بنو نضیر

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
(بنو نضير سے رجوع مکرر)
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں

بنو نضیر ، یہود کا بہت بڑا قبیلہ تھا جو مسجد قباکے قریب عوالی کی طرف آباد تھا ۔ غزوہ احد کے بعد یہ لوگ علی الاعلان مسلمانوں کی مخالفت کرنے لگے تھے اور انہوں نے آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے کیا ہوا وہ معاہدہ توڑ دیا ، جو آپ نے ہجرت کے بعد ان سے کیا تھا یہود کے دو قبائل بنو نضیر اور بنو قریظہ مدینہ سے دو میل باہر نسبتاً کم درجے کی زمین پر رہائش پزیر تھے۔ لیکن وہاں انھوں نے باغات بھی بسا لیے تھے اور اپنے لیے نہایت محفوظ قلعے اور گڑھیاں بھی بنا لی تھیں اور ساتھ ہی ساتھ حجاز کے غلے کی درآمد اور چھوہاروں کی برآمد اپنے قبضے میں لے لی تھی۔ مرغ بانی اور ماہی گیری پر بھی زیادہ تر انھیں کا قبضہ تھا۔ قبیلہ بنو نضیر نے جب آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) معاہدے کی کچھ شرائط پر عمل کرانے کے لئے ان کے پاس تشریف لے گئے تو ان لوگوں نے یہ سازش کی کہ جب آپ بات چیت کرنے کے لئے بیٹھیں تو ایک شخص اوپر سے آپ پر ایک چٹان گرادے، اللہ تعالیٰ نے وحی کے ذریعے آپ کو ان کی اس سازش سے باخبر فرمادیا، اور آپ وہاں سے اٹھ کر چلے آئے، اس واقعے کے بعد آپ نے بنو نضیر کے پاس پیغام بھیجا کہ اب آپ لوگوں کے ساتھ ہمارا معاہدہ ختم ہوگیا ہے، اور ہم آپ کے لئے ایک مدت مقرر کرتے ہیں کہ اس مدت کے اندر اندر آپ مدینہ منورہ چھوڑ کر کہیں چلے جائیں، ورنہ مسلمان آپ پر حملہ کرنے کے لئے آزاد ہوں گے، کچھ منافقین نے بنو نضیر کو جاکر یقین دلایا کہ آپ لوگ ڈٹے رہیں، اگر مسلمانوں نے حملہ کیا تو ہم آپ کا ساتھ دیں گے ؛ چنانچہ بنو نضیر مقررہ مدت میں مدینہ منورہ سے نہیں گئے، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے مدت گزرنے کے بعد ان کے قلعے کا محاصرہ کرلیا اور منافقین نے ان کی کوئی مدد نہیں کی، آخر کار ان لوگوں نے ہتھیا ڈال دئیے، اور آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کو مدینہ منورہ سے جلاوطن کرنے کا حکم دیا، البتہ یہ اجازت دی کہ ہتھیاروں کے سوا وہ اپنا سارا مال ودولت اپنے ساتھ لے جاسکتے ہیں۔[1] محاصرہ کے دوران ان کے باغات وکھیتوں کو کاٹا اور جلایا بھی گیا اس طرح اس قوم بنو نضیر کو پہلی مرتبہ جلاوطن کیا گیا اور اریحاء وتیما شام کے علاقوں میں جا کر بسے اور کچھ یہودی جیسے ابو الحقیق اور حی بن اخطب خیبر چلے گئے اور یہ زمین وباغات ومہاجرین وانصار کو تقسیم کیے گئے[2]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. تفسیر فوائد القران۔ مرتب عبدالقیوم مہاجر مدنی،سورۃ الحشر
  2. تفسیر معارف القرآن ،ادریس کاندہلوی، سورۃ الحشر