سلطنت دہلی
سلطنت دہلی سلطنت دهلی (فارسی) | |||||||||||||||||||||||||
|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|
| 1206ء–1526ء | |||||||||||||||||||||||||
| حیثیت | سلطنت | ||||||||||||||||||||||||
| دار الحکومت | |||||||||||||||||||||||||
| سرکاری زبانیں | |||||||||||||||||||||||||
| مذہب | سرکاری مذہب سنی اسلام دیگر ہندو مت (اکثریت)، جین مت، بدھ مت، مسیحیت، سکھ مت، زرتشتیت | ||||||||||||||||||||||||
| حکومت | سلطنت | ||||||||||||||||||||||||
| سلطان | |||||||||||||||||||||||||
• 1206ء–1210ء | قطب الدین ایبک (پہلا) | ||||||||||||||||||||||||
• 1517ء–1526ء | ابراہیم لودھی (آخری) | ||||||||||||||||||||||||
| مقننہ | ترکان چہل گانی (1211ء–1266ء) | ||||||||||||||||||||||||
| تاریخی دور | قرون وسطی کا ہندوستان | ||||||||||||||||||||||||
| 25 جون 1206ء | |||||||||||||||||||||||||
| 1 فروری – 13 جون 1290ء | |||||||||||||||||||||||||
| 6 ستمبر 1320ء | |||||||||||||||||||||||||
| 17–20 دسمبر 1398ء | |||||||||||||||||||||||||
| 21 اپریل 1526ء | |||||||||||||||||||||||||
| رقبہ | |||||||||||||||||||||||||
| 1250ء | 1,300,000[12] کلومیٹر2 (500,000 مربع میل) | ||||||||||||||||||||||||
| 1300ء | 1,500,000[12] کلومیٹر2 (580,000 مربع میل) | ||||||||||||||||||||||||
| 1312ء | 3,200,000[13] کلومیٹر2 (1,200,000 مربع میل) | ||||||||||||||||||||||||
| 1350 | 2,800,000[12] کلومیٹر2 (1,100,000 مربع میل) | ||||||||||||||||||||||||
| آبادی | |||||||||||||||||||||||||
• 1500ء تخمینہ | 101،000،000[14] | ||||||||||||||||||||||||
| کرنسی | ٹکہ | ||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||
| موجودہ حصہ | |||||||||||||||||||||||||
| جنوبی ایشیا کی تاریخ کا خاکہ |
|---|
سلطنتِ دہلی اواخر قرونِ وسطی کی ایک سلطنت تھی جس کا مرکز بنیادی طور پر دہلی تھا اور جو تین صدیوں سے زیادہ عرصے تک برصغیر کے وسیع علاقوں پر پھیلی رہی۔ یہ سلطنت 1206ء میں ہندوستان میں سابقہ غوری سلطنت کے علاقوں پر قائم ہوئی۔ عمومی طور پر اس کی تاریخ کو پانچ ادوار میں تقسیم کیا جاتا ہے: مملوک (1206ء تا 1290ء)، خلجی (1290ء تا 1320ء)، تغلق (1320ء تا 1414ء)، سید (1414–1451) اور لودی (1451ء تا 1526ء)۔ اس کے زیرِ نگیں موجودہ بھارت، پاکستان، بنگلہ دیش کے بڑے خطے اور جنوبی نیپال کے کچھ علاقے شامل تھے۔
سلطنت کی بنیاد فاتح محمد غوری نے رکھی جنھوں نے 1192ء میں ترائن کے نزدیک ایک لڑائی میں اجمیر کے راجا پرتھوی راج چوہان کی قیادت میں قائم راجپوت جتھہ بندی کو شکست دی۔ غوری سلطنت کی جانشین کے طور پر سلطنت دہلی ابتدا میں ان مختلف ریاستوں میں سے ایک تھی جن پر محمد غوری کے ترک غلام جرنیل حکمرانی کرتے تھے، جن میں تاج الدین یلدز، قطب الدین ایبک، بہاء الدین طغرل اور ناصر الدین قباچہ شامل تھے اور جنھوں نے غوریوں کے علاقوں کو آپس میں تقسیم کر لیا تھا۔ بعد کے خلجی اور تغلق ادوار میں مسلمان افواج نے تیزی سے دکن اور جنوبی ہند تک فتوحات حاصل کیں۔ تغلقوں کے زمانے میں خصوصاً محمد بن تغلق کے عہد میں سلطنت نے اپنی جغرافیائی وسعت کی بلند ترین حد کو چھوا اور برصغیر کے بیشتر حصے اس کے ما تحت آئے۔ چودھویں صدی عیسوی کے آخر میں وسطی ایشیا کے بادشاہ تیمور کے 1398ء میں دہلی پر تباہ کن حملے کے بعد شمالی ہند میں ایک بڑی سیاسی تبدیلی رونما ہوئی۔ اس کے فوراً بعد ہندو طاقتیں جیسے وجے نگر سلطنت اور میواڑ کی ریاست دوبارہ مضبوط ہو کر سامنے آئیں جبکہ مسلم سلطنتیں جیسے بنگالہ اور بہمنی سلطنت بھی الگ ہو گئیں۔ آخرکار 1526ء میں تیموری حکمران بابر نے شمالی ہندوستان پر حملہ کر کے سلطنت دہلی کو فتح کر لیا اور اس کی جگہ مغلیہ سلطنت قائم ہوئی۔
سلطنت دہلی کے قیام سے برصغیر اسلامی دنیا کے بین الاقوامی اور کثیر الثقافتی معاشرتی اور معاشی نیٹ ورک سے زیادہ مضبوطی سے جڑ گیا جس کی واضح مثالیں ہندوستانی زبان کی تشکیل اور ہندو۔اسلامی طرزِ تعمیر کی نشو و نما ہیں۔ یہ چند طاقتوں میں سے ایک تھی جس نے منگولوں (خانانِ چغتائی) کے متعدد حملوں کو پسپا کیا۔ اسی دور میں اسلامی تاریخ کی چند خواتین حکمرانوں میں سے ایک رضیہ سلطانہ بھی تخت نشین ہوئیں جنھوں نے 1236ء سے 1240ء تک حکومت کی۔ سلطنت کے دور میں ہندوؤں، بدھ مت کے پیروکاروں اور دیگر دھارمک مذاہب کے ماننے والوں کی بڑے پیمانے پر جبری تبدیلی مذہب نہیں ہوئی اور ہندو عہدے داروں اور جاگیرداروں کو انتظامیہ میں جگہ بھی دی جاتی رہی۔ تاہم بختیار خلجی کی فتوحات جیسے واقعات میں ہندو اور بدھ عبادت گاہوں کی بڑی سطح پر بے حرمتی اور جامعات و کتب خانوں کی تباہی کی مثالیں موجود ہیں۔ مغربی اور وسطی ایشیا پر منگول حملوں نے صدیوں تک وہاں سے سپاہیوں، علما، صوفیوں، تاجروں، فنکاروں اور دستکاروں کی ہجرت کا راستہ کھولا جس کے نتیجے میں اسلامی تہذیب دیرپا طور پر برصغیر میں قائم ہوئی۔
نام
