یہودی تاریخ

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search

یہودی تاریخ یہودیوں اور یہودیت کی تاریخ ہے۔ اگرچہ یہودیت بطور مذہب یونانی تاریخی حوالوں کے مطابق سب سے پہلے ھلنستی دور (31 ق م – 323 ق م) میں ظاہر ہوا اور اسرائیل کا قدیم ترین ذکر، قطبہ مرنپتاح 1203–1213 ق م پر لکھا ملتا ہے، مذہبی ادب بنی اسرائیلیوں کی کہانی 1500 سال ق م پرانی بتلاتا ہے۔ یہودی جلاوطن برادری اسوری فتح کے ساتھ ہی شروع ہوئی اور بابلی فتح پر شدت اختیار کی۔ یہودی رومی سلطنت میں بھی جابجا پھیلے ہوئے تھے، جس میں بازنطینی حکمرانی دور میں وسطی اور مشرقی بحیرہ روم میں کمی واقع ہوئی ہے۔ 638ء میں بازنطینی سلطنت نے بلاد شام اور مشرقی بحیرہ رومی علاقوں کا قبضہ کھو دیا، عرب اسلامی سلطنت کے تحت خلیفہ عمرؓ نے یروشلم، میسوپوٹامیا، شام، فلسطین اور مصر فتح کیا۔ ہسپانیہ میں یہودی ثقافت کا سنہری دور مسلم سنہری دور اور یورپ کے قرون وسطی کے تاریک دور ساتھ وقوع پزیر ہوا جب جزیرہ نما آئبیریا کے زیادہ تر علاقوں میں مسلم حکمرانی تھی۔ اس دور میں یہودیوں کو عام طور پر معاشرے میں تسلیم کیا جاتا تھا چنانچہ یہودی مذہبی، ثقافتی اور اقتصادی زندگی نے ترقی کی۔

کلاسیکی عثمانی مدت کے دوران میں 1300ء -1600ء سلطنت کی تمام اقلیتی برادریاں بشمول یہود کسی حد تک خوشحالی و آزادی کا لطف اٹھاتے رہے۔ ،17ویں ء صدی میں مغربی یورپ میں اچھی خاصی یہودی آبادیاں تھیں۔ یورپی نشا‌‌‍ ۃ ثانیہ اور روشن خیالی کی مدت کے دوران میں خود یہودی برادریوں میں بھی اہم تبدیلیاں واقع ہوتی رہیں۔ 18ویں صدی عیسوی میں یہودیوں نے تحدیدی قوانین سے آزادی اور وسیع تر یورپی معاشرے میں انضمام کے لیے مہم شروع کی۔ 1870ء اور 1880ء کی دہائیوں کے دوران یورپی یہود نے زیادہ فعال طور پر ہجرت کرنے اور یہود کو فلسطین اور ارض مقدسہ کے علاقوں میں دوبارہ آبادکاری کے بارے آزادانہ گفتگو اور بحثیں شروع کی۔ صیہونی تحریک باضابطہ طور پر 1897ء میں قائم کی گئی۔ دریں اثنا، یورپ اور امریکا کے یہود نے سائنس، ثقافت اور معیشت کے شعبوں میں میں مہارت حاصل کی جن میں عام طور پر سائنس دان البرٹ آئنسٹائن اور فلسفی لڈوگ وٹگنسٹائن کو سب سے زیادہ مشہور سمجھا جاتا ہے۔ اس دور کے بعد سے یہود نے بڑی تعداد میں نوبل انعام جیتنا شروع کیے۔[1]

