شبیر احمد عثمانی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search


شبیر احمد عثمانی
شبیر احمد عثمانی

معلومات شخصیت
پیدائش 6 اکتوبر 1886  ویکی ڈیٹا پر تاریخ پیدائش (P569) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
بجنور  ویکی ڈیٹا پر مقام پیدائش (P19) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
وفات 13 دسمبر 1949 (63 سال)  ویکی ڈیٹا پر تاریخ وفات (P570) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
بہاولپور، ریاست بہاولپور  ویکی ڈیٹا پر مقام وفات (P20) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
شہریت Flag of India.svg بھارت
British Raj Red Ensign.svg برطانوی ہند  ویکی ڈیٹا پر شہریت (P27) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
جماعت جمیعت علمائے اسلام  ویکی ڈیٹا پر سیاسی جماعت کی رکنیت (P102) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
عملی زندگی
تلمیذ خاص مولانا غلام غوث ہزاروی  ویکی ڈیٹا پر شاگرد (P802) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
پیشہ سیاست دان  ویکی ڈیٹا پر پیشہ (P106) کی خاصیت میں تبدیلی کریں

ولادت[ترمیم]

علامہ عثمانی 10 محرم الحرام 1302ھ بمطابق 1885ء کو پردہ عدم سے ظہور میں آئے۔

تعلیم[ترمیم]

علامہ عثمانی محمود الحسن کے تلامذہ میں سے تھے۔ 1325ھ بمطابق 1908ء میں دار العلوم دیوبند سے فارغ التحصیل ہوئے۔ دورہ حدیث کے تمام طلبہ میں فرسٹ آئے۔

تدریس[ترمیم]

فراغت کے بعد دارالعلوم دیوبند میں فی سبیل اللہ پڑھاتے رہے۔ متوسط کتابوں سے لے کر مسلم شریف اور بخاری شریف کی تعلیم دی۔ مدرسہ فتح پور دلی تشریف لے گئے اور وہاں صدر مدرس مقرر ہوئے۔

ڈابھیل[ترمیم]

1348ھ بمطابق 1930ء میں آپ جامعہ اسلامیہ ڈابھیل تشریف لے گئے اور وہاں تفسیر و حدیث پڑھاتے رہے۔

مناصب[ترمیم]

1354ھ بمطابق 1936ء میں دار العلوم دیوبند میں صدر مہتمم کی حیثیت سے فرائض انجام دیتے رہے۔

مشہور تلامذہ[ترمیم]

آپ کے ممتاز تلامذہ میں

خاص طور پر قابل ذکر ہیں۔

تصانیف[ترمیم]

آپکی متعدد تصانیف ہیں، جن میں قرآن کریم کی تفسیر عثمانی اور مسلم شریف کی نامکل شرح فتح الملہم زبردست علمی شاہ کار ہے۔ اس کے علاوہ اعجاز القرآن، اسلام کے بنیادی عقائد، العقل و النقل، فضل الباری شرح صحیح بخاری، الشباب اور مجموعہ رسائل ثلاثہ آپ کے علمی شاہکار ہیں۔

اہم کارنامے[ترمیم]

  • آپ کی تمام زندگی خدمت اسلام میں گزری اور آپ کے کردار نے مسلمانوں میں زندگی کی روح دوڑادی۔
  • سیاسی اور ملکی خدمات میں آپ نے بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔
  • تحریک خلافت میں آپ جمیعت علمائے ہند کی مجلس عامہ کے زبردست رکن تھے۔
  • مسلم لیگ میں شریک ہو کر تحریک پاکستان کو تقویت بخشی اور ایک جماعت “جمیعت علمائے اسلام“ کے نام سے تشکیل دی جس کے پہلے صدر آپ منتخب ہوئے۔
  • کشمیر کی جدوجہد آزادی میں بھی نمایاں حصہ لیا۔
  • پاکستان کی قومی اسمبلی کے ارکان ہونے کے باعث آپ نے پاکستان کی دستور ساز اسمبلی میں قانون اسلامی کی تجویز “قرارداد مقاصد“ کے نام سے پاس کرائی۔

غرض یہ کہ تحریک پاکستان میں اگر ایک طرف دنیاوی حیثیت کے لوگوں کی خدمات ہیں تو دوسری طرف اتنی ہی علامہ شبیر احمد عثمانی کی دینی خدمات ہیں۔

وفات[ترمیم]

13 دسمبر 1949ء بمطابق 22 صفرالمظفر 1369ھ کو گیارہ بج کر چالیس منٹ پر بروز منگل 64 سال کی عمر میں خالق حقیقی سے جاملے۔[1]

نگار خانہ[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. ابو محمد مولانا ثناء اللہ سعد شجاع آبادی۔ علمائے دیوبند کے آخری لمحات (Urdu زبان میں)۔ مکتبہ رشیدیہ، سہارنپور۔ صفحہ 66-69۔