اگرچہ اسے روایتی طور پر اس کے مرکزی دار السلطنت دہلی کے نام پر موسوم کیا جاتا ہے لیکن سلطنتِ دہلی کے زیرِ اختیار علاقوں کے لیے استعمال ہونے والی اصطلاحات ہمیشہ واضح نہیں تھیں۔ جوزجانی اور برنی نے اسے ”ممالکِ دہلی“ لکھا ہے جبکہ ابنِ بطوطہ نے محمد بن تغلق کے دور کی سلطنت کو ”ہند و سند“ کہا۔ سلطنت دہلی کو ”ممالکِ ہندستان“ کے نام سے بھی جانا جاتا تھا اور یہ نام اسی دور میں رائج ہوا۔
تاریخ
پس منظر
ہندوستان میں سلطنتِ دہلی کا ابھار ایشیا کے بڑے حصے (خاص طور پر جنوبی اور مغربی ایشیا) میں رونما ہونے والے اس وسیع رجحان کا حصہ تھا جس کے تحت وسط ایشیائی چراگاہوں سے ترک خانہ بدوش اقوام مسلسل جنوب کی طرف آ رہی تھیں۔ اس رجحان کا آغاز نویں صدی عیسوی میں ہوا جب مشرقِ وسطیٰ میں اسلامی خلافت بکھرنے لگی تھی۔ اس وقت مختلف مسلم ریاستوں کے حکمران وسط ایشیا کے غیر مسلم ترک خانہ بدوشوں کو غلام بناتے اور انھیں تربیت دے کر وفادار عسکری غلام یعنی مملوک بناتے تھے۔ کچھ ہی عرصے بعد ترک مسلمان علاقوں میں بڑی تعداد میں آنے لگے اور اسلامی معاشروں میں مدغم ہو گئے۔ انہی ترک مملوکوں میں سے متعدد آگے چل کر حکمران بنے، انھوں نے مصر سے موجودہ افغانستان تک وسیع خطوں کو فتح کیا اور مملوک سلطنتیں قائم کیں پھر ان کی توجہ برصغیر کی طرف ہوئی۔
یہ رجحان اسلام کے پھیلاؤ سے بھی قدیم تھا۔ تاریخ میں دوسری مستقر زرعی تہذیبوں کی طرح برصغیر کی بستیاں بھی اپنی طویل مدت میں خانہ بدوش قبائل کے حملوں کا نشانہ بنتی رہی تھیں۔ برصغیر پر اسلامی اثرات کا جائزہ لیتے وقت یہ بات اہم ہے کہ قبل از اسلام شمال مغربی برصغیر وسط ایشیا سے آنے والے حملہ آور قبائل کا مستقل ہدف رہا۔ اس لحاظ سے مسلم مداخلتیں اور بعد کی فتوحات پہلے ہزارے کے قدیم حملوں سے چنداں مختلف نہیں تھیں۔
962ء تک جنوبی ایشیا کی ہندو اور بدھ مملکتوں پر وسط ایشیا سے آنے والی مسلم فوجوں کے اچانک حملے معمول بن چکے تھے۔ انہی حملہ آوروں میں محمود غزنوی بھی شامل تھے جو ایک ترک مملوک عسکری غلام کے بیٹا تھے۔ محمود نے 997ء سے 1030ء کے درمیان دریائے سندھو کے مشرق سے دریائے یمنا کے مغرب تک شمالی ہندوستان کی مملکتوں پر سترہ حملے کیے۔ وہ خزانے لوٹ کر واپس چلے جاتے تھے اور صرف مغربی پنجاب تک اسلامی حکومت قائم کر سکے۔
محمود غزنوی کے بعد بھی شمالی اور مغربی ہندوستان کی مملکتوں پر مسلم سرداروں کے حملے جاری رہے مگر ان حملوں کے ذریعے وہ اسلامی سلطنتوں کی مستقل سرحدیں قائم نہیں کرسکے تھے۔ اس کے برعکس غوری سلطان معز الدین محمد غوری نے 1173ء میں باقاعدہ وسعت پذیری کی مہم شمالی ہندوستان میں شروع کی۔ وہ اپنے لیے ایک مستحکم ریاست قائم کرنا چاہتے تھے اور اسلامی دنیا کی حدود کو وسیع کرنا چاہتے تھے۔ انھوں نے دریائے سندھو کے مشرق میں اپنی سنی اسلامی حکومت قائم کی اور اسی بنیاد پر آگے چل کر سلطنت دہلی کی تشکیل ہوئی۔ بعض مؤرخین سلطنت دہلی کی ابتدا 1192ء سے قرار دیتے ہیں کیونکہ اسی وقت تک محمد غوری کی موجودگی اور علاقائی دعوے جنوبی ایشیا میں مضبوط ہو چکے تھے۔
محمد غوری کو 1206ء میں اسماعیلی شیعہ مسلمانوں نے قتل کیا۔ اس کے بعد ان کے ایک مملوک غلام ترک النسل قطب الدین ایبک نے اقتدار سنبھالا اور پہلے سلطانِ دہلی بن گئے۔
حکمراں خاندان
خاندانِ غلاماں (1206ء–1290ء)
سلطنتِ دہلی کے اولین حکمران قطب الدین ایبک تھے، جو معز الدین محمد غوری کے سابق غلام تھے۔ ایبک ترک النسل، بالخصوص قپچاق کومان خاندان سے تعلق رکھتے تھے اور اسی نسبت سے ان کے خاندان کو مملوک خاندان یا خاندانِ غلاما، کہا جاتا ہے۔ قطب الدین ایبک نے 1206ء سے 1210ء تک چار برس دہلی پر حکمرانی کی۔ معاصر اور بعد کے مورخین نے ان کی سخاوت کی تعریف کی ہے اور اسی وجہ سے انھیں ”لک بخش“ یعنی لاکھوں کا عطا کرنے والا کہا جاتا تھا۔
ایبک کی وفات کے بعد 1210ء میں آرام شاہ نے اقتدار سنبھالا مگر 1211ء میں انھیں قطب الدین ایبک کے داماد شمس الدین التتمش نے قتل کر کے سلطنت پر قبضہ کر لیا۔ التتمش کی حیثیت ابتدا میں کمزور تھی کیونکہ وہ امرا جو قطب الدین ایبک کے حامی تھے، ان کے اقتدار کے مخالف تھے۔ مگر فتوحات اور سخت اقدامات کے ذریعے انھوں نے اپنی جگہ مضبوط کی۔
ان کی سلطنت کو کئی چیلنجوں کا سامنا کرنا پڑا جن میں قباچہ بھی شامل تھا۔ اس کے نتیجے میں متعدد معرکے پیش آئے۔ التتمش نے متنازع مسلم حکمرانوں سے ملتان اور بنگال حاصل کیے اور ہندو حکمرانوں سے رنتھمبور اور شوالک پر قبضہ کیا۔ انھوں نے تاج الدین یلدز کو بھی شکست دے کر قتل کیا جو معز الدین محمد غوری کا جانشین ہونے کا دعوے دار تھا۔ التتمش کی حکمرانی 1236ء تک جاری رہی۔ ان کے انتقال کے بعد سلطنتِ دہلی کمزور حکمرانوں، باہمی جھگڑوں، قتل و انتقام اور مختصر دورانیے کی حکومتوں سے گذری۔ رکن الدین فیروز سے لے کر رضیہ سلطانہ اور دیگر حکمرانوں تک اقتدار گردش میں رہا یہاں تک کہ غیاث الدین بلبن 1266ء میں تخت نشین ہوئے اور 1287ء تک حکومت کرتے رہے۔
