یہودی تاریخ

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search

یہودی تاریخ یہودیوں اور یہودیت کی تاریخ ہے۔ اگرچہ یہودیت  بطور  مذہب یونانی  تاریخی  حوالوں کے مطابق سب سے پہلے  ھلنستی دور  (31 ق م – 323 ق م) میں ظاہر ہوا اور اسرائیل  کا قدیم ترین ذکر، قطبہ مرنپتاح  1203–1213 ق م پر لکھا ملتا ہے، مذہبی ادب  بنی اسرائیلیوں کی کہانی  1500 سال ق م  پرانی بتلاتا ہے۔ یہودی جلاوطن  برادری اسوری فتح  کے ساتھ ہی  شروع  ہوئی  اور بابلی فتح  پر شدت  اختیار کی۔ یہودی رومی سلطنت  میں بھی جابجا پھیلے ہوئے تھے، جس میں بازنطینی حکمرانی دور میں وسطی اور مشرقی بحیرہ روم  میں  کمی  واقع  ہوئی ہے۔ 638ء میں بازنطینی سلطنت نے  بلاد شام اور مشرقی بحیرہ رومی علاقوں کا قبضہ کھو دیا، عرب اسلامی سلطنت کے تحت خلیفہ عمر نے یروشلم، میسوپوٹامیا، شام، فلسطین اور مصر فتح کیا۔ سپین میں  یہودی ثقافت کا سنہری دور  مسلم  سنہری دور اور یورپ کے قرون وسطی کے تاریک دور ساتھ وقوع پزیر ہوا جب جزیرہ نما آئبیریا کے زیادہ تر علاقوں میں مسلم حکمرانی تھی۔ اس دور میں یہودیوں کو عام طور پر معاشرے میں تسلیم کیا جاتا تھا چنانچہ یہودی مذہبی، ثقافتی اور اقتصادی زندگی نے ترقی کی۔

کلاسیکی عثمانی مدت کے دوران میں 1300ء -1600ء سلطنت  کی تمام اقلیتی برادریاں بشمول یہود کسی حد تک خوشحالی و آزادی کا لطف اٹھاتے رہے۔ ،17ویں ء صدی میں مغربی یورپ میں اچھی خاصی یہودی آبادیاں تھیں۔ یورپی نشا‌‌‍ ۃ ثانیہ اور روشن خیالی کی مدت کے دوران میں خود یہودی برادریوں میں بھی اہم تبدیلیاں واقع ہوتی رہیں۔ 18ویں صدی عیسوی میں  یہودیوں نے تحدیدی قوانین سے آزادی اور وسیع تر یورپی معاشرے میں انضمام کے لیے مہم شروع کی۔ 1870ء اور 1880ء کی دہائیوں کے دوران یورپی یہود نے زیادہ فعال طور پر ہجرت کرنے اور یہود کو فلسطین اور ارض مقدسہ کے علاقوں میں دوبارہ آبادکاری کے بارے آزادانہ گفتگو اور بحثیں شروع کی۔ صیہونی تحریک باضابطہ طور پر 1897ء میں  قائم کی گئی۔ دریں اثنا، یورپ اور امریکا کے یہود نے سائنس، ثقافت اور معیشت کے شعبوں میں میں مہارت حاصل کی جن میں عام طور پر سائنس دان البرٹ آئنسٹائن اور فلسفی لڈوگ وٹگنسٹائن کو سب سے زیادہ مشہور سمجھا جاتا ہے۔ اس دور کے بعد سے یہود نے بڑی تعداد میں نوبل انعام جیتنا  شروع کیے۔[1]

