شیخ احمد الرفاعی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
شیخ احمد الرفاعی
(عربی میں: أحمد بن علي الرفاعيخاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقامی زبان میں نام (P1559) ویکی ڈیٹا پر
Mausoleum of Sheikh Ali al-Rifa'i.JPG 

معلومات شخصیت
پیدائش سنہ 1118  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ پیدائش (P569) ویکی ڈیٹا پر
بصرہ  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام پیدائش (P19) ویکی ڈیٹا پر
وفات سنہ 1182 (63–64 سال)  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ وفات (P570) ویکی ڈیٹا پر
محافظہ واسط  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام وفات (P20) ویکی ڈیٹا پر
شہریت Black flag.svg خلافت عباسیہ  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں شہریت (P27) ویکی ڈیٹا پر
عملی زندگی
پیشہ الٰہیات دان،مرشد،فقیہ  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں پیشہ (P106) ویکی ڈیٹا پر
مجال العمل تصوف،شافعی  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں شعبۂ عمل (P101) ویکی ڈیٹا پر

شیخ احمد رفاعی سلسلہ رفاعیہ کے بانی اور پیشوا ہیں۔

نام و لقب[ترمیم]

السید السند، قطب اوحد، استاذ العلماء، امام الاولیاء، سلطان الرجال، شیخ المسلمین، العالم الکبیر، عارف باللہ، بحرشریعت ابوالعباس احمد الرفاعی۔اباً حسینی، اُماً اَنصاری، مذہبا ً شافعی، بلداً واسطی۔

ولادت و تربیت[ترمیم]

امام احمد رفاعی بروز جمعرات، ماہِ رجب کے نصف اوّل (15/رجب) کو 512ھ میں مسترشد باللہ عباسی کے زمانہ خلافت میں مقام اُم عبیدہ کے حسن نامی ایک قصبہ میں پیدا ہوئے۔ اُم عبیدہ علاقہ بطائح میں واسط وبصرہ کے درمیان واقع ہے۔ آپ کے والدابوالحسن سلطان علی (متوفی:519ھ) بغداد کے سفر پرتھے کہ غیبی بلاوا آپہنچا۔ اور وہیں بغداد میں آپ کی تدفین عمل میں آئی۔ ابن مسیب نے آپ کی قبر بہت خوبصورت تعمیرکرائی، اُس کے بغل میں آپ کے نام سے معنون ایک مسجد بھی تعمیر کی۔ بغداد شارعِ رشید پرآپ کا مزار پر اَنوار آج بھی زیارتِ گاہِ خلائق ہے.[1] معمولی سی عمر میں والد کا سایہ سر سے اُٹھ جانے کے باعث آپ کے ماموں شیخ منصور کی آغوشِ تربیت میں آپ کی نشوو نماشروع ہوئی، جہاں آپ کو زیورِ اَدب اور حلیہ اخلاق سے آراستہ ہونے کا سنہرا موقع میسر آیا۔ پھر آپ کی تعلیم وترتیب کے اُمور علامہ مقری شیخ علی ابوالفضل واسطی کے سپرد ہو گئے، جن کی کامل سرپرستی میں آپ کو جہانِ فقہ وتصوف کی سیر کی سعادت نصیب ہوئی، اور ان کے پاس سے آپ کندن بن کرنکلے۔

علم وسند[ترمیم]