غیاث الدین بلبن نے ”ترکان چہل گانی“ کی اس با اثر انجمن کو توڑ دیا جو بادشاہ گر کا کردار ادا کرتی تھی اور سلطان سے الگ اپنی حیثیت رکھتی تھی۔ ان کے بعد 17 برس کے معز الدین کیقباد تخت پر بیٹھے، جنوں نے جلال الدین فیروز خلجی کو سپہ سالار مقرر کیا۔ خلجی نے کیقباد کو قتل کر کے اقتدار سنبھالا اور خلجی انقلاب کے ذریعے مملوک خاندان کا خاتمہ کر کے خلجی خاندان کی بنیاد رکھی۔
قطب الدین ایبک نے قطب مینار کی تعمیر شروع کی تھی مگر تکمیل سے پہلے وفات پا گئے۔ بعد میں ان کے داماد التتمش نے اسے مکمل کیا۔ قوت الاسلام مسجد بھی ایبک ہی کی تعمیر ہے، جو آج یونیسکو کے عالمی ورثے میں شامل ہے۔ قطب مینار کے مجموعے میں بعد میں التتمش اور پھر چودھویں صدی عیسوی کے اوائل میں علا الدین خلجی نے مزید توسیع کی۔ مملوک دور میں مغربی ایشیا پر منگول حملوں کے باعث افغانستان اور ایران سے بہت سے امرا ہندوستان آ کر آباد ہوئے۔
خلجی خاندان (1290ء–1320ء)
خلجی خاندان ترک و افغان پس منظر رکھتا تھا۔ وہ اصل میں نسلاً ترک تھے لیکن افغانستان میں طویل اقامت اور مقامی عادات و اطوار اختیار کرنے کی وجہ سے دوسرے لوگ انھیں افغان سمجھنے لگے تھے۔
خلجی خاندان کے پہلے فرمانروا جلال الدین فیروز خلجی تھے۔ تخت نشینی کے وقت ان کی عمر تقریباً ستر برس تھی اور وہ عام لوگوں میں نرم مزاج، حلیم اور شریف حکمران کے طور پر پہچانے جاتے تھے۔ جلال الدین خلجی نے چھ برس حکومت کی پھر 1296ء میں سمانہ کے محمد سلیم نے ان کا قتل کیا۔ یہ قتل ان کے بھتیجے اور داماد جونہ محمد خلجی کے حکم پر ہوا جو بعد میں علاء الدین خلجی کے نام سے معروف ہوئے۔
علاء الدین نے اپنی عسکری زندگی کا آغاز صوبہ کَڑہ کے گورنر کی حیثیت سے کیا۔ یہاں سے انھوں نے 1292ء میں مالوہ اور 1294ء میں دیوگیری پر دو بڑے حملے کیے اور لوٹ کا سامان حاصل کیا۔ تخت پر بیٹھنے کے بعد انھوں نے انہی سلطنتوں کی سمت فتوحات دوبارہ شروع کیں۔ گجرات کو ان کے وزیر اعظم نصرت خاں جلیسری نے فتح کیا مالوہ کو عین الملک ملتانی نے سرنگوں کیا اور راجپوتانہ کو بھی مطیع کیا گیا۔ مگر یہ کامیابیاں منگول حملوں کی وجہ سے کچھ عرصے کے لیے رُک گئیں۔ منگول لٹے پٹے واپس چلے گئے اور شمال مغربی علاقوں پر چھاپہ زنی سے باز آ گئے۔
منگولوں کے ہٹتے ہی علاء الدین خلجی نے اپنے ہندوستانی غلام سپہ سالاروں مثلاً ملک کافور اور خسرو خاں کی مدد سے جنوب کی طرف پیش قدمی جاری رکھی۔ انھوں نے فتوحات سے بڑی مقدار میں مالِ غنیمت حاصل کیا۔ ان کے سالار جنگی مال جمع کرتے اور غنیمت کا شرعی حصہ ادا کرتے جس سے سلطنت کی طاقت بڑھی۔ انہی غنائم میں ورنگل کی لوٹ کا سامان بھی شامل تھا، جس میں مشہور کوہ نور ہیرا بھی تھا۔
علاء الدین نے محصولات کا نظام بدل دیا۔ زرعی محصول بیس فیصد سے بڑھا کر پچاس فیصد کر دیا جو اناج اور پیداوار کی صورت میں وصول ہوتا تھا۔ مقامی سرداروں کی اجرتیں اور کمیشن ختم کر دیے۔ اپنے افسروں کے میل جول اور امرا کے باہمی شادی کی ممانعت کی تاکہ مخالفت کے امکانات نہ رہیں۔ انھوں نے افسران، شعرا اور علما کی تنخواہیں بھی کم کر دیں۔ ان مالیاتی اقدامات سے خزانہ مضبوط ہوا اور وہ اپنی بڑھتی ہوئی فوج کا خرچ پورا کرنے کے قابل ہوئے۔ انھوں نے تمام اجناس اور اشیائے ضرورت پر نرخ مقرر کر دیے اور یہ بھی طے کیا کہ انھیں کہاں، کیسے اور کس کے ذریعے فروخت کیا جا سکتا ہے۔ اس مقصد کے لیے ”شحنۂ منڈی“ کے نام سے بازار قائم کیے گئے۔ مسلمان تاجروں کو ان منڈیوں میں خرید و فروخت کے خصوصی اجازت نامے اور اجارہ داری دی گئی۔ کوئی اور شخص نہ کسان سے خرید سکتا تھا نہ شہر میں بیچ سکتا تھا۔ خلاف ورزی کرنے والوں کو سخت سزائیں دی جاتی تھیں، جن میں اکثر اعضا کاٹنے کی سزا بھی شامل تھی۔ اناج کی شکل میں جمع ہونے والے محصولات سرکاری گوداموں میں محفوظ کیے جاتے۔ قحط کے ایام میں یہی ذخیروں پر مبنی اناج فوج کی ضروریات پوری کرتا تھا۔
مورخین کے نزدیک علاء الدین خلجی ایک سخت گیر حکمران تھے۔ جس کسی پر انھیں شبہ ہوتا کہ وہ ان کے اقتدار کے لیے خطرہ ہے، اسے اس کے پورے خاندان سمیت ختم کر دیا جاتا، مرد، عورتیں اور بچے کسی کو نہیں چھوڑا جاتا تھا۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ وہ اپنے بیشتر امرا پر بدگمان ہو گئے تھے اور چند غلاموں اور قریبی رشتہ داروں ہی پر اعتماد رکھتے تھے۔ 1298ء میں دہلی کے قریب پندرہ ہزار سے تیس ہزار تک وہ منگول جو حال ہی میں مسلمان ہوئے تھے، ایک بغاوت کے شبہے میں ایک ہی دن میں قتل کر دیے گئے۔
1316ء میں علاء الدین کی موت کے بعد ان کے ہندو نژاد غلام سپہ سالار ملک کافور نے عملی اقتدار اپنے ہاتھ میں لے لیا اور کمزور حکمران کے نام پر حکومت چلانے لگے۔ انھیں کچھ غیر خلجی امرا جیسے کمال الدین گرگ کی حمایت حاصل تھی، مگر خلجی امرا کی اکثریت نے انھیں قبول نہیں کیا اور بالآخر انہی لوگوں نے انھیں قتل کر دیا۔ نئے حکمران نے پھر ملک کافور کے قاتلوں کو سزائیں دیں۔
