ایران کی اسلامی فتح

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
ایران کی اسلامی فتح
تاریخ ۶۳۳-۴۵۴
جگہ بین النہرین ، قادسیہ ، ایران
نتیجہ ساسانی سلطنت کا خاتمہ
لڑنے والے
عرب
ایرانی

تاریخ[ترمیم]

قادسیہ اور نہاوند کی لڑائی کے بعد عرب مسلمانوں نے ایران پر قبضہ کر لیا یوں خلیفہ دوم عمر فاروق کے دور میں ایران فتح ہوگیا۔ ایران میں ساسانی سلطنت بھی اپنے انجام کو پہنچی۔ اس کے ساتھ ہی زرتشتیت کا ایران سے خاتمہ ہوگیا۔

پس منظر[ترمیم]

ایران کی ساسانی سلطنت کئی دہائیوں سے اپنے دشمنوں کے ساتھ نبردآزما تھی جس کی وجہ سے اس نے اپنی افرادی قوت کھو دی تھی۔ سیاسی انحطاط وجہ سے سلطنت مزید کمزور ہوگئی۔ عرب مسلمانوں نے ۶۳۳ میں بین النہرین پر خالد بن ولید کی سربراہی میں حملہ کیا۔ بین النہرین ساسانی سلطنت کا سیاسی اور ثقافتی گڑھ تھا۔ دوسرا مرتبہ سعد بن ابی وقاص کی سربراہی میں ۶۳۶ میں کیا گیا جو قادسیہ کی لڑائی کے نام سے مشہور ہے۔[1] اس کے ساتھ ہی ساسانی سلطنت کا مغربی ایران پہ قنضہ ختم ہوگیا۔ ۶۴۲ میں خلیفہ دوم نے ساسانی سلطنت پر قبضے کا حکم دیا اور ۶۵۱ تک عرب مسلمانوں نے اسے مکمل فتح کر لیا۔ [2]

حوالہ جات[ترمیم]