عقیل ابن ابی طالب

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
عقیل ابن ابی طالب
تخطيط اسم عقيل بن أبي طالب.png
 

معلومات شخصیت
پیدائش سنہ 590  ویکی ڈیٹا پر (P569) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
مکہ  ویکی ڈیٹا پر (P19) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
وفات سنہ 670 (79–80 سال)  ویکی ڈیٹا پر (P570) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
مدینہ منورہ  ویکی ڈیٹا پر (P20) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
مدفن جنت البقیع  ویکی ڈیٹا پر (P119) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
مذہب اسلام
عارضہ اندھا پن  ویکی ڈیٹا پر (P1050) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
والد ابو طالب  ویکی ڈیٹا پر (P22) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
والدہ فاطمہ بنت اسد  ویکی ڈیٹا پر (P25) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
بہن/بھائی
عملی زندگی
پیشہ محدث  ویکی ڈیٹا پر (P106) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
عقیل بن ابو طالب کی قبر کی جگہ کا نقشہ

عقیل بن ابی طالب (عربی: عقيل بن أبي طالب) 590 میں پیدا ہوئے۔ حضرت عقیل ابن ابی طالب حضرت حضرت علی کرم اللہ وجہہ کے بھائی اور حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے چچا زاد بھائی تھے۔ عقیل ابو طالب کے چار بیٹوں میں سے دوسرے بیٹے ہیں۔ عقیل کی کنیہ ابو یزید۔ ہے۔ آغاز اسلام کی نمایاں شخصیات میں شمار ہوتے ہیں۔ سنہ پیدائش 590ء ملتا ہے۔ غزوہ موتہ میں شرکت فرمائی جس کے بعد نابینا ہو گئے۔ 96 سال کی عمر پائی۔ آپ کے کئی بیٹے تھے جن میں سے حضرت مسلم ابن عقیل سفیرِ حسین کے نام سے مشہور ہوئے اور کربلا کے واقعہ سے کچھ عرصہ قبل انہیں یزید کے گورنر عبید اللہ ابن زیاد نے شہید کر دیا۔ آپ نے 96 سال کی عمر میں شہادت پائی۔

نام ونسب[ترمیم]

عقیل نام ،ابویزید کنیت،سلسلہ نسب یہ ہے، عقیل بن ابی طالب بن عبدالمطلب بن ہاشم بن عبدمناف القرشی الہاشمی، ماں کا نام فاطمہ تھا، آپ حضرت علیؓ کے سوتیلے بھائی اورعمر میں ان سے بیس سال بڑے تھے۔[1]

بدر میں گرفتاری[ترمیم]

عقیل کا دل ابتدا سے اسلام کی طرف مائل تھا؟ ؛لیکن مشرکین مکہ کے خوف سے علی الاعلان اسلام نہیں قبول کرسکتے تھے؛چنانچہ بدر میں بادل ناخواستہ مشرکین کے ساتھ شریک ہوئے اور جب ان کو شکست ہوئی تو دوسرے مشرکین کے ساتھ یہ بھی گرفتار ہوئے، آنحضرتﷺ نے حضرت علیؓ کو بھیجا کہ دیکھو میرے گھرانے والوں میں کون کون لوگ گرفتار ہوئے،آپ نے تحقیقات کرکے عرض کیا کہ نوفل،عباس اور عقیل گرفتار ہوئے ہیں یہ سن کر آنحضرتﷺ خود بہ نفس نفیس تشریف لائے اور عقیل کے پاس کھڑے ہوکر فرمایا کہ ابو جہل قتل ہوگیا، عقیل بولے اب تہامہ میں مسلمانوں کا کوئی مزاحم باقی نہیں رہا، عقیل کے ہاتھ مال ودولت سے خالی تھے، اس لیے حضرت عباسؓ نے اپنی جیب سے ان کا فدیہ دے کر ان کو آزاد کرایا۔[2]

اسلام وہجرت اورغزوات[ترمیم]

آزاد ہونے کے بعد مکہ واپس گئے اور8ھ میں باقاعدہ اسلام لاکر ہجرت کا شرف حاصل کیا اورغزوۂ موتہ میں شریک ہوکر پھر مکہ واپس گئے،وہاں جاکر بیمار پڑگئے،اس لیے فتح مکہ،طائف اورحنین میں شرکت سے معذور رہے، [3] ؛لیکن بعض روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ حنین میں شریک ہوئے؛بلکہ جب مسلمانوں کو ابتدا میں شکست ہوئی اور مہاجرین وانصار کے پاؤں اکھڑ گئے تو اس وقت بھی یہ ثابت قدم رہے۔[4]