خلجی خاندان کے آخری حکمران علاء الدین کے اٹھارہ برس کے بیٹے قطب الدین مبارک شاہ خلجی تھے۔ انھوں نے چار برس حکومت کی پھر خسرو خاں نے انھیں قتل کر دیا۔ خسرو خاں بھی ایک ہندو نژاد غلام سپہ سالار تھے جو بعد میں دوبارہ ہندو عقائد کی طرف لوٹ گئے اور اپنے ہندو برادو قبیلے کو دربار میں ترجیح دینے لگا۔ ان کی حکومت صرف چند مہینے چلی۔ بالآخر غازی ملک جو بعد میں غیاث الدین تغلق کہلائے، نے انھیں شکست دے کر قتل کر دیا اور 1320ء میں تخت سنبھالا۔ اس کے ساتھ ہی خلجی خاندان کا خاتمہ اور تغلق خاندان کا آغاز ہوا۔
تغلق خاندان (1320ء–1413ء)
تغلق خاندان ترک منگول یا ترک النسل مسلمان خاندان تھا جو 1320ء سے 1413ء تک برسرِ اقتدار رہا۔ اس خاندان کے بانی غیاث الدین تغلق تھے۔ انھوں نے پانچ برس حکومت کی اور دہلی کے قریب تغلق آباد کے نام سے ایک نیا شہر آباد کیا۔ ان کے صاحبزادے جونہ خاں اور سپہ سالار عین الملک ملتانی نے جنوبی ہندوستان میں ورنگل کو فتح کیا۔ بعض مؤرخین مثلاً ونسنٹ اسمتھ کے مطابق غیاث الدین تغلق کو انہی کے بیٹے جونہ خاں نے قتل کروایا جس کے بعد 1325ء میں جونہ خان تخت نشین ہوئے۔
جونہ خاں نے اپنا نام محمد بن تغلق رکھا اور چھبیس برس تک حکومت کی۔ ان کے عہد میں سلطنتِ دہلی جغرافیائی وسعت کے اعتبار سے اپنی انتہا کو پہنچ گئی اور برصغیر کے بیشتر حصے اس کے زیرِ نگیں آ گئے۔
محمد بن تغلق غیر معمولی ذہانت کے مالک شخص تھے۔ انھیں قرآن، فقہ، شاعری اور دیگر علوم میں گہری دسترس حاصل تھی۔ تاہم وہ اپنے رشتہ داروں اور وزیروں پر شدید بد گمان رہتے تھے، مخالفین کے ساتھ نہایت سختی برتتے تھے اور ایسے فیصلے کرتے تھے جن سے معیشت میں شدید انتشار پیدا ہوا۔ مثال کے طور پر انھوں نے تانبے اور دیگر کم درجے کی دھاتوں کے سکے چاندی کے سکوں کے مساوی قیمت پر جاری کرنے کا حکم دیا۔ یہ تجربہ ناکام ہوا کیونکہ عام لوگوں نے گھروں میں موجود دھاتوں سے جعلی سکے ڈھال لیے اور انہی کے ذریعے محصول اور جزیہ ادا کرنے لگے۔
محمد بن تغلق نے موجودہ مہاراشٹر میں واقع شہر دیوگیری کو (جس کا نام بدل کر دولت آباد رکھا گیا) سلطنتِ دہلی کا دوسرا انتظامی دار الحکومت مقرر کیا۔ انھوں نے دہلی کی پوری مسلم آبادی بشمول شاہی خاندان، امرا، سادات، مشائخ اور علما کو زبردستی دولت آباد منتقل ہونے کا حکم دیا۔ اس اقدام کا مقصد یہ تھا کہ مسلم اشرافیہ کو اپنی عالمگیر فتوحات کے منصوبے میں شریک کیا جائے۔ ان کے نزدیک یہ طبقہ سلطنتی نظریے کے مبلغ کے طور پر کام کر سکتا تھا جبکہ صوفیا اپنے اخلاقی اثر سے دکن کے باشندوں کو اسلام کی طرف مائل کر سکتے تھے۔ جن امرا نے اس حکم کی تعمیل سے انکار کیا انھیں بغاوت کے مترادف جرم کا مرتکب سمجھا گیا اور نہایت بے رحمی سے سزائیں دی گئیں۔ مورخ فرشتہ کے مطابق جب منگول پنجاب تک آ پہنچے تو سلطان نے اشرافیہ کو واپس دہلی بلا لیا اگرچہ دولت آباد بدستور ایک انتظامی مرکز رہا۔ اس جبری منتقلی کا ایک نتیجہ یہ نکلا کہ امرا کے دلوں میں سلطان کے خلاف دیرپا نفرت پیدا ہو گئی۔ دوسرا نتیجہ یہ ہوا کہ دولت آباد میں ایک مضبوط مسلم اشرافیہ وجود میں آ گئی اور وہاں کی مسلم آبادی میں اضافہ ہوا جو واپس دہلی نہ آئی۔ یہی امر بعد میں بہمنی سلطنت کے قیام اور وجے نگر سلطنت کے مقابل آنے کا سبب بنا۔ محمد بن تغلق کی دکن کی مہمات کے دوران مندروں کی توڑ پھوڑ اور تباہی کے واقعات بھی پیش آئے جن میں ورنگل کے سویمبھو شیو مندر اور مندر ہزار ستون کی بے حرمتی شامل تھی۔
محمد بن تغلق کے خلاف بغاوتوں کا آغاز 1327ء میں ہو گیا تھا اور یہ ان کے پورے دورِ حکومت میں جاری رہیں۔ رفتہ رفتہ سلطنت کا دائرہ سکڑتا چلا گیا۔ جنوبی ہندوستان میں وجے نگر سلطنت کا ظہور دراصل سلطنتِ دہلی کے حملوں کے ردِ عمل میں ہوا اور اسی سلطنت نے جنوب کو دہلی کے اقتدار سے آزاد کرایا۔ 1330ء کی دہائی میں محمد بن تغلق نے چین پر حملے کا حکم دیا اور اپنی فوج کا ایک حصہ ہمالیہ کے پار بھیجا مگر وہ کانگڑہ کی ریاست کے ہاتھوں شکست کھا گئے۔ ان کے دور میں 1329ء سے 1332ء تک کم درجے کے سکوں کی پالیسی کے باعث سرکاری آمدنی منہدم ہو گئی اور قحط، غربت اور بغاوتیں عام ہو گئیں۔ 1338ء میں ان کے بھتیجے نے مالوہ میں بغاوت کی جسے سلطان نے گرفتار کر کے زندہ کھال ادھڑوا کر قتل کروایا۔ 1339ء تک مشرقی صوبے (جو مقامی مسلم گورنروں کے زیرِ انتظام تھے) اور جنوبی علاقے (جو ہندو حکمرانوں کے قبضے میں تھے) دہلی سے الگ ہو گئے۔ سلطان کے پاس نہ وسائل بچے تھے اور نہ حمایت کہ وہ اس زوال کو روک سکتے۔ مورخ والفورڈ کے مطابق کم درجے کے سکوں کے تجربے کے بعد کے برسوں میں دہلی اور ہندوستان کے بڑے حصے شدید قحط کا شکار رہے۔ 1335ء میں شمالی ہندوستان کے شہر کیتھل کے رہنے والے سید جلال الدین احسن خان نے بغاوت کر کے جنوبی ہندوستان میں سلطنت معبر قائم کی۔ 1347ء میں اسماعیل مُخ کی بغاوت کے نتیجے میں بہمنی سلطنت ایک آزاد ریاست کے طور پر ابھری جس کی بنیاد علاء الدین بہمن شاہ نے رکھی اور یہ دکن میں ایک طاقتور مسلم سلطنت بن گئی۔
