ، جوین بن ابی مالک، حرز، حرّہ و حریرہ، حویّ و خون بن حوی وغیرہ کئی دوسرے نام بھی ملتے ہیں۔[2]

مالک[ترمیم]

جون بن جوی سیاہ فام غلام اہل نوبہ میں سے تھے۔ علی بن ابی طالب نے ان کو عباس بن عبد المطلب سے 150 دینار کے عوض خریدا پھر حضرت ابوذر غفاری کو ہدیہ کر دیا تھا۔ وہ ابوذر غفاری کے ساتھ جلا وطن کیے گئے تھے۔ اور یہ ابوذر غفاری کے ہمراہ جنگل کنارے (ربذہ) میں رہے۔ ابوذر غفاری کے سال وفات 32 ہجری کے بعد جون بن حوی مدینہ آ گئے۔ پہلے علی بن ابی طالب کی خدمت کی اس کے بعد حسن ابن علی پھر حسین ابن علی کی اور پھر آخر میں علی بن حسین کی خدمت میں حاضر ہوئے۔

جنگ کربلا میں[ترمیم]

کربلا کے میدان میں جون ہمیشہ امام حسین کے ساتھ رہے۔ وہ کالے رنگ اور سرمئی گھنگھریالے بالوں والے بزرگ آدمی تھے۔

عاشورہ کی رات امام حسین نے ان کو جان بچانے کے لیے کہا

آپ نے سارے سفر میں میرا ساتھ دیا لیکن اب آپ جا سکتے ہیں

جون نے جواب دیا

یہ کیسے ممکن ہوگا کہ میں آپ کی میزبانی اور صحبت سے فیض اٹھاؤں اور آپ کو مشکل میں چھوڑ جاؤں؟ [3]

اگلے دن صبح انہوں نے یزید بن معاویہ کی فوج کی جانب سے کیے گئے دو حملوں کو روکنے میں مدد کی۔ دوپہر کے وقت، نماز ظہر کے بعد، جون امام حسین کے پاس آئے اور چپ کر کے کھڑے ہو گئے۔ امام حسین نے جون کی طرف دیکھا اور کہا

جون میں جانتا ہوں آپ میرے پاس جنگ کے میدان میں جانے کی اجازت لینے آئے ہیں۔ آپ ایک اچھے دوست ہیں۔ میں آپ کو اسلام کے ليے شہید ہونے سے نہیں روکوں گا

جون خوشی سے مسکرائے۔ انہوں نے دشمنوں کا سامنا کیا اور یہ الفاظ ادا کیے:

كيف تَرى الفُجّارُ ضَربَ الأسْودِ بالمـشـرفـيِّ القـاطعِ المُـهنَّدِ
أحمـي الخيـارَ مِن بنـي محمّدِ أذُبُّ عنـهم بـاللـسـانِ واليـدِ
أرجو بذاك الفـوزَ عندَ المـوردِ مِـن الإلهِ الـواحدِ المـوحَّدِ

میں اللہ کے لیے مرنا چاہتا ہوں
اور میری تلوار دشمنوں کے خون کی پیاسی ہے
مرنے سے پہلے میں اللہ کے دشمنوں کے ساتھ جنگ کروں گا
اپنی تلوار اور زبان سے میں رسول کے نواسے کی خدمت کروں گا

I am a soul willing to die for Allah,
and have a sword thirsty of the blood of his enemies
Before I die I shall fight the enemies of Allah,
with my sword and my tongue serve the grandson of his prophet [4]

جون یہ الفاظ ادا کرتے ہوئے شہید ہوئے۔ ان کو کئی مہلک زخم آئے مگر انہوں نے باخوبی دشمنان دین کا مقابلہ کیا۔ جون وہاں گھوڑے سے گر پڑے پر پھر بھی وہ زبان سے جنگ کرتے رہے کچھ دیر بعد وہ شہید ہو گئے۔ جون نے دشمن کے 25 فوجیوں کو مار گرایا تھا۔[5]

قبر اور زیارت[ترمیم]

آپ کربلا معلی میں باقی شہداء کے ساتھ دفن ہیں، آپ کا ذکر المہدی عجل اللہ فرجہ نے زيارت ناحيہ مقدسہ میں کیا ہے

«اَلسَّلَامُ عَلَى جَوْنٍ مَوْلَى أَبِي ذَرٍّ الْغِفَارِيِّ»۔

مزید دیکھیے[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. ۔ Theinfallibles.com http://www.theinfallibles.com/14/index.php?option=com_content&view=article&id=104&Itemid=125۔ اخذ شدہ بتاریخ 21 مئی 2017۔ Unknown parameter |عنوان= ignored (معاونت); |title= غیر موجود یا خالی ہے (معاونت)
  2. محمد الريشهري ،الصّحيح من مقتل سيّد الشّهداء و أصحابہ عليهم السّلام، الجزء : 1 صفحة : 713.
  3. ۔ Duas.org http://web.archive.org/web/20181225084848/http://www.duas.org/Moharram/lesson_from_kerbala__2.htm%20۔ مورخہ 25 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 21 مئی 2017۔ Unknown parameter |عنوان= ignored (معاونت); |title= غیر موجود یا خالی ہے (معاونت)
  4. ۔ coolteachersite.weebly.com http://web.archive.org/web/20181225084844/http://coolteachersite.weebly.com/uploads/2/7/3/3/2733973/the_companions_of_imam_husayn_a.s.۔pdf%20۔ مورخہ 25 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 21 مئی 2017۔ Unknown parameter |عنوان= ignored (معاونت); |title= غیر موجود یا خالی ہے (معاونت)
  5. ذخيرة الدارين فيما يتعلق بمصائب الحسين(ع)، الجزء : 1 صفحة : 389.