عہد مرتضوی[ترمیم]

خلفائے ثلثہ کے زمانہ میں کہیں پتہ نہیں چلتا،حنین کے بعد امیر معاویہؓ اورجناب امیرؓ کے اختلافات کے زمانہ میں نظر آتے ہیں،یہ گو حضرت علیؓ کے بھائی تھے ؛لیکن اپنی ضروریات کی بنا پر حضرت امیر معاویہؓ سے تعلقات رکھتے تھے اور مدینہ چھوڑ کر شام چلے گئے تھے، اس کا سبب یہ تھا کہ عقیل مفلس ،مقروض اور روپیہ کے حاجت مند تھے اور جناب امیرؓ کے یہاں یہ شے عنقا تھی اور امیر معاویہؓ کا خزانہ ہر شخص کے لیے کھلا ہوا تھا، اس لیے افلاس و ناداری نے امیر معاویہؓ کا ساتھ دینے پر مجبور کردیا تھا، امیر معاویہؓ کے پاس جانے سے پہلے ایک مرتبہ قرض کی ادائیگی کی فکر میں حضرت علیؓ کے پاس بھی گئے تھے، انہوں نے بڑی پذیرائی کی،حسنؓ کو حکم دیا، انہوں نے لاکر کپڑے بدلائے،شام کو دستر خوان بچھاتوصرف روٹی، نمک اورترکاری آئی، عقیلؓ نے کہا بس یہی سامان ہے ،حضرت علیؓ نے فرمایاہاں، عقیل نے مطلب بیان کیا کہ میرا قرض ادا کردو، حضرت علی ؓ نے پوچھا کس قدر ہے،کہا40 ہزار آپ نے جواب دیا، میرے پاس اتنا روپیہ کہاں، تھوڑا صبر کیجئے جب چار ہزار میرا وظیفہ ملے گا تو آپ کو دیدوں گا، عقیل نے کہا تم کو کیا دشواری ہے بیت المال تمہارے ہاتھ میں ہے، مجھ کو وظیفہ کے انتظار میں کب تک رکھو گے، حضرت علیؓ نے فرمایا میں مسلمانوں کا امین ہوں، آپ چاہتے ہیں کہ خیانت کرکے ان کا مال آپ کے حوالہ کردوں یہ جواب سن کر عقیل چلے گئے اور امیر معاویہؓ کے پاس پہنچے،امیر معاویہؓ نے پوچھا تم نے علیؓ اوران کے ساتھیوں کو کیسا پایا، جواب دیا، وہ لوگ رسول کے صحیح صحابی ہیں،بس صرف اس قدر کمی ہے کہ آنحضرتﷺ ان میں نہیں ہیں اور تم اور تمہارے ساتھی ٹھیک ابو سفیان کے حواریوں کی طرح ہو، مگر اس موازنہ کے بعد بھی دوسرے دن امیر معاویہؓ نے دربار میں انہیں بلوا کر پچاس ہزار درہم دلوائے۔[5]

عقیل کے شام جانے کے بعد امیر معاویہؓ لوگوں کے سامنے ان کو مثال میں پیش کرکے ان کو اپنی حمایت پر آمادہ کرتے تھے اور کہتے تھے کہ اگر میں حق پر نہ ہوتا تو علیؓ کے بھائی ان کو چھوڑ کر میرا ساتھ کیوں دیتے،ایک مرتبہ لوگوں کے سامنے یہی دلیل پیش کر رہے تھے، عقیل بھی موجود تھے، انہوں نے جواب دیا کہ میرا بھائی دین کے لیے بہتر ہے اور تم دنیا کے لیے، یہ دوسری بات ہے کہ میں نے دنیا کو دین پر ترجیح دی ،رہا آخرت کا معاملہ تو اس کے لیے اللہ سے حسن خاتمہ کی دعا کرتا ہوں۔[6]

وفات[ترمیم]

امیر معاویہؓ کے اخیر عہد یایزید کے ابتدائی زمانہ میں وفات پائی۔بڑھاپے میں وہ اندھا ہوگیا۔ آپ کی عمر 96 برس کی عمر میں حضرت معاویہ اول رضی اللہ عنہ کے خلافت میں ہوئی۔[7]

اہل وعیال[ترمیم]