محمد بن تغلق 1351ء میں گجرات میں باغیوں کا تعاقب کرتے ہوئے وفات پا گئے۔ ان کے بعد فیروز شاہ تغلق 1351ء سے 1388ء تک حکمران رہے۔ انھوں نے پرانی سرحدیں بحال کرنے کی کوشش کی اور 1359ء میں گیارہ ماہ تک بنگال سے جنگ کی مگر کامیابی حاصل نہ ہو سکی۔ فیروز شاہ کا عہد مجموعی طور پر خوش حالی کا زمانہ سمجھا جاتا ہے، جس میں ان کے قابل وزیرِ اعظم خانِ جہاں مقبول (جو جنوبی ہندوستان کے تیلگو مسلمان تھے) کا بڑا ہاتھ تھا۔ انھوں نے نہری نظام کے ذریعے دریائے یمنا سے آب پاشی کا انتظام کرایا تاکہ قحط کم ہوں۔ فیروز شاہ ایک تعلیم یافتہ سلطان تھے اور انھوں نے اپنی یادداشتیں بھی تحریر کیں۔ ان میں انھوں نے لکھا کہ انھوں نے تشدد کی انتہائی سزائیں جیسے اعضا کاٹنا، آنکھیں نکالنا، زندہ چیرنا، ہڈیاں توڑنا، گلے میں پگھلا ہوا سیسہ ڈالنا اور جسم کو آگ لگانا ممنوع قرار دے دیا تھا۔ انھوں نے یہ بھی لکھا کہ وہ رافضی شیعہ اور مہدوی فرقوں کی تبلیغ کو برداشت نہیں کرتے تھے اور نہ ان ہندوؤں کو اجازت دیتے تھے جو ان مندروں کی دوبارہ تعمیر کرنا چاہتے تھے جنھیں ان کی فوجوں نے مسمار کیا تھا۔ فیروز شاہ نے اپنی کامیابیوں میں یہ بھی شمار کیا کہ انھوں نے ہندوؤں کو سنی اسلام قبول کرنے کی ترغیب دی اس طرح کہ نئے مسلمان ہونے والوں کو محصول اور جزیے سے مستثنیٰ قرار دیا اور انھیں تحائف اور اعزازات سے نوازا۔ انھوں نے غلاموں کی تعداد میں بھی نمایاں اضافہ کیا جنھیں اسلام قبول کرایا گیا قرآن پڑھایا گیا اور فوج سمیت مختلف محکموں میں تعینات کیا گیا۔ یہ غلام ”غلامانِ فیروز شاہی“ کہلاتے تھے اور ایک اشرافی محافظ دستہ بن گئے، جو بعد میں ریاستی سیاست میں نہایت اثر و رسوخ رکھنے لگا۔ فیروز شاہ کے عہد میں اگرچہ شدید تشدد میں کمی آئی مگر مخصوص طبقات کے خلاف عدم رواداری اور جبر میں اضافہ ہوا جس کے نتیجے میں آبادی کے بڑے حصے نے اسلام قبول کیا۔
فیروز شاہ کی وفات کے بعد سلطنت انتشار کا شکار ہو گئی۔ ان کے پڑپوتے غیاث الدین شاہ ثانی نوجوان اور نا تجربہ کار تھے اور عیش و عشرت میں مبتلا ہو گئے۔ امرا نے ان کے خلاف بغاوت کر کے سلطان اور ان کے وزیر کو قتل کر دیا اور فیروز شاہ کے ایک پوتے ابو بکر شاہ کو تخت پر بٹھایا۔ تاہم غلامانِ فیروز شاہی نے ابو بکر کے خلاف بغاوت کر دی اور ان کی دعوت پر ناصر الدین محمد شاہ کو سلطان بنایا گیا۔ غلامانِ فیروز شاہی کا یہ ادارہ بعد کے سلاطین کے لیے ایک بگاڑ کا سبب بن گیا۔ 1394ء سے 1397ء تک اس خاندان کے دو افراد نے بیک وقت سلطان ہونے کا دعویٰ کیا۔ ایک ناصر الدین محمود شاہ تغلق جو دہلی سے حکومت کرتے تھے اور دوسرے ناصر الدین نصرت شاہ تغلق جو دہلی سے چند میل دور فیروز آباد سے حکمرانی کرتے تھے۔ ان دونوں کے درمیان لڑائی جاری رہی یہاں تک کہ 1398ء میں امیر تیمور نے ہندوستان پر حملہ کیا۔ تیمور جو مغربی مؤرخین میں تیمور لنگ کے نام سے معروف ہیں، تیموری سلطنت کے ترک النسل منگول فرمانروا تھے۔ انھوں نے دہلی سلطنت کے حکمرانوں کی کمزوری اور باہمی جھگڑوں سے فائدہ اٹھاتے ہوئے دہلی پر چڑھائی کی، راستے میں قتل و غارت اور لوٹ مار کرتے ہوئے شہر میں داخل ہوئے۔ دہلی میں ان کے ہاتھوں مارے جانے والوں کی تعداد کے اندازے ایک لاکھ سے دو لاکھ تک لگائے جاتے ہیں۔ تیمور کا ہندوستان پر حکومت کرنے کا کوئی ارادہ نہ تھا۔ انھوں نے علاقوں کو لوٹا، دہلی کو آگ لگائی، پندرہ دن تک قتلِ عام کیا، پھر دولت، مردوں، عورتوں اور بچوں کو غلام بنا کر سمرقند واپس لوٹ گئے۔ سلطنتِ دہلی کے علاقے اس کے بعد بے امنی، افراتفری اور وباؤں کا شکار ہو گئے۔ ناصر الدین محمود شاہ تغلق جو حملے کے وقت گجرات فرار ہو گئے تھے، واپس آ کر رسمی طور پر تغلق خاندان کے آخری حکمران کے طور پر مختلف درباری گروہوں کے سہارے حکومت کرتے رہے۔
سید خاندان (1414ء–1451ء)
سید خاندان کی بنیاد خضر خاں نے رکھی اور اُنھوں نے 1415ء سے 1451ء تک سلطنتِ دہلی پر حکومت کی۔ اس خاندان کے افراد نے اپنے لیے ”سید“ کا لقب اختیار کیا اور یہ دعویٰ کیا کہ وہ فاطمہ زہرا کے ذریعے پیغمبرِ اسلام کے نسب سے تعلق رکھتے ہیں۔ تاہم مؤرخ ابراہم ارالی کے نزدیک خضر خاں کے اس دعوے پر شبہ ہے اور اُن کا خیال ہے کہ خضر خاں کے آبا و اجداد غالباً کسی عرب خاندان سے تعلق رکھتے تھے جو اوائل عہدِ تغلق میں ملتان کے علاقے میں آ کر آباد ہوا تھا اگرچہ وہ اس نسبت کو یقینی نہیں مانتے۔ آشربادی لال شری واستو بھی اسی نوعیت کی رائے رکھتے ہیں۔ رچرڈ ایم ایٹن اور سائمن ڈگبی کے مطابق خضر خاں پنجابی کھوکھر قبیلے کے سردار تھے۔ تیمور کے حملے اور تباہ کاریوں کے بعد سلطنتِ دہلی سخت ابتری کا شکار ہو چکی تھی اور سید خاندان کے دورِ حکومت کے بارے میں معلومات خاصی محدود ہیں۔ این میری شمل کے مطابق اس خاندان کے پہلے حکمران خضر خاں تھے جنھوں نے تیموری سلطنت کے باج گزار کی حیثیت سے اقتدار سنبھالا۔ اُن کے جانشین مبارک خاں نے اپنا لقب مبارک شاہ اختیار کیا، تیمور کے ساتھ اپنے والد کی برائے نام وفاداری ختم کی اور پنجاب میں کھوکھر سرداروں سے کھوئے ہوئے علاقے واپس لینے کی ناکام کوشش کی۔
