فیض احمد اویسی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search

فیض احمد اویسی ایک عالم دین اور مفسر تھے۔

پیدائش[ترمیم]

ان کی پیدائش نور احمد اویسی کے گھر 1931ء یا 1932ء میں ضلع رحیم یار خان پنجاب تحصیل خانپور کے گاؤں حامد آباد میں ہوئی۔

خاندان[ترمیم]

ﺁﭖ ﮐﺎ ﺗﻌﻠﻖ ﻗﺒﯿﻠﮧ ﻻﮌ ﺳﮯ ﺗﮭﺎ ﺟﻮﮐﮧ ﺣﻀﺮﺕ ﻋﺒﺎﺱ ﺭﺿﯽ ﺍﷲ ﻋﻨﮧ ﮐﯽ ﺍﻭﻻﺩ ﺳﮯ ﮨﯿﮟ ﺟﻮﮐﮧ ﺗﺒﻠﯿﻎ ﺩﯾﻦ ﮐﮯ ﻟﺌﮯ ﺑﺮﺻﻐﯿﺮ ﺁﺋﮯ ﺍﻭﺭ ﯾﮩﯿﮟ ﮐﮯ ﮨﻮﮐﺮ ﺭﮦ ﮔﺌﮯ۔ﺁﭖ ﮐﺎ ﺧﺎﻧﺪﺍﻥ ﭘﮩﻠﮯ ﺳﻨﺪﮪ ﻣﯿﮟ ﺁﺑﺎﺩ ﺗﮭﺎ۔ ﺑﻌﺪ ﻣﯿﮟ ﺭﺣﯿﻢ ﯾﺎﺭ ﺧﺎﻥ ﻣﻨﺘﻘﻞ ﮨﻮﺍ۔

ابتدائی تعلیم[ترمیم]

انہوں نے چار سال چار ماہ اور چار ہفتے کے عرصے کے اندر اپنے والد نور احمد اویسی سے رسم تسمیہ کے بعد ناظرہ قرآن مجید پڑھا پھر اسکول میں داخل ہوئے۔ پانچ جماعتیں پڑھیں پھر قرآن مجید حفظ کرنے میں مصروف ہو گئے۔ 1942ء تا 1946ء یعنی تین سال کے اندر قرآن مجید حفظ کرنے کی سعادت حاصل کی۔ پرائمری کی تعلیم حکیم اﷲ بخش، کریم بخش اور خیر محمد سے حاصل کی اور حافظ جان محمد حافظ محمد سراج اور حافظ غلام یاسین سے قرآن مجید حفظ کیا۔ 1946ء میں نظم فارسی کا کورس شروع کر دیا۔ 1947ء تک کریما و پند نامہ سوری تا مثنوی شریف پڑھی۔ 1947ء میں علما محمد نواز اویسی، الحاج خورشید احمداور الحاج محمد عبد الکریم سے درسِ نظامی کی تعلیم حاصل کی اور 1951ء میں درس نظامی کا کورس انہی اساتذہ سے مکمل کیا۔1952 ﺀ ﻣﯿﮟ ﻣﺤﺪﺙ ﺍﻋﻈﻢ ﭘﺎﮐﺴﺘﺎﻥ ﻣﻮﻻﻧﺎ ﺳﺮﺩﺍﺭ ﺍﺣﻤﺪ ﻋﻠﯿﮧ ﺍﻟﺮﺣﻤﮧ (فیصل ﺁﺑﺎﺩ ) ﺳﮯ ﺩﻭﺭﮦ ﺣﺪﯾﺚ ﺷﺮﯾﻒ ﭘﮍﮬﺎ ﺍﻭﺭ ﺳﻨﺪ ﻓﺮﺍﻏﺖﺣﺎﺻﻞ ﮐﯽ۔

تدریسی زندگی[ترمیم]