1933ء میں ایڈولف ہٹلر اور نازیوں کے جرمنی میں اقتدار میں آتے ساتھ یہودیوں کی صورت حال زیادہ کشیدہ ہو گئی۔ اقتصادی بحران، سام مخالف نسلی قوانین اور قریب تر ہوتی آئندہ کی جنگ کے خوف نے بہت سے یہودیوں کو یورپ سے فلسطین، ریاست ہائے متحدہ امریکا اور سوویت یونین فرار ہونے پر مجبور کیا۔ 1939ء میں دوسری جنگ عظیم شروع ہوئی 1941ء تک ہٹلر نے پولینڈ اور فرانس سمیت تقریباً تمام یورپ جہاں اس وقت لاکھوں یہودی رہ رہے تھے پر قبضہ کر لیا۔ 1941ء میں سوویت یونین پر حملے کے بعد یہودیوں کا حتمی علاج یعنی یہودی لوگوں کا وسیع پیمانے پر بے مثال و منظم قتلِ عام شروع ہوا جس کا مقصد یہودی نسل کی فنا و تعدیم تھا اور جس کے نتیجہ یورپ بشمول شمالی افریقہ (نازی نواز وکی - شمالی افریقہ اور اطالوی لیبیا) میں یہود پر ظلم و ستم اور عقوبت وقوع پزیر ہوا۔ اس نسل کشی جس میں تقریباً ساٹھ لاکھ یہود باضابطہ طریقے سے ہلاک کیے گئے مرگ انبوہ یعنی ہولوکاسٹ یا (عبرانی اصطلاح) شواح کے طور پر جانا جاتا ہے صرف پولینڈ کے حراستی کیمپوں میں تیس لاکھ یہود گیس کی کوٹھڑیوں کے ذریعے  قتل ہوئے جبکہ صرف آشوٹز حراستی کیمپ ہی میں  دس لاکھ قتل کیے گئے۔

1945ء میں فلسطینی یہودی مزاحمتی تنظیمیں متحد ہوئیں اور یہودی مزاحمتی تحریک ہگانا کی باقاعدہ بنیاد ڈالی ،تحریک نے برطانوی تسلط سے لاتعلقی کا برملا اظہار شروع کر دیا حتی کہ برطانوی حکومت کے فلسطینی علاقوں میں لامحدود یہودی آبادکاری سے انکار پر ہگانا دہشت گرد طریقہ مزاحمت اپنایا اور ساتھ ہی ساتھ بحری جہازوں میں غیر قانونی تارکین وطن یہود کو فلسطین میں آباد کرنے لگے۔ ڈیوڈ بن گوریان  نے 14 مئی  1948ء کو  ارض اسرائیل میں یہودی ریاست  کے قیام کا  اعلان کر دیا جو  اسرائیلی ریاست کے طور پر جانا گیا۔  اس کے بعد فوری طور پر تمام ہمسایہ عرب ریاستوں نے اسرائیل پر حملہ کر دیا، جبکہ نو زائیدہ اسرائیلی  فوج برطانیہ اورفرانس کی مدد سے مزاحمت کرتی رہی۔ 1949ء میں جنگ ختم ہوئی  تو اسرائیل کی ریاست کی تعمیر شروع  ہوئی، ریاست نے بڑے پیمانے پر دنیا بھر سے سینکڑوں ہزاروں یہودی مہاجرین  کی لہروں کو جذب کیا۔ آج اسرائیل ایک پارلیمانی جمہوریت ہے  جس کی آبادی 80 لاکھ افراد سے زائد ہے، جن میں 60 لاکھ یہودی ہیں۔ سب سے بڑا یہودی طبقہ  اسرائیل اور امریکہ میں ہے جبکہ اہم برادریاں  فرانس، ارجنٹائن، روس، برطانیہ، آسٹریلیا، کینیڈا اور جرمنی میں ہیں۔ اعداد و شمار اور جمعیت شماری کے لیے یہودی آبادی صفحہ ملاحظہ کریں۔

یہودی تاریخ  کے ادوار[ترمیم]

یہودیوں اور یہودیت کی تاریخ پانچ ادوار میں تقسیم کیا جا سکتا ہے: (1) آغازِِ یہودیت سے   قبل کا قدیم اسرائیل - 586 ق م؛ (2) 5 اور  6 صدی ق م میں آغازِ یہودیت کے دوران؛ (3) ہیکل دوم کی تباہی کے بعد  70ء میں  ربیائی یہودیت کی تشکیل ؛ (4) رہبائی  یہودیت کا دور رَفعِ مسیحیت سے لیکر 312ء  میں حکمران قسطنطین اعظم کے سیاسی دورِ اقتدار  تک  اور 18ویں صدی کے آخر میں مسیحی سیاسی بالادستی کے   خاتمے تک ؛ اور (5)، مختلف یہودیت کا دور، فرانسیسی اور امریکی انقلابات سے لیکر موجودہ دور تک۔[2]

