زین العابدین سجاد میرٹھی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
زین العابدین سجاد میرٹھی
معلومات شخصیت
پیدائش سنہ 1910  ویکی ڈیٹا پر (P569) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
میرٹھ  ویکی ڈیٹا پر (P19) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
وفات سنہ 1991 (80–81 سال)  ویکی ڈیٹا پر (P570) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
میرٹھ  ویکی ڈیٹا پر (P20) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
شہریت British Raj Red Ensign.svg برطانوی ہند (–14 اگست 1947)
Flag of India.svg بھارت (26 جنوری 1950–)
Flag of India.svg ڈومنین بھارت (15 اگست 1947–26 جنوری 1950)  ویکی ڈیٹا پر (P27) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
عملی زندگی
مادر علمی جامعہ الٰہ آباد
دار العلوم دیوبند  ویکی ڈیٹا پر (P69) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
پیشہ ورانہ زبان اردو  ویکی ڈیٹا پر (P1412) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
P islam.svg باب اسلام

زین العابدین سجاد میرٹھی (1910–1991) ایک ہندوستانی عالم دین اور مؤرخ تھے۔ وہ جامعہ ملیہ اسلامیہ کے شعبہ اسلامک اسٹڈیز کے صدر بھی رہے۔ ان کی مشہور کتاب "تاریخ ملت" دار العلوم دیوبند اور اس سے منسلک مدارس میں داخل نصاب ہے۔

سوانح[ترمیم]

زین العابدین سجاد میرٹھی 1910 میں میرٹھ میں پیدا ہوئے۔[1] ان کی ابتدائی تعلیم دار العلوم میرٹھ اور جامعہ امداد الاسلام میرٹھ میں ہوئی۔انہوں نے جامعہ الٰہ آباد سے عربی ادب میں بی۔اے کیا اور دار العلوم دیوبند میں انور شاہ کشمیری اور حسین احمد مدنی سے حدیث پڑھی اور 1346 ہجری میں فارغ التحصیل ہوئے۔[2][3] زین العابدین سجاد میرٹھی تصوف میں محمود حسن دیوبندی کے برادر نسبتی عبد المومن دیوبندی کے خلیفہ تھے۔[3]

تاجور نجیب آبادی کی درخواست پر میرٹھی، ان کے مجلہ ادبی دنیا کےجوائنٹ ایڈیٹر بنے اور دو سال تک اس سے منسلک رہے۔[1] بعد میں وہ ندوتہ المصنفین میں شامل ہوئے۔[1]میرٹھی جامعہ ملیہ اسلامیہ میں محمد مجیب کے حسب ایما، تفسیر و تاریخ کے پروفیسر مقرر ہوئے۔[2] وہ جمعیت علمائے ہند کی ایکزیکیوٹیو کونسل،ندوتہ العلماء کی مجلس شوری اور جامعہ علی گڑھ کی تھیولاجی فیکلٹی کے رکن تھے۔[3] انہوں نے 1957 سے 1964 تک میرٹھ سے ماہ نامہ الحرم شائع کیا۔[4] میرٹھی 1962 سے اپنی وفات تک دار العلوم دیوبند کی شوری کے رکن رہے۔[2] زین العابدین سجاد میرٹھی کا 1991 میں میرٹھ، اترپردیش میں انتقال ہوا۔[1][2]

تصانیف[ترمیم]

زین العابدین کی تصانیف:[3]

  • تاریخ ملت۔ یہ کتاب دار العلوم دیوبند اور اس سے منسلک کئی مدارس میں داخل نصاب ہے۔[1]
  • بیان اللسان
  • قاموس القرآن[5]
  • انتخاب صحاح ستہ
  • سیرت طیبہ
  • شہید کربلا
  • عربی بول چال

حوالہ جات[ترمیم]

  1. ^ ا ب پ ت ٹ نایاب حسن قاسمی. "مولانا قاضی زین العابدین سجاد میرٹھی". دار العلوم کا صحافتی منظر نامہ. دیوبند: ادارہ تحقیق اسلامی. صفحات 195–197. 
  2. ^ ا ب پ ت اسیر ادروی. "قاضی زین العابدین میرٹھی". کاروان رفتہ (ایڈیشن اول، 1994). دیوبند: دار المولفین. صفحہ 105. 
  3. ^ ا ب پ ت سید محبوب رضوی. History of the Dar al-Ulum, Deoband [تاریخ دار العلوم دیوبند] (بزبان انگریزی). 2 (ایڈیشن اول، 1981). دار العلوم دیوبند. صفحات 36, 114–116. 
  4. جاوید اشرف قاسمی. "اسلامی صحافت میں حصہ". فیضان دار العلوم دیوبند. میوات: مدرسہ ابی ابن کعب. صفحہ 189. اخذ شدہ بتاریخ 28 اپریل2021. 
  5. اسیر ادروی. "قاموس القرآن". دبستان دیوبند کی علمی خدمات (ایڈیشن اکتوبر 2013). دیوبند: دار المولفین. صفحات 51–53.