تاریخ خیبر پختونخوا

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
مضامین بسلسلہ تاریخ
تاریخ پاکستان
Statue of an Indus priest or king found in Mohenjodaro, 1927
تاریخ پاکستان کا خط زمانی

خیبر پختونخوا جسے تاریخی طور پر صوبہ سرحد ،شمالی مغربی سرحدی صوبہ اور اس طرح دیگر ناموں سے یاد کیا جاتا ہے،پاکستان کے چار صوبوں میں ایک صوبہ ہے جو ملک کے شمال مغربی حصے میں واقع ہے۔ جغرافیائی طور پر یہ وہ خطہ ہے جو جنوبی ایشیاء کو وسطی ایشیاء سے ملاتا ہے، یہ خطہ پہلے سلطنتوں میں وسطی ایشیا سے ہندوستان میں داخلے کا واحد راستہ بھی تھا۔ افغان، فارسی،مغل اور دیگر بیرون ملک حملہ آوروں کو جب بھی برصغیر پر قبضہ کرنا تھا تو وہ اس خطے سے برصغیر میں داخل ہوا کرتے تھے۔ معروف درہ خیبر آج بھی پاکستان اور دیگر وسطی ایشیا کے ممالک کا واحد تجارتی راستہ مانا جاتا ہے۔

وقت کے ساتھ ساتھ یہ خطہ مختلف سلطنتوں کا حصہ بنتا رہا۔ خطے پر مختلف گروہوں نے حملے کیے ان حملہ آوروں میں ہخامنشی،فارسی، خلجی، غلجی یونانی،سکاہی،کشنی،چینی،عرب،ترک،مغل،منگول،وغیرہ شامل ہیں۔ جب آریہ لوگ ہندوستان میں داخل ہوئے 2000 اور 1500 قبل مسیح کے درمیان اس خطے پر آریہ لوگوں کے ہند-ایرانی شاخ کے پشتون قوم نے خطے کا کمان سنبھال لیا۔ اور پورے ہندوستان میں آباد دیگر لوگوں کو آریوں نے جنوب کے جانب دھکیل دیا۔

خیبر پختونخوا کے خطے کا ذکر ہندو مقدس کتاب مہابھارت میں بھی ہے،مہابھارت میں خطے کا وہ وقت بیان کیا گیا ہے جس میں یہاں پر گندھارا سلطنت قائم تھی۔ مہابھارت کے مطابق یہ خطہ بھارت ورشہ کا حصہ تھا جو ہندو مذہبی شخصیت بھارت کا ملک تھا۔ خیبر پختونخوا کی جدید تاریخ میں یہاں پر درانیوں،سکھوں اور مغلوں کا راج رہا ہے۔ برطانوی ہند سے پہلے یہ مغل سلطنت کے صوبہ کابل کا حصہ تھا۔ پھر برطانوی دور میں اسے صوبہ پنجاب میں کچھ عرصے کے لیے ضم کیا گیا، پھر انگریزوں نے اسے ایک نئے صوبے کا درجہ دیا اور اس کا نام شمال مغربی سرحدی صوبہ رکھا گیا،پاکستان کی آزادی کے بعد اکثر اس خطے کا یہیں نام رہا۔ جس وقت پاکستان میں دو صوبے تھے یعنی مغربی پاکستان اور مشرقی پاکستان اس وقت یہ صوبہ مغربی پاکستان میں ضم کیا گیا، بعد میں جب مشرق پاکستان الگ ہوا اور مغربی پاکستان کو صوبوں میں تقسیم کیا گیا تو اس صوبے کو پھر ایک الگ صوبے کا درجہ دے دیا گیا۔

قدیم تاریخ[ترمیم]

جیسا کہ ذکر کیا گیا ہے کہ خطۂ صوبہ خیبر پختونخوا میں قدیم زمانے سے کئی حملہ آور گروہ آتے رہے ہیں جن میں فارسی، یونانی، کُشن، ہُنز، عرب، تُرک، منگول، مُغل، سکھ اور برطانیہ شامل ہیں۔ 1500 اور 2000 قبل از مسیح کے درمیان، آریائی قوم کی ایک ایرانی شاخ بنی جس کی نمائندگی پشتون کر رہے تھے اُنہوں نے صوبہ خیبر پختنونخواہ کے زیادہ تر علاقے پر قبضہ کر لیا۔ 6 صدی عیسیوی سے وادئ پشاور مملکتِ گندھارا کا مرکز تھا۔ بعد میں یہ شہر کُشن دورِ سلطنت کا دار الحکومت بھی بنا۔ اس خطے پر کئی معروف تاریخی اشخاص کے قدم پڑے مثلاً دیریس دوم، سکندر اعظم، ہیون سنگ، فا ہین، مارکوپولو، ماؤنٹسٹارٹ ایلفنسٹائن اور ونسٹن چرچل۔