Chronology of Israel urd.pngاسرائیل کی طرف بڑے پیمانے پر ہجرت کے ادواریہودی جلاوطنی کے ادوارکلی یا جزوی آزاد یہودیوں کے اسرائیل میں رهنے کے ادوارہیکل یہود کے موجودگی کے ادواریہودی تاریخکتاب قضاۃکتاب سلاطینپہلا ہیکلہیکلِِ دومزوغتتنائیمایمورائمسبورجاونئیمرشونئماخرونئمعلیااسرائیلمرگ انبوہیہودی جلاوطنیسپین سے بیدخلیروم سے بیدخلیشام سے بیدخلی(گمشدگی دس قبائل)بابل کی اسیریہیکل دومAncient Jewish Historyتقویم بائبلتصلیب مسیح#مسلمانوں کا عقیدہ

قدیم یہودی تاریخ (1500 ق م – 63 ق م)[ترمیم]

یہودی غلام ۔ قدیم مصری مورتی۔ حیفا یونیورسٹی کے  عجائبگھر میں

مرکزی صفحہ ابتداء یہودیت

ابتدائی یہودیوں اور ان کے پڑوسیوں کی تاریخ زرخیز ہلال اور بحیرہ روم  کے مشرقی ساحل پر مرکوز ہے۔ یہ تاریخ ان لوگوں میں شروع ہوتی ہے جو دریائے نیل اور بین النہرین کے درمیانی علاقوں  میں رہتے رہے۔ اس کے اطراف میں قدیم مصر اور بابل، عرب کے ریگستان اور پہاڑ۔ ایشیائے کوچک، کنعان کی زمین (جو موجودہ اسرائیل، فلسطین، اردن اور لبنان کے علاقے بنتے ہیں) تہذیبوں کی مُقامِ اِجتماع تھا۔

عبرانی بائبل کے مطابق،یہود  قدیم بنی اسرائیل کی نسل سے ہیں جو کنعان  کے علاقے میں بحیرہ روم کے مشرقی ساحل اور دریائے اردن کے درمیان میں آباد ہوئے۔ عبرانی بائبل  ’’بنی اسرائیل‘‘ کو مشترک جدامجد یعقوب سے منسوب کرتی ہے۔[3]

کتاب یہ بھی تجویز کرتی ہے کہ دوسری ہزاریہ قبل مسیح کی شروع کی صدیوں میں عبرانیوں کی خانہ بدوشیہیبرون یعنی الخلیل کے اردگرد مرکوز رہی جس کا نتیجہ ان کے مقام تدفین یعنی پرکھوں کے غار کے قیام پر ہوا۔ بنی اسرائیل اس سرگزشت کے مطابق، بارہ قبائل پر مشتمل تھا، ہر ایک قبیلہ یعقوب کے بارہ بیٹوں کی اولاد تھا روبن، شمعون، لیوی، یہودہ، آشکار، زابلن،ڈین، گاد، نفتالی، آشیر، یوسف اور بن یامین۔

اسرائیل اور یہوداہ کی ریاستیں اور ان میں رہنے والے بنی اسرائیلی قبائل 926 قبل مسیح میں