1933ء میں ایڈولف ہٹلر اور نازیوں کے جرمنی میں اقتدار میں آتے ساتھ یہودیوں کی صورت حال زیادہ کشیدہ ہو گئی۔ اقتصادی بحران، سام مخالف نسلی قوانین اور قریب تر ہوتی آئندہ کی جنگ کے خوف نے بہت سے یہودیوں کو یورپ سے فلسطین، ریاست ہائے متحدہ امریکا اور سوویت یونین فرار ہونے پر مجبور کیا۔ 1939ء میں دوسری جنگ عظیم شروع ہوئی 1941ء تک ہٹلر نے پولستان اور فرانس سمیت تقریباً تمام یورپ جہاں اس وقت لاکھوں یہودی رہ رہے تھے پر قبضہ کر لیا۔ 1941ء میں سوویت یونین پر حملے کے بعد یہودیوں کا حتمی علاج یعنی یہودی لوگوں کا وسیع پیمانے پر بے مثال و منظم قتلِ عام شروع ہوا جس کا مقصد یہودی نسل کی فنا و تعدیم تھا اور جس کے نتیجہ یورپ بشمول شمالی افریقہ (نازی نواز وکی - شمالی افریقہ اور اطالوی لیبیا) میں یہود پر ظلم و ستم اور عقوبت وقوع پزیر ہوا۔ اس نسل کشی جس میں تقریباً ساٹھ لاکھ یہود باضابطہ طریقے سے ہلاک کیے گئے مرگ انبوہ یعنی ہولوکاسٹ یا (عبرانی اصطلاح) شواح کے طور پر جانا جاتا ہے صرف پولستان کے حراستی کیمپوں میں تیس لاکھ یہود گیس کی کوٹھڑیوں کے ذریعے قتل ہوئے جبکہ صرف آشوٹز حراستی کیمپ ہی میں دس لاکھ قتل کیے گئے۔

1945ء میں فلسطینی یہودی مزاحمتی تنظیمیں متحد ہوئیں اور یہودی مزاحمتی تحریک ہگانا کی باقاعدہ بنیاد ڈالی ،تحریک نے برطانوی تسلط سے لاتعلقی کا برملا اظہار شروع کر دیا حتی کہ برطانوی حکومت کے فلسطینی علاقوں میں لامحدود یہودی آبادکاری سے انکار پر ہگانا دہشت گرد طریقہ مزاحمت اپنایا اور ساتھ ہی ساتھ بحری جہازوں میں غیر قانونی تارکین وطن یہود کو فلسطین میں آباد کرنے لگے۔ ڈیوڈ بن گوریان نے 14 مئی 1948ء کو ارض مقدسہ میں یہودی ریاست کے قیام کا اعلان کر دیا جو اسرائیلی ریاست کے طور پر جانا گیا۔ اس کے بعد فوری طور پر تمام ہمسایہ عرب ریاستوں نے اسرائیل پر حملہ کر دیا، جبکہ نو زائیدہ اسرائیلی فوج برطانیہ اورفرانس کی مدد سے مزاحمت کرتی رہی۔ 1949ء میں جنگ ختم ہوئی تو اسرائیل کی ریاست کی تعمیر شروع ہوئی، ریاست نے بڑے پیمانے پر دنیا بھر سے سینکڑوں ہزاروں یہودی مہاجرین کی لہروں کو جذب کیا۔ آج اسرائیل ایک پارلیمانی جمہوریت ہے جس کی آبادی 80 لاکھ افراد سے زائد ہے، جن میں 60 لاکھ یہودی ہیں۔ سب سے بڑا یہودی طبقہ اسرائیل اور امریکہ میں ہے جبکہ اہم برادریاں فرانس، ارجنٹائن، روس، برطانیہ، آسٹریلیا، کینیڈا اور جرمنی میں ہیں۔ اعداد و شمار اور جمعیت شماری کے لیے یہودی آبادی صفحہ ملاحظہ کریں۔

یہودی تاریخ  کے ادوار[ترمیم]

یہودیوں اور یہودیت کی تاریخ پانچ ادوار میں تقسیم کیا جا سکتا ہے:

(1) آغازِِ یہودیت سے   قبل کی قدیم ارض مقدسہ - 586 ق م؛

(2) 5 اور  6 صدی ق م میں آغازِ یہودیت کے دوران؛

(3) ہیکل دوم کی تباہی کے بعد  70ء میں  ربیائی یہودیت کی تشکیل ؛

(4) رہبائی  یہودیت کا دور رَفعِ مسیحیت سے لیکر 312ء  میں حکمران قسطنطین اعظم کے سیاسی دورِ اقتدار  تک  اور 18ویں صدی کے آخر میں مسیحی سیاسی بالادستی کے   خاتمے تک ؛ اور

(5) مختلف یہودیت کا دور، فرانسیسی اور امریکی انقلابات سے لیکر موجودہ دور تک۔[2]

