کاشغر

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش
کاشغر
Kashgar (Kashi)

喀什市 · قەشقەر شەھرى
—  کاؤنٹی سطح شہر  —
کاشغر
کاشغر پریفیکچر(قلم رو) میں کاشغر کا مقام
کاشغرKashgar (Kashi) is located in سنکیانگ
کاشغر
Kashgar (Kashi)
سنکیانگ /چن کیانگ، میں مقام
متناسقات: 39°28′N 75°59′E / 39.467°N 75.983°E / 39.467; 75.983
ملک عوامی جمہوریہ چین
علاقہ سنکیانگ
پریفیکچر کاشغر
رقبہ
 - کاؤنٹی سطح شہر 555 کلومیٹر2 (214.3 میل2)
 - بلدیاتی رقبہ 2,818 کلومیٹر2 (1,088 میل2)
بلندی 1,270 میٹر (4,167 فٹ)
آبادی (2010 مردم شماری [1])
 - کاؤنٹی سطح شہر 506,640
 کثافتِ آبادی 912.9/کلومیٹر2 (2,364.3/میل2)
 بلدیہ 819,095
 - بلدیہ کثافت 290.7/کلومیٹر2 (752.8/میل2)
منطقۂ وقت GMT+6 (de facto)[2]
ڈاک رمز 844000
رموز علاقہ 0998
ویب سائٹ http://www.xjks.gov.cn/
کاشغر
Kashgar
چینی نام
چینی 喀什
متبادل چینی نام
سادہ چینی 喀什噶尔
روایتی چینی 喀什噶爾
اویغور نام
اویغور
قەشقەر

کاشغر عوامی جمہوریہ چین کے حودمختار علاقے سنکیانگ/چن کیانگ کا ایک شہر ہے جس کی آبادی 205،056 (بہ مطابق 1999ء) ہے۔

یہ شہر صحرائے تکلامکان کے مغرب کی جانب کوہ تیان شیان کے دامن میں دریائے کاشغر کے کنارے پر واقع ہے۔ سطح سمندر سے اس کی بلندی 1290 میٹر (4232 فٹ) ہے۔

وادئ جیحوں کی جانب سے خوقند، سمرقند، الماتے اور دیگر شہروں سے آنے والے راستوں کے وسط میں واقع ہونے کے باعث ماضی میں یہ شہر سیاسی و کاروباری مرکز رہا ہے۔

موجودہ شہر کے 200 کلومیٹر دور مغرب سے کرغزستان کی سرحد کے قریب شاہراہ ریشم گذرتی ہے جہاں سے جنوب مغرب کی جانب بلخ اور شمال مغرب کی جانب فرغانہ کے آسان راستے جاتے ہیں۔

کاشغر بذریعہ شاہراہ قراقرم و درہ خنجراب پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد سے منسلک ہے اور درہ تورگرت اور ارکشتام سے کرغزستان سے ملا ہوا ہے۔

دریائے کاشغر سے آبیار ہونے والی زمینوں پر کپاس، اناج اور پھل کاشت کیے جاتے ہیں۔ علاوہ ازیں قریبی چرا گاہوں میں گلہ بانی بھی کی جاتی ہے۔ قدیم شاہراہ ریشم کے کنارے واقع اس شہر میں صدیوں سے تاجروں کے کاروانوں کے لیے روایتی ہاتھ سے بنے کپاس اور ریشم کے پارچہ جات، قالین، چمڑے کی مصنوعات اور زیورات تیار کیے جاتے تھے جو آج بھی یہاں کی اہم صنعت ہیں۔ ترکوں کے اویغور قبیلے سے تعلق رکھنے والے مسلمان یہاں اکثریت میں ہیں۔

== تاریخ == اس تاریخی شہر کا نام مصور پاکستان ، علامہ ڈاکٹر محمد اقبال رحمتہ اللہ علیہ نے اپنے اس شعر میں ذکر کیا۔

  ایک ہوں مسلم حرم کی پاسبانی کے لیے
  نیل کے ساحل سے لیکر تا بخاک کاشغر

اس چینی شہر کو پہلے شو- فو کہا جاتا تھا اور یہ 206 قبل مسیح سے 220ء تک ہان اور 618ء سے 907ء تک تانگ خاندان کے زیر اقتدار رہا۔

751ء میں جنگ تالاس میں چینیوں کو عربوں کے ہاتھوں زبردست شکست ہوئی اور کاشغر ملت اسلامیہ میں شامل ہوگیا اور آج بھی یہاں مسلمانوں کی اکثریت ہے۔ یہ شہر 1219ء میں چنگیز خان کے حملوں سے تباہ ہوا۔ مارکو پولو نے 1273ء میں کاشغر کی سیر کی۔

1389ء میں کاشغر امیر تیمور کے عتاب کا نشانہ بنا۔

ترک، اویغور، منگول اور دیگر وسط ایشیائی سلطنتوں کا حصہ بننے کے بعد 1759ء میں چنگ خاندان کےعہد میں کاشغر ایک مرتبہ پھر چین کا حصہ بن گیا، یوں مشرقی ترکستان چینی ترکستان بن گیا۔ مسلمانوں نے کئی مرتبہ حکومت وقت کے خلاف بغاوت کی لیکن ہر مرتبہ اسے کچل دیا گیا۔

ان میں مشہور ترین بغاوت یعقوب بیگ کی زیر قیادت ہوئی تھی، جن کے عہد میں آزاد ترکستان (کاشغریہ)کی حکومت 1865ء سے 1877ء تک قائم رہی اور اس کا دارالحکومت کاشغر تھا۔ یعقوب بیگ کے انتقال کے بعد 1877ء میں چنگ خاندان نے علاقے پر مکمل اقتدار حاصل کرلیا۔

قابل دید مقامات[ترمیم]

  • آفاق خواجہ کا مزار شہر سے 5 کلومیٹر شمال مشرق میں واقع ہے۔ وسط کاشغر میں ان کے اہل خانہ کے ّعلاوہ خاندان کے دیگر ارکان کے مزارات ہیں۔

نگار خانہ[ترمیم]

بیرونی روابط[ترمیم]