بائبل کی کتاب پیدائش، باب 50-25 ، یعقوب اور اس کے بارہ بیٹوں کا قصہ بتاتا ہے جنہوں نے  شدید قحط کے دوران میں کنعان  چھوڑا اور شمالی مصر کے   علاقے گوشن  میں آباد ہوئے۔ شروع میں تو انہیں مصر میں زرخیز زمینیں دی گئیں تاہم صدیوں بعد مصری فراعنہ کی حکومت نے انہیں مبینہ طور پر غلام بنا رکھا تھا ، اگرچہ قرآن اور سابقہ مقدس کتب اس کی تصدیق کرتی ہیں  تاہم اس  امر کے واقع ہونے کا کسی آزاد ذرائع سے ثبوت نہیں ملا۔[4] کم و بیش 400 سال کی غلامی کے بعد  اللہ یعنی  یہوہ (اسرائیلی لوگوں کے خدا کا اسوقت کا نام ) نے  لاوی قبیلے کے عبرانی پیغمبر موسیٰ کو  اسرائیلیوں کو فرعون سے رہائی کے لیے بھیجا۔ مقدس کتب کے مطابق، عبرانی معجزانہ طور پر ہجرت کر کے   مصر سے باہر نکلے ( یہ واقعہ  خروج یا ہجرت کے طور پر جانا جاتا) اور واپس اپنے آبائی وطن کنعان لوٹے۔ مقدس کتب  کے مطابق، مصری غلامی سے آزادی کے بعد،(اسلام کے مطابق انہوں نے موسی کی حکم عدولی کی اور کنعانی قبیلے سے لڑنے سے انکار کیا جس کی سزا میں ) بنی اسرائیل  چالیس سال کی مدت تک سینا کے ریگستان کے   میں گمراہ پھرتے رہے، جہاں انہیں من و سلوی ملتا رہا  پھر انہوں نے1400 قبل مسیح میں یوشع بن نون کی زیر قیادت کنعان فتح کیا۔ بائبل کی تحریروں کے مطابق ،صحرا میں رہنےکی مدت کے دوران میں بنی اسرائیل کو دس احکام کوہ سیناء پر یہوواہ سے موسیٰ کے ذریعے موصول ہوئے۔  کنعان میں داخل ہونے کے بعد، ہر ایک قبیلے کو  زمین کا حصہ دیا گیا ۔

بہرکیف، آثار قدیمہ سے یہود کے   اصل علاقے کی ایک مختلف کہانی کاپتہ چلتا ہے  کہ ضروری نہیں ہے کہ یہود نے  لیونت یا سرزمین  شام کا  علاقہ چھوڑا ہو۔ آثار قدیمہ کے وہ ثبوت زیادہ حاوی ہیں کہ بنی اسرائیل کا اصل مقام کنعان تھا نہ کہ مصر، جن کے مطابق مصر سے فرار یا 40 سال در بدرسینا کے صحرا اور بیابان میں پھرنے والے قصہ کی کوئی گنجائش نہیں ہے [5]۔  بہت سے آثار قدیمہ کے ماہرین نے ، موسیٰ اور خروج مصر کے آثار قدیمہ کی تحقیقات کو ’’ایک بے ثمر تعاقب‘‘ قرار دیکر ترک کر دیا ہے[5]۔  ایک صدی پر محیط  آثار قدیمہ  اور مصریات  کے ماہرین نے تحقیق سے کوئی قابلِ قدر ثبوت نہیں  پایا کہ قیدِ مصر، داستانِ فرار از مصر اور سفرِ بیابانِ سینا میں براہ راست کوئی تعلق ہو سکتا ہے  اور یوں اس تجویز کے نتیجے پر پہنچے  کہ آہنی دور کی یہوداہ اور اسرائیل کی ریاستوں کا اصل مقام کنعان ہے، نہ کہ مصر۔۔[6][7] قدیم ترین اسرائیلی بستیوں  کی ثقافت کنعانی ہے، ان کے  اشیائے مقدسہ کنعانی دیوتا  ال کی ہیں، مٹی کے برتنوں میں  مقامی کنعانی  روایت پائی جاتی ہے اور ان کے حروف تہجی ابتدائی مقامی کنعانی ہے  ۔  واحد فرق ’’اسرائیلی‘‘ دیہات اور کنعانی مقامات میں زیر زمین دبی ہوئی سور کی ہڈیوں کی غیر موجودگی ہے، اسے  نسلی فرق گنا جائے  یا  یہ فرق دیگر عوامل کی وجہ سے ہے ابھی تک یہ معاملہ متنازع ہے[8]

