غالب بن عبد اللہ

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
غالب بن عبد اللہ
معلومات شخصیت

غالب بن عبد اللہ کنانی لیثی انہیں شرف صحابیت حاصل ہے۔
ان کا پورا نام غالب بن عبد اللہ بن مسعربن جعفربن کلب بن عوف بن کعب بن عامربن لیث بن بکیربن عبدمناہ بن کنانہ ۔کنانی لیثی۔ابن کلبی نےان کا نسب بیان کرکےکہاہے کہ بعض لوگوں نےان کا نام غالب بن عبیداللہ لیثی بیان کیاہےشماران کااہل حجاز میں ہے۔ابوعمرنے کہاہے کہ بعض لوگ ان کو کلبی کہتے ہیں مگرصحیح یہ ہےکہ غالب بن عبیداللہ لیثی ہیں۔ان کو رسول خداصلی اللہ علیہ وسلم فتح مکہ کے سال میں بھیجاتھاتاکہ مکہ جانے کاآسان راستہ تجویز کردیں نیزایک مرتبہ ان کو رسول خداصلی اللہ علیہ وسلم نے ساٹھ سواروں پر سرداربناکرقبیلہ بنی ملوح کی طرف بھیجاتھاجوایک شاخ قبیلہ یعمرشداخ کی ہےیہ لوگ مقام کدید میں رہتےتھےاوررسول اللہ نے ان کوحکم دیاتھاکہ ان لوگوں کوجاکرلوٹ لینا چنانچہ جب یہ مقام کدیدمیں پہنچے توحارث بن مالک بن برصاءلیثی ان کو ملےسب مسلمانوں نے ان کو گرفتارکرلیاحارث نے کہامیں تومسلمان ہوکرآیاہوں غالب نے کہا کہ اگرتم سچے ہو تو ایک شب گرفتاررہنے سے تمھاراکچھ نقصان نہیں اوراگر تمھاری بات غلط ہے تو تم کو گرفتاررکھیں گے۔ان کا تذکرہ تینوں(ابن مندہ ابو نعیم ابن عبد البر) نے لکھاہے ابوعمرکایہ کہنا کہ کلبی نہیں ہیں لیثی ہیں صحیح نہیں کلبی اور لیثی میں کوئی فرق نہیں ہے کلب بھی قبیلۂ لیث کی ایک شاخ ہے سیاق نسب سے یہ بات معلوم ہوجاتی ہے۔ابن مندہ اورابونعیم اورابوعمرنے لکھاہے کہ یہ فتح مکہ میں شریک تھے اورآسان راستہ انھیں نے تجویز کیاتھااورابن کلبی نے کہاہے کہ رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو بنی مرہ کی طرف مقام فدک میں بھیجاتھامگر فدک پہنچنے سے پہلے یہ شہید ہوگئے۔ابن اسحاق نے بھی فتح مکہ سے پہلے غالب کے لشکرکاذکرکیاہے مگریہ نہیں بیان کیا کہ یہ شہید ہوگئے تھےابن اسحاق نے ان کوکلبی لیثی لکھاہےاس سے بھی معلوم ہوتاہے کہ کلب قبیلۂ لیث کی ایک شاخ ہے۔[1]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. اسد الغابہ ،مؤلف: أبو الحسن عز الدين ابن الاثير جلد ہفتم صفحہ 781المیزان پبلیکیشنز لاہور