خطّے پر موریائی قبضے کے بعد، بدھ مت یہاں کا بڑا مذہب بنا، خصوصاً شہری علاقوں میں جیسا کہ حالیہ آثاریاتی اور تشریحی شواہد سے پتا چلتا ہے۔ ایک بڑا کُشن فرماں روا کنیشکا بھی بُدھ مت کے عظیم بادشاہوں میں سے ایک تھا۔
جبکہ دیہی علاقوں نے کئی شمنیتی عقائد برقرار رکھے مثلاً کالاش گروہ اور دوسرے۔ پشتونولی یا روایتی ضابطۂ وقار جس کی پشتون قوم پاسداری کرتی ہے، خیال کیا جاتا ہے کہ اِس کی جڑیں بھی اسلام سے پہلے کی ہیں۔

شاہی دور[ترمیم]

صدی عیسوی کے اوائل میں، اسلام کی آمد سے پہلے، صوبہ خیبر پختونخوا پر بادشاہ حکومت کرتے تھے۔ پہلے حکمران تُرک تھے اور انہوں نے اِس خطے پر 870 صدی عیسوی تک حکومت کی۔ اُن کے بعد کے حکمرانوں کا شاید ہمسایہ کشمیر اور پنجاب کے حکمرانوں سے روابط تھے۔ جیسا کے آثار و تاریخ مثلاً سکّوں اور دوسری بنائی ہوئی چیزیں اُن کے کثیر ثقافتی کا ثبوت دیتی ہیں۔ ان آخری حکمرانوں کو اپنے برادرانہ قبیلوں نے آخر کار ختم کر دیا جن کی کمان محمودِ غزنوی کر رہے تھے۔(محمودغزنوی کے دورحکومت میں پشتون قبیلہ دلازاک وادی پشاورمیں آبادھوچکاتھا۔ دلازاکوں نے خیبرکے نام سے ایک قلعہ بنایا- جوبابرکے دورحکومت میں یوسف زئ کے ہاتھوں بے دخل ھوگئے)

اِسلام کی آمد[ترمیم]

بدھ مت اور شمن پرستی اُس وقت تک بڑے مذاہب رہے جب تک مسلمانوں نے قبضہ کر لیا۔ رفتہ رفتہ پشتون اور دوسرے قبیلے اسلام میں داخل ہوتے رہے۔ اِس دوران انہوں نے اپنے کچھ روایات برقرار رکھے جیسا کہ پشتونوں کی روایت پشتونولی یا ضابطۂ وقار و عزت۔ صوبہ خیبر پختونخوا عظیم اِسلامی مملکت یعنی "غزنوید مملکت" اور مملکتِ محمد غور کا حصہ بھی رہا۔ اس زمانے میں باقی ماندہ مسلمان ممالک سے مسلمان تاجر، اساتذہ، سائنس دان، فوجی، شاعر، طبیب اور صوفی وغیرہ یہاں جوق در جوق آتے رہے۔
پشتون قبائیل کے مغربی علاقوں میں تو اسلام رسول اللہ کی دور میں آیا تھا، اس بات کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ حضرت خالد بن ولید نے پشتون صحابی قیس عبدالراشد کو رسول اللہ سے مسجد نبوی میں ملاقات کرائی۔ اسلام کی بنیاد سب سے پہلے برصغیر میں اس وقت رکھی گئی جب محمد بن قاسم سمندری راستے سے سندھ میں آئے اور راجہ داہر کو شکست دے کر چلے گئے،یوں صرف بنیاد سندھ سے رکھی گئی لیکن اس کے بعد محمد بن قاسم چلے گئے۔ اس کے بعد افغان،ترک،منگول اور عرب حکمران اور تاجردرہ خیبر کے ذریعے ہندوستان آتے تھے اور اس سرحدی صوبے (موجودہ خیبر پختونخوا اور قبائلی علاقہ جات ) کے ذریعے پورے ہندوستان میں اسلام تیزی سے پھیلتا گیا۔

برطانوی دور[ترمیم]

1897ء میں جب پشتون جنگجؤں نے انگریز فوج پر پشاور میں قلعہ شب قدر کے سامنے حملہ کیا
افغانستان 1893ء کے ڈیورنڈ معاہدے سے پہلے

