رضیہ سلطانہ

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
رضیہ سلطانہ
Tomb of Razia Begum.JPG
 

معلومات شخصیت
پیدائش سنہ 1205  ویکی ڈیٹا پر (P569) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
بدایوں  ویکی ڈیٹا پر (P19) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
وفات 13 اکتوبر 1240 (34–35 سال)  ویکی ڈیٹا پر (P570) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
دہلی  ویکی ڈیٹا پر (P20) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
مدفن مقبرہ رضیہ سلطانہ  ویکی ڈیٹا پر (P119) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
شریک حیات ملک التونیا  ویکی ڈیٹا پر (P26) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
والد التتمش  ویکی ڈیٹا پر (P22) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
والدہ قطب بیگم  ویکی ڈیٹا پر (P25) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
بہن/بھائی
معز الدین بہرام شاہ،  ناصر الدین محمود  ویکی ڈیٹا پر (P3373) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
خاندان خاندان غلاماں  ویکی ڈیٹا پر (P53) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
مناصب
سلطان سلطنت دہلی   ویکی ڈیٹا پر (P39) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
برسر عہدہ
10 نومبر 1236  – 13 اکتوبر 1240 
Fleche-defaut-droite-gris-32.png رکن الدین فیروز 
معز الدین بہرام شاہ  Fleche-defaut-gauche-gris-32.png
عملی زندگی
پیشہ حاکم  ویکی ڈیٹا پر (P106) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
رضیہ سلطانہ کے دور کے سکے

رضیہ سلطان یا رضیہ سلطانہ (شاہی نام: جلالۃ الدین رضیہ) (فارسی:جلالہ الدین رضیہ؛ ہندی: जलालत उद-दीन रज़िया) جنوبی ایشیا پر حکومت کرنے والی واحد خاتون تھیں۔ وہ 1205ء میں پیدا ہوئیں اور 1240ء میں انتقال کرگئیں۔ وہ افغان غوري نسل سے تعلق رکھتی تھیں اور کئی دیگر مسلم شہزادیوں کی طرح جنگی تربیت اور انتظام سلطنت کی تربیت بھی حاصل کی تھی۔

خاندان غلاماں حکمران کیسے بنا؟[ترمیم]

شمس الدین التتمش، سلطان قطب الدین ایبک کے ترک غلام تھے ان کی ہونہاری اور صلاحیتوں کو دیکھتے ہوئے قطب الدین نے انہیں پہلے اپنا داماد اور پھر بہار کا صوبیدار بنایا، 1211 میں التتمش نے قطب الدین کے بیٹے آرام شاہ کو تخت سے اتار دیااور خود بادشاہ بن گئے۔ انہوں نے تقریباً 35 سال حکومت کی اور رضیہ سلطانہ انہی کی بیٹی تھیں۔

پیدائش، ابتدائی زندگی[ترمیم]

رضیہ سلطانہ 1205 میں پیدا ہوئیں، ان کے آٹھ بھائی تھے لیکن والد کے سب سے زیادہ قریب وہی تھیں کیونکہ ان کے زیادہ تر بھائی ریاست چلانے کی صلاحیت نہیں رکھتے تھے جسے التتمش نے بہت پہلے محسوس کر لیا تھا۔ رضیہ رنگ و روپ کےعلاوہ بھی ہر اس ہنر سے آشنا تھیں جو حکمران بننے کے لیے ضروری ہو، یہی وجہ ہے کہ التتمش نے ان کی پرورش انہی خطوط پر کی۔ تلوار بازی، گھڑ سواری کے ساتھ ساتھ اچھی تعلیم بھی دلوائی گئی نوعمری میں پردہ بھی شروع کروا دیا گیا۔التتمش نے انہیں اپنا جانشیں مقرر کیا تو خاندان ہی نہیں پورے ملک میں چہ میگوئیاں شروع ہو گئیں کہ ’عورت حکمران کیسے ہو سکتی ہے؟‘ التتمش کے انتقال کے بعد وصیت پر عمل نہیں کیا گیا اور رضیہ کے بھائی رکن الدین نے تخت پر قبضہ کر لیا۔ سب کا خیال تھا کہ رضیہ عام خاتون کی طرح رو دھو کر چپ کر جائیں گی مگر وہ ’عام‘ نہیں تھیں۔اسی لیے۔سلطنت دہلی کے خاندان غلاماں کے بادشاہ شمس الدین التتمش نے جنہوں نے اپنے کئی بیٹوں پر ترجیح دیتے ہوئے رضیہ کو اپنا جانشیں قرار دیا۔ تاہم التتمش کے انتقال کے بعد رضیہ کے ایک بھائی رکن الدین فیروز نے تخت پر قبضہ کر لیا اور 7 ماہ تک حکومت کی۔ لیکن رضیہ سلطانہ نے دہلی کے لوگوں کی مدد سے 1236ء میں بھائی کو شکست دے کر تخت حاصل کر لیا۔کہا جاتا ہے کہ تخت سنبھالنے کے بعد انہوں نے زنانہ لباس پہننا چھوڑدیا تھا اور مردانہ لباس زیب تن کرکے دربار اور میدان جنگ میں شرکت کرتی تھیں۔