Chronology of Israel urd.pngاسرائیل کی طرف بڑے پیمانے پر ہجرت کے ادواریہودی جلاوطنی کے ادوارکلی یا جزوی آزاد یہودیوں کے اسرائیل میں رهنے کے ادوارہیکل یہود کے موجودگی کے ادواریہودی تاریخکتاب قضاۃکتاب سلاطینپہلا ہیکلہیکلِِ دومزوغتتنائیمایمورائمسبورجاونئیمرشونئماخرونئمعلیااسرائیلمرگ انبوہیہودی جلاوطنیسپین سے بیدخلیروم سے بیدخلیشام سے بیدخلی(گمشدگی دس قبائل)بابل کی اسیریہیکل دومAncient Jewish Historyتقویم بائبلتصلیب مسیح#مسلمانوں کا عقیدہ

قدیم یہودی تاریخ (1500 قم – 63 ق م)[ترمیم]

یہودی غلام ۔ قدیم مصری مورتی۔ حیفا یونیورسٹی کے عجائب گھر میں

قدیم ارض مقدسہ (586 ق م تک)[ترمیم]

مرکزی صفحہ ابتداء یہودیت

ابتدائی یہودیوں اور ان کے پڑوسیوں کی تاریخ زرخیز ہلال اور بحیرہ روم کے مشرقی ساحل پر مرکوز ہے۔ یہ تاریخ ان لوگوں میں شروع ہوتی ہے جو دریائے نیل اور بین النہرین کے درمیانی علاقوں میں رہتے رہے۔ اس کے اطراف میں قدیم مصر اور بابل، عرب کے ریگستان اور پہاڑ۔ ایشیائے کوچک، کنعان کی زمین (جو موجودہ اسرائیل، فلسطین، اردن اور لبنان کے علاقے بنتے ہیں) تہذیبوں کی مُقامِ اِجتماع تھا۔

عبرانی بائبل کے مطابق،یہود قدیم بنی اسرائیل کی نسل سے ہیں جو کنعان کے علاقے میں بحیرہ روم کے مشرقی ساحل اور دریائے اردن کے درمیان میں آباد ہوئے۔ عبرانی بائبل ’’بنی اسرائیل‘‘ کو مشترک جدامجد یعقوب سے منسوب کرتی ہے۔[3]

کتاب یہ بھی تجویز کرتی ہے کہ دوسری ہزاریہ قبل مسیح کی شروع کی صدیوں میں عبرانیوں کی خانہ بدوشی ہیبرون یعنی الخلیل کے اردگرد مرکوز رہی جس کا نتیجہ ان کے مقام تدفین یعنی پرکھوں کے غار کے قیام پر ہوا۔ بنی اسرائیل اس سرگزشت کے مطابق، بارہ قبائل پر مشتمل تھا، ہر ایک قبیلہ یعقوب کے بارہ بیٹوں کی اولاد تھا روبن، شمعون، لیوی، یہودہ، آشکار، زابلن،ڈین، گاد، نفتالی، آشیر، یوسف اور بن یامین۔

اسرائیل اور یہوداہ کی ریاستیں اور ان میں رہنے والے بنی اسرائیلی قبائل 926 قبل مسیح میں

