عباس بن عبد المطلب

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
عباس بن عبد المطلب
(عربی میں: العباس بن عبد المطلب‎‎ خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقامی زبان میں نام (P1559) ویکی ڈیٹا پر
العبَّاس بن عبد المُطلب.png 

معلومات شخصیت
پیدائش سنہ 568  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ پیدائش (P569) ویکی ڈیٹا پر
مکہ[1]  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام پیدائش (P19) ویکی ڈیٹا پر
وفات 15 فروری 653 (84–85 سال)  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ وفات (P570) ویکی ڈیٹا پر
مدینہ منورہ  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام وفات (P20) ویکی ڈیٹا پر
مدفن جنت البقیع  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام دفن (P119) ویکی ڈیٹا پر
شہریت Black flag.svg خلافت راشدہ  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں شہریت (P27) ویکی ڈیٹا پر
زوجہ لبابہ بنت حارث  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں شریک حیات (P26) ویکی ڈیٹا پر
اولاد عبد اللہ بن عباس،فضل ابن عباس،عبید اللہ بن عباس،قثم بن عباس  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں اولاد (P40) ویکی ڈیٹا پر
تعداد اولاد 10   خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تعداد اولاد (P1971) ویکی ڈیٹا پر
والد عبد المطلب  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں والد (P22) ویکی ڈیٹا پر
والدہ نتیلہ بنت جناب  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں والدہ (P25) ویکی ڈیٹا پر
بہن/بھائی
عملی زندگی
پیشہ ریاست کار،بیوپاری  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں پیشہ (P106) ویکی ڈیٹا پر
عسکری خدمات
لڑائیاں اور جنگیں غزوۂ بدر،فتح مکہ،غزوہ حنین  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں لڑائی (P607) ویکی ڈیٹا پر

عباس ابن عبد المطلب (پیدائش: 568ء15 فروری 653ء) محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے سگے چچا تھے۔

نام،نسب[ترمیم]

عباس نام ،ابوالفضل کنیت، والد کا نام عبد المطلب اوروالدہ کا نام نتیلہ بنت جناب تھا،آپ واقعہ فیل سے پہلے پیدا ہوئے۔

شجرہ نسب[ترمیم]

شجرہ نسب یہ ہے۔ عباس بن عبد المطلب بن ہاشم بن عبد المناف الہاشمی القرشی حضور سے دو برس عمر میں زیادہ تھے۔ فرماتے تھے بڑے حضور ہیں، عمر میری زیادہ ہے،[2]

ابتدائی حالات[ترمیم]

عباس عہد طفولیت میں ایک مرتبہ گم ہو گئے تھے،ان کی والدہ نے خانہ کعبہ پر غلاف چڑھانے کی نذر مانی ،چنانچہ ان کے صحیح وسلامت مل جانے کے بعد نہایت تزک واحتشام کے ساتھ یہ نذرپوری کی گئی،بیان کیا جاتا ہے کہ یہ پہلی عرب خاتون تھی ،جنہوں نے ایام جاہلیت میں خانہ کعبہ کو دیبا وحریرسے مزین کیا۔ زمانہ جاہلیت میں وہ قریش کے ایک سربرآوردہ رئیس تھے،خانہ کعبہ کا اہتمام وانصرام اورلوگوں کو پانی پلانے کا عہدہ ان کو اپنے والد عبد المطلب سے وراثت میں ملا تھا۔[3][4]

تاخیر اسلام اورقیامِ مکہ[ترمیم]

عباس ایک عرصہ تک مکہ میں مقیم رہنا اورعلانیہ دائرہ اسلام میں داخل نہ ہونا درحقیقت ایک مصلحت پر مبنی تھا،وہ کفارمکہ کی نقل وحرکت اوران کے رازہائے سربستہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو اطلاع دیتے تھے، نیز اس سرزمین کفر میں جو ضعفائے اسلام رہ گئے تھے ان کے لیے تنہا مامن وملجا تھے،یہی وجہ ہے کہ عباس نے جب کبھی رسالت پناہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے ہجرت کی اجازت طلب کی تو آپ نے بازرکھا اورفرمایا کہ "آپ کا مکہ میں مقیم رہنا بہتر ہے،خدانے جس طرح مجھ پر نبوت ختم کی ہے ،اسی طرح آپ پر ہجرت ختم کرے گا۔[3]

اسلام وہجرت[ترمیم]

فتح مکہ سے کچھ عرصہ پہلے عباس کو ہجرت کی اجازت مل گئی،چنانچہ وہ مع اہل و عیال رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اورعلانیہ بیعت کرکے مستقل طورسے مدینہ میں سکونت پزیر ہوئے۔

خلفائے راشدین[ترمیم]

آن حضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے بعدخلفائے راشدین نے بھی عباس کی عزت واحترام کا مخصوص لحاظ رکھا،عمر اورعثمان اگر کبھی گھوڑے پر سوار ہوکران کی طرف سے گذرتے تو تعظیما اترپڑتے، اورفرماتے کہ "یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے عم محترم ہیں۔

اولاد[ترمیم]

عباس بن عبد المطلب کے دس بیٹے تھے۔[5]

وفات[ترمیم]

عباس 88 برس کی عمر پاکر 32ھ میں بماہ رجب یا رمضان ،جمعہ کے روز رہگزین عالم جادواں ہوئے،خلیفہ ثالث نے نمازِ جنازہ پڑھائی اورعبداللہ بن عباس نے قبر میں اترکر سپرد خاک کیا۔[2]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. عنوان : Аббас, Абул-Фадль Эль-Гашими — شائع شدہ از: Brockhaus and Efron Encyclopedic Dictionary. Volume I, 1890
  2. ^ ا ب الاستیعاب تذکرہ عباس بن عبد المطلب
  3. ^ ا ب اسدالغابہ:3/109
  4. مرآۃ المناجیح شرح مشکوۃ المصابیح مفتی احمد یار خان نعیمی جلد1 صفحہ28نعیمی کتب خانہ گجرات
  5. تاریخ ابن کثیر جلد 7