ﺟﺎﻣﻌﮧ ﺭﺿﻮﯾﮧ ﻓﯿﺼﻞ ﺁﺑﺎﺩ ﺳﮯ ﻓﺮﺍﻏﺖ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﺁﭖ ﻧﮯ ﺍﭘﻨﮯ ﺁﺑﺎﺋﯽ ﮔﺎﺋﻮﮞ ﺣﺎﻣﺪ ﺁﺑﺎﺩ ﻣﯿﮟ ’’ﻣﺪﺭﺳﮧ ﻣﻨﺒﻊ ﺍﻟﻔﯿﻮﺽ ‘‘ ﮐﯽ ﺑﻨﯿﺎﺩ ﺭﮐﮭﯽ۔ ﺟﮩﺎﮞ ﺳﮯ ﮐﺜﯿﺮ ﻃﻠﺒﺎﺀ ﻧﮯ ﺍﮐﺘﺴﺎﺏ ﻓﯿﺾ ﮐﯿﺎ۔ 1963 ﺀ ﻣﯿﮟ ﺣﺎﻣﺪ ﺁﺑﺎﺩ ﺳﮯ ﺑﮩﺎﻭﻟﭙﻮﺭ ﻣﻨﺘﻘﻞ ﮨﻮﺋﮯ۔ ﻣﺨﺘﻠﻒ ﻣﺴﺎﺟﺪ ﮐﻮ ﺩﺍﺭﺍﻟﻌﻠﻮﻡ ﻭﺍﻻﺭﺷﺎﺩ ﺑﻨﺎﯾﺎ۔ 1963 ﺀ ﻣﯿﮟ ﺍﯾﮏ ﻗﻄﻌﮧ ﺯﻣﯿﻦ ﺧﺮﯾﺪ ﮐﺮ ﺟﺎﻣﻊ ﻣﺴﺠﺪ ﺳﯿﺮﺍﻧﯽ ﺍﻭﺭ ﺟﺎﻣﻌﮧ ﺍﻭﯾﺴﯿﮧ ﺭﺿﻮﯾﮧ ﮐﯽ ﺑﻨﯿﺎﺩ ﺭﮐﮭﯽ۔ ﺟﮩﺎﮞ ﭘﺮ ﺷﻌﺒﮧ ﺣﻔﻆ، ﺩﺭﺱ ﻧﻈﺎﻣﯽ، ﺩﻭﺭﮦ ﺣﺪﯾﺚ، ﺩﺍﺭﺍﻻﻓﺘﺎﺀ ﻗﺎﺋﻢ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ۔ ﺳﯿﻨﮑﮍﻭﮞ ﻋﻠﻤﺎﺀ ﻧﮯ ﺟﺎﻣﻌﮧ ﺍﻭﯾﺴﯿﮧ ﺭﺿﻮﯾﮧ ﺳﮯ ﺍﮐﺘﺴﺎﺏ ﮐﯿﺎ ﺁﺝ ﺧﺪﻣﺖ ﺩﯾﻦ ﻣﺘﯿﻦ ﻣﯿﮟ ﻣﺸﻐﻮﻝ ﮨﯿﮟ۔ ﺍﺱ ﻭﻗﺖ ﻣﺮﮐﺰﯼ ﺩﺍﺭﺍﻟﻌﻠﻮﻡ ﯽ 20 ﺳﮯ ﺯﺍﺋﺪ ﺷﺎﺧﯿﮟ ﺧﺪﻣﺖ ﺩﯾﻦ ﻣﯿﮟ ﻣﺼﺮﻭﻑ ﻋﻤﻞ ﮨﯿﮟ۔ 1961ﺀ ﻣﯿﮟ ﺁﭖ ﻧﮯ ﺩﻭﺭﮦ ﺗﻔﺴﯿﺮ ﺍﻟﻘﺮﺁﻥ ﮐﺎ ﺁﻏﺎﺯ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ۔ ﺧﺎﻧﭙﻮﺭ، ﺑﮩﺎﻭﻟﭙﻮﺭ، ﺧﺎﻧﯿﻮﺍﻝ، ﻓﯿﺼﻞ ﺁﺑﺎﺩ، ﺑﻨﺪﯾﺎﻝ ﺷﺮﯾﻒ، ﻣﯿﺎﻧﻮﺍﻟﯽ، ﻻﮨﻮﺭ، ﻣﺮﯾﺪﮐﮯ، ﮐﺎﻣﻮﻧﮑﯽ، ﮔﻮﺟﺮﺍﻧﻮﺍﻟﮧ، ﺧﯿﺮﭘﻮﺭ ﻣﯿﺮﺱ، ﺩﺍﺩﻭ ﺳﻨﺪﮪ، ﺧﯿﺮﭘﻮﺭ ﻣﯿﺮﺱ، ﻻﮌﮐﺎﻧﮧ، ﺣﯿﺪﺭﺁﺑﺎﺩ، ﮐﺮﺍﭼﯽ، ﺳﺒﯽ ﺍﻭﺭ ﮐﻮﺋﭩﮧ ﻣﯿﮟ 71 ﺳﮯ ﺯﺍﺋﺪ ﻣﺮﺗﺒﮧ ﺩﻭﺭﮦ ﺗﻔﺴﯿﺮ ﺍﻟﻘﺮﺁﻥ ﭘﮍﮬﺎﯾﺎ ﺟﺲ ﻣﯿﮟ ﻣﺠﻤﻮﻋﯽ ﻃﻮﺭ ﭘﺮ 6000 ﺳﮯ ﺯﺍﺋﺪ ﻋﻠﻤﺎﺀ ﻧﮯ ﻋﻠﻢ ﺗﻔﺴﯿﺮ ﺣﺎﺻﻞ ﮐﯿﺎ۔ ﺗﺪﺭﯾﺲ ﮐﮯ ﻋﻼﻭﮦ ﺁﭖ ﺗﻘﺮﯾﺮ ﻣﯿﮟ ﺑﮭﯽ ﯾﺪﻃﻮﻟﯽٰ ﺭﮐﮭﺘﮯ ﮨﯿﮟ۔ ﺁﭖ ﮐﯽ ﺗﻘﺮﯾﺮ ﻗﺮﺁﻥ ﻭ ﺳﻨﺖ ﮐﮯ ﺩﻻﺋﻞ ﺳﮯ ﻣﺰﯾﻦ ﻋﺎﻡ ﻓﮩﻢ ﮨﻮﺗﯽ ﺗﮭﯽ۔ ﻋﻮﺍﻡ ﻭ ﺧﻮﺍﺹ ﺳﺒﮭﯽ ﺍﺳﺘﻔﺎﺩﮦ ﮐﺮﺗﮯ۔ ﭼﺎﺭﻭﮞ ﺻﻮﺑﻮﮞ ﺑﺸﻤﻮﻝ ﺁﺯﺍﺩ ﮐﺸﻤﯿﺮ ﺁﭖ ﮐﯽ ﺧﻄﺎﺑﺖ ﮐﯽ ﺩﮬﻮﻡ ﺗﮭﯽ۔ ﺍﭘﻨﮯ ﺩﻻﺋﻞ ﻗﺎﮨﺮﮦ ﺳﮯ ﻣﺪﻣﻘﺎﺑﻞ ﮐﺎ ﺭﺩ ﮐﺮﻧﮯ ﮐﺎ ﺟﻮ ﻣﻠﮑﮧ ﺁﭖ ﮐﮯ ﭘﺎﺱ ﺗﮭﮯ ﻭﮦ ﺁﭖ ﮨﯽ ﮐﺎ ﺧﺎﺻﮧ ﺗﮭﺎ۔ ﮔﮭﻨﭩﻮﮞ ﺧﻄﺎﺏ ﻓﺮﻣﺎﺗﮯ ﻟﯿﮑﻦ ﮐﯿﺎ ﻣﺠﺎﻝ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺳﻨﻨﮯ ﻭﺍﻟﮯ ﺍﮐﺘﺎﮨﭧ ﻣﺤﺴﻮﺱ ﮐﺮﺗﮯ۔