بائبل کی کتاب پیدائش، باب 50-25 ، یعقوب اور اس کے بارہ بیٹوں کا قصہ بتاتا ہے جنہوں نے شدید قحط کے دوران میں کنعان چھوڑا اور شمالی مصر کے علاقے گوشن میں آباد ہوئے۔ شروع میں تو انہیں مصر میں زرخیز زمینیں دی گئیں تاہم صدیوں بعد مصری فراعنہ کی حکومت نے انہیں مبینہ طور پر غلام بنا رکھا تھا ، اگرچہ قرآن اور سابقہ مقدس کتب اس کی تصدیق کرتی ہیں تاہم اس امر کے واقع ہونے کا کسی آزاد ذرائع سے ثبوت نہیں ملا۔[4] کم و بیش 400 سال کی غلامی کے بعد اللہ یعنی یہوہ (یہودی لوگوں کے خدا کا اس وقت کا نام ) نے لاوی قبیلے کے عبرانی پیغمبر موسیٰ کو یہود کو فرعون سے رہائی کے لیے بھیجا۔ مقدس کتب کے مطابق، عبرانی معجزانہ طور پر ہجرت کر کے مصر سے باہر نکلے ( یہ واقعہ خروج یا ہجرت کے طور پر جانا جاتا) اور واپس اپنے آبائی وطن کنعان لوٹے۔ مقدس کتب کے مطابق، مصری غلامی سے آزادی کے بعد،(اسلام کے مطابق انہوں نے موسی کی حکم عدولی کی اور کنعانی قبیلے سے لڑنے سے انکار کیا جس کی سزا میں ) بنی اسرائیل چالیس سال کی مدت تک سینا کے ریگستان کے میں گمراہ پھرتے رہے، جہاں انہیں من و سلوی ملتا رہا پھر انہوں نے1400 قبل مسیح میں یوشع بن نون کی زیر قیادت کنعان فتح کیا۔ بائبل کی تحریروں کے مطابق ،صحرا میں رہنےکی مدت کے دوران میں بنی اسرائیل کو دس احکام کوہ سیناء پر یہوواہ سے موسیٰ کے ذریعے موصول ہوئے۔ کنعان میں داخل ہونے کے بعد، ہر ایک قبیلے کو زمین کا حصہ دیا گیا ۔

بہرکیف، آثار قدیمہ سے یہود کے اصل علاقے کی ایک مختلف کہانی کاپتہ چلتا ہے کہ ضروری نہیں ہے کہ یہود نے لیونت یا سرزمین شام کا علاقہ چھوڑا ہو۔ آثار قدیمہ کے وہ ثبوت زیادہ حاوی ہیں کہ بنی اسرائیل کا اصل مقام کنعان تھا نہ کہ مصر، جن کے مطابق مصر سے فرار یا 40 سال در بدرسینا کے صحرا اور بیابان میں پھرنے والے قصہ کی کوئی گنجائش نہیں ہے [5]۔ بہت سے آثار قدیمہ کے ماہرین نے ، موسیٰ اور خروج مصر کے آثار قدیمہ کی تحقیقات کو ’’ایک بے ثمر تعاقب‘‘ قرار دیکر ترک کر دیا ہے[5]۔ ایک صدی پر محیط آثار قدیمہ اور مصریات کے ماہرین نے تحقیق سے کوئی قابلِ قدر ثبوت نہیں پایا کہ قیدِ مصر، داستانِ فرار از مصر اور سفرِ بیابانِ سینا میں براہ راست کوئی تعلق ہو سکتا ہے اور یوں اس تجویز کے نتیجے پر پہنچے کہ آہنی دور کی یہوداہ اور اسرائیل کی ریاستوں کا اصل مقام کنعان ہے، نہ کہ مصر۔۔[6][7] قدیم ترین یہودی بستیوں کی ثقافت کنعانی ہے، ان کے اشیائے مقدسہ کنعانی دیوتا ال کی ہیں، مٹی کے برتنوں میں مقامی کنعانی روایت پائی جاتی ہے اور ان کے حروف تہجی ابتدائی مقامی کنعانی ہے ۔ واحد فرق ’’یہودی‘‘ دیہات اور کنعانی مقامات میں زیر زمین دبی ہوئی سور کی ہڈیوں کی غیر موجودگی ہے، اسے نسلی فرق گنا جائے یا یہ فرق دیگر عوامل کی وجہ سے ہے ابھی تک یہ معاملہ متنازع ہے[8]

