محمد بن تغلق

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
محمد بن تغلق
Delhi tughra.jpg 

معلومات شخصیت
پیدائش سنہ 1290 اور سنہ 1300  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ پیدائش (P569) ویکی ڈیٹا پر
ملتان  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام پیدائش (P19) ویکی ڈیٹا پر
وفات 20 مارچ 1351 (60–61 سال)[1]  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ وفات (P570) ویکی ڈیٹا پر
ٹھٹہ،  سندھ  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام وفات (P20) ویکی ڈیٹا پر
مدفن تغلق آباد قلعہ  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام دفن (P119) ویکی ڈیٹا پر
شہریت Delhi Sultanate Flag (catalan atlas).png سلطنت دہلی  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں شہریت (P27) ویکی ڈیٹا پر
والد سلطان غیاث الدین تغلق شاہ  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں والد (P22) ویکی ڈیٹا پر
خاندان تغلق  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں خاندان (P53) ویکی ڈیٹا پر
مناصب
سلطان   خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں منصب (P39) ویکی ڈیٹا پر
دفتر میں
1 فروری 1325  – 20 مارچ 1351 
Fleche-defaut-droite-gris-32.png سلطان غیاث الدین تغلق شاہ 
فیروز شاہ تغلق  Fleche-defaut-gauche-gris-32.png
عملی زندگی
پیشہ عسکری قائد  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں پیشہ (P106) ویکی ڈیٹا پر
محمد بن تغلق کے وقت کا سکہ

محمد بن تغلق یا محمد شاہ تغلق جن کا اصل نام الغ خان تھا،سلطانِ دہلی تھے۔ وہ 1325 تا 1351ء تک تخت افروز رہے۔[2] وہ تغلق سلطنتی خانوادے کے سلطان غیاث الدین تغلق کا بڑا بیٹا تھا۔

عجب المخلوقات یا عجیب المخلوقات[ترمیم]

محمد شاہ تغلق ہی وہ حکمران تھا جس نے اس نیت سے دہلی کو ویران کیا کہ دار الحکومت اس مرکزی جگہ ہو جہاں سے تمام ملک کا برابر فاصلہ ہو....اس وجہ سے بادشاہ نے ایک نیا شہر دولت آباد کے نام سے آباد کیا اور اہلیان دہلی کو وہاں شفٹ ہونے کا حکم دیا جس کی وجہ سے دہلی ویران ہو گیا.... محمد شاہ تغلق کو تاریخ دانوں نے عجب المخلوقات کا لقب دیا ہے کہ جہاں اس میں نیکی کا جذبہ موجزن تھا وہیں اس میں برائی کا جذبہ بھی موجود تھا ...ایک طرف وہ پانچ وقت کا نمازی اور روزے کا پابند تھا وہیں دوسری طرف اس کے دل میں یہ کافرانہ خیال تھا کہ اتنی بڑی سلطنت ہے کاش مجھے #نبوت مل جایے اس کے علاوہ #خلافت عباسیہ سے سند خلافت لینے کے لیے اس نے تین ماہ تک #نماز اور #عید کی نماز پہ #پابندی لگا دی..... تین ماہ بعد جب سند خلافت ملی تو یہ پابندی ختم کی..... ظلم و بربریت میں یہ چنگیز خان، امیر تیمور سے بڑھ کر تھا ..... جانوروں کا شکار کرنے کی بجائے مظلوم انسانوں کا شکار کرتا تھا ..... بستیوں کی بستیاں اس کے اس ظلم کا شکار ہوگئیں ....ان ظلمات کی وجہ سے لوگ شہر چھوڑ کر جنگلات میں بھاگ گئے اور وہاں رہائش اختیار کی ..... [3]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. دائرۃ المعارف بریطانیکا آن لائن آئی ڈی: https://www.britannica.com/biography/Muhammad-ibn-Tughluq — بنام: Muhammad ibn Tughluq — اخذ شدہ بتاریخ: 9 اکتوبر 2017 — عنوان : Encyclopædia Britannica
  2. Tughlaq Shahi Kings of Delhi: Chart en:The Imperial Gazetteer of India، 1909, v. 2, p. 369.۔
  3. (تاریخ فرشتہ، تاریخ ہندوستان ، طبقات اکبری ، طبقات ناصری)