شمل کے مطابق سید خاندان کے اواخر میں برصغیر میں اسلام کی تاریخ ایک اہم موڑ پر داخل ہوئی۔ پہلے سے غالب سنی فرقے کی بالادستی کمزور پڑنے لگی، شیعہ جیسے دوسرے اسلامی فرقے نمایاں ہونے لگے اور دہلی سے باہر اسلامی تہذیب و ثقافت کے نئے مراکز ابھرنے لگے۔ سید خاندان کے آخری دور میں سلطنتِ دہلی سکڑ کر ایک معمولی طاقت بن چکی تھی۔ آخری سید حکمران عالم شاہ کے زمانے میں شمالی ہندوستان میں ایک مشہور طنزیہ مقولہ رائج ہو گیا کہ ”سلطنت شاه عالم از دلّی تا پالم“ (شاہِ عالم کی سلطنت دہلی سے پالَم تک ہے) یعنی محض تیرہ کلومیٹر تک۔ مؤرخ رچرڈ ایم ایٹن کے مطابق یہ کہاوت اس بات کی علامت تھی کہ وہ سلطنت جو کبھی عظیم ہوا کرتی تھی، ایک مذاق بن کر رہ گئی۔ 1451ء میں سید خاندان کا اقتدار لودی خاندان کے ہاتھوں ختم ہوا جس کے بعد سلطنتِ دہلی میں ایک مرتبہ پھر سیاسی استحکام اور وسعت کی کوششیں شروع ہوئیں۔
لودی خاندان (1451ء–1526ء)
لودی خاندان افغان یا ترک افغان خاندان تھا جس کا تعلق پشتون (افغان) قبیلے لودی سے تھا۔ اس خاندان کے بانی بہلول خاں لودی تھے، جو لودی شاخ کے ایک خلجی تھے۔ انھوں نے اپنی حکومت کا آغاز مسلم سلطنتِ جونپور پر حملے سے کیا تاکہ سلطنتِ دہلی کے اثر و رسوخ کو وسعت دی جا سکے اور وہ ایک معاہدے کے ذریعے جزوی طور پر کامیاب بھی رہے۔ اس کے بعد دہلی سے بنارس تک کا علاقہ (جو اُس وقت صوبہ بنگالہ کی سرحد پر واقع تھا) دوبارہ سلطنتِ دہلی کے زیرِ اثر آ گیا۔
بہلول لودی کی وفات کے بعد اُن کے بیٹے نظام خان بر سرِ اقتدار آئے جنھوں نے اپنا نام سکندر لودی رکھا اور 1489ء سے 1517ء تک حکومت کی۔ سکندر لودی خاندان کے معروف حکمرانوں میں شمار ہوتے ہیں۔ انھوں نے اپنے بھائی باربک شاہ کو جونپور سے بے دخل کیا، اپنے بیٹے جلال خاں کو وہاں کا حکمران مقرر کیا اور اس کے بعد مشرق کی جانب پیش قدمی کرتے ہوئے بہار پر دعویٰ کیا۔ بہار کے مسلم گورنروں نے خراج اور محصول ادا کرنے پر رضامندی ظاہر کی تاہم وہ سلطنتِ دہلی سے عملی طور پر خود مختار ہی رہے۔ سکندر لودی نے خصوصاً متھرا کے اطراف مندروں کی مسماری کی مہم چلائی۔ انھوں نے دار الحکومت اور شاہی دربار کو دہلی سے آگرہ منتقل کیا جو قدیم ہندو شہر تھا اور سلطنتِ دہلی کے ابتدائی دور میں لوٹ مار اور حملوں سے تباہ ہو چکا تھا۔ سکندر لودی کے دور میں آگرہ میں ہند اسلامی طرزِ تعمیر کی عمارتیں تعمیر ہوئیں اور سلطنتِ دہلی کے خاتمے کے بعد مغلیہ دور میں بھی آگرہ کی ترقی کا یہ سلسلہ جاری رہا۔
سکندر لودی 1517ء میں طبعی موت مر گئے، جس کے بعد اُن کے دوسرے بیٹے ابراہیم لودی تخت نشین ہوئے۔ ابراہیم لودی کو افغان اور فارسی امرا، نیز علاقائی سرداروں کی مکمل حمایت حاصل نہ ہو سکی۔ انھوں نے اپنے بڑے بھائی جلال خاں پر حملہ کر کے انھیں قتل کر دیا، جنھیں ان کے والد نے جونپور کا گورنر مقرر کیا تھا اور جنھیں امرا اور سرداروں کی حمایت حاصل تھی۔ ابراہیم لودی اپنی حکومت کو مستحکم کرنے میں ناکام رہے۔ جلال خاں کی ہلاکت کے بعد پنجاب کے گورنر دولت خاں لودی نے مغل شہزادے بابر سے رابطہ کیا اور انھیں سلطنتِ دہلی پر حملے کی دعوت دی۔ 1526ء میں بابر نے پانی پت کی لڑائی میں ابراہیم لودی کو شکست دے کر قتل کر دیا۔ ابراہیم لودی کی موت کے ساتھ ہی سلطنتِ دہلی کا خاتمہ ہو گیا اور اس کی جگہ مغلیہ سلطنت کا قیام عمل میں آیا۔
حکومت اور حکمت عملیاں
مورخ پیٹر جیکسن ’دی نیو کیمبرج ہسٹری آف اسلام‘ میں وضاحت کرتے ہیں کہ ابتدائی سلطنتِ دہلی کا اشرافیہ طبقہ غالب طور پر پہلی نسل کے مہاجرین پر مشتمل تھا جو ایران اور وسط ایشیا سے آئے تھے۔ ان میں فارسی، ترک، غوری اور موجودہ افغانستان کے گرم علاقوں (گرم سیر) سے تعلق رکھنے والے خلج شامل تھے۔
سیاسی نظام
قرونِ وسطیٰ کے مؤرخین عصامی اور برنی کے مطابق سلطنتِ دہلی کی ابتدا غزنوی ریاست سے جڑی ہوئی تھی۔ ان کے نزدیک محمود غزنوی نے دہلی کے حکومتی نظام کی بنیاد رکھی اور بعد کے سلاطین نے اسی نمونے کو اختیار کیا۔ ان تحریروں میں منگول اور ہندو سلطنتوں کو بڑی بیرونی قوتوں کے طور پر دکھایا گیا ہے جب کہ مثالی اسلامی ریاست کی فارسی روایت، اشرافی اقدار اور نظم و ضبط کو غزنوی ریاست میں موجود ایک مثال کے طور پر پیش کیا گیا جسے بعد میں سلطنتِ دہلی نے اپنایا۔ وقت کے ساتھ مختلف مسلم خاندانوں نے ایک ایسا مضبوط مرکزی نظام قائم کیا جو منگول اور ہندو طاقتوں کے خلاف جنگ کے لیے انسانوں اور وسائل کو منظم کرتا تھا۔ اس تصور میں سلطان کو کسی خاص علاقے یا قوم کا حکمران نہیں سمجھا جاتا تھا بلکہ مؤرخین کی نظر میں مسلمان وہ طبقہ تھے جو ریاست کی اصل بنیاد تھے۔ بہت سے مسلم علما کے نزدیک اسلامی دنیا میں کسی بھی حکمران کا بنیادی فرض دین کا تحفظ اور اس کا فروغ تھا۔ اسی لیے سلاطین، اپنے غزنوی اور غوری پیش روؤں کی طرح ایسے مسلمانوں کے خلاف سختی کرتے تھے، جنھیں وہ گمراہ سمجھتے تھے۔ فیروز شاہ نے خاص طور پر اس بات پر زور دیا کہ انھوں نے ایسے گروہوں کے خلاف کارروائی کی۔ اس کے ساتھ ساتھ آزاد ہندو ریاستوں سے خراج وصول کرنا اور حملے کرنا بھی حکومتی پالیسی کا حصہ تھا۔ فیروز شاہ کا خیال تھا کہ ہندوستان ایک مسلم ملک بن چکا ہے، اسی لیے انھوں نے ذمیوں کے بارے میں سخت احکامات جاری کیے۔
