سعید بن زید

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
سعید بن زید
سعید بن زید
سعيد بن زيد.png
 

معلومات شخصیت
پیدائش سنہ 593  ویکی ڈیٹا پر (P569) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
مکہ  ویکی ڈیٹا پر (P19) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
وفات سنہ 673 (79–80 سال)  ویکی ڈیٹا پر (P570) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
مدینہ منورہ  ویکی ڈیٹا پر (P20) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
شہریت Black flag.svg خلافت راشدہ  ویکی ڈیٹا پر (P27) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
زوجہ فاطمہ بنت خطاب  ویکی ڈیٹا پر (P26) کی خاصیت میں تبدیلی کریں


سعید بن زید حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے صحابی تھے۔ آپ عشرہ مبشرہ میں بھی شامل ہیں جنہیں زندگی میں ہی جنت کی بشارت دے دی گئی۔[1][2]

نام،نسب[ترمیم]

سعید نام،ابوالاعورکنیت ،والد کا نام زید اوروالدہ کا نام فاطمہ بنت بعجہ تھا،سلسلہ نسب یہ ہے،سعید بن زید بن عمروبن نفیل بن عبد العزی بن ریاح بن عبد اللہ بن قرظ بن زراح بن عدی بن کعب بن لوی القرشی العددی۔حضرت سعید بن زید ؓ کا سلسلۂ نسب کعب بن لوی پر آنحضرت ﷺ سے اورنفیل پرحضرت عمرؓ سے مل جاتا ہے،حضرت سعید ؓ کے والد زید ان سعادت مند بزرگوں میں تھے جن کی آنکھوں نے اسلام سے پہلے ہی کفر وشرک کے ظلمت کدہ میں توحید کا جلوہ دیکھا تھا اورہر قسم کے فسق وفجور یہاں تک کہ مشرکین کے ذبیحہ سے بھی محترز رہے تھے، چنانچہ ایک دفعہ ان سے اورآنحضرت ﷺ سے قبل بعثت وادی بلدح میں ملاقات ہوئی،آنحضرت ﷺ کے سامنے کھانا پیش کیا گیا تو آپ نے انکار فرمایا، پھر انہوں نے بھی انکار کیا اور کہا میں تمہارے بتوں کا چڑھایا ہوا ذبیحہ نہیں کھاتا۔ [3]زید کا دل کفر وشرک سے متنفر ہوا تو جستجوئے حق میں دور دراز ممالک کی خا ک چھانی اور شام پہنچ کر ایک یہودی عالم سے مقصود کی رہبری چاہی، اس نے کہا اگر خدا کے غضب میں حصہ لینا ہے تو ہمارا مذہب حاضر ہے ،زید نے کہا میں اسی سے بھاگا ہوں،پھر اس میں گرفتار نہیں ہوسکتا،البتہ کوئی دوسرامذہب بتاسکتے ہو تو بتاؤ اس نے دین حنیف کا پتہ دیا ،انہوں نے پوچھا دین حنیف کیا ہے،بولا دین حنیف حضرت ابراہیم علیہ السلام کا مذہب ہے جو نہ یہودی تھے، نہ عیسائی بلکہ صرف خدائے واحد کی پرستش کرتے تھے،یہاں سے بڑھے تو ایک عیسائی عالم سے چارہ خواہ ہوئے،اس نے کہا اگرخدا کی لعنت کا طوق چاہتے ہو تو ہمارا مذہب موجود ہے،،زید نے کہا خدارا کوئی ایسا مذہب بتاؤ جس میں نہ خدا کا غضب ہو نہ لعنت میں ان دونوں سے بھاگتا ہوں بولا میرے خیال میں ایسامذہب دین حنیف ہے،غرض جب ہرجگہ سے دین ابراہیم کا پتہ ملا تو شام سے واپس ہوئے اوردونوں ہاتھ اٹھا کر کہا خدا یا !تجھے گواہ بناتا ہوں کہ اب میں دین حنیف کا پیرو ہوں۔ [4] زید کو اس کفرستان میں اپنے موحد ہونے کا نہایت فخر تھا،حضرت ابوبکر صدیق ؓ کی بڑی ساحبزادی حضرت اسماءؓ کا بیان ہے کہ میں نے ایک دفعہ زید کو دیکھا کہ کعبہ سے پشت لگا کر کہہ رہے تھے، اے گروہِ قریش! خدا کی قسم میرے سوا تم میں کوئی بھی دین ابراہیم پر قائم نہیں ہے۔ [5] ایام جاہلیت میں اہل عرب عموماً اپنی لڑکیوں کو زندہ دفن کردیتے تھے،لیکن خدائے واحد کے اس تنہا پرستار کو ان معصوم ہستیوں کے بچانے میں خاص لطف حاصل ہوتا تھا اورجب کوئی ظالم باپ اپنی بے گناہ بچی کے حلق پر چھری پھیرنا چاہتا تھا تو اس کی کفالت اپنے ذمہ لیتے اورجب جوان ہوجاتی تو اس کے باپ سے کہتے جی چاہے لے لو یا میری ہی کفالت میں رہنے دو۔ [6]