برطانیہ اور روس کے درمیان جنوبی ایشیا پر اپنی اجارہ داری قائم رکھنے کے لیے کئی تصادم ہوئے۔ جس کے نتیجے میں افغانستان کی تقسیم واقع ہوئی۔ افغانوں سے دو جنگوں کے بعد برطانیہ 1893ء میں ڈیورنڈ لائن نافذ کرنے میں کامیاب ہو گیا۔ ڈیورنڈ لائن نے افغانستان کا کچھ حصہ برطانوی ہندوستان میں شامل کر دیا۔ ڈیورنڈ لائن، سر مورتیمر ڈیورنڈ کے نام سے ہے جو برطانوی نوآبادیاتی حکومت کے معتمدِ خارجہ تھے۔ افغان ڈیورنڈ لائن کو ایک عارضی خط جبکہ برطانیہ اِس کو ایک مستقل سرحد سمجھتے تھے۔ یہ سرحدی خط قصداً ایسے کھینچی گئی کہ پختون قبیلے دو حصوں میں بٹ گئے۔
برطانیہ جس نے جنوبی ایشیا کا باقی حصہ بغیر کسی مزاحمت کے قبضہ کر لیا تھا، یہاں پر اُسے سخت مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ پشتونوں کے ساتھ پہلی لڑائی کا نتیجہ بہت بُرا نکلا اور برطانوی فوج کا صرف ایک سپاہی جنگِ میدان سے واپس آنے میں کامیاب ہوا (جبکہ برطانوی فوجیوں کی کل تعداد 14,800 تھی)۔ خطے میں اپنی رِٹ قائم رکھنے میں ناکامی کے بعد برطانیہ نے تقسیم کرو اور حکمرانی کرو کا کھیل شروع کیا۔ برطانیہ نے اِس کھیل میں کٹھ پتلی پشتون حکمران صوبہ خیبر پختونخوا میں بھیجے۔ تاکہ پشتونوں کے درمیان اختلاف پیدا ہو سکے۔ باوجود اِس کے، موقعی پشتون حملے ہوتے رہے مثلاً محاصرۂ مالاکنڈ۔
صوبہ خیبر پختونخوا 9 نومبر 1901 کو بطورِ منتظمِ اعلٰی صوبہ بنا۔ اور اس کا نام صوبہ سرحد رکھا گیا۔ ناظمِ اعلٰی صوبے کا مختارِ اعلٰی تھا۔ وہ انتظامیہ کو مشیروں کی مدد سے چلایا کرتا تھا۔
صوبے کا باضابطہ افتتاح 26 اپریل 1902ء کو شاہی باغ پشاور میں تاریخی ‘‘دربار’’ کے دوران ہوا جس کی صدارت لارڈ کرزن کر رہے تھے۔ اُس وقت صوبہ خیبر پختونخوا کے صرف پانچ اضلاع تھے جن کے نام یہ ہیں: پشاور، ہزارہ، کوہاٹ، بنوں اور ڈیرہ اسماعیل خان۔ مالاکنڈ کی تین ریاستیں دیر، سوات اور چترال بھی اس میں شامل ہوگئیں۔ صوبہ خیبرپختونخواہ میں قبائل کے زیرِ انتظام ایجنسیاں خیبر، کرم، شمالی وزیرستان اور جنوبی وزیرستان بھی شامل تھیں۔ صوبہ خیبر پختونخوا کے پہلے ناظمِ اعلٰی ہرولڈ ڈین تھے۔
صوبہ خیبر پختونخوا ایک مکمل حاکمی صوبہ 1935ء میں بنا۔ یہ فیصلہ اصل میں 1931ء میں گول میز اجلاس میں کیا گیا تھا۔ اجلاس میں اِس بات پر اتفاقِ رائے ہوا تھا کہ صوبہ سرحد کا اپنا ایک قانون ساز انجمن ہوگا۔ اِس لیے، 25 جنوری 1932ء کو وائسرائے نے قانونساز انجمن کا افتتاح کیا۔ پہلے صوبائی انتخابات 1937ء میں ہوئے۔ آزاد اُمیدوار اور جانے پہچانے جاگیردار صاحبزادہ عبد القیوم خان صوبے کے پہلے وزیرِ اعلٰی منتخب ہوئے۔

آزادی کے بعد[ترمیم]

برطانیہ سے آزادی کے بعد، 1947ء کے اِستصوابِ رائے میں صوبہ سرحد نے پاکستان میں شمولیت اختیار کی۔ تاہم، افغانستان کے 1949ء کے لویہ جرگہ نے ڈیورنڈ لائن کو غلط قرار دیا۔ جس کی وجہ سے پاکستان اور افغانستان کے درمیان تنازعات ابھرے۔ 1950ء میں افغانستان نے علٰیحدگی پسند تحریک کی حمایت کی لیکن اِس تحریک کو قبائل میں پزیرائی حاصل نہ ہوئی۔ صدر ایوب خان کے پاکستانی صوبوں کے احذاف کے بعد، صدر یحیٰی خان نے 1969ء میں اِس ‘‘ایک اِکائی’’ منصوبے کو منسوخ کر دیا اور سوات، دیر، چترال، کوہستان کو نئے سرحدات میں شامل کر دیا۔
1979ء میں افغانستان پر سوویت یونین کے حملے تک پختونستان کا مسئلہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان کئی دہائیوں تک تنازعات کا مؤجب بنا۔ حملے کے سبب پچاس لاکھ افغان مہاجرین نے پاکستان کی طرف ہجرت کی، جو زیادہ تر صوبہ خیبر پختونخوا میں ہی میں قیام پزیر ہوئے ،2007ء کے شمار کے مطابق قریباً تیس لاکھ ابھی بھی رہتے ہیں۔ افغانستان پر سوویت کے قبضے کے دوران، 1980ء کی دہائی میں صوبہ خیبر پختونخوا مجاہدین کا بہت بڑا مرکز تھا جو سوویت یونین کے خلاف لڑ رہے تھے۔

مزید[ترمیم]