ضماد بن ثعلبہ

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search

ضماد بن ثعلبہ ازدی قبیلہ ازدشنوءہ سے ہیں،اسلام سے پہلے نبی اکرم دوست تھے طبیب بھی تھے ابتدا میں ہی مسلمان ہو گئے تھے۔

  • ضماد بن ثعلبہ جو زمانہ جاہلیت میں طبابت اور جراحی کا پیشہ کرتے تھے یہ رسول اکرم احباب خاص میں سے تھے۔ حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے اعلانِ نبوت کے بعد یہ اپنے گاؤں سے مکہ آئے تو کفار قریش کی زبانی یہ پروپیگنڈا سنا کہ محمد( صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم ) مجنون ہو گئے ہیں۔ پھر یہ دیکھا کہ حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم راستہ میں تشریف لے جا رہے ہیں اور آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے پیچھے لڑکوں کا ایک غول ہے جو شور مچا رہا ہے۔ یہ دیکھ کرضماد بن ثعلبہ کو کچھ شبہ پیدا ہوا اور پرانی دوستی کی بنا پر ان کو انتہائی رنج و قلق ہوا۔ چنانچہ یہ حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے پاس آئے اور کہنے لگے کہ اے محمد!(صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم )میں طبیب ہوں اور جنون کا علاج کر سکتا ہوں۔ یہ سن کر حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے خداعزوجل کی حمدو ثنا کے بعد چند جملے ارشاد فرمائے جن کا ضماد بن ثعلبہ کے قلب پر اتنا گہرا اثر پڑا کہ وہ فوراً ہی مشرف بہ اسلام ہو گئے۔[1]
  • جب حضور انور نے آپ کو قرآن سنایا تو آپ نے فرمایا کہ یہ کلمات سمندر کی تہ تک پہنچے ہوئے ہیں، عبد اللہ ابن عباس وغیرہ نے آپ سے روایات لیں ہیں۔[2]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. مشکوٰۃ باب علامات النبوۃ ص 225
  2. مرآۃ المناجیح شرح مشکوۃ المصابیح جلد ہشتم