رتن ہندی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search

رتن ہندی کچھ روایات کے مطابق بھٹنڈہ (موجودہ بھارتی پنجاب) سے تعلق رکھنے والے ایک شخص تھے۔ ان کے متعلق کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ وہ ابتدائی میں ہندو مذہب سے تعلق رکھتے تھے، بطور تاجر مختلف علاقوں میں جا کر تجارت کرتے تھے۔ ایک مرتبہ کچھ لوگوں نے پوچھا کہ ہمیں اپنے قبول اسلام کا واقعہ سنائیے۔ بابا رتن ہندی نے کہا کہ ایک مرتبہ ہمیں تجارت کے غرض سے شام سے جاکر مکہ مکرمہ سے گذر رہے تھے۔ مکہ میں چھوٹی چھوٹی ندیاں بہہ رہی تھی۔ ایک بڑی ندی تھی۔ بہت سے لوگ بکریاں چرا رہے تھے۔ میں نے دیکھا کہ ایک پیارا اور معصوم سا بچہ ندی کے دوسری طرف کھڑا تھا۔ اس بچے کی بکریاں چھلانگ لگا کر ندی کو پار کر گئے پر معصوم بچہ ندی پار نہیں کر سکتا تھا۔ رتن ہندی نے اس بچے کو اپنے کندھوں پر بیٹھایا اور ندی پار کرائی۔ اس وقت اس بچے نے ساتھ مرتبہ یہ کلمات کہے کہ اللہ تمہاری عمر دراز کرے۔

رتن ہندی فرماتے ہیں کہ اس کے بعد ہم واپس ہندوستان آئے۔ پھر کہیں سالوں کے بعد ایک رات ہم بٹھنڈہ میں آگ کے گرد بیٹھے تھے کہ اچھانک چاند دو ٹکڑے ہو گیا، ہم بڑے حیران ہوئے کہ یہ کیا ماجرہ ہے۔ پھر کچھ عرب تاجر ہندوستان آئے ہم نے ان سے پوچھا کہ کچھ ایسا واقعہ ہوا تھا۔ تو عرب تاجروں نے کہا کہ ایسا ہی ہے مکہ میں ایک نوجوان ہے جس کا نام محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ہے، وہ کہتا ہے کہ میں خدا کا نبی ہوں۔

رتن کہتے ہیں کہ ہم نے سوچا کہ چلے اس نوجوان کو بھی دیکھ لیتے ہیں، جب ہم مکہ گئے تو کہا گیا کہ وہ تو مدینہ چلے گئے ہیں۔ مدینہ گئے تو کہا گیا کہ وہ اپنے صحابہ کے ساتھ مسجد نبویؐ میں ہیں۔ ہم اس کے بعد مسجد نبوی گئے وہاں رسول اللہ ﷺ سے ملاقات کی اور فرمایا کہ ہمیں کچھ معجزہ دکھائیے، رسول اللہﷺ نے جواب دیا کہ اے رتن ہندی کیا وہ معجزہ کافی نہیں تھا جب آپ نے مجھے اپنے کندھوں پر بٹھایا اور ندی پار کرائی اور پھر میں نے آپ کو عمر درازی کی دعا دی۔ یہ سن کر رتن ہندی رسول اللہ ﷺ کے پاؤں میں گر گئے اور اسلام قبول کر لیا۔

کہا جاتا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے بچپن میں رتن ہندی کو سات مرتبہ یہ دعا دی تھی کہ تمہاری عمر دراز ہو، اس کا نتیجہ تھا کہ رتن ہندی 700 سال تک زندہ رہے۔ رسول اللہ ﷺ نے جس وقت یہ دعا دی تھی اس وقت رتن ہندی جوان تھے۔[1][2][3]