کئی سو سال تک ارض مقدسہ  کی  بارہ  متحدہ  ریاستوں پر  بارہ قبیلوں  کے   اماموں (قضاۃ) کی حکمرانی  کا تسلسل رہا۔ اس کے بعد 1000 قبل مسیح   میں   طالوت بادشاہ کے تحت اسرائیلی بادشاہت قائم  ہوئی اور  بادشاہ داؤد ؑ اور اُس کے بیٹے شاہ سلیمان ؑ کے دور تک جاری رہی۔ داؤد ؑ ہی کے دور حکومت میں پہلے سے قائم یروشلم  اسرئیل اور یہوداہ کی متحدہ بادشاہتوں کا قومی اور روحانی دارلحکومت بنا۔ سلیمان ؑ نے سب سے پہلے موریاہ پہاڑ (حرم قدسی) پر ہیکل تعمیر کی جو یروشلم میں ہے[9]۔ تاہم، قبائل جو  سیاسی طور پر انتشار کا شکار تھے، ان کی موت پر , دس شمالی  قبائل اور دو جنوبی قبائل (یہودا اور بنیامین )کے درمیان خانہ جنگی شروع ہوئی ۔ بنی اسرائیل قوم دو ریاستوں میں  تقسیم ہوئی شمال میں ریاست   اسرائیل  (سامریہ) اور جنوب میں مملکت یہوداہ کے نام سے، تقسیم کا فائدہ اٹھا کر شامی حکمران تلگت پلاسر سوم نے شمالی ریاست اسرائیل پر 8ویں صدی قبل مسیح میں قبضہ کیا۔ عام طور پر  قابل قبول  کوئی بھی  تاریخی دستاویز  ان   دس شمالی قبائل کی   حتمی حالت کی  سرگزشت نہیں دیتی، جنہیں اسرائیل  کے دس گمشدہ قبائل کے طور پر بھی جانا جاتا ہے، اگرچہ قیاس آرائیوں کی افراط ہے۔

اسیری بابل (587-538 قبل مسیح)[ترمیم]

یہودیوں کی قدیم سلطنت یہوداہ سے  بابل کی جانب ملک بدری اور جلاوطنی اور یروشلم کے  ہیکل سلیمانی  کی تباہی -

ایک غالب طاقت کے خلاف بغاوت اور نتیجہ خیز محاصرے کے بعد کی مملکت یہوداہ کو 587 قبل مسیح میں بابلیوں کی فوج  نے فتح کیا اور پہلا ہیکل (ہیکل سلیمانی )  تباہ کیا- مملکت  کی اشرافیہ اور ان کے لوگوں کے بہت سے تھے جلاوطن کردئے گئے تھے، جہاں ان کا مذہب روایتی ہیکل سے باہر ترقی پاتا رہا . جبکہ دوسرے مصر فرار ہوگئے. یروشلم کے زوال کے بعد بابل (موجودہ عراق) , یہودیت کے لیے ایک ہزار سے زیادہ سال تک توجہ کا مرکز بنا رہا.[حوالہ درکار] سب سے پہلی بابل میں مملکت یہوداہ کی جلاوطن یہودی برادری  کا قیام 597 قبل مسیح میں یہوکونیاہ  کی جانب سے آیا اور ساتھ ہی 586 قبل مسیح میں ہیکل سلیمانی کی تباہی بھی[10] . بابل ،  جہاں یہود کے چند سب سے ممتاز شہر اور برادریاں قائم ہوئیں ,اور جو اس وقت سے لے کر 13ویں صدی تک یہودی زندگی کا مرکز بنا [11]. پہلی صدی تک بابل کی آبادی کے بڑھاؤ میں تیزی آچکی تھی[10] اور ایک اندازے کے مطابق  سال 200 عیسوی سے 500 عیسوی میں دس لاکھ یہود تک اضافہ ہوا جو بعد میں بڑھ کر  بیس لاکھ تک جا پہنچی[12]  ، دونوں قدرتی بڑھاؤ  اور زیادہ سے زیادہ  یہود کی اسرائیل سے ہجرت  کی وجہ سے ، یہاں تک کہ دنیا کی یہودی آبادی کا  چھٹا حصہ اس علاقے میں آباد ہوا [12]. یہیں پر انہوں نے بابلی تلمود لکھی قدیم بابل کے یہودیوں کی زبانوں —عبرانی اور ارامی میں-