جو ہندو ریاستیں اسلامی اقتدار کو مان لیتی تھیں، انھیں مسلم علما کی ایک بڑی تعداد ”محفوظ رعایا“ سمجھتی تھی۔ شواہد سے پتا چلتا ہے کہ چودھویں صدی عیسوی کے دوسرے نصف میں غیر مسلموں پر جزیہ ایک امتیازی محصول کے طور پر عائد کیا گیا لیکن یہ بھی واضح ہے کہ مرکزی حکومت کے مضبوط علاقوں سے باہر اسے پوری طرح نافذ کرنا مشکل تھا۔ سلطنتِ دہلی نے بہت سے معاملات میں پچھلی ہندو ریاستوں کے انتظامی طریقے بھی برقرار رکھے۔ حکومت ہر علاقے پر براہِ راست مکمل اختیار قائم نہیں کرتی تھی بلکہ بعض مفتوح ہندو حکمرانوں کو اندرونی خود مختاری اور اپنی فوج رکھنے کی اجازت دی جاتی تھی۔ اسی وجہ سے ہندو سردار اور اہلکار بھی ریاستی نظام کا حصہ بنے رہے۔
اقتصادی حکمت عملی اور نظم و نسق
سلطنتِ دہلی کی معاشی حکمت عملی سابقہ ہندو ریاستوں کے مقابلے میں زیادہ حکومتی مداخلت پر مبنی تھی۔ حکومت نجی تجارت پر سخت نگرانی رکھتی تھی اور قوانین کی خلاف ورزی پر سخت سزائیں دی جاتی تھیں۔ علاءالدین خلجی نے تمام نجی منڈیوں کو ختم کرکے چار مرکزی سرکاری منڈیاں قائم کیں، ایک ’شحنۂ منڈی‘ مقرر کیا اور ہر قسم کی اشیا پر سخت نرخ مقرر کیے۔ ضیاء الدین برنی کے مطابق یہ نرخ عام ضرورت کی اشیا سے لے کر روزمرہ کے تمام سامان تک لاگو تھے، یہاں تک کہ ’ٹوپی سے موزے تک، کنگھی سے سوئی تک، سبزی سے شوربے تک، مٹھائی سے روٹی تک‘ ہر چیز کی قیمت طے تھی۔ یہ قیمتیں قحط کے زمانے میں بھی تبدیل نہیں کی جاتیں۔ حکومت نے منڈی کے بڑے سرمایہ داروں کو گھوڑوں کی خرید و فروخت میں شریک ہونے سے روک دیا۔ جانوروں اور غلاموں کے دلالوں کو کمیشن لینے سے منع کیا گیا اور نجی تاجروں کو ان منڈیوں سے بالکل الگ کر دیا گیا۔ ذخیرہ اندوزی اور نفع خوری پر پابندی لگائی گئی، اناج کے گودام سرکاری تحویل میں لے لیے گئے اور کاشت کاروں کے ذاتی استعمال کے لیے اناج کی مقدار بھی محدود کر دی گئی۔ تجارت کے لیے مختلف اجازت نامے ضروری قرار دیے گئے۔ تاجروں کا اندراج لازمی تھا اور بعض قیمتی کپڑوں اور اشیا کو عام لوگوں کے لیے ’غیر ضروری‘ قرار دے کر ان کی خریداری کے لیے ریاست سے اجازت نامہ لینا پڑتا تھا۔ یہ اجازت صرف امیروں، ملکوں اور سرکاری عہدے داروں کو دی جاتی تھی۔ زرعی محصولات میں اضافہ کر کے انھیں پچاس فیصد تک پہنچا دیا گیا۔ تاجر طبقہ ان پابندیوں سے تنگ تھا اور قانون کی خلاف ورزی کرنے والوں کو سخت سزائیں دی جاتیں۔ اس وجہ سے تاجروں میں بے اطمینانی پھیل گئی۔ نظام پر عمل درآمد کے لیے خفیہ کاروں کا جال بچھایا گیا۔ برنی لکھتے ہیں کہ علاء الدین خلجی کی وفات کے بعد جب نرخوں کی پابندیاں ختم کر دی گئیں، تب بھی لوگوں میں ان کے جاسوسوں کا خوف باقی رہا اور مہنگی اشیا کی تجارت سے گریز جاری رہا۔
سماجی حکمت عملیاں
سلطنتِ دہلی میں اسلامی مذہبی اصولوں کے مطابق فنونِ لطیفہ میں جانداروں کی صورت گری (خاص طور پر انسانی شکل و صورت کی عکاسی) پر پابندی عائد کی گئی۔ اس حکمت عملی کا مقصد اسلامی تعلیمات کے مطابق مذہبی حدود کی پاسداری تھا
فوج
ابتدائی دور میں سلطنتِ دہلی کی فوج کی بنیاد ترک نژاد خانہ بدوش غلام سپاہیوں پر تھی جو محمد غوری سے وابستہ مملوک فوجی تھے۔ بعد کے ادوار میں اس فوجی نظام میں وسعت اور تنظیم پیدا ہوئی۔
اس سلطنت کی فوجی طاقت کا مرکزی حصہ ترک افغان باقاعدہ دستوں پر مشتمل تھا، جنھیں ’وجیہ‘ کہا جاتا تھا۔ یہ دستے اشرافیہ کی گھریلو گھڑ سوار تیر انداز فوج تھی اور زیادہ تر غلام پس منظر کے حامل تھے۔ سلطنتِ دہلی کی سب سے بڑی فوجی کامیابیوں میں منگول سلطنت کے ہندوستان پر حملوں کو روکنا شامل ہے۔ اگر یہ مزاحمت نہ ہوتی تو منگول حملے برصغیر کے لیے اتنے ہی تباہ کن ثابت ہو سکتے تھے جتنے چین، ایران اور یورپ میں ہوئے تھے۔
فوج کی تعداد مُرورِ زمانہ کے ساتھ بدلتی رہی۔ مؤرخین کے مطابق خلجی دور میں سلطنتِ دہلی کے پاس تقریباً تین سے چار لاکھ گھڑ سوار فوج اور اڑھائی سے تین ہزار جنگی ہاتھیوں پر مشتمل مستقل لشکر موجود تھا۔ بعد میں تغلق خاندان کے زمانے میں اس فوجی قوت میں مزید اضافہ ہوا اور گھڑ سوار فوج کی تعداد تقریباً پانچ لاکھ تک پہنچ گئی۔
سلاطین دہلی
مزید دیکھیے: دہلی سلطنت کے حکمرانوں کی فہرست
خاندان غلاماں (1206 - 1290)
- قطب الدین ایبک (1206 - 1210)
- آرام شاہ (1210 - 1211)
- شمس الدین التمش (1211 - 1236)
- رکن الدین فیروز (1236)
- رضیہ سلطانہ (1236 - 1240)
- معز الدین بہرام (1240 - 1242)
- علاؤ الدین مسعود (1242 - 1246)
- ناصر الدین محمود (1246 - 1266)
- غیاث الدین بلبن (1266 - 1286)
- معز الدین کیقباد (1286 - 1290)
- کیومرث (1290)
خلجی خاندان (1290 - 1321)
- جلال الدین فیروز خلجی (1290 - 1294)
- علاؤ الدین خلجی (1294 - 1316)
- قطب الدین مبارک شاہ (1316 - 1321)
تغلق خاندان (1321 - 1398)
- سلطان غیاث الدین تغلق شاہ (1321 - 1325)
- محمد بن تغلق (1325 - 1351)
- فیروز شاہ تغلق (1351 - 1388)
- غیاث الدین تغلق ثانی (1388 - 1389)
- ابو بکر شاہ (1389 - 1390)
- ناصر الدین محمود شاہ ثالث (1390 - 1393)
- سکندر شاہ اول ( March - April 1393)
- محمود ناصر الدین (1393 - 1394)
- نصرت شاہ فیروز آباد میں (1394 - 1398)
