ابو نعیم اصفہانی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
ابو نعیم اصفہانی
معلومات شخصیت
پیدائش سنہ 948[1][2][3][4]  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ پیدائش (P569) ویکی ڈیٹا پر
اصفہان  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام پیدائش (P19) ویکی ڈیٹا پر
وفات سنہ 1038 (89–90 سال)[1][2]  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ وفات (P570) ویکی ڈیٹا پر
اصفہان  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام وفات (P20) ویکی ڈیٹا پر
شہریت Black flag.svg دولت عباسیہ  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں شہریت (P27) ویکی ڈیٹا پر
عملی زندگی
استاذ سلیمان ابن احمد ابن الطبرانی،  الحاکم نیشاپوری  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں استاد (P1066) ویکی ڈیٹا پر
تلمیذ خاص خطیب بغدادی  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں شاگرد (P802) ویکی ڈیٹا پر
پیشہ محدث،  مؤرخ  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں پیشہ (P106) ویکی ڈیٹا پر
پیشہ ورانہ زبان عربی[5]  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں زبانیں (P1412) ویکی ڈیٹا پر
شعبۂ عمل علم حدیث  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں شعبۂ عمل (P101) ویکی ڈیٹا پر
کارہائے نمایاں حلیۃ الاولیاء لابی نعیم  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں کارہائے نمایاں (P800) ویکی ڈیٹا پر

امام ابو نعیم اصفہانی علمی اعتبار سے بہت بلند درجہ پر فائز ہیں آپ صاحب کتاب الحلیہ سے معروف ہیں ۔

ولادت[ترمیم]

امام ابو نعیم 336ھ 948ء میں اصفہان میں پیدا ہوئے۔

نام[ترمیم]

امام ابو نعیم اصفہانی جن کا نام احمد بن عبد اللہ بن احمد بن اسحاق بن موسى بن مہران الاصفہانی تھا

علمی مقام[ترمیم]

امام ابو نعیم اصفہانی کے علمی کمالات اور غیر معمولی فنی شہرت نے ان کی ذات کو مرجع خلائق بنادیا تھا۔ ان کا شمار عظیم محدثین میں ہوتا ہے تفسیر حدیث ،فقہ اور جملہ علوم اسلامیہ مہارت تامہ رکھتے تھے حدیث اور متعلقات حدیث کے علوم میں ان کو کمال کا درجہ حاصل تھا حدیث کی جمع روایت اور معرفت و روایت میں امتیاز رکھتے تھے۔ امام ابونعیم اصفہانی جہاں ایک بہت بڑے محدث تھے اس کے ساتھ ساتھ حفظ و ضبط اور عدالت و ثقاہت میں بھی ممتاز تھے امام ابو نعیم اصفہانی مسلکا شافعی تھی اور حدیث کے علاوہ فقہ وتصوف میں جامع کمال تھے عقید ہ میں اشاعر ہ کے ہمنوا تھے اور اشعری مذہب کی جا نب میلان رکھتے تھے اس لیے ان کی مجلس درس بڑی وسیع تھی۔ لوگ دور دراز سے سفر کر کے ان کی مجلس میں حاضر ہو تے تھے اور وہاں سے جملہ علوم اسلامیہ میں استفادہ کرتے تھے شاہ عبد العزیز محدث دہلوی نے ان کی مجلس درس کا اس طرح نقشہ کھینچاہے کہ۔ جب ان کی مجلس درس آراستہ ہو تی۔ تو ارباب فن اور محدثین عجزو نیاز کے ساتھ ان کے دولت کدہ بڑی رغبت اور مکمل انہماک کے ساتھ اکتساب فیض کرتے تھے بقول علامہ ذہبی

"لم يكن غذاء سوى التسميع والتصنيف"
حدیثیں سننا اور ان کی جمع و تالیف ہی ان کی غذا تھی۔ انہوں نے خراسان وعراق کے بے شمار لوگوں سے کسب فیض کیا۔ حقیقت یہ ہے کہ ان کو جس قدر اکابر شیوخ سے ملاقات کا شرف حاصل ہوا اس سے اور محدثین محروم ہیں۔

تصنیفات[ترمیم]

امام ابو نعیم اصفہانی صاحب تصانیف کثیرہ تھے حاجی خلیفہ نے کشف الظنون میں ان کی 29کتابوں کی فہرست دی ہے آپ کی تصانیف میں درج ذیل کتابیں بہت مشہور و معروف ہیں ۔

  • حلیۃ الاولیاء و طبقات الاصفیاء 10 جلدوں میں چھپی ہے
  • دلائل النبوة
  • 3۔ کتاب الریاضتہ والادب
  • 4۔ کتاب الطب النبوی
  • 5۔ کتاب الفتن
  • 6۔ کتاب فضائل الخلفاء
  • 7۔ کتاب فضآئل الصحابہ
  • 8۔ کتاب الفوائد
  • 9۔ کتاب مختصر الاستیعاب
  • 10۔ کتاب المستخرج علی البخاری
  • 11۔ کتاب المتعقد
  • 12۔ کتاب معرفتہ الصحابہ
  • 13۔ کتاب معجم الشیوخ
  • 14۔ کتاب معجم الصحابہ
  • 15۔ کتاب علوم الحدیث امام حاکم صاحب لاستدرک (م 405ھ)کی تصنیف معرفتہ علوم الحدیث پر مستخرج ہے
  • 16۔ کتاب مستخرج علی التوحید علامہ ابن خزیمہ (م 311ھ) کی تصنیف کتاب التوحید والصفات پر مستخرج ہے
  • 17کتاب المہدی
  • 18۔ کتاب تاریخ اصفہان دو جلدوں میں ہے
  • 19۔ کتاب الاربعین
  • 20۔ کتاب حرمتہ المساجد
  • 21۔ الشعراء
  • 22۔ طبقات المحدثين والرواة[6]

وفات[ترمیم]

امام اصفہانی 96 سال کی عمر پاکر 430ھ 1038ء میں آپ نے اصفہان میں انتقال کیا۔[7] [8]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. ^ ا ب http://data.bnf.fr/ark:/12148/cb145318161 — اخذ شدہ بتاریخ: 10 اکتوبر 2015 — اجازت نامہ: آزاد اجازت نامہ
  2. ^ ا ب جی این ڈی- آئی ڈی: https://d-nb.info/gnd/119462567 — اخذ شدہ بتاریخ: 15 اکتوبر 2015 — اجازت نامہ: CC0
  3. ایف اے ایس ٹی - آئی ڈی: http://id.worldcat.org/fast/256903 — بنام: Aḥmad ibn ʻAbd Allāh Abū Nuʻaym al-Iṣbahānī — اخذ شدہ بتاریخ: 9 اکتوبر 2017
  4. بنام: Aḥmad ibn ʻAbd Allāh al-Iṣbahānī — ایس ای ایل آئی بی آر: https://libris.kb.se/auth/31486 — اخذ شدہ بتاریخ: 9 اکتوبر 2017
  5. http://data.bnf.fr/ark:/12148/cb145318161 — اخذ شدہ بتاریخ: 10 اکتوبر 2015 — اجازت نامہ: آزاد اجازت نامہ
  6. الأعلام للزركلي
  7. البدايہ والنہايہ مؤلف: ابو الفداء اسماعيل بن عمر بن كثير
  8. شذرات الذہب فی اخبار من ذهب ،مؤلف: ابن العماد العَكری الحنبلی ،ناشر: دار ابن كثير، دمشق - بيروت