تاریخ دانوں نے ہندوستان میں اسلام کی آمد حجاج بن یوسف کے نوعمر کمانڈر محمد بن قاسم کی جانب منسوب کی ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ ایک ایسی ذہنیت کانتیجہ ہے جو اسلام کو تلوار کے زور پر پھلتا پھولتا مانتی ہے اور یہ بھی کہا گیا کہ محمد بن قاسم نے ہندوستان پر حملہ کیا تھا جس کے نتیجے میں ہندوستان میں اسلام آیا۔ لیکن میرا ماننا ہے کہ مورخین یہ بھول گئے یا نظرانداز کر گئے کہ ہندوستان میں مذہب ا سلام کو اپنانے والا ایک شخص جسے تاریخ کے اور اق میں حاجی رتن ہندی کے نام سے جاناجاتا ہے۔ وہ ہندوستان سے تب عرب گئے تھے جب آخری نبی حضرت محمد مصطفے ٰ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے کفار مکہ کے انکار نبوت پر شق القمر ( چاند کے 2ٹکڑے ہو جانا ) معجزہ ظاہر ہواتھا۔ راجا کنور سین کے حکم پر حضرت حاجی رتن سین وہاں پہنچے تھے وہاں اس واقعہ کی تصدیق کے بعد مشرف بہ اسلام ہوئے اور پھر ہندوستان کے لیے عازم سفر ہوئے اور اسلام کی تبلیغ واشاعت کا کام پنجاب واس کے گردونواح میں کیا۔ جی ہاں یہی وہ حاجی رتن سین ہیں جنہیں بٹھنڈہ کا رتن کہا جاتا ہے۔ تبھی تو آج ان کی درگاہ مختلف قوموں اور مختلف مذاہب کے لوگوں کے لیے ایک عقیدت کا مقام ہے۔ حجاز سے واپسی کے بعد رتن سین ہندی کی دنیا ہی بدل چکی تھی تبھی تو آپ نے راجا کنور سین کی وزارت چھوڑی اور زندگی کے بچے ہوئے بقیہ ایام کو خدا کی عبادت و بندگی میں ہی صرف کرنا بہتر سمجھا اور روحانیت کے اعلیٰ مقام پر فائز ہوئے۔ حضرت پیرحاجی رتن جو ہندوستان میں بابا رتن اور ہندوستانی صحابی کے نام سے جانے جاتے ہیں۔ ہندوستانی عالم دین علامہ مناظر احسن گیلانی نے بابا رتن کی صحابیت کے انکار کرنے والوں کی دبے انداز میں طرف داری کی ہے جبکہ مولانا عبد الصمد صارم نے تائید و توثیق کرنے والوں کا کھل کر ساتھ دیا ہے۔ آپ کی جائے پیدائش کولیکر بھی اختلاف ہے۔ مولانا گیلانی نے بٹھنڈہ لیکن مولانا صارم نے بجنور کہا ہے آپ ہندوؤں کی ایک قوم کے چوہان تھے اس خاندان کا ایک گوت تیسرا تھا۔ آپ اسی خاندان سے ہیں ( رسالہ جہان کتب) کہا جاتا ہے کہ آپ ہندوستانی باشندے تھے۔ ایک دن موسم گرما کی رات میں چھت پر بیٹھے تھے کہ اچانک آپ نے دیکھا کہ چاند کے دوٹکڑے ہو گئے۔ چاند کا ایک حصہ مشرق میں اور ایک مغرب میں منقسم ہو گیا۔ اندھیرا چھاگیا، پھر تھوڑی دیر بعد دونوں حصے اس طرح مل گئے جیسے اس میں شگاف ہی نہ ہوا ہو۔ آپ حیران ہوئے، آپ نے تحقیق کروائی تو پتہ چلا کہ حجاز میں آخری نبی پیغمبر رحمت حضرت محمد عربی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مکتہ المکر مہ کے کافروں کے انکار نبوت پر اس معجز ے کا اظہار فرمایا ہے بعد ازاں آپ نے حجاز کے لیے سفر کرنے کا ارادہ کیا اور بطور تحفہ کچھ املی اپنے ساتھ لے گئے۔ پیغمبر رحمت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے ملاقات کی اور آپ کے ہاتھوں مشرف بہ اسلام ہوئے (ملخص حضرت رتن سنگھ ) حضرت حاجی رتن نے اپنے اسلام قبول کرنے کے بارے میں آپ سے ملاقات کرنے والے داد بن سعد قفال سنجر ی جوایک نیک طینت اور صالح انسان تھے ان سے بیان کیا تھا کہ میں شروع میں بُت پرست تھا۔ ایک رات میں نے خواب میں دیکھا کہ میں ملک شام ( سیریا ) میں ہوں، لہذا میں نئے مذہب کی تلاش میں سیریا گیا۔ وہاں عیسائیت کا بول بالا تھا۔ میں نے عیسائیت کو اپنا لیا۔ کچھ عرصہ بعد میں نے آخری نبی حضرت محمد مصطفٰی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے بارے میں سنا اور مدینہ منورہ جاکر مشرف بہ اسلام ہوا۔ ملاقات کے بعد نبی رحمت نے میرے حق میں کئی بار لمبی عمر کی دعا کی میں آپ کے ساتھ یوم خندق ( جنگ ) میں شریک تھا۔ پھر آپ سے اجازت لے کر اپنے وطن ہندوستان آگیا۔(بحوالہ ایک ہندوستانی صحابی)۔ آپ نے لمبی عمر کی جودعا حاجی رتن ہندی کے حق میں کی تھی اس دعا کی برکت سے آپ نے تقریب اً800 سال یا ایک دوسرے قول کے م طابق 632 سال کی لمبی عمر پائی۔( بحوالہ مراۃ الاسرار صفحہ 656) حضرت حاجی رتن سین ہندی کا مقبرہ گوردوارہ حاجی رتن کے قریب بنا ہوا ہے۔ ڈاکٹر جیت سنگھ جوشی لکھتے ہیں کہ بٹھنڈہ کے مرحوم د انشور پروفیسر کرم سنگھ نے حاجی رتن کی زیارت گاہ کو بھارتیہ اسلام کا چوتھا تخت قرار دیتے ہوئے خلاصہ کیا ہے کہ حاجی رتن ہندی کے مقبرے کو بھارتیہ اسلام کے اندر وہی اہمیت اور شردھا حاصل ہے جو اجمیر میں خواجہ معین الدین چشتیؒ کی درگاہ کو سرہند میں حضرت مجدد الف ثانی سرہندی ؒ کے مقام کو اور دہلی میں نظام الدین اولیا ء کی جگہ کو حاصل ہے۔ یہ بھی کہا جاتا ہے جس طرح جالندھر میں صوفی پیر حضرت امام نام الدین چشتی ؒ کی درگاہ کافی پرانی ہے اسی طرح حاجی رتن کی درگاہ کا اتہاس بھی کافی پرانا ہے۔ ایک قول کے مطابق 11 ہجری میں آپ کی وفات ہو گئی۔ بٹھنڈہ میں آپ کا مزار مرجع خلائق ہے۔[4]

مزید دیکھیے[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]