قمر الزمان اعظمى

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں

علامہ قمر الزمان اعظمى اہل سنت وجماعت بریلوی تحریک کے ایک ممتاز عالم دین ہیں۔ 2011 اور 2012 میں، انہیں دنیا بھر پانچ دہائیوں تک بہت سی اسلامی تنظیموں، اداروں، مساجد، کالجوں اور یونیورسٹیوں کے قیام کی کوششوں کی وجہ سے پانچ سو مؤثر ترین مسلمانوں میں شمار کیا گیا۔

مفکرِ اسلام علامہ قمر الزماں خاں اعظمی دنیائے اسلام کے فعال اور متحرک مبلغ و داعی ہیں۔ جنہیں اپنے کردار و عمل، علم و یقین، تدبر و تفکر، تقویٰ و طہارت، سادگی و متانت، تواضع و انکسار، بصیرت و بصارت، حسنِ گفتار اور دل کش و دل آویز طرزِ خطابت کے سبب پوری دنیا میں ہر دل عزیز اور مقبول و محبوب ہستیوں میں شمار کیا جاتا ہے۔ آپ کی علمی، تبلیغی، اصلاحی خدمات اور ادبی قدر و منزلت سے انکار ممکن نہیں۔ موصوف نے برطانیہ کی سرزمین پر اسلامی تعلیمات کو جس مستحکم انداز میں روشناس کرانے کی سعیِ بلیغ فرمائی ہے اور جس خوب صورتی سے تبلیغِ دین کا کام انجام دے رہے ہیں وہ ہر اعتبار سے لائقِ ستایش اور قابلِ تقلید ہے۔ علامہ قمر الزماں اعظمی صاحب قبلہ ضلع اعظم گڑھ کے قصبہ خالص پور میں 23؍ مارچ 1946ءکو پیدا ہوئے۔ و الدین نے مکمل اسلامی طرز پر تربیت کا فریضۂ خیر انجام دیا۔ ابتدائی تعلیم کے بعد اعلیٰ تعلیم جامعہ اشرفیہ مبارک پور میں حاصل کی۔ جلالۃ العلم حضور حافظِ ملت کی فیض بخش آغوشِ تربیت میں رہ کر علومِ دینیہ کی تکمیل کی۔ شہزادۂ اعلیٰحضرت حضور مفتیِ اعظم علامہ مصطفیٰ رضا نوریؔ بریلوی سے شرفِ بیعت حاصل کیا۔ اور فیضانِ عزیزی و نوری کے زیرِ سایا آپ نے اپنا رہِ وارِ فکر تبلیغِ دین، تزکیۂ نفس اور طہارتِ قلبی کی طرف موڑا؛ اپنے مواعظِ حسنہ اور ملفوظاتِ عظیمہ کے ذریعہ پوری دنیا میں آپ بے پناہ مقبول ہیں۔ علامہ قمر الزماں اعظمی صاحب کی ذات گوناگوں خصوصیات کا عطر مجموعہ ہے۔ آپ صاحبِ قلم بھی ہیں اور شعلہ بیان مقرر بھی۔ مفکر و مدبر بھی اور بافیض معلم و ادیب بھی۔ ساتھ ہی ساتھ بلند پایہ شاعر بھی…… آپ کی شاعری کا مجموعہ ’’خیابانِ مدحت‘‘ کے نام سے مکتبۂ طیبہ، سنی دعوتِ اسلامی ممبئی کے زیراہتمام 2007ء میں طبع ہو کر منصہ شہود پر جلوہ گر ہو چکا ہے۔ اس مجموعۂ کلام میں حمد و مناجات، نعت و سلام اور مناقب و منظومات شامل ہیں۔ 104؍ صفحات پر مشتمل یہ مجموعۂ کلام علامہ قمر الزماں اعظمی صاحب کی وارداتِ قلبی کا اظہاریہ ہے۔ اس میں شامل کلام میں شعر کی تینوں خصوصیات سادگی، اصلیت اور جوش بہ درجۂ اتم موجود ہیں۔ جو اس امر پر دلالت کرتی ہیں کہ شاعرِ محترم کی فکر و نظر میں وسعت اور بانکپن ہے، اور یہ بھی واضح ہو تا ہے کہ علامہ قمر الزماں اعظمی صاحب نے عشقِ رسول صلی اللہ علیہ و سلم کے اظہار و بیان کے لیے اپنی شاعری کو محض عقیدت و محبت کا آئینہ دار نہیں بنا یا ہے بل کہ آپ کے کلام میں شعری و فنی محاسن کی تہہ داریت ہے جو بڑی پُر کشش اور دل آویز ہے۔ آپ کے شعروں میں داخلیت کا حسن اور خارجیت کا پھیلا و دونوں موجود ہے۔ لفظیات میں تنوع اور بلا کی گہرائی و گیرائی ہے، آپ کا سلیقۂ بیان عمدہ اور دل نشین ہے جو قاری کو اپنی گرفت میں لیتا ہوا نظر آتا ہے۔ عقیدت و محبت کے ساتھ شعریت اور فنی محاسن کی سطح پر بھی آپ کے کلام میں ایک سچی اور باکمال شاعری کی جو خوب صورت پرچھائیاں ابھرتی ہیں وہ متاثر کن اور بصیرت نواز ہیں۔ [1]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. تجلیاتِ قمر:2011ء، مطبوعہ ممبئی اندیا

بیرونی روابط[ترمیم]