یہودی تصوف ( قبالہ ) جو آج بھی ان میں بہت مشہور اور رائج ہے ، کچھ دانشوروں جیسے مشہور یہودی مصنف شهولیم گرشوم کے مطابق اپنی اصلی حالت (نظریاتی قبالہ) کے ساتھ ساتھ اس میں جادوئی عملیات ( عملی قبالہ ) کا دخول اسی زمانے میں ہوا جو قرون وسطی تک مزید ترقی کرتا گیا ، اپنی کتاب کبالہ میں بیان کرتے ہیں

تاریخی حوالے سے  عملی قبالہ نظریاتی قبالہ سے بہت پرانا اور اس پر غیر منحصر بھی ہے. حقیقت میں اب جسے عملی قبالہ سمجھا جاتا ہےان تمام تر جادوئی عملیات کا مجموعہ ہے جو تالمودی دور (بابل) میں پروان چڑھیں اور قرون وسطی تک چلی آئیں- سفیروت کی صوفی تعلیمات (نظریاتی قبالہ) نے بمشکل ہی کبھی ان عملیات میں کوئی فیصلہ کن کردار ادا کیا ہے [13][14]

ان یہود نے بابل کی تلمودی  درسگاہیں قائم کیں ، جو جیونئیم  درسگاہیں کہلاتی ہیں - جو بابل میں یہودی علم اور یہودی قانون کی ترقی کا مرکز بنیں  500ء  سے 1038 ء تک . دو سب سے زیادہ مشہور درسگاہیں   پمبیدیتا اور سبورا تھیں - اہم (علم دین کے مدرسے)  نیہاردیا  اور مہوذا میں واقع تھے -

کچھ نسلوں اور  فارس کی 540 ق م میں  بابل کی فتح کے بعد  کچھ مریدین عزیر اور  نحمیاہ کی رہنمائی میں واپس اپنی سرزمین اور اپنی پرانی روایات  کو لوٹے – دوسرے یہود مستقل واپس نہ لوٹ سکے اور جلا وطنی ہی میں رہے[15] اور اسرائیل سے باہر اپنی الگ ہی خود مختاری بنا لی ، خاص طور پر مشرق وسطی میں 7 ویں صدی ءکی مسلم فتوحات کے بعد[حوالہ درکار]-


قدیم ہندستان کیساتھ ابتدائی تجارت (70 ء - 562 ق م)[ترمیم]

(نقاشی) 68 ء میں یہودی کوچین پہنچتے ہوئے

قدیم  روایات کے مطابق ، یہوداہ سے تاجر ہندستان کے موجودہ شہرکوچین  (کوچی)  562 ق م میں پہنچے ، اور مزید جلاوطن یہود اہ کے باسی 70 ء میں ہیکل کی دوسری تباہی کے بعدپہنچے[16]

حواشی[ترمیم]

