کعب بن عجرہ

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search

کعب بن عجرہغزوہ بدر سمیت اکثر غزوات میں شامل صحابی ہیں۔

نام نسب[ترمیم]

کعب نام، ابو محمد کنیت،خاندان بلی سے تھے اور قواقل کے حلیف تھے ،نسب نامہ یہ ہے : كعب بن عجرة بن أميہ بن عدی بن عبيد بن الحارث بن عمرو بن عوف بن غنم بن سواد بن مرى بن إراشہ بن عامر بن عبيلہ بن قسميل بن فران بن بلی البلوی۔ واقدی نے ان کو انصار میں داخل کیا ہے

اسلام[ترمیم]

ہجرت کے بعد مسلمان ہوئے۔

غزوات[ترمیم]

تمام غزوات میں شرکت کی عمرہ حدیبیہ میں آنحضرتﷺ کے ہمراہ تھے سر میں اس کثرت سے جویں پڑ گئی تھیں کہ چہرہ پر آ آ کر گرتی تھیں، آنحضرتﷺ نے دیکھا تو فرمایا تم کو سخت تکلیف ہے،اپنا سر منڈوادو، کعب اگرچہ احرام باندھے ہوئے تھے لیکن انہوں نے متابعت حکم رسول میں سر منڈوادیا اوراس تکلیف سے نجات پاگئے۔

وفات[ترمیم]

اور51ھ میں مدینہ آکر انتقال کیا،اس وقت 75 برس کا سن تھا۔[1] طبرانی کی کتاب الاوسط میں ہے کہ ایک روز کعبؓ آنحضرتﷺ کی خدمت میں آئے چہرۂ مبارک (بھوک کی وجہ سے ) متغیر دیکھ کر جلدی سے واپس چلے گئے، راستہ میں ایک یہودی اونٹ کو پانی پلا رہا تھا انہوں نے فی ڈول ایک چھوہارے کے حساب سے کچھ دیر مزدوری کی کچھ چھوہارے جمع ہو گئے تو خدمت اقدس میں لے کر حاضر ہوئے اور پیش کیے۔ [2]

اولاد[ترمیم]

چار بیٹے چھوڑے جو حدیث کے راویوں میں ہیں ان کے نام یہ ہیں، اسحاق ،عبدالملک ،محمد ،ربیع ۔

حلیہ[ترمیم]

ایک ہاتھ کسی غزوہ میں کٹ گیا تھا، (ابن سعد،جلد قسم)سر پر گھنے بال تھے۔ [3]

فضل وکمال[ترمیم]

آنحضرتﷺسے اور حضرت عمرؓ اورحضرت بلالؓ سے روایت کی راویوں میں حسب ذیل حضرات ہیں: بن عمرؓ ،جابرؓ، عبد اللہؓ بن عمرو بن عاص، ابن عباسؓ،عبد اللہ بن معقل ،ابن مقرن مزنی ،طارق بن شہاب،ابووائل ،زید بن وہب ،عبدالرحمن بن ابی لیلی، ابن سیرین،ابو عبیدہ بن عبد اللہ بن مسعود محمد بن کعب قرظی ،ابو ثمامہ حناط ،سعید مقبری، عاصم عدوی ، موسیٰ بن دردان (روایتوں کی تعداد 47 ہے۔

اخلاق[ترمیم]

حمایت حق اورحب رسولﷺ دوچیزیں حضرت کعبؓ کے اخلاق میں نہایت روشن ہیں، آنحضرتﷺ نے ایک روز خطبہ دیا جس میں مسلمانوں کی ایک آئندہ خانہ جنگی کا تذکرہ بھی تھا ،کعبؓ بیٹھے تھے ان کا بیان ہے کہ ایسا معلوم ہوتا تھا کہ گویا وہ وقت سامنے آگیا ہے ، اتنے میں ایک شخص چادر اوڑھے سامنے سے گذرا، آنحضرتﷺ نے کہا اس روز یہ شخص حق پر ہوگا، کعبؓ فوراً اٹھے اوراس کے بازو پکڑ کر کہا یا رسول اللہ ! یہ شخص ؟فرمایا ہاں، کعبؓ نے چہرہ دیکھا تو حضرت عثمانؓ تھے۔ [4] طبرانی کی کتاب الاوسط میں ہے کہ ایک روز کعبؓ آنحضرتﷺ کی خدمت میں آئے چہرۂ مبارک (بھوک کی وجہ سے ) متغیر دیکھ کر جلدی سے واپس چلے گئے، راستہ میں ایک یہودی اونٹ کو پانی پلا رہا تھا انہوں نے فی ڈھول ایک چھوہارے کے حساب سے کچھ دیر مزدوری کی کچھ چھوہارے جمع ہو گئے تو خدمت اقدس میں لے کر حاضر ہوئے اور پیش کیے۔ [5]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. اسد الغابہ جلد 2 صفحہ 875حصہ ہفتم مؤلف: ابو الحسن عز الدين ابن الاثير ،ناشر: المیزان ناشران و تاجران کتب لاہور
  2. اصابہ:5/304
  3. (مسند:4/242)
  4. (مسند:4/44)
  5. (اصابہ:5/304)