بنے اسرائیل

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
بنے اسرائیل
Beni-israel-india-2.jpg
زبانیں
روایتی طور پر مراٹھی گجراتی ملیالم ہندی انگریزی; جو اسرائیل میں ہیں وہ عموما عبرانی[1]
مذہب
یہودیت
متعلقہ نسلی گروہ
کوچنی یہودی، بغدادی یہود،مراٹھی لوگ

بنے اسرائیل ("اسرائیل کے بیٹے")، بھارت میں سابقہ نام’’شنیوار تیلی‘‘ ذات (ہفتہ تیلی ذات) اور اس کے بعد  ’’مقامی یہودی ذات‘‘  [2] بھارت  میں یہودیت  کی ایک تاریخی برادری ہے ۔ ان کے بارے ایسا بھی مانا جاتا ہے کہ [3] یہ برادری متنازع گمشدہ یہودی قبائل  کی خود ساختہ اولاد ہیں اور جنکے آباء  صدیوں پہلے وہاں آکر آباد ہوئے تھے۔ 19ویں صدی میں ، جب عام لوگوں کے مسلمہ (اشکنازی/سفاردی) یہودیت سمجھنے کے بعد، انہوں نے  کوکن علاقے کے دیہاتوں سے  قریبی شہروں کی جانب ہجرت کرنی شروع کی [4] ، بالخصوص ممبئی  میں اور ساتھ ہی ساتھ   پونے، احمد آباد،کلکتہ  (موجودہ بھارتی علاقے) اور کراچی میں موجودہ   پاکستانیشہر۔ [5] بہت سوں اس وقت کی برطانوی نوآبادیاتی حکومت میں عہدے حاصل کیے۔

بیسویں صدی کے ابتدائی حصے میں بہت سے بنے اسرائیلی نئی ابھرتی فلمی صنعت میں اداکاروں اور اداکاراؤں ، پیشکار اور ہدایتکار کے طور پہ سرگرم ہوئے -1947ء میں کے بھارت کے آزاد ہونے  اور 1948ء میں اسرائیل کے قیام کے بعد، اکثربنے اسرائیلیوں نے   اسرائیل، کینیڈا ،   دولت مشترکہ کے ممالک اور ریاست ہائے متحدہ امریکہ  ہجرت کی ۔

تاریخ[ترمیم]

اسکاٹ لینڈ کے آزاد چرچ کے بمبئی میں مشن اسکول اور یہودی انگلش اسکول کے بنے اسرائیل اساتذہ  1856ء

کچھ مورخین کا گمان تھا کہ ان بنے اسرائیل کے آباء و اجداد کا گمشدہ  اسرائیلی قبائل  سے تعلق ہو سکتا ہے ،[6] لیکن  سرکاری طور یہودی حکام نے بنے اسرائیل کو  کبھی تسلیم نہیں کیا ۔ بنے اسرائیل کی روایت کے مطابق ، ان کے آباؤ اجداد صدیوں کے اسرائیل سے مغربی ایشیا کے سفر میں آہستہ آہستہ وہاں ارد گرد کے لوگوں میں ضم ہوتے رہے ، بعد میں بھارت ہجرت کی جبکہ اپنی یہودی شناخت اور کچھ رواسم کو زندہ رکھا ۔ [7] قرون وسطی کے یہودی فلسفی موسی بن میمون  یا میونایڈث نے اپنے ایک خط میں بھارت میں ایک یہودی برادری کا ذکر کیا تھا ہو سکتا ہے کہ ان کا اشارہ بنے اسرائیل کی جانب ہو۔[8]

میں تاریخ میں ایک مقام ہے جس میں غیر یقینی،  کوچین  کا رہائشی ایک ہندوستانی یہودی ڈیوڈ رهابی  نے دریافت بنے اسرائیل کو ان کے دیہات میں دریافت کیا اور ان کے باقی ماندہ یہودی رسم و رواج کو تسلیم کیا ۔ [9] رهابی نے انہیں مسلمہ اور رائج یہودیت سکھائی ۔ اس نے کچھ نوجوانوں کو ان کے برادری کے مذہبی معلم بنایا ۔[10] جنہیں کاجز کے نام سے  پہچانا جاتا ہے ، ان مردوں کی موروثی حیثیت اپنا رکھی تھی ، بمشابہ کاہنیت انہیں اپنی برادری میں اقاضی اور ثالث کی حیثیت سے تسلیم کیا جانے لگا ۔[11]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. Joan G. Roland۔ Jewish Communities of India: Identity in a Colonial Era۔ روٹلیج۔ مورخہ 25 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ line feed character in |title= at position 7 (معاونت)
  2. Fischel، Walter (1970). "Bombay in Jewish History in the Light of New Documents from the Indian Archives". Proceedings of the American Academy for Jewish Research 38/39: 119–144. 
  3. Shalva Weil۔ "Bombay"۔ بہ Norman A. Stillman۔ Encyclopedia of Jews in the Islamic World۔ Leiden: Brill۔
  4. Shalva Weil۔ The Jews from the Konkan: the Bene Israel Community of India۔ Tel-Aviv: Beth Hatefutsoth۔
  5. Shalva Weil۔ "The Jews of Pakistan"۔ بہ M. Avrum Erlich۔ Encyclopedia of the Jewish Diaspora۔ Santa Barbara, USA: ABC CLIO۔
  6. Shalva Weil۔ "Jews of India and Ten Lost Tribes"۔ بہ Raphael Patai؛ Haya Bar Itzhak۔ Jewish Folklore and Traditions: A Multicultural Encyclopedia۔ ABC-CLIO۔
  7. Shalva Weil۔ "Bene Israel Rites and Routines"۔ بہ Shalva Weil۔ India’s Jewish Heritage: Ritual, Art and Life-Cycle۔ Mumbai: Marg Publications۔ صفحات 78–89۔
  8. Roland JG (1998) The Jewish communities of India: identity in a colonial era. 2nd ed. New Brunswick, New Jersey: Transaction Publishers
  9. Shalva Weil۔ "Yom Kippur: the Festival of Closing the Doors"۔ بہ Hananya Goodman۔ Between Jerusalem & Benares: Comparative Studies in Judaism & Hinduism۔ New York: State University of New York Press۔ صفحات 85–100۔
  10. Weil، Shalva (1996). "Religious Leadership vs. Secular Authority: the Case of the Bene Israel". Eastern Anthropologist 49 (3–4): 301–316. 
  11. Pushkar Sohoni؛ Kenneth X. Robbins۔ Jewish Heritage of the Deccan: Mumbai, the northern Konkan, Pune۔ Mumbai: Deccan Heritage Foundation; Jaico۔ صفحات 16–17۔ آئی ایس بی این 978-93-86348-66-1۔