رضیہ کے خلاف بغاوت[ترمیم]

رضیہ کے مخالفین نے جب دیکھا کہ دہلی کے عوام رضیہ کے جاں نثار ہیں تو انہوں نے دیگر علاقوں میں سازشوں کے ذریعے بغاوتیں پھیلائیں۔ سلطنت کی اہم شخصیات نےبھٹنڈہ کے صوبے دار ملک التونیہ کی قیادت میں رضیہ کے خلاف بغاوت کی۔ رضیہ سلطان ان کی بغاوت کچلنے کے لیے دہلی سے فوج لے کر نکلی مگر اس کی فوج نے رضیہ کے خلاف باغیوں کا ساتھ دیا۔ رضیہ کا وفادار جرنیل امیر جمال الدین یاقوت مارا گیا رضیہ کو گرفتار کر لیا گیا۔ باغیوں نے رضیہ کے بھائی معز الدین بہرام کو بادشاہ بنا ڈالا۔
رضیہ کو اس بات کاشدت سے احساس تھا کہ دہلی کا تخت حاصل کرنے کے لیے اسے مضبوط سہارے کی ضرورت ہے اس لیے رضیہ نے بھٹنڈہ کے گورنر ملک التونیہ سے شادی کی تاکہ تخت دوبارہ حاصل کرنے کی کوشش کی جائے لیکن جنگ میں انہیں شکست ہوئی۔ رضیہ اپنے شوہر کے ہمراہ جان بچانے کے لیے کیتھل یا کرنال کی طرف چلی گئی جہاں ڈاکوؤں کے ہاتھوں دونوں میاں بیوی مارے گئے۔ سلطان بہرام شاہ کے سپاہی جو ان کی تلاش میں تھے ان کی لاشوں کو پہچان کر دہلی لے آئے۔ انہیں پرانی دلی میں سپرد خاک کیا گیا۔ سرسیداحمد خان کی کتاب آثار الصنادیدکے مطابق دہلی کے ترکمانی دروازہ کے اندر محلہ بلبلی خانہ میں دو قبریں ہیں۔ ان قبروں کو “رجی سجی “کی درگاہ کہاجاتا ہے۔ یہ قبریں رضیہ سلطان اور ان کی بہن شازیہ کی ہیں۔ ان پر کسی قسم کی کوئی تختی نہیں ہے۔ یہاں ہر جمعرات کوہر مذہب کے لوگ جمع ہوتے ہیں۔ قبروں پر چراغاں کیاجاتا ہے۔ لوگ منتیں مانتے ہیں۔

واضح رہے کہ رضیہ اپنے لیے سلطانہ کا لقب پسند نہیں کرتی تھیں کیونکہ اس کا مطلب ہے سلطان کی بیوی بلکہ اس کی جگہ خود کو رضیہ سلطان کہتی تھیں۔

محبت اور جنگ[ترمیم]

