صہیب الرومی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں

صہیب الرومی جنہیں صہیب بن سنان بھی کہا جاتا ہے صحابی ہیں۔

نام،نسب[ترمیم]

ان کا نام عبد الملک اورصہیب ، ابویحیی کنیت،والد کا نام سنان اور والدہ کانام سلمی بنت قعید تھا،پورا سلسلۂ نسب یہ ہے۔ صہیب بن سنان بن مالک بن عبدعمرو بن عقیل بن عامر بن جندلہ بن جذیمہ بن کعب بن سعد بن اسلم بن اوس مناۃ بن النمری بن قاسط بن ہنب بن افصی بن دعمی بن جدیلہ بن اسد بن ربیعہ بن نزار الربعی النمری۔ [1]

ابتدائی حالات[ترمیم]

صہیب کا اصلی وطن ایک قریہ تھا جو باختلافِ روایات موصل کے قریب ،لب دجلہ یا الجزیرہ میں واقع تھا،ان کے والد اورچچا کسریٰ کی طرف سے اُبلہ کے عامل تھے، انہوں نے ابھی دنیا کی صرف چند بہاریں دیکھی تھیں کہ رومی فوجوں نے اُبلہ پر چڑھائی کی، اور دوسرے مال واسباب کے ساتھ اس نونہال کو بھی ساتھ لے گئے، سنان کے چمن زار پر اس گلِ سرسبد کے فقدان سے خزاں آگئی، ان کی بہن امیمہ اورچچا لبید نے ان کی تلاش و جستجو میں دنیا کی خاک چھان ڈالی، تمام مجامع، میلوں اور موسمی بازاروں کا جائزہ لیا؛ لیکن اس یوسفِ گم گشتہ کا کہیں سراغ نہ لگا۔[2] وہ رومیوں ہی میں پرورش پاکر جوان ہوئے،بنی کلب نے ان کو خرید کر مکہ پہنچایا اوران سے عبداللہ بن الجدعان نے لے کر آزاد کر دیا، لیکن ایک دوسری روایت ہے کہ وہ خودبھاگ کرآئے تھے اور عبداللہ سے صرف حلیفانہ تعلق تھا، غرض وہ مکہ میں اس کی زندگی تک اس کے ساتھ رہے ۔ مکہ معظمہ لاکر انہوں نے ہی آپ کو آزاد کیا،آپ اور عمار ابن یاسر ایک ہی دن ایمان لائے جب کہ حضور انور دار ارقم میں پناہ گزین تھے۔آپ نے کفار مکہ کے ہاتھوں اسلام لاکر بہت مصیبتیں اٹھائیں،آپ کے متعلق یہ آیت کریمہ نازل ہوئی"وَ مِنَ النَّاسِ مَنۡ یَّشْرِیۡ نَفْسَہُ"الخ۔نوے سال عمر ہوئی، آپ کے فضائل بے شمار ہیں بدر وغیرہ تمام غزوات میں شریک رہے۔[3]

اسلام[ترمیم]

مکہ میں اسلام کا غلغلہ بلند ہوا تو تفتیش و تحقیق کے خیال سے آستانہ نبوت پر حاضر ہوئے،اتفاق سے عمار بن یاسر بھی اسی خیال سے آرہے تھے، انہوں نے ان کو دیکھ کر پوچھا، تم کس ارادہ سے آئے ہو ؟ بولے پہلے تم اپنا مقصد ظاہر کرو، انہوں نے کہا میں محمد ﷺ سے مل کر ان کی گفتگو سننا چاہتا ہوں، بولے میرا بھی یہی مقصد ہے، غرض دونوں ایک ساتھ حاضرِ خدمت ہوکر مشرف باسلام ہوئے۔[4] صہیب پہلے رومی تھے جنہوں نے صدائے توحید کو لبیک کہا، رسول اللہ ﷺ فرمایا کرتے تھے کہ صہیب روم کا پہلا پھل ہے،آپ اس وقت ارقم بن ابی ارقم کے مکان میں پناہ گزین تھے اور تیس سے زیادہ صحابہ کرام اس دائرہ میں داخل ہوچکے تھے،جن میں سے اکثروں نے مشرکین کے خوف سے اس کو ظاہر نہیں کیا تھا۔

مؤخات[ترمیم]

صہیب مدینہ میں سعد بن خثیمہ کے مہمان ہوئے اور حارث بن الصمہ انصاری سے مواخات ہوئی۔[5]

غزوات[ترمیم]

تیراندازی میں کمال رکھتے تھے،غزوۂ بدر، اُحد، خندق اور تمام دوسرے معرکوں میں رسول اللہ ﷺ کے ہمرکاب رہے، عالمِ پیری میں وہ لوگوں کو جمع کرکے نہایت لطف کے ساتھ اپنے جنگی کارناموں کی دلچسپ داستان سنایا کرتے تھے۔

وفات[ترمیم]

38ھ میں پیمانہ حیات لبریز ہو گیا، 72 برس کی عمر میں وفات پائی اوربقیع کے گورِ غریباں میں مدفون ہوئے۔[6][7]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. اسدالغابہ :3/30
  2. اصابہ جلد 3 تذکرہ صہیب بن سنان
  3. مرآۃ المناجیح شرح مشکوۃ المصابیح مفتی احمد یار خان نعیمی جلد4صفحہ535نعیمی کتب خانہ گجرات
  4. اسد الغابہ جلد 4 تذکرہ عمار بن یاسر
  5. طبقات ابن سعد قسم اول جزء ثالث: 161
  6. اسد الغابہ :3/33
  7. اصحاب بدر،صفحہ 96،قاضی محمد سلیمان منصور پوری، مکتبہ اسلامیہ اردو بازار لاہور