رضیہ سلطانہ

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
رضیہ سلطان
سلطان سلطنت دہلی
Tomb of Razia Begum.JPG
معیاد عہدہ 10 نومبر 1236ء13 اکتوبر 1240ء
(مدتِ حکومت: 3 سال 11 ماہ 3 دن)
پیشرو رکن الدین فیروز
جانشین معز الدین بہرام
خاندان خاندان غلاماں
والد التتمش
پیدائش 1205
وفات 13 اکتوبر 1240
تدفین محلہ بلبلی خانہ ، دہلی
رضیہ سلطانہ کے دور کے سکے

رضیہ سلطان یا رضیہ سلطانہ (شاہی نام: جلالۃ الدین رضیہ) (فارسی:جلالہ الدین رضیہ؛ ہندی: जलालत उद-दीन रज़िया) جنوبی ایشیا پر حکومت کرنے والی واحد خاتون تھیں۔ وہ 1205ء میں پیدا ہوئیں اور 1240ء میں انتقال کرگئیں۔ وہ ترک سلجوق نسل سے تعلق رکھتی تھیں اور کئی دیگر مسلم شہزادیوں کی طرح جنگی تربیت اور انتظام سلطنت کی تربیت بھی حاصل کی تھی۔

سلطنت دہلی کے خاندان غلاماں کے بادشاہ شمس الدین التتمش ان کے والد تھے جنہوں نے اپنے کئی بیٹوں پر ترجیح دیتے ہوئے رضیہ کو اپنا جانشیں قرار دیا۔ تاہم التتمش کے انتقال کے بعد رضیہ کے ایک بھائی رکن الدین فیروز نے تخت پر قبضہ کر لیا اور 7 ماہ تک حکومت کی۔ لیکن رضیہ سلطانہ نے دہلی کے لوگوں کی مدد سے 1236ء میں بھائی کو شکست دے کر تخت حاصل کر لیا۔ کہا جاتا ہے کہ تخت سنبھالنے کے بعد انہوں نے زنانہ لباس پہننا چھوڑدیا تھا اور مردانہ لباس زیب تن کرکے دربار اور میدان جنگ میں شرکت کرتی تھیں۔

رضیہ کے مخالفین نے جب دیکھا کہ دہلی کے عوام رضیہ کے جاں نثار ہیں تو انہوں نے دیگر علاقوں میں سازشوں کے ذریعے بغاوتیں پھیلائیں۔ سلطنت کی اہم شخصیات نےبھٹنڈہ کے صوبے دار ملک التونیہ کی قیادت میں رضیہ کے خلاف بغاوت کی۔ رضیہ سلطان ان کی بغاوت کچلنے کے لیے دہلی سے فوج لے کر نکلی مگر اس کی فوج نے رضیہ کے خلاف باغیوں کا ساتھ دیا۔ رضیہ کا وفادار جرنیل امیر جمال الدین یاقوت مارا گیا رضیہ کو گرفتار کر لیا گیا۔ باغیوں نے رضیہ کے بھائی معز الدین بہرام کو بادشاہ بنا ڈالا۔
رضیہ کو اس بات کاشدت سے احساس تھا کہ دہلی کا تخت حاصل کرنے کے لیے اسے مضبوط سہارے کی ضرورت ہے اس لیے رضیہ نے بھٹنڈہ کے گورنر ملک التونیہ سے شادی کی تاکہ تخت دوبارہ حاصل کرنے کی کوشش کی جائے لیکن جنگ میں انہیں شکست ہوئی۔ رضیہ اپنے شوہر کے ہمراہ جان بچانے کے لیے کیتھل یا کرنال کی طرف چلی گئی جہاں ڈاکوؤں کے ہاتھوں دونوں میاں بیوی مارے گئے۔ سلطان بہرام شاہ کے سپاہی جو ان کی تلاش میں تھے ان کی لاشوں کو پہچان کر دہلی لے آئے۔ انہیں پرانی دلی میں سپرد خاک کیا گیا۔ سرسیداحمد خان کی کتاب آثار الصنادیدکے مطابق دہلی کے ترکمانی دروازہ کے اندر محلہ بلبلی خانہ میں دو قبریں ہیں۔ ان قبروں کو “رجی سجی “کی درگاہ کہاجاتا ہے۔ یہ قبریں رضیہ سلطان اور ان کی بہن شازیہ کی ہیں۔ ان پر کسی قسم کی کوئی تختی نہیں ہے۔ یہاں ہر جمعرات کوہر مذہب کے لوگ جمع ہوتے ہیں۔ قبروں پر چراغاں کیاجاتا ہے۔ لوگ منتیں مانتے ہیں۔

واضح رہے کہ رضیہ اپنے لیے سلطانہ کا لقب پسند نہیں کرتی تھیں کیونکہ اس کا مطلب ہے سلطان کی بیوی بلکہ اس کی جگہ خود کو رضیہ سلطان کہتی تھیں۔

ابلاغ میں[ترمیم]

رضیہ سلطانہ کی سوانح کی بنیاد بالی وڈ میں دو فلمیں بنیں۔

ماقبل 
رکن الدین فیروز
خاندان غلاماں مابعد 
معز الدین بہرام
ماقبل 
رکن الدین فیروز
سلطان دہلی مابعد 
معز الدین بہرام