تصانیف[ترمیم]

اویسی کی تصانیف کا دائرہ وسیع ہے۔ ان کے زمانہ طالب علم سے آخری لمحہ تک یہ سلسلہ مسلسل غیر منقطع رہا۔ ان کی خواہش تھی کی خدا تعالیٰ کریم کرے بوقت مرگ بھی قلم ہاتھ میں ہو۔ انہوں نے ساڑھے تین ہزار سے زائد تصانیف و رسائل و تراجم لکھے۔ ان کی تفصیل ضخیم کتاب علم کے موتی قسط اول و دوم کراچی سے شائع ہوئی ہے۔ وہ 1937ء۔ 1938ء میں پرائمری اسکول میں داخل ہوئے تو اس وقت سے سلسلہ فن تحریر بھی شروع ہوا۔ اس وقت ان کی عمر سات یا آٹھ سال تھی۔

نام تصنیفات[ترمیم]

ﺁﭖ ﻧﮯ ﺯﻣﺎﻧﮧ ﻃﺎﻟﺐ ﻋﻠﻤﯽ ﮨﯽ ﺳﮯ ﺗﺼﻨﯿﻒ ﻭ ﺗﺎﻟﯿﻒ ﮐﺎ ﺳﻠﺴﻠﮧ ﺷﺮﻭﻉ ﻓﺮﻣﺎﺩﯾﺎ۔ ﺍﻭﺭﺗﺼﻨﯿﻔﺎﺕ ﮐﯽ ﺗﻌﺪﺍﺩ 4000 ﺳﮯ ﻣﺘﺠﺎﻭﺯ ﮨﻮﮔﺌﯽ۔

  • ﭘﮩﻠﯽ ﮐﺘﺎﺏ ’’ ﮐﺎﺭﺁﻣﺪ ﻣﺴﺎﺋﻞ ‘‘ ﮐﮯ ﻧﺎﻡ ﺳﮯ ﻃﺒﻊ ﮨﻮﺋﯽ۔
  • ﻓﯿﻮﺽ ﺍﻟﺮﺣﻤﻦ ﺗﺮﺟﻤﮧ ﺭﻭﺡ ﺍﻟﺒﯿﺎﻥ 12 ﺟﻠﺪﯾﮟ،
  • ﻓﻀﻞﺍﻟﻤﻨﺎﻥ ﻓﯽ ﺗﻔﺴﯿﺮ ﺁﯾﺎﺕ ﺍﻟﻘﺮﺁﻥ (ﻋﺮﺑﯽ ) 10 ﺟﻠﺪﯾﮟ،
  • ﺗﻔﺴﯿﺮ ﻓﯿﺾ ﺍﻟﻘﺮﺁﻥ ﺍﺭﺩﻭ 10 ﺟﻠﺪﯾﮟ،
  • ﻓﯿﺾ ﺍﻟﺮﺳﻮﻝ ﻓﯽﺍﺳﺒﺎﺏ ﺍﻟﻨﺰﻭﻝ 10 ﺟﻠﺪﯾﮟ،
  • ﺷﺮﺡ ﺣﺪﺍﺋﻖ ﺑﺨﺸﺶ 25ﺟﻠﺪﯾﮟ،
  • ﺷﺮﺡ ﻣﺜﻨﻮﯼ ﻣﻮﻻﻧﺎ ﺭﻭﻡ 25 ﺟﻠﺪﯾﮟ،
  • ﺍﻟﻔﯿﺾﺍﻟﺠﺎﺭﯼ ﺷﺮﺡ ﺻﺤﯿﺢ ﺑﺨﺎﺭﯼ 10 ﺟﻠﺪﯾﮟ،
  • ﺍﺣﺎﺩﯾﺚﻣﻮﺿﻮﻋﮧ 5 ﺟﻠﺪﯾﮟ،
  • ﻣﻮﺍﻋﻈﮧ ﺍﻭﯾﺴﯿﮧ 10 ﺟﻠﺪﯾﮟ،
  • ﺍﻟﻠﻤﻌﺎﺕ ﺷﺮﺡ ﻣﺸﮑﻮٰۃ 5 ﺟﻠﺪﯾﮟ،
  • ﮐﺸﮑﻮﻝ ﺍﻭﯾﺴﯽ 10ﺟﻠﺪﯾﮟ،
  • ﻓﯿﺼﻠﮧ ﮨﺸﺖ ﻣﺴﺌﻠﮧ 10 ﺟﻠﺪﯾﮟ،
  • ﻓﺘﺎﻭﯼٰ ﺍﻭﯾﺴﯿﮧ10 ﺟﻠﺪﯾﮟ،
  • ﺷﺮﺡ ﺩﺍﺭﻣﯽ 8 ﺟﻠﺪﯾﮟ،
  • ﺭﺳﺎﺋﻞ ﺍﻭﯾﺴﯿﮧ 5ﺟﻠﺪﯾﮟ،
  • ﺭﺍﺯﻭﻧﯿﺎﺯ 5 ﺟﻠﺪﯾﮟ،
  • ﺧﻮﺍﺗﯿﻦ ﮐﺎ ﺍﺳﻼﻣﯽ ﻧﺼﺎﺏ
  • 5 ﺟﻠﺪﯾﮟ، ﺗﻔﺴﯿﺮ ﺍﻭﯾﺴﯽ 15 ﺟﻠﺪﯾﮟ،
  • ﺗﺮﺟﻤﮧ ﻭ ﺣﺎﺷﯿﮧﻣﺴﻠﻢ ﺷﺮﯾﻒ 10 ﺟﻠﺪﯾﮟ،
  • ﺗﺮﺟﻤﮧ ﻭ ﺣﺎﺷﯿﮧ ﺗﺮﻣﺬﯼشرﯾﻒ5 ﺟﻠﺪﯾﮟ،
  • ﺑﯿﺎﺽ ﺍﻭﯾﺴﯽ 5 ﺟﻠﺪﯾﮟ،
  • ﺍﻭﯾﺴﯽ ﻧﺎﻣﮧ 5ﺟﻠﺪﯾﮟ،
  • ﺷﺮﺡ ﺩﺍﺭ ﻗﻄﻨﯽ 10 ﺟﻠﺪﯾﮟ،
  • ﺍﻻﺣﺎﺩﯾﺚ ﺍﻟﺴﻨﯿﮧﻓﯽ ﺍﻟﻔﺘﺎﻭﯼٰ ﺍﻟﺮﺿﻮﯾﮧ 5 ﺟﻠﺪﯾﮟ،
  • ﻧﻌﻢ ﺍﻟﺤﺎﻣﯽ ﺷﺮﺡ ﺎﻣﯽ10 ﺟﻠﺪﯾﮟ ﻗﺎﺑﻞ ﺫﮐﺮ ﮨﯿﮟ۔

