یہود

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
یہودی
عبرانی: יהודיםیہودیم
Rembrandt Harmensz. van Rijn 063.jpg
یہودی روایت کے مطابق، یعقوب بنی اسرائیل کے قبائل کا باپ تھا۔
کل آبادی
14.7–17.4 ملین
گنجان آبادی والے علاقے
Flag of Israel.svg اسرائیل 6,481,182[1]
Flag of the United States.svg ریاستہائے متحدہ 5,300,000–6,800,000[2]
[2]
Flag of the United Kingdom.svg مملکت متحدہ 290,000[2]
Flag of Russia.svg روس 183,000[2]
Flag of Argentina.svg ارجنٹائن 181,000[2]
Flag of Germany.svg جرمنی 117,500[2]
Flag of Australia.svg آسٹریلیا 112,800[2]
Flag of Brazil.svg برازیل 94,500[2]
Flag of South Africa.svg جنوبی افریقا 69,800[2]
Flag of Ukraine.svg یوکرین 60,000[2]
Flag of Hungary.svg مجارستان 47,700[2]
Flag of Mexico.svg میکسیکو 40,000[2]
Flag of the Netherlands.svg نیدرلینڈز 29,900[2]
Flag of Belgium (civil).svg بلجئیم 29,800[2]
Flag of Italy.svg اطالیہ 27,600[2]
Flag of Switzerland.svg سویٹزرلینڈ 18,900[2]
Flag of Chile.svg چلی 18,400[2]
Flag of Iran.svg ایران 9,900[2]
باقی دنیا میں 218,100[2]

یہودی (جمع: یہود) یہودیت کے پیروکاروں کو کہتے ہیں جو قدیم بنی اسرائیل کی اولاد ہیں۔ دنیا بھر میں یہودیوں کی موجودہ تعداد کا مکمل اندازہ تو نہیں لگایا جاسکتا تاہم ان کی تعداد 12 سے 14 ملین کے لگ بھگ ہے جن کی اکثریت امریکا اور اسرائیل میں رہائش پزیر ہے۔

حالیہ اعداد و شمار کے مطابق دنیا میں 1 کروڑ چوالیس لاکھ 35 ہزار نو سو یہودی ہیں۔ اسرائیل میں 30 لاکھ، روس میں 26 لاکھ بیس ہزار اور امریکا میں 58،70،000 آباد ہیں۔ دنیا میں سب سے زیادہ یہودی نیو یارک شہر میں جہاں ان کی تعداد 18،30،000 ہے۔ یہودی کی اصطلاح اپنے اندر کثیر مذہبی وظائف اور عقائد کو سمیٹے ہوئے ہے۔ دنیا بھر کے یہودی اپنے وظائف اور عقائد کے لحاظ سے متعدد حصوں میں منقسم ہیں۔

تاریخ[ترمیم]

ابراہیم کے دو بیٹے تھے۔ اسماعیل اور اسحاق۔ اسحاق کے بھی دو بیٹے تھے ایک یعقوب اور ایک عیسو۔ عیسو پیغمبر نہیں تھے جبکہ یعقوب پیغمبر تھے۔ یعقوب کے بارہ بیٹے تھے جن میں سے ایک کا نام "یہوداہ" تھا۔ "یہودی" کا لفظ اسی سے ہے۔ یعقوب کا لقب تھا "اسرائیل"۔ اسرائیل کا مطلب ہے اللہ کا بندہ۔ یہی بنی اسرائیل یعنی اسرائیل کی اولاد "یہودی" کہلائے۔ آدم سے لے کر ملاکی تک جتنے بھی انبیا گزرے ہیں یہودی ان سب کو انبیا مانتے ہیں۔ یہودی ملاکی کو آخری بائبلی نبی سمجھتے ہیں۔ اور ملاکی کے بعد جتنے بھی نبی آئے انہیں یہودی نہیں مانتے۔ اور ابھی تک مشیاخ (مسیح) کے انتظار میں ہیں، ان کے نزدیک مسیح ہی آخری پیغمبر ہو گا۔ اس طرح یہودی توریت کو اللہ کی طرف سے نازل شدہ مانتے ہیں لیکن انجیل اور قرآن کو نہیں مانتے۔

حوالہ جات[ترمیم]

  1. Population, by Population Group. Israel Central Bureau of Statistics. 2016. http://www.cbs.gov.il/publications16/yarhon0316/pdf/b1.pdf۔ اخذ کردہ بتاریخ 4 مئی 2016. 
  2. ^ ا ب پ ت ٹ ث ج چ ح خ د ڈ ذ ر​ ڑ​ ز ژ س ش DellaPergola, Sergio (2015). World Jewish Population, 2015. Berman Jewish DataBank. http://www.jewishdatabank.org/Studies/downloadFile.cfm?FileID=3394۔ اخذ کردہ بتاریخ 4 مئی 2016.