خاندان[ترمیم]

سعید بن زید کا سلسلۂ نسب کعب بن لوی پر آنحضرت ﷺ سے اورنفیل پر عمر فاروق سے مل جاتا ہے، سعید کے والد زید ان سعادت مند بزرگوں میں تھے جن کی آنکھوں نے اسلام سے پہلے ہی کفر وشرک کے ظلمت کدہ میں توحید کا جلوہ دیکھا تھا اورہر قسم کے فسق وفجور یہاں تک کہ مشرکین کے ذبیحہ سے بھی بچتے رہے تھے۔

اسلام[ترمیم]

جب رسول اللہ ﷺ نے دین حنیف کو زیادہ مکمل صورت میں دوبارہ دنیا کے سامنے پیش کیا اوردعوتِ توحید شروع کی،تواگرچہ اس وقت اس کے سچے شیدائی صفحۂ ہستی پر موجود نہ تھے؛ تاہم ان کے فرزند سعید کے لیے یہ آواز بالکل مانوس تھی ،انہوں نے جوش کے ساتھ لبیک کہا اوراپنی نیک بخت بیوی کے ساتھ حلقہ بگوشِ اسلام ہوئے۔ سعید کی بیوی فاطمہ عمر بن خطاب کی حقیقی بہن تھیں، لیکن وہ خود اس وقت تک اسلام کی حقیقت سے نا آشنا تھے، بہن اوربہنوئی کی تبدیلی مذہب کا حال سن کر نہایت برافروختہ ہوئے اوردونوں میاں بیوی کو اس قدر مارا کہ لہولہان ہو گئے،[7]

ہجرت[ترمیم]

سعید بن زید مہاجرین اولین کے ساتھ مدینہ پہنچے،اور رفاعہ بن عبدالمنذر انصاری کے مہمان ہوئے کچھ دنوں کے بعد رسول اللہ ﷺ نے ا ن میں اور رافع بن مالک انصاری میں بھائی چارہ کرادیا۔

غزوات[ترمیم]

میں قریش مکہ کا وہ مشہور قافلہ جس کی وجہ سے جنگ بدرپیش آئی ملک شام سے آ رہا تھا، رسول اللہ ﷺ نے ان کو اور طلحہ کو اس تجسس پر مامور فرمایا، یہ دونوں حدودِ شام میں تجبار پہنچ کر کشد جہنی کے مہمان ہوئے اورجب قافلہ وہاں سے آگے بڑھا تو نظر بچا کر تیزی کے ساتھ مدینہ کی طرف روانہ ہوئے کہ رسالت مآب ﷺ کو پوری کیفیت سے مطلع کریں،لیکن قافلہ نے کچھ سن گن پاکر ساحلی راستہ اختیار کیا اور کفارقریش کی ایک بڑی جمعیت مدد کے لیے آئی تھی اور میدان بدر کا مشہور معرکہ پیش آیا ۔ جس وقت سعید میدان بدر پہنچے اس وقت غازیانِ دین فاتحانہ سرورانبساط کے ساتھ میدانِ جنگ سے واپس آ رہے تھے،چونکہ یہ بھی ایک خدمت پرمامور تھے اس لیے رسول اللہ ﷺ نے ان کو بدر کے مالِ غنیمت میں حصہِ مرحمت فرمایا اورجہاد کے ثواب میں بھی شامل ہونے کی بشارت دی۔ تمام غزوات میں شریک رہے۔[8]

حدیث میں ذکر[ترمیم]

ان 10 صحابہ کرام م اجمعین کا ذکر عبدالرحمن بن عوف رضي اللہ تعالٰی عنہ کی روایت کردہ حدیث میں ہے کہ:

عبدالرحمن بن عوف رضي اللہ تعالٰی عنہ بیان کرتے ہيں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :

ابوبکر رضی اللہ تعالٰی عنہ جنتی ہیں، عمر رضی اللہ تعالٰی عنہ جنتی ہیں، عثمان رضي اللہ تعالٰی عنہ جنتی ہيں، علی رضي اللہ تعالٰی عنہ جنتی ہیں، طلحہ رضي اللہ تعالٰی عنہ جنتی ہیں، زبیر رضي اللہ تعالٰی عنہ جنتی ہیں، عبدالرحمن رضی اللہ تعالٰی عنہ جنتی ہیں، سعد رضي اللہ تعالٰی عنہ جنتی ہيں، سعید رضی اللہ تعالٰی عنہ جنتی ہیں، ابوعبیدہ رضي اللہ تعالٰی عنہ جنتی ہیں۔[9] چنانچہ ایک دفعہ ان سے اورآنحضرت ﷺ سے قبل بعثت وادی بلدح میں ملاقات ہوئی،آنحضرت ﷺ کے سامنے کھانا پیش کیا گیا تو آپ نے انکار فرمایا، پھر انہوں نے بھی انکار کیا اور کہا میں تمہارے بتوں کا چڑھایا ہوا ذبیحہ نہیں کھاتا۔(بخاری باب حدیث زید )

وفات[ترمیم]

فتح شام کے بعد سعید کی تمام زندگی نہایت سکون وخاموشی سے بسر ہوئی ،یہاں تک کہ 50ھ یا 51ھ میں ستربرس تک اس سرائے فانی میں رہ کر رحلت گزین عالم جاوداں ہوئے،چونکہ نواحِ مدینہ میں بمقام عقیق آپ کا مستقل مسکن تھا، اس لیے وہیں وفات پائی جمعہ کا دن تھا عبد اللہ بن عمرنماز جمعہ کی تیاری کر رہے تھے کہ وفات کی خبر سنی،اسی وقت عقیق کی طرف روانہ ہو گئے، سعدبن ابی وقاص نے غسل دیا، عبد اللہ بن عمرنے نماز جنازہ پڑھائی اورمدینہ لاکر سپرد خاک کیا۔

ذاتی حالات اوراخلاق وعادات[ترمیم]

حضرت سعید ؓ کا دل دنیاوی جاہ وحشمت سے مستغنی تھا، صرف مقام عقیق کی جاگیر پر گذراوقات تھی،آخر میں حضرت عثمان ؓ نے عراق میں بھی ایک جاگیر دی تھی۔ امیر معاویہ ؓ کے عہد میں اروی نامی ایک عورت نے جس کی زمین ان کی جاگیر سے ملی ہوئی تھی، مدینہ کے عامل مروان بن حکم کے دربار میں شکایت کی کہ انہوں نے اس کی کچھ زمین دبالی ہے،مروان نے تحقیقات کے لیے دو آدمی متعین کیے،حضرت سعید ؓ کو خبر ہوئی تو انہوں نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے کہ جواپنے مال کے آگے قتل ہو وہ شہید ہے، پھر مروان سے کہا :کیا تم خیال کرتے ہو کہ میں نے اس کے ساتھ ظلم کیا ہے؟ حالانکہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا ہے کہ اگر کوئی شخص کسی کی ایک بالشت زمین بھی ظلم و زبردستی سے لے گا تو ویسی ویسی ساتھ زمینیں قیامت میں اس کے گلے کا ہار ہوں گی، مروان نے قسم کھانے کو کہا تو یہ اپنی زمین سے باز آگئے اوراس عورت کے حق میں بددعا کے طورپر فرمایا اے خدا! اگر یہ جھوٹی ہے تو اندھی ہوکر مرے اوراس کے گھر کا کنواں خود اس کے لیے قبر بنے ،خدا کی قدرت بددعا کا تیر ٹھیک نشانہ پر لگا وہ عورت بہت جلد بصارت کی نعمت سے محروم ہو گئی اورایک روز گھر کے کنویں میں گرکرراہی عدم ہوئی،چنانچہ یہ واقعہ اہل مدینہ کے لیے ضرب المثل ہو گیا، اوروہ عموماً یہ بددعا دینے لگے۔اعماک اللہ کما اعمیٰ اروی حضرسعید ؓ کے سامنے بہت سے انقلابات برپا ہوئے بیسیوں خانہ جنگیاں پیش آئیں اور وہ اپنے زہدواتقاء کے باعث ان جھگڑوں سے ہمیشہ کنارہ کش رہے؛ تاہم جس کی نسبت جو رائے رکھتے تھے اس کو آزادی کے ساتھ ظاہر کرنے میں تامل نہیں کرتے تھے،حضرت عثمان ؓ شہید ہوئے تو وہ عموماً کوفہ کی مسجد میں فرمایا کرتے تھے تم لوگوں نے عثمان ؓ کے ساتھ جو سلوک کیا، اس سے اگر کوہِ احدمتزلزل ہوجائے تو کچھ عجب نہیں۔ [10] حضرت مغیرہ بن شعبہ ؓ امیر معاویہ ؓ کی طرف سے کوفہ کے گورنر تھے،ایک روزوہ جامع مسجد میں عوام کے ایک حلقہ میں بیٹھے تھے کہ حضرت سعید بن زید ؓ داخل ہوئے تو انہوں نے نہایت تعظیم وتکریم کے ساتھ ان کا استقبال کیا اوراپنے پاس بٹھایا،اسی اثناء میں ایک دوسرا آدمی اندر آیا اورحضرت علی ؓ کی شان میں نامناسب کلمات استعمال کرنے لگا، حضرت سعید ؓ سے ضبط نہ ہو سکا ،بولے مغیرہ !مغیرہ! لوگ تمہارے سامنے رسول اللہ ﷺ کے جان نثاروں کو گالیاں دیتے ہیں اور تم منع نہیں کرتے، اس کے بعد اصحابِ عشرہ ؓ سے آٹھ آدمیوں کا نام لے کر فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو جنت کی بشارت دی ہے اوراگر چاہو تو میں نویں آدمی کا نام بھی لے سکتا ہوں، لوگوں نے اصرار کیا تو فرمایا نواں میں ہوں ۔ [11] حضرت سعید ؓ کے حالات کتب میں بہت کم ہیں تاہم وہ بالاتفاق ان صحابہ کرام ؓ میں تھے جو آسمان اسلام کے مہروماہ ہیں،وہ لڑائیوں میں آنحضرت ﷺ کے آگے رہتے تھے اور نماز میں پیچھے۔ [12]