وہ اس وقت جوان، جاذب نظر اور غیر شادی شدہ تھیں، ہندوستان ہی نہیں کئی دلوں پر بھی راج کر رہی تھیں جن میں بٹھنڈہ کا حاکم ملک التونیہ بھی شامل تھا اور نکاح کا پیغام بھی بھجوا چکا تھا تاہم رضیہ کی نظر التفات حبشی غلام جمال الدین عرف یاقوت پر تھی جب یہ قصے التونیہ تک پہنچے تو اس نے رقابت میں لاہور کے حاکم ملک اعزاز الدین کو ساتھ ملا کر رضیہ کے خلاف جنگ کا اعلان کر دیا دہلی کے امرا بھی ان کے ساتھ تھے۔ضیہ کو اطلاع ملی تو وہ جمال الدین یاقوت اور لشکر سمیت روکنے کے لیے نکل پڑیں لیکن دہلی میں انہی باغیوں نے انہیں گھیر لیا جو عورت کی حکمرانی اور غلام سے تعلق کے خلاف تھے۔ ابھی معرکہ جاری ہی تھا کہ ملک التونیہ کا لشکر بھی پہنچ گیا۔ شدید لڑائی ہوئی۔ رضیہ کے لیے وہ بڑا جاں کُن لمحہ تھا جب آنکھوں کے سامنے جمال الدین یاقوت کو مرتے دیکھا، رضیہ کو قید کر لیا گیا۔ باغیوں نے ان کے بھائی معزالدین کو بادشاہ بنا دیا۔ امکان یہی تھا کہ رضیہ کو قتل کر دیا جائے گا تاہم التونیہ نے پیشکش کی اگر وہ اس سے شادی کر لیں تو وہ جان بخشی کروا سکتا ہے۔ رضیہ نے کچھ لمحے سوچنے کے بعد ہاں کر دی۔

شادی اور جنگجویانہ فطرت[ترمیم]

کہا جاتا ہے کہ رضیہ نے التونیہ سے شادی صرف اس لیے کی تھی کہ زندہ رہیں اور پھر سے اپنا تخت حاصل کر سکیں کچھ ہی عرصہ میں انہوں نے التونیہ کو اس بات پر قائل کر لیا کہ دہلی کے تخت کی اصل حقدار وہی ہیں، اس لیے ایک بھرپور حملہ کرنا چاہیے التونیہ چونکہ انہیں بہت پسند کرتا تھا اس لیے مان گیا، حملے کے لیے تیاری شروع کر دی گئی، جو کافی عرصہ چلی، کھکڑوں، جاٹوں اور ارد گرد کے زمینداروں کی حمایت حاصل کی گئی، لشکر تیار کیے گئے اور پھر ایک روز حملے کے لیے روانگی ہوئی، جس کی قیادت التونیہ اور رضیہ کر رہے تھے۔معزالدین کے بہنوئی اعزازالدین بلبن لشکر سمیت مقابلے کے لیے آیا، شدید لڑائی ہوئی لیکن رضیہ اور التونیہ کو شکست ہوئی اور فرار ہو کر واپس بٹھنڈہ جانا پڑا۔کچھ عرصہ بعد پھر منتشر فوج کو جمع کر کے ایک بار پھر دہلی پر حملہ کیا نتیجہ اب کے بھی مختلف نہ تھا، رضیہ اور التونیہ کو ایک بار پھر فرار ہونا پڑا۔

موت، مدفن[ترمیم]

کافی گھنٹوں تک گھوڑے سرپٹ دوڑتے رہے، وہ کتھل کا علاقہ تھا، انتہائی تھک ہار چکے تھے، کچھ معمولی زخمی بھی تھے، ایک درخت کے نیچے گھوڑے روکے، وہیں سستانے کے لیے بیٹھے، بھوک سے برا حال ہو رہا تھا، وہاں سے گزرنے والے ایک شخص نے انہیں کھانے کا کچھ سامان دیا، چند گھنٹے بعد 14 اکتوبر 1240 کو اسی درخت کے نیچے سے لاشیں ملیں۔ موت کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ پیچھا کرتے ہوئے فوجیں وہاں پہنچ گئی تھیں اور دوسرا خیال یہ ہے جس شخص نے کھانے کا سامان دیا تھا اسی نے بعد میں ساتھیوں سمیت آ کر قتل کر دیا تھا کیونکہ رضیہ نے بیش قیمت زیورات بھی پہن رکھے تھے۔ بعد ازاں رضیہ کے بھائی نعش کو دہلی لے گئے اور ترکمانی دروازے کے پاس بلبل خانے میں دفن کر کے مقبرہ بنوایا جو آج بھی رجی سجی کی درگاہ کے نام سے موجود ہے۔


ابلاغ میں[ترمیم]

رضیہ سلطانہ کی سوانح کی بنیاد بالی وڈ میں دو فلمیں بنیں۔

ماقبل 
رکن الدین فیروز
خاندان غلاماں مابعد 
معز الدین بہرام
ماقبل 
رکن الدین فیروز
سلطان دہلی مابعد 
معز الدین بہرام