دار العلوم[ترمیم]

بہاولپور پنجاب میں جامعہ اویسیہ رضویہ کے علاوہ اندرون شہر و بیرون شہر درجنوں مدارس ہیں جنہیں فیض احمد اویسی کی اولاد چلا رہی ہے۔ دار العلوم جامعہ اویسیہ رضویہ بہاولپور پنجاب میں تقریباً دو سو بیرونی اور علاقائی طلبہ بہاولپور کے تعلیم کے زیور سے آراستہ ہو رہے ہیں۔ دوسرے مدارس کی تعداد ان کے علاوہ ہے۔

شاگرد[ترمیم]

محمد عبدالحکیم شرف قادری اور مفتی محمد ارشد القادری محمد رضا ثاقب مصطفائی،

پیر محمد اجمل رضا قادری، علامہ عبدالمجید اویسی، مفتی محمد اقبال چشتی، علامہ محمد اشرف العالم قادری چاٹگامی، علامہ قاری محمد طیب نقشبندی مانچسٹر،

وفات[ترمیم]

15 ﺭﻣﻀﺎﻥ1431ھ ﺑﻤﻄﺎﺑﻖ 26 ﺍﮔﺴﺖ ﺑﺮﻭﺯ ﺟﻤﻌﺮﺍﺕ 2010ء ﺑﻮﻗﺖ ﺻﺒﺢ ﺁﭖ ﮐﺎ ﻭﺻﺎﻝ ﮨﻮﺍ۔ ﺭﺍﺕ ﮔﯿﺎﺭﮦ ﺑﺠﮯ ﻣﺮﮐﺰﯼ ﻋﯿﺪﮔﺎﮦﺑﮩﺎﻭﻟﭙﻮﺭ ﻣﯿﮟ ﺁﭖ ﮐﯽ ﻧﻤﺎﺯ ﺟﻨﺎﺯﮦ ﺍﺩﺍ ﮐﯽ ﮔﺌﯽ۔

بیرونی حوالہ جات[ترمیم]

٭ حضرت علامہ مفتی محمد فیض احمد اویسی علیہ الرحمۃ | کی فی الحال ( 96 ) کتاب / کتابیں میسر ہیں۔

٭ مفتی فیض احمد اویسیکا یادگار انٹرویو - See more at: http://www.tahaffuz.com/2382/#sthash.8WMNQNKR.dpuf

ان کی کتب کے مطالعہ کیلئے سرچ کریں

www.faizahmedowaisi.com

https://www.facebook.com/FaizAhmedOwaisiOfficial/

٭ فیض احمد اویسی حیات و خدمات