حلیہ[ترمیم]

حلیہ یہ تھا، قد لمبا، بال بڑے بڑے اورگھنے

اہل و عیال[ترمیم]

حضرت سعید ؓ نے مختلف اوقات میں متعدد شادیاں کی تھیں، بیویوں کے نام یہ ہیں فاطمہ،(ام الجمیل) جلیسہ بنت سوید،امامہ بنت الدجیج،حزمہ بنت قیس ،ام الاسود،ضمخ بنت الاصبغ بنت قربہ، ام خالد، بشیر بنت ابی مسعود انصاری۔ ان بیویوں نیز لونڈیوں کے بطن سے نہایت کثرت کے ساتھ اولاد ہوئی ،لیکن ان میں سے اکثر لاولد ہوئی،جن لڑکیوں اورلڑکوں کے نام معلوم ہو سکے، وہ علاحدہ علاحدہ درج ذیل ہیں۔

لڑکے[ترمیم]

عبدالرحمن اکبر، عبدالرحمن اصغر، عبد اللہ اکبر، عبد اللہ اصغر، عمراکبر، عمراصغر، محمد، اسود،زید،طلحہ،خالد،ابراہیم اکبر ،ابراہیم اصغر

لڑکیاں[ترمیم]

عاتکہ، ام موسیٰ،ام الحسن ،ام سلمی، ام حبیب کبری،ام حبیب صغریٰ، ام زید کبریٰ، ام زید صغریٰ، ام سعید، ام سلمہ، حفصہ،ام خالد،عائشہ،زینب ،ام عبدالحولا، ام صالح۔

حوالہ جات[ترمیم]

  1. Hadith - Chapters on Virtues - Jami` at-Tirmidhi - Sunnah.com - Sayings and Teachings of Prophet Muhammad (صلى الله عليه و سلم)
  2. "آرکائیو کاپی". 01 اپریل 2015 میں اصل سے آرکائیو شدہ. اخذ شدہ بتاریخ 05 مئی 2014. 
  3. (بخاری باب حدیث زید 12 منہ)
  4. (بخاری باب حدیث زید میں مفصل قصہ مذکور ہے)
  5. (ایضاً)
  6. (ایضاً)
  7. طبقات ابن سعد قسم اول جزو3:192
  8. طبقات ابن سعد تذکرہ سعید بن زید
  9. جامع ترمذی:جلد دوم:حدیث نمبر1713
  10. (بخاری باب بنیان الکعبہ باب اسلام سعید بن زید ؓ)
  11. (مسند :1/187)
  12. (اسد الغابہ ترجمہ سعید بن زید ؓ)