سید خاندان (1414 - 1451)
- خضر خان (1414 - 1421)
- مبارک شاہ ثانی (1421 - 1435)
- محمد شاہ رابع (1435 - 1445)
- علاؤ الدین عالم شاہ (1445 - 1451)
لودھی خاندان (1451 - 1526)
- بہلول خان لودھی (1451-1489)
- سکندر لودھی (1489-1517)
- ابراہیم لودھی (1517-1526)
- مغل دور (1526-1540)
خاندان سور (1540 - 1555)
- شیر شاہ (1540 - 1545)
- اسلام شاہ سوری (1545 - 1553)
- محمد خامس (1553 - 1554)
- فیروز ( 29 اپریل - 2 مئی 1554)
- ابراہیم ثالث (1554 - 1554/5)
- سکندر شاہ (1554/5 - 1555)
مزید دیکھیے
حوالہ جات
- ↑ Grey flag with black vertical stripe according to the Catalan Atlas (ت 1375):
in the depiction of the Delhi Sultanate in the Catalan Atlas
- ↑ Yuka Kadoi (2010). "On the Timurid flag". Beiträge zur islamischen Kunst und Archäologie (بزبان انگریزی). 2: 148. DOI:10.29091/9783954909537/009. S2CID:263250872.
...helps identify another curious flag found in northern India – a brown or originally silver flag with a vertical black line – as the flag of the Delhi Sultanate (602–962/1206–1555).
- ↑ Note: other sources describe the use of two flags: the black Abbasid flag, and the red Ghurid flag, as well as various banners with figures of the new moon, a dragon or a lion.Ishtiyaq Hussian Qurashi (1942). The Administration of the Sultanate of Delhi (بزبان انگریزی). Kashmiri Bazar Lahore: SH. MUHAMMAD ASHRAF. p. 143.
Large banners were carried with the army. In the beginning, the sultans had only two colours : on the right were black flags, of Abbasid colour; and on the left, they carried their colour, red, which was derived from Ghor. Qutb-ud-din Aibak's standards bore the figures of the new moon, a dragon or a lion; Firuz Shah's flags also displayed a dragon.
Sadan Jha (8 Jan 2016). Reverence, Resistance and Politics of Seeing the Indian National Flag (بزبان انگریزی). Cambridge University Press. p. 36. ISBN:978-1-107-11887-4., also "On the right of the Sultan was carried the black standard of the Abbasids and on the left the red standard of Ghor." in Uma Prasad Thapliyal (1938). The Dhvaja, Standards and Flags of India: A Study (بزبان انگریزی). B.R. Publishing Corporation. p. 94. ISBN:978-81-7018-092-0. - ^ ا ب Schwartzberg 1978, p. 147
- ↑ Schwartzberg 1978, p. 38
- ↑ Jackson 2003
- ^ ا ب Schwartzberg 1978, p. 148
- ↑ Richard Maxwell Eaton (2015). The Sufis of Bijapur, 1300–1700: Social Roles of Sufis in Medieval India (بزبان انگریزی). Princeton University Press. pp. 41–42. ISBN:978-1-4008-6815-5.
- ↑ Muzaffar Alam (1998). "The pursuit of Persian: Language in Mughal Politics". Modern Asian Studies (بزبان انگریزی). Cambridge University Press. 32 (2): 317–349. DOI:10.1017/s0026749x98002947. S2CID:146630389.
Hindavi was recognized as a semi-official language by the Sor Sultans (1540–1555) and their chancellery rescripts bore transcriptions in the Devanagari script of the Persian contents. The practice is said to have been introduced by the Lodis (1451–1526).
- ↑ "Arabic and Persian Epigraphical Studies - Archaeological Survey of India". Asi.nic.in (بزبان انگریزی). Archived from the original on 2011-09-29. Retrieved 2018-01-29.
- ↑ Jackson 2003, p. 28
- ^ ا ب پ Size and Duration of Empires: Systematics of Size "
- ↑ Turchin, Peter; Adams, Jonathan M.; Hall, Thomas D. (December 2006). "East-West Orientation of Historical Empires آرکائیو شدہ 17 مئی 2016 بذریعہ Portuguese Web Archive" (PDF). Journal of World-Systems Research. 12 (2): 222–223. آئی ایس ایس این 1076-156X. Archived (PDF) from the original on 7 July 2020. Retrieved 7 July 2020.
- ↑
| ویکی ذخائر پر سلطنت دہلی سے متعلق سمعی و بصری مواد ملاحظہ کریں۔ |
- سلطنت دہلی
- ایشیا کی سابقہ فرماں روائیاں
- ایشیا کے سابقہ ممالک
- ایشیا میں 1206ء کی تاسیسات
- ایشیا میں 1210ء کی دہائی کی تاسیسات
- بھارت میں تاسیسات
- برصغیر میں اسلامی حکومت
- تاریخ پاکستان
- تاریخ ہندوستان
- تاریخی ترک ریاستیں
- ترک اقوام
- ترک ریاستیں
- ترک شاہی خاندان
- ترک قبائل
- ترک قوم کی تاریخ
- تیرہویں صدی میں قائم ہونے والے ممالک اور علاقے
- خاندان مملوک (دہلی)
- دہلی
- سابقہ سلطنت
- سلطنتیں
- ہندوستان کی سلطنتیں اور مملکتیں
- ہندوستان میں تیرہویں صدی کی تاسیسات
- ہندوستان میں 1526ء کی تحلیلات
- 1206ء میں قائم ہونے والے ممالک اور علاقے
- 1520ء کی دہائی کی تحلیلات
- 1526ء میں تحلیل ہونے والی ریاستیں اور عملداریاں
- بھارت ترکیہ تعلقات
- ایشیا کی ترک اقوام