آپ نے قرآن کریم حفظ کرنے کی سعادت مقری شیخ عبد السمیع الحربونی کی بارگاہ سے حاصل کی۔ پھر جب تربیت و تعلیم کے اُمور ابوالفضل واسطی-قدس سرہ العزیز- کے حوالے ہو گئے، اس وقت آپ نے عقلی ونقلی علوم میں ماہرانہ کمال پیدا کیا، اور فضل وکمال کی ہرشاخ پر اپنا آشیانہ بنایا۔ آپکی عمر کی بیس سال تھی کہ اُستاذ و مرشد شیخ الواسطی نے جملہ علوم شریعت وطریقت کی اجازتِ عام عطا فرمادی، اور ساتھ ہی خرقہ پوشی کر کے خلعتِ خلافت سے بھی نواز دیا۔ تاہم آپ نے تحصیل علم کے تسلسل کو برقرار رکھا، اور پوری ذمہ داری ومستعدی کے ساتھ شیخ ابوبکر واسطی کے حلقہ دروس سے خود کو وابستہ رکھا،اور علم شریعت سے پورے طور سے آسودہ ہو کر وہاں سے اُٹھے۔ نیز فقہ کے غوامض ودقائق کی تحصیل اپنے ماموں شیخ منصور بطائحی کے ہاتھوں مکمل کر کے اُن سے اجازت وصول کی۔ جس وقت آپ کے ماموں شیخ منصور کو اپنی زندگی کا چراغ گل ہونے کا اندازا ہوا توانھوں نے آپ کو بلوا کرشیخ الشیوخ کی اَمانت اور اپنے خاص وظائف کی ذمہ داری نبھانے کاعہد لیا، اور آپ کو مسندسجادگی اورمنصب ارشاد پر فائز فرمادیا۔ شیخ احمد رفاعی نے اس قدر تحصیل علم کیا کہ آپ بیک وقت عالم وفقیہ بھی تھے، قاری ومجود بھی، مفسرو محدث بھی تھے اور دین کی اعلیٰ قدروں کی نشرواشاعت کرنے والے عظیم مجاہد بھی۔ فقہ میں آپ امام شافعی کے مذہب کے مقلدتھے۔

سیرت وکردار[ترمیم]

سیرت و کردارمیں آپ اپنے جدامجدسرکارِ دوعالم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے کامل نمونہ تھے۔ سنت وشریعت کی اسی پیروی نے آپ کو اپنے زمانے ہی میں شہرت وعظمت کی اعلیٰ بلندیوں پر فائز کر دیا تھا۔ مؤرخین نے آپ کی شخصیت پر رج رج کے لکھا ہے۔ اور اَرباب فکروقلم نے آپ کے فضائل ومناقب میں قلم توڑ توڑ دیا ہے۔[1] آپ رمزتصوف اور رازِ طریقت آشکار کرتے ہوئے کبھی کبھار فرمایا کرتے تھے :

ما رایت أقرب ولا أسہل طریقاً إلی اللّٰہ من الذل والافتقار والانکسار بتعظیم أمر اللّٰہ والشفقۃ علی خلق اللّٰہ والاقتداء بسنۃ رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ و آلہ وسلم

