تاریخ ملت

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search

تاریخ ملت تاریخ اسلام پر ایک مفصل و جامع تاریخ ہے جو مفتی انتظام اللہ شہابی اکبرآبادی (متوفی: 8 ستمبر 1969ء) اور مفتی زین العابدی سجاد میرٹھی کی مشترکہ کاوش ہے۔یہ کتاب تاریخ اسلام سے ماقبل اور مابعد مغلیہ سلطنت کے آخری تاجدار بہادر شاہ ظفر کے عہدِ حکومت تک یعنی 1857ء اور پھر سلطنت عثمانیہ کے سقوط یعنی 1924ء تک تاریخ کا اَحاطہ کرتی ہے۔

خصوصیات[ترمیم]

یہ کتاب اسلوبِ بیان کے حوالے سے ایک منفرد و نمایاں نمائندہ کتاب ہے۔ تاریخ اسلام پر جس قدر کتب ہائے تاریخ لکھی گئی ہیں، اُن کا اِختتام خلافت عباسیہ کے زوال و سقوط یعنی 1258ء پر ہوتا ہے۔اور پھر سلطنت عثمانیہ کے سقوط یعنی 1924ء تک تاریخ کا اَحاطہ کرتی ہے۔اِس کے برعکس اِس کتاب میں سقوط خلافت عباسیہ کے بعد قائم ہونے والی سلطنتوں، مملکتوں کا تفصیلی احاطہ کیا گیا ہے، اگر کہیں سرسری تذکرہ ہوا ہے تو اُس کے مقابلے میں کہیں کہیں تفصیل واقعات کی طویل بیان کردی گئی ہے۔ اہم واقعات کا خلاصہ چند صفحات میں کر دیا گیا ہے۔ اِس کتاب میں تفصیل کے ساتھ جو یکساں انداز میں برقرار ہے، تاریخ اسلام سے ماقبل و مابعد، خلفائے راشدین، تاریخ بنو اُمیہ، تاریخ خلافت عباسیہ سے لے کر ہندوستان میں دہلی سلطنت سے قبل اور بعد میں مغلیہ سلطنت سے لے کر آخری تاجدارِ مغلیہ بہادر شاہ ظفر تک کے واقعات کو مستند حوالہ جات کے ساتھ پیش کیا گیا ہے۔

تاریخ ملت کی نمایاں و جامع خصوصیات یہ ہیں:[ترمیم]

  • تاریخ عالم قبل از اسلام سے لے کر آخری تاجدارِ مغلیہ سلطنت بہادر شاہ ظفر تک اسلام کی تیرہ سو سالہ مکمل تاریخ بیان کی گئی ہے۔ یہ مکمل تاریخ کل اڑھائی ہزار صفحات کا اَحاطہ کرتی ہے۔
  • اس کتاب میں ہر حکمران کی سیرت، سوانح اور کردار کو بیان کیا گیا ہے، علاوہ ازیں حکمرانوں کے عہدہائے سلطنت کے واقعات کو کہیں مفصل انداز سے کہیں مختصراً بیان کر دیا گیا ہے۔
  • اہم حکمرانوں کے نظام ہائے سلطنت اور ملک ہائے سلطنت کی عمومی حالت کا سیرحاصل تجزیہ کیا گیا ہے۔
  • اِس کتاب کی زبان سلیس و سادہ ہے جبکہ اندازِ بیان عام فہم ہے۔
  • اِس کتاب میں سلطنتوں، افرادہائے سلطنت کی کامیابیوں پر وضاحت سے لکھا گیا ہے جبکہ کمزور حکمرانوں اور کمزور جانشینوں کی ناکامیوں کے اَسباب بھی تحریر کیے گئے ہیں۔
  • ہر عہدِ حکومت کے دِلچسپ، نادر اور نایاب واقعات کو بیان کی گیا ہے۔
  • ہر دور کے ممتاز ترین علمائے کرام،  فقہائے کرام،  محدثین عظام، شعرا اور دیگر فنون کے ماہرین کا تعارف پیش کیا گیا ہے۔ علاوہ اَزیں اُن کے کارہائے نمایاں اور مختصر حالات ہائے زِندگی بھی لکھے گئے ہیں۔
  • سلطنتوں، مملکتوں کے نقشے پہلی بار اِس تاریخی کتاب میں جمع کیے گئے ہیں۔
  • خلفاء، حکمرانوں، سلاطین اور شہنشاہوں کے شجرہ ہائے نسب کے جداول پیش کیے گئے ہیں۔
  • مختلف اَدوار میں علمی ترقیوں کا اَحوال لکھا گیا ہے اور ضمناً علوم و فنون کی تاریخ بھی لکھی گئی ہے۔
  • مستند اور معروف تاریخی کتب سابقہ کے مکمل حوالہ جات لکھے گئے ہیں۔

پہلی جلد[ترمیم]

جلد اَول کے کل صفحات 876 ہیں۔ اِس جلد کے مندرجات یہ ہیں کہ:

مختصر دیباچہ کے بعد جزیرۂ عرب اور صحرائے عرب میں آباد قبائل اور اُن کے تہوار پر مختصراً لکھا گیا ہے۔ بعد ازاں پیغمبر اکرم محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات مبارکہ (571ء تا 632ء)، خلفائے راشدین کی مکمل تفصیل، عہدِ خلفائے راشدین میں ہونے والی فتوحات (632ء تا 661ءحکومت بنو اُمیہ، حکومت بنو اُمیہ میں مسلم علاقوں کی فتوحات (661ء تا 750ءاندلس میں مسلم فتوحات، خلافت قرطبہ (929ء تا 1031ء) اور تاریخ غرناطہ پر بحث کی گئی ہے۔[1]

دوسری جلد[ترمیم]

جلد دؤم کے کل صفحات 956 ہیں اور اِس کے مندرجات یوں ہیں کہ:

خلافت عباسیہ (750ء تا 1258ءصفوی سلطنت اور شاہانِ فارس کا تذکرہ، دولت فاطمیہ اور اُس کے حکمرانوں کا تذکرہ، مصر کی قدیم تاریخ، مغربِ اقصیٰ کی تاریخ، طرزہائے تعمیر و ہیئت عمارات، مصر کے والیانِ بنو اُمیہ، مصر کے والیانِ عباسیہ، مصر کے ملوک ہائے اغالبہ، اغالبہ کے بحری غزوات، انتطام ہائے سلطنت، علوم و فنون اور صنعت، مراکش میں حکومت مکناسیہ صافیہ، دولت طولونیہ (868ء تا 905ءامارت صقلیہ (831ء تا 1072ء)، دعوت اسماعیلیہ، دولت اخشیدیہ (935ء تا 969ءبغداد سے خلفائے عباسیہ کا قاہرہ میں وَرود اور خلفائے عباسیہ کی مصر میں حکومت (1261ء تا 1517ء[2]

تیسری جلد[ترمیم]

تیسری جلد کے کل صفحات کی تعداد860 ہیں، اِس کے مندرجات یوں ہیں:

سلطنت عثمانیہ (1299ء تا 1924ء)، سلاطین عثمانیہ کی مفصل تاریخ و تذکرہ، دہلی سلطنت اور ہندوستان میں مسلم فتوحات، ہندوستان میں مغلیہ سلطنت اور سقوط کی تفصیل پر بحث کی گئی ہے۔[3]

مزید دیکھیے[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. تاریخ ملت: جلد اول، صفحہ 5 تا 18۔
  2. تاریخ ملت: جلد دؤم، صفحہ 3 تا 26۔
  3. تاریخ ملت: جلد سوم، صفحہ 3 تا 18۔