سالم مولی ابی حذیفہ

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
سالم مولی ابی حذیفہ
معلومات شخصیت
وفات 12ھ
یمامہ
زوجہ فاطمہ بنت الولید بن عتبہ
عسکری خدمات
لڑائیاں اور جنگیں تمام غزوات
جنگ یمامہ

سالم مولیٰ ابی حذیفہ مسجد قباء کے امام تھے، مہاجرین اولین اکثر ان کے پیچھے نمازیں پڑھتے تھے انہیں سالم بن معقل بھی کہا جاتا ہے۔ ان کا شمار فضلاء الموالی،اخیار الصحابہ اور کبار الاصحابہ میں کیا جاتا ہے۔[1]

نام،نسب[ترمیم]

سالم نام، ابوعبداللہ کنیت، والد کے نام میں اختلاف ہے، بعض عبید بن ربیعہ اوربعض مغفل لکھتے ہیں، یہ ایرانی الاصل ہیں، اصطخران کا آبائی مسکن تھا، ثبیہ بنت تعارانصاریہ کی غلامی میں مدینہ پہنچے، انہوں نے آزاد کر دیا، تو ابوحذیفہ بن عتبہ بن ربیعہ نے ان کو اپنا متبنیٰ کر لیا، اس لحاظ سے ان میں انصار ومہاجر کی دونوں حیثیتیں مجتمع ہیں۔[2] وہ عموما ًسالم بن حذیفہ کے نام سے مشہور تھے، ابوحذیفہ بھی ان کو اپنے لڑکے کی طرح سمجھتے تھے اوراپنی بھتیجی فاطمہ بنت ولید سے بیاہ دیا تھا،لیکن جب قرآن میں یہ آیت نازل ہوئی " ادعوھم لابائھم" یعنی لوگوں کو اپنے نسبی آباء کے انتساب سے پکارا کرو تو سالم بھی ابن کی بجائے مولی ابی حذیفہ کے لقب سے مشہور ہوئے۔[3]

اسلام وہجرت[ترمیم]

سالم مکہ میں ابوحذیفہ کے ساتھ مسکن گزین تھے، دعوت اسلام کا غلغلہ بلند ہوا تو انہوں نے ابتداہی میں لبیک کہا، آنحضرت ﷺ نے ابو عبید ہ بن الجراح سے مواخات کرادی۔[4] ہجرت کے موقع میں ابو حذیفہ کے ہمراہ تھے، مدینہ پہنچ کر عباد بن بشرکے مہمان ہوئے اور معاذ بن ماعض انصاری سے مواخات ہوئی۔(ابوداؤد کتاب انکاح باب فی من حرم)

غزوات[ترمیم]

غزوۂ بدر، احد، خندق اور عہدِ نبوی ﷺ کی تمام جنگوں میں معرکہ آرا تھے، عہد صدیقی میں یمامہ کہ مہم پر بھیجے گئے، مہاجرین کا علم ان کے ہاتھ میں تھا، ایک شخص نے اس پر نکتہ چینی کی اور کہا "ہم کو تمہاری طرف سے اندیشہ ہے، اس لیے ہم کسی دوسرے کو علمبردار بنائیں گے، بولے، اگر میں بزدلی دکھاؤں تو میں سب سے زیادہ بدبخت حاملِ قرآن ہوں، یہ کہہ کر نہایت جوش کے ساتھ حملہ آور ہوئے اوردرحقیقت انہوں نے اپنے کو بہترین حاملِ قرآن ثابت کیا، اثنائے جنگ میں داہنا ہاتھ قلم ہوا تو بائیں ہاتھ نے قائم مقامی کی، وہ بھی شہید ہوا تو دونوں بازوؤں نے حلقہ میں لے کر لوائے توحید کو سینہ سے چمٹا دیا، زبان پر یہ فقرہ جاری تھا "وَمَا مُحَمَّدٌ إِلَّا رَسُولٌ ،":[2]

شہادت[ترمیم]

ابن سعد کی روایت ہے کہ جنگ یمامہ 12ھ کے موقع پر جب مسلمانوں کے پاؤں پیچھے پڑنے لگے تو سالم نے کہا افسوس! رسول اللہ ﷺ کے ساتھ تو ہمارا یہ حال نہ تھا، وہ اپنے لیے ایک گڑھا کھود کر اس میں کھڑے ہو گئے اور علم سنبھالے ہوئے آخر لمحہ حیات تک جانبازانہ شجاعت کے جوہر دکھاتے رہے، اختتام جنگ کے بعد دیکھا گیا تو اس شہید ملت کا سراپنے منہ بولے باپ ابوحذیفہ کے پاؤں پر تھا۔[5] روایت ہے عبد اللہ ابن عمر سے فرماتے ہیں کہ جب پہلے مہاجر مدینہ میں آئے تو ان کی امامت ابو حذیفہ کے غلام سالم کرتے تھے حالانکہ ان میں عمر اور ابو سلمہ بن عبد الاسد ہوتے (بخاری) حضورصلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ قرآن چار شخصوں سے سیکھو، ابن مسعود،ابی ابن کعب،معاذ ابن جبل، سالم مولیٰ ابی حذیفہ(جامع صغیر سیوطی)

حوالہ جات[ترمیم]

  1. اصحاب بدر،صفحہ 90،قاضی محمد سلیمان منصور پوری، مکتبہ اسلامیہ اردو بازار لاہور
  2. ^ 2.0 2.1 اسد الغابہ: 2/245
  3. ابوداؤ کتاب النکاح اب فی سن حرم
  4. طبقات ابن سعد قسم اول جزء ثالث :61
  5. طبقات ابن سعد قسم اول جز 2 :61