عمیر بن ابی وقاص

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search

عمیر بن ابی وقاصمہاجر صحابی غزوہ بدر کے شہداء میں شامل تھے نام ونسب عمیر نام،والد کا نام ابووقاص اور والدہ کا نام حمنہ بنت سفیان تھا، یہ سعد بن ابی وقاص فاتح ایران کے حقیقی بھائی تھے، پورا سلسلہ نسب یہ ہے: عمیر بن ابی وقاص بن وہیب ابن سفیان بن امیہ بن عبد شمس بن عبد مناف بن قصی القرشی۔[1]

اسلام[ترمیم]

عمیرکے برادرِاکبر سعد بن ابی وقاص ان روشن ضمیر بزرگوں میں تھے جنہوں نے ابتداہی میں اسلام قبول کیا تھا، اس زمانہ میں عمیر گونہایت کمسن تھے لیکن بھائی کا ساتھ دیا اسلام قبول کیا۔

ہجرت[ترمیم]

14 برس میں اسلام کے ساتھ ہجرت کرکے مدینہ پہنچے، آنحضرت ﷺ نے ان کی دل بستگی کے لیے سعد بن معاذ رئیسِ قبیلہ عبد الاشہل کے چھوٹے بھائی عمروبن معاذسے بھائی چارہ کرادیا،یہ دونوں تقریباً ہم سن تھے۔ 2ھ میں مجاہدین اسلام غزوۂ بدر کے خیال سے علم نبوی کے نیچے جمع ہوئے تو یہ بھی اس مجمع میں پہنچ گئے ان کے بھائی سعد بن ابی وقاص نے یہ دیکھ کرکہ وہ مضطر وبیقرار ادھر ادھر چھپتے پھرتے ہیں، پوچھا جان برادر یہ کیا ہے؟ بولے بھائی جان میں بھی اس جنگ میں شریک ہونا چاہتا ہوں ،شاید خدا شہادت نصیب کرے، لیکن خوف ہے کہ رسولِ خدا ﷺ مجھے چھوٹا سمجھ کر واپس فرمادیں گے۔ آنحضرت ﷺ کے سامنے جب تمام جانثار یکے بعد یگرے معائنہ کے لیے پیش ہوئے تو عمیرکا خوف درحقیقت نہایت صحیح ثابت ہوا،کیونکہ آپ نے ان کی صغیر سنی کا خیال کرکے فرمایا "تم واپس جاؤ" عمیر یہ سن کر بے اختیار رونے لگے، اس طفلانہ گریہ وبکا کے ساتھ ان کے وفورجوش اورشوقِ شہادت نے حضور انور ﷺ کے دل پر خاص اثر کیا اورجنگ میں شریک ہونے کی اجازت مل گئی اورآنحضرت ﷺ نے خود اپنے دستِ مبارک سے ان کے تلوار باندھی۔[2]

شہادت[ترمیم]

عمیرکی عمر اس وقت صرف 16 سال کی تھی، اچھی طرح اسلحہ باندھنابھی نہ جانتے تھے ،بھائی نے میان میں تلوار باندھ دی، اورجوش سے کفار میں گھس گئے لڑتے ہوئے عمروبن عبد ود کے ہاتھوں شہید ہوئے ۔[3]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. اسد الغابہ تذکرہ عمیر بن ابی وقاص
  2. مستدرک:3/188
  3. طبقات ابن سعد ،جلد 2 صفحہ258 ناشر : دار الاشاعت اردو بازار کراچی پاکستان