یعنی میں نے اللہ سبحانہ و تعالیٰ تک پہنچنے کا اِس سے زیادہ سہل اور قریب ترین کوئی راستہ نہیں دیکھا کہ رضاے الٰہی کی خاطر تواضع وانکسار اِختیار کی جائے، خلق خدا کے ساتھ لطف ونرمی سے پیش آیاجائے، اورسرکارِ دوعالم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی سنت کی پیروی میں زندگی کا سفرطے کیا جائے۔ خدمت خلق کا عنصر آپ کی حیاتِ طیبہ میں بہت غالب نظر آتا ہے۔ اگر کسی بیمار کا سن لیتے تو وہ خواہ کتنی ہی دور کیوں نہ سکونت پزیر ہو، اس کی عیادت کے لیے ضرور جاتے تھے۔ اور(بعدِ مسافت کے باعث) ایک دو دن کے بعد اُدھر سے لوٹتے تھے۔ نیز عالم یہ تھا کہ راستے میں جا کر اندھوں کی آمد کا اِنتظار کرتے کہ ان کا ہاتھ پکڑ کر انھیں منزل تک پہنچائیں۔ اور جب بھی کوئی بزرگ دیکھتے، انھیں علاقے تک پہنچا آتے، اور اہل علاقہ کو نصیحت فرماتے کہ لوگو! میرے حضور رحمت عالم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا فرمانِ عظمت نشان ہے : من أکرم ذا شیبۃ یعنی مسلماً سخر اللّٰہ لہ من یکرمہ عند شیبتہ۔ یعنی جس نے کسی بوڑھے مسلمان کی خدمت وتکریم کی۔ اللہ سبحانہ و تعالیٰ اس کے اپنے بڑھاپے میں کسی کو اُس کا سہارا اور خدمتی بنا دے گا۔ ایک مرتبہ اپنے سلسلے کا نشانِ امتیاز بیان کرتے ہوئے فرمایا : طریقنا طریق نقی وإخلاص فمن أدخل فی عملہ الریاء والفجور فقد بعد عنا وخرج منا۔ یعنی ہمارا طریقہ مبنی بر اِخلاص، اور بالکل صاف و شفاف ہے، لہٰذا یاد رہے کہ جس کے عمل سے ریاونمود اورفسق وفجورکی بوآنے لگے، پھر اس کا ہم سے کوئی تعلق نہیں ہے، اوراس کا قدم ہمارے دائرہ طریق سے باہر نکل چکا ہے۔ طریقی دین بلا بدعۃ، وھمۃ بلا کسل، وعمل بلا ریائ، وقلب بلا شغل، ونفس بلا شہوۃ۔ یعنی میرا طریقہ یہ ہے کہ دین میں بدعت کی آمیزش نہ ہو۔ ہمت سستی پر غالب ہو۔ عمل ریا سے پاک ہو۔ (یادِ محبوب میں محویت کے باعث) قلب دیگر مشغولیات سے آزاد ہو۔اور نفس شہوت کے بکھیڑوں سے دور ہو۔[1]

تصنیفات و تالیفات[ترمیم]

سیداحمد رفاعی نے توحیدوتصوف اوراخلاقِ حمیدہ پر مشتمل بہت سی مفیدو گراں قدر کتابیں اپنے پیچھے چھوڑی ہیں۔ حاجی خلیفہ نے اپنی کتاب کشف الظنون میں بعض کا ذکر کیا ہے، جب کہ کچھ کا ذکر سید محمد ابوالہدیٰ الصیادی کی تصنیف میں ملتا ہے۔ ہمارے علم کے مطابق شیخ الرفاعی کی تصانیف حسب ذیل ہیں : البرہان المؤید، الحکم الرفاعیۃ، الأحزاب الرفاعیۃ، النظام الخاص لأھل الاختصاص، الصراط المستقیم فی تفسیر معانی بسم اللّٰہ الرحمٰن الرحیم، الرؤیۃ، الطریق إلی اللّٰہ، العقائد الرفاعیۃ، المجالس الأحمدیۃ، تفسیر سورۃ القدر، حالۃ أھل الحقیقۃ مع اللّٰہ، الأربعین، شرح التنبیہ، -ست مجلدات- رحیق الکوثر، البہجۃ فی الفقہ۔ اس میں کچھ تومطبوعہ ہیں، بعض تاہنوز مخطوطہ ہیں، اور بیشتر فتنہ تا تار کی نذر ہو گئیں۔

وفاتِ حسرت آیات[ترمیم]

زندگی کے آخری موڑ پر پہنچ کر حضرت شیخ احمد رفاعی پیٹ کے ایک شدید مرض میں مبتلا ہو گئے، جس نے مہینہ بھر آپ کو صاحب فراش رکھا، اور پھر آگے چل کر یہی مرض مرضِ مرگ کی شکل اختیار کرگیا۔ چنانچہ 66سال کی عمر پا کر جمعرات 12/جمادی الاولی 578ھ کوشریعت وطریقت کا یہ آفتاب عالم تاب ہمیشہ کے لیے غروب ہو گیا۔ آپ اپنے دادا شیخ یحییٰ بخاری کے گنبد تلے عراق کے مقام اُم عبیدہ میں مدفون ہوئے، جو زیارت گاہِ ہرخاص وعام ہے[1]۔

حوالہ جات[ترمیم]

  1. ^ 1.0 1.1 1.2 1.3 مناقب الاقطاب الاربعہ شیخ یونس بن اِبراہیم السامرائی