عقیلؓ نے مختلف اوقات میں متعدد شادیاں کیں، ان بیویوں اوراولادوں کے نام یہ ہیں۔ بیوی اولاد ام سعید خلیلہ ام بنین ام ولد اسماء بنت سفیان یرید سعید علی،محمد،رملہ جعفر،اکبر،ابوسعید،احول مسلم،عبداللہ،عبدالرحمن،عبداللہ،الاصغر ان کے علاوہ جعفر ،اصغر،حمزہ،عثمان،ام ہانی، اسماء،فاطمہ،ام قاسم، زینب اور ام نعمان وغیرہ، مختلف لونڈیوں کے بطن سے تھیں۔

ذریعہ ٔمعاش[ترمیم]

آنحضرتﷺ نے خیبر کی پیداوار سے ڈیڑھ سووسق سالانہ مقرر فرمایا تھا۔

استعدادعلمی[ترمیم]

ہجرت کے بعد پھر مکہ لوٹ گئے تھے اور عرصہ تک وہاں مقیم رہے ،اس لیے صحبت نبویﷺ سے فیضیاب ہونے کا بہت کم موقع ملا، اسی لیے رسول کے عزیز ہونے کی حیثیت سے علم میں ان کا جو پایہ ہونا چاہیے تھا، وہ نہ پیدا ہوسکا، تاہم حدیث کی کتابوں میں ان کی دوچار روایتیں موجود ہیں، محمد، حسن بصری اورعطا آپ کے زمرۂ رواۃ میں ہیں۔[8] مذہبی علوم کے علاوہ علوم جاہلی میں ممتاز حیثیت رکھتے تھے،چنانچہ علم الانساب کے جو عربوں کا خاص علم تھا، بڑے ماہر تھے، ایام عرب کی داستانیں بھی ان کو ازبر تھیں اوران علوم میں لوگ ان سے استفادہ کرتے تھے، چنانچہ مسجد نبویﷺ میں نماز کے بعد یہ بیٹھتے تھے اور لوگ ان سے مستفید ہوتے تھے۔[9]

آنحضرتﷺ کی محبت[ترمیم]

آنحضرتﷺ ان سے بہت محبت کرتے تھے،فرمایا کرتے تھے کہ ابوزید مجھ کو تمہارے ساتھ دوہری محبت ہے ایک قرابت کے سبب سے دوسری اس وجہ سے کہ میرے چچا تم کو محبوب رکھتے تھے۔[10]

پابندی سنت[ترمیم]

عقیل شادی و مسرت کے موقعوں پر بھی جبکہ لوگ عموماً کچھ نہ کچھ بے اعتدالی کرجاتے ہیں، مسنون طریقوں کا لحاظ رکھتے تھے،ایک مرتبہ نئی شادی کی،صبح کو احباب مبارک باد دینے آئے اور عرب کے قدیم دستور کے مطابق ان الفاظ میں تہنیت پیش کی کہ "بالرفاء والبنین" اگرچہ ان الفاظ میں کوئی خاص قباحت نہیں تھی؛لیکن چونکہ مسنون طریقہ تہنیت موجود تھا، اس لیے کہا کہ یہ نہ کہو ؛بلکہ "بارک اللہ لکم وبارک اللہ علیکم " کہو کہ ہم کو اسی کا حکم ملا ہے۔[11]

حضرت عقیل بن ابو طالب کی میراث[ترمیم]

حضرت عقیل کے نزول بہت سارے ہیں اور یہ یمن ، عمان اور صومالیہ کے کچھ حصوں میں پھیلے ہوئے ہیں۔ حضرت امام سعد بن عقیل بن ابی طالب رضی اللہ عنہ جو آپ کی اولاد ہیں ، کا مزار عراق کے علاقے تال عفر میں واقع ہے۔

اولادیں[ترمیم]

عقیل کے چھ بیٹے اور ایک بیٹی تھیں:

  • مسلم بن عقیل
  • جعفر بن عقیل
  • موسٰی بن عقیل
  • عبد الرحمٰن بن عقیل
  • عبد اللہ بن عقیل
  • سعید بن عقیل
  • رملہ بنت عقیل

حوالہ جات[ترمیم]

  1. (اسد الغابہ:3/432)
  2. (ابن سعد،جزء4،ق1:29)
  3. (اسد الغابہ:3/422)
  4. (اصابہ:4/255)
  5. (اسد الغابہ:3/423)
  6. (اسد الغابہ:3/423)
  7. (اصابہ:4/655)
  8. (مستدرک حاکم:3/576)
  9. (مسند احمد بن حنبل:1/201)
  10. (تہذیب الکمال:270)
  11. (استعیاب :2/523)