  1. "Jewish Nobel Prize Winners"۔ jinfo.org۔ مورخہ 7 جنوری 2019 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔
  2. Neusner 1992، صفحہ۔ 4.
  3. http://www.biblestudytools.com/dictionary/children-of-israel/
  4. https://www.haaretz.com/jewish/were-jews-ever-really-slaves-in-egypt-1.5208519
  5. ^ ا ب Dever, William G.۔ What Did the Biblical Writers Know and When Did They Know It?۔ Wm. B. Eerdmans Publishing Company۔ آئی ایس بی این 978-0-8028-2126-3۔p. 99
  6. Finkelstein, Israel and Nadav Naaman, eds. (1994). From Nomadism to Monarchy: Archaeological and Historical Aspects of Early Israel. Israel Exploration Society۔ ISBN 978-1-880317-20-4۔
  7. Robert Jameson. Ian Shaw, ed A؛Ian Shaw Dictionary of Archaeology (New edition (17 Feb 2002) ed.). Wiley Blackwell. p. 313. ISBN 978-0-631-23583-5۔ The Biblical account of the origins of the people of Israel (principally recounted in Numbers, Joshua and Judges) often conflicts with non-Biblical textual sources and with the archaeological evidence for the settlement of Canaan in the late Bronze Age and early Iron Age. […] Israel is first textually attested as a political entity in Egyptian texts of the late 13th century BC and the Egyptologist Donald Redford argues that the Israelites must have been emerging as a distinct group within the Canaanite culture during the century or so prior to this. It has been suggested that the early Israelites were an oppressed rural group of Canaanites who rebelled against the more urbanized coastal Canaanites (Gottwald 1979). Alternatively, it has been argued that the Israelites were survivors of the decline in the fortunes of Canaan who established themselves in the highlands at the end of the late Bronze Age (Ahlstrom 1986: 27). Redford, however, makes a good case for equating the very earliest Israelites with a semi-nomadic people in the highlands of central Palestine whom the Egyptians called Shasu (Redford 1992:2689-80; although see Stager 1985 for strong arguments against the identification with the Shasu). These Shasu were a persistent thorn in the side of the Ramessid pharoahs' empire in Syria-Palestine, well-attested in Egytian texts, but their pastoral lifestyle has left scant traces in the archaeological record. By the end of the 13th century BC, however, the Shasu/Israelites were beginning to establish small settlements in the uplands, the architecture of which closely resembles contemporary Canaanite villages.
  8. Killebrew, Ann E. (2005). Biblical Peoples and Ethnicity: An Archeological Study of Egyptians, Canaanites, Philistines, and Early Israel, 1300–1100 B.C.E. Atlanta: Society of Biblical Literature. p. 176. ISBN 978-1-58983-097-4. Retrieved August 12, 2012. Much has been made of the scarcity of pig bones at highland sites. Since small quantities of pig bones do appear in Late Bronze Age assemblages, some archaeologists have interpreted this to indicate that the ethnic identity of the highland inhabitants was distinct from Late Bronze Age indigenous peoples (see Finkelstein 1997, 227-30). Brian Hesse and Paula Wapnish (1997) advise caution, however, since the lack of pig bones at Iron I highland settlements could be a result of other factors that have little to do with ethnicity
  9. Compare: "Brief History of Israel and the Jewish People ".Israel Science and Technology Directory. Retrieved August 12, 2012. The rule of Israelites in the land of Israel starts with the conquests of Joshua (ca. 1250 BCE). The period from 1000-587 BCE is known as the 'Period of the Kings'. The most noteworthy kings were King David (1010-970 BCE), who made Jerusalem the Capital of Israel, and his son Solomon (Shlomo, 970-931 BCE), who built the first Temple in Jerusalem as prescribed in the Tanach (Old Testament).
  10. ^ ا ب [מרדכי וורמברנד ובצלאל ס רותת "עם ישראל - תולדות 4000 שנה - מימי האבות ועד חוזה השלום", ע"מ 95. (Translation: Mordechai Vermebrand and Betzalel S. Ruth - "The People of Israel - the history of 4000 years - from the days of the Forefathers to the Peace Treaty", 1981, pg. 95)
  11. Moore, Megan Bishop; Kelle, Brad E. (2011). Biblical History and Israel's Past: The Changing Study of the Bible and History. Wm. B. Eerdmans Publishing. pp. 357–358. ISBN 0802862608. Retrieved 11 June 2015
  12. ^ ا ب Dr. Solomon Gryazel, History of the Jews: From the destruction of Judah in 586 BC to the present Arab Israeli conflict, p. 137.
  13. Scholem, Gershom. Kabbalah, p. 183. Keter Publishing HouseJerusalem, Ltd., 1974.
  14. Kabbalah - Gershom Scholem.pdf
  15. Jonathan Stökl, Caroline Waerzegger (2015). Exile and Return: The Babylonian Context. Walter de Gruyter GmbH & Co. pp. 7–11, 30, 226.
  16. Mordecai Schreiber۔ The Shengold Jewish Encyclopedia۔ Rockville, MD: Schreiber Publishing۔ صفحہ 125۔ آئی ایس بی این 1887563776۔