عباس بن عبد المطلب

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
عباس بن عبد المطلب
(عربی میں: العباس بن عبد المطلب‎‎خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقامی زبان میں نام (P1559) ویکی ڈیٹا پر
العبَّاس بن عبد المُطلب.png 

معلومات شخصیت
پیدائش سنہ 566 (عمر 1450–1451 سال)  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ پیدائش (P569) ویکی ڈیٹا پر
مکہ[1]  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام پیدائش (P19) ویکی ڈیٹا پر
وفات مدینہ منورہ  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام وفات (P20) ویکی ڈیٹا پر
مدفن جنت البقیع  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام دفن (P119) ویکی ڈیٹا پر
شہریت Black flag.svg خلافت راشدہ  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں شہریت (P27) ویکی ڈیٹا پر
زوجہ لبابہ بنت حارث  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں شریک حیات (P26) ویکی ڈیٹا پر
اولاد عبد اللہ بن عباس،فضل ابن عباس  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں اولاد (P40) ویکی ڈیٹا پر
والد عبد المطلب  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں والد (P22) ویکی ڈیٹا پر
والدہ نتیلہ بنت جناب  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں والدہ (P25) ویکی ڈیٹا پر
بہن/بھائی
عملی زندگی
پیشہ ریاست کار  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں پیشہ (P106) ویکی ڈیٹا پر
عسکری خدمات
لڑائیاں اور جنگیں غزوۂ بدر،فتح مکہ،غزوہ حنین  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں لڑائی (P607) ویکی ڈیٹا پر

عباس ابن عبدالمطلب حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے سگے چچا تھے۔

نام،نسب[ترمیم]

عباس نام ،ابوالفضل کنیت، والد کا نام عبدالمطلب اوروالدہ کا نام نتیلہ تھا،آپ واقعہ فیل سے پہلے پیدا ہوئے۔

شجرہ نسب[ترمیم]

شجرہ نسب یہ ہے۔عباس بن عبدالمطلب بن ہاشم بن عبدالمناف الہاشمی القرشی حضور سے دو برس عمر میں زیادہ تھے۔ فرماتے تھے بڑے حضور ہیں، عمر میری زیادہ ہے،[2]

ابتدائی حالات[ترمیم]

عباس عہد طفولیت میں ایک مرتبہ گم ہوگئے تھے،ان کی والدہ نے خانہ کعبہ پر غلاف چڑھانے کی نذر مانی ،چنانچہ ان کے صحیح وسلامت مل جانے کے بعد نہایت تزک واحتشام کے ساتھ یہ نذرپوری کی گئی،بیان کیا جاتا ہے کہ یہ پہلی عرب خاتون تھی ،جنہوں نے ایام جاہلیت میں خانہ کعبہ کو دیبا وحریرسے مزین کیا۔زمانہ جاہلیت میں وہ قریش کے ایک سربرآوردہ رئیس تھے،خانہ کعبہ کا اہتمام وانصرام اورلوگوں کو پانی پلانے کا عہدہ ان کو اپنے والد عبدالمطلب سے وراثت میں ملا تھا۔[3][4]

تاخیر اسلام اورقیامِ مکہ[ترمیم]

عباس ایک عرصہ تک مکہ میں مقیم رہنا اورعلانیہ دائرہ اسلام میں داخل نہ ہونا درحقیقت ایک مصلحت پر مبنی تھا،وہ کفارمکہ کی نقل وحرکت اوران کے رازہائے سربستہ رسول اللہ ﷺ کو اطلاع دیتے تھے، نیز اس سرزمین کفر میں جو ضعفائے اسلام رہ گئے تھے ان کے لیے تنہا مامن وملجا تھے،یہی وجہ ہے کہ عباس نے جب کبھی رسالت پناہ ﷺ سے ہجرت کی اجازت طلب کی تو آپ نے بازرکھا اورفرمایا کہ "آپ کا مکہ میں مقیم رہنا بہتر ہے،خدانے جس طرح مجھ پر نبوت ختم کی ہے ،اسی طرح آپ پر ہجرت ختم کرے گا۔[5]

اسلام وہجرت[ترمیم]

فتح مکہ سے کچھ عرصہ پہلے عباس کو ہجرت کی اجازت مل گئی،چنانچہ وہ مع اہل و عیال رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اورعلانیہ بیعت کرکے مستقل طورسے مدینہ میں سکونت پزیر ہوئے۔

خلفائے راشدین[ترمیم]

آنحضرت ﷺ کے بعدخلفائے راشدین نے بھی عباس کی عزت واحترام کا مخصوص لحاظ رکھا،عمر اورعثمان اگر کبھی گھوڑے پر سوار ہوکران کی طرف سے گذرتے تو تعظیما اترپڑتے، اورفرماتے کہ "یہ رسول اللہ ﷺ کے عم محترم ہیں۔

وفات[ترمیم]

عباس 88 برس کی عمر پاکر 32ھ میں بماہ رجب یا رمضان ،جمعہ کے روز رہگزین عالم جادواں ہوئے،خلیفہ ثالث نے نمازِ جنازہ پڑھائی اورعبداللہ بن عباس نے قبر میں اترکر سپرد خاک کیا۔[6]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. عنوان : Аббас, Абул-Фадль Эль-Гашими — شائع شدہ از: Brockhaus and Efron Encyclopedic Dictionary. Volume I, 1890
  2. الاستیعاب تذکرہ عباس بن عبدالمطلب
  3. اسدالغابہ:3/109
  4. مرآۃ المناجیح شرح مشکوۃ المصابیح مفتی احمد یار خان نعیمی جلد1 صفحہ28نعیمی کتب خانہ گجرات
  5. اسدالغابہ:3/109
  6. الاستیعاب تذکرہ عباس بن عبدالمطلب