کئی سو سال تک ارض مقدسہ کی بارہ متحدہ ریاستوں پر بارہ قبیلوں کے اماموں (قضاۃ) کی حکمرانی کا تسلسل رہا۔ اس کے بعد 1000 قبل مسیح میں طالوت بادشاہ کے تحت یہودی بادشاہت قائم ہوئی اور بادشاہ داؤد ؑ اور اُس کے بیٹے شاہ سلیمان ؑ کے دور تک جاری رہی۔ داؤد ؑ ہی کے دور حکومت میں پہلے سے قائم یروشلم اسرئیل اور یہوداہ کی متحدہ بادشاہتوں کا قومی اور روحانی دار الحکومت بنا۔ سلیمان ؑ نے سب سے پہلے موریاہ پہاڑ (حرم قدسی) پر ہیکل تعمیر کی جو بیت المقدس میں ہے[9]۔ تاہم، قبائل جو سیاسی طور پر انتشار کا شکار تھے، ان کی موت پر , دس شمالی قبائل اور دو جنوبی قبائل (یہودا اور بنیامین )کے درمیان خانہ جنگی شروع ہوئی ۔ بنی اسرائیل قوم دو ریاستوں میں تقسیم ہوئی شمال میں ریاست اسرائیل (سامریہ) اور جنوب میں مملکت یہوداہ کے نام سے، تقسیم کا فائدہ اٹھا کر شامی حکمران تلگت پلاسر سوم نے شمالی ریاست اسرائیل پر 8ویں صدی قبل مسیح میں قبضہ کیا۔ عام طور پر قابل قبول کوئی بھی تاریخی دستاویز ان دس شمالی قبائل کی حتمی حالت کی سرگزشت نہیں دیتی، جنہیں اسرائیل کے دس گمشدہ قبائل کے طور پر بھی جانا جاتا ہے، اگرچہ قیاس آرائیوں کی افراط ہے۔

اسیریِ بابل (587قم-538 قبل مسیح)[ترمیم]

یہودیوں کی قدیم سلطنت یہوداہ سے بابل کی جانب ملک بدری اور جلاوطنی اور یروشلم کے ہیکل سلیمانی کی تباہی -

ایک غالب طاقت کے خلاف بغاوت اور نتیجہ خیز محاصرے کے بعد کی مملکت یہوداہ کو 587 قبل مسیح میں بابلیوں کی فوج نے فتح کیا اور پہلا ہیکل (ہیکل سلیمانی ) تباہ کیا- مملکت کی اشرافیہ اور ان کے لوگوں کے بہت سے تھے جلاوطن کردئے گئے تھے، جہاں ان کا مذہب روایتی ہیکل سے باہر ترقی پاتا رہا . جبکہ دوسرے مصر فرار ہوگئے. یروشلم کے سقوط کے بعد بابل (موجودہ عراق) , یہودیت کے لیے ایک ہزار سے زیادہ سال تک توجہ کا مرکز بنا رہا. [حوالہ درکار] سب سے پہلی بابل میں مملکت یہوداہ کی جلاوطن یہودی برادری کا قیام 597 قبل مسیح میں یہوکونیاہ کی جانب سے آیا اور ساتھ ہی 586 قبل مسیح میں ہیکل سلیمانی کی تباہی بھی[10] . بابل ، جہاں یہود کے چند سب سے ممتاز شہر اور برادریاں قائم ہوئیں ,اور جو اس وقت سے لے کر 13ویں صدی تک یہودی زندگی کا مرکز بنا [11]. پہلی صدی تک بابل کی آبادی کے بڑھاؤ میں تیزی آچکی تھی[10] اور ایک اندازے کے مطابق سال 200 عیسوی سے 500 عیسوی میں دس لاکھ یہود تک اضافہ ہوا جو بعد میں بڑھ کر بیس لاکھ تک جا پہنچی[12] ، دونوں قدرتی بڑھاؤ اور زیادہ سے زیادہ یہود کی ارض مقدسہ سے ہجرت کی وجہ سے ، یہاں تک کہ دنیا کی یہودی آبادی کا چھٹا حصہ اس علاقے میں آباد ہوا [12]. یہیں پر انہوں نے قدیم بابل کے یہود کی زبانوں عبرانی اور آرامی میں تلمود لکھی -

یہودی تصوف ( قبالہ ) جو آج بھی ان میں بہت مشہور اور رائج ہے ، کچھ دانشوروں جیسے مشہور یہودی مصنف شهولیم گرشوم کے مطابق اپنی اصلی حالت (نظریاتی قبالہ) کے ساتھ ساتھ اس میں جادوئی عملیات (عملی قبالہ) کا دخول اسی زمانے میں ہوا جو قرون وسطی تک مزید ترقی کرتا گیا ، اپنی کتاب کبالہ میں بیان کرتے ہیں-

تاریخی حوالے سے عملی قبالہ نظریاتی قبالہ سے بہت پرانا اور اس پر غیر منحصر بھی ہے. حقیقت میں اب جسے عملی قبالہ سمجھا جاتا ہےان تمام تر جادوئی عملیات کا مجموعہ ہے جو تالمودی دور (بابل) میں پروان چڑھیں اور قرون وسطی تک چلی آئیں- سفیروت کی صوفی تعلیمات (نظریاتی قبالہ) نے بمشکل ہی کبھی ان عملیات میں کوئی فیصلہ کن کردار ادا کیا ہے [13][14]

ان یہود نے بابل کی تلمودی درسگاہیں قائم کیں ، جو جیونئیم درسگاہیں کہلاتی ہیں - جو بابل میں یہودی علم اور یہودی قانون کی ترقی کا مرکز بنیں 500ء سے 1038 ء تک . دو سب سے زیادہ مشہور درسگاہیں پمبیدیتا اور سبورا تھیں - اہم (علم دین کے مدرسے) نیہاردیا اور مہوذا میں واقع تھے -

کچھ نسلوں اور فارس کی 540 ق م میں بابل کی فتح کے بعد کچھ مریدین عزیر اور نحمیاہ کی رہنمائی میں واپس اپنی سرزمین اور اپنی پرانی روایات کو لوٹے – دوسرے یہود مستقل واپس نہ لوٹ سکے اور جلا وطنی ہی میں رہے[15] اور ارض مقدسہ سے باہر اپنی الگ ہی خود مختاری بنا لی ، خاص طور پر مشرق وسطی میں 7 ویں صدی ءکی مسلم فتوحات کے بعد [حوالہ درکار]-

جلاوطنی کے بعد کا دور(538قم-332 ق م)[ترمیم]

فارسی منظوری اور مالی امداد کے تحت یہودی جلاوطنی سے واپسی کے بعد یروشلم لوٹتے ہوئے دوسرے ہیکل کی تعمیر آخری تین یہودی انبیاء حجی، زکریا اور ملاکی کی قیادت میں 516 ق م میں مکمل ہوئی۔

آخری یہودی نبی کی وفات کے بعد اور فارسی زیر حکمرانی، یہودی لوگوں کی قیادت زگوت رہنماؤں کی پانچ نسلوں میں رہی۔ یہودی قوم نے پہلے فارسیوں کے ماتحت اور پھر یونانیوں کے زیر تسلط کچھ ترقی کی۔ جسکے نتیجے میں ، فریسی اور صدوقی قائم ہوئے یوں یہود یہودیہ میں اپنے یہودی سکے بنانے کے قابل ہوئے ۔[حوالہ درکار]

ھلینستی دور (332 قم -110 ق م )[ترمیم]

332 ق م میں مقدونیہ کے سکندر اعظم نے فارسیوں کو شکست دی۔ سکندر کی موت اور اس کے جرنیلوں میں اس کی سلطنت کی تقسیم کے بعد، سلوقی سلطنت قائم ہوئی۔سکندر کی فتوحات نے یونانی ثقافت کو شام تک پھیلا دیا تھا ۔ اس وقت میں یہودیت کے دھارے تیسری صدی قبل مسیح میں تیار ہونے والے ہیلینستی فلسفے سے متاثر ہوئے، خاص طور پر اسکندریہ میں یہودی تارکین وطن، جو ہفتادی ترجمہ کی تالیف پر منتج ہوئے۔ یہودی الٰہیات اور ہیلینستی سوچ کے ہم زیستی کا ایک اہم حامی فیلو ہے۔

حشمونی سلطنت (110قم-63 ق م)[ترمیم]

ھلینستی یہود اور دیگر یہود کے درمیان تعلقات کی خرابی نے سلوقی بادشاہ آنتیوخوس چہارم کو بعض یہودی مذہبی رسومات اور روایات پر پابندی کے احکام جاری کرنے پر مجبور کیا۔ اس کے بعد، کچھ غیر مہذب یہود (جنہیں مکابیین بھی کہا جاتا ہے)نے حشمونی خاندان کی قیادت میں بغاوت کی۔ اس بغاوت کے نتیجے میں آخرکار ایک آزاد یہودی مملکت کی تشکیل ہوئی، جسے حشمونی خاندان کے نام سے جانا جاتا ہے، جو 165 ق م سے 63 ق م تک جاری رہی۔[17] سالومی الیگزینڈرا کے بیٹوں ہیرکانؤس دوم اور آریثتوبولوث دوم کے درمیان خانہ جنگی کے باعث حشمونی خاندان بالآخر ٹوٹ گیا ۔ وہ لوگ جو کسی بادشاہ کے بجائے مذہبی پادریوں کی حکمرانی میں رہنا چاہتے تھے، رومی حکام سےحملے اور مدد کی اپیلیں کرتے رہے۔چنانچہ رومی فتح اور الحاق کی ایک مہم جوئی ، جس کی قیادت پومپی نے کی، جلد ہی اس کے بعد واقع ہوئی۔

ارض مقدسہ میں رومی حکومت (63 ق م - 324 ء)[ترمیم]

یہودیہ حشمونیوں کے تحت ایک آزاد یہودی ریاست تھی، لیکن رومی جنرل پومپی نے 63 ق م میں اسے فتح کر لیا اور ایک زیر تحفظ ریاست کے طور پر دوبارہ منظم کیا۔ رومی پھیلاؤ دوسرے علاقوں میں بھی اگلے ڈیڑھ سو سال سے زیادہ جاری رہا۔ بعد میں، ہیرودیس کو رومی سینیٹ نے "یہودیوں کا بادشاہ" مقرر کیا، جس نے حشمونی خاندان کی جگہ لی۔ اسکی اولاد میں سے کچھ بعد ازاں مختلف عہدوں پر فائز رہے، جسے ہیروڈی سلسلہ کے نام سے جانا جاتا ہے۔ مختصراً، 4 ق م سے 6 ء تک،یہودیہ صوبہ ہیروڈ آرکیلاوس کی چہار نفری حکومت میں شامل رہا ، رومیوں نے اسے بادشاہ کا لقب دینےسے انکار کیا۔ 6 ء میں کورنیس کی مردم شماری کے بعد، 41 ء تک ایک ناظم الامور (پریفیکٹ)(مصر روم جیسا) کی حکمرانی میں رومی شام کی دستنگری میں رومی صوبہ یہودیہ تشکیل دیا گیا، جو 44 ءکے بعد مختارکار بنا۔ سلطنت کا اپنی یہودی رعایا کے ساتھ برتاؤ اکثر جابرانہ اور ظالمانہ تھا، (دیکھیں قبل از مسیح رومی سلطنت میں یہودی مخالف)۔ 30ء یا 33ء میں گلیل میں سرگرداں پیغمبر (ربی)، اور عیسائیت کی مرکزی شخصیت عیسیؑ ناصری ، کو بحکم یروشلم میں یہودیہ کے رومی ناظم الامور (پریفیکٹ)، پیلاطس مصلوب کر کے موت کے گھاٹ اتارنے کی کوشش کی گئی ۔[16] 66ء میں یہود نے یہودیہ کے رومی حکمرانوں کے خلاف بغاوت شروع کر دی۔ اس بغاوت کو مستقبل کے رومی شہنشاہوں ویسپازیان اور تیتوس نے شکست دی۔ 70ء میں یروشلم کے محاصرے میں، رومیوں نے یروشلم میں واقع ہیکل کو تباہ کیا اور، کچھ سرگزشتوں کے مطابق، ہیکل سے مینورہ جیسے تبرکات لوٹ لیے۔ یہود اس سرزمین پر کافی تعداد میں رہتے رہے ہر چند کے 115-117ء کی جنگِ کیتوس ہوئی ، یہاں تک کہ جولیس سیویرس نے 132-136ء میں بارکوخبا بغاوت کو کچلتے ہوئے یہودیہ کو تباہ کیا۔جس میں نو سو پچاسی دیہات کو تباہ اور وسطی یہودیہ کی زیادہ تر یہودی آبادی کو قتل، غلامی میں بیچ دیا گیا یا فرار پر مجبور کیا گیا۔[17] بعد ازاں سوائے تیشا بآوکے دن کے، یہودی آبادی یروشلم سے شہر بدر رہی اور ابتداءً گلیل اور میں یفنہ میں ہی مرکوز رہی۔ یروشلم کا نام بدل کر ایلیا کیپٹولینا رکھا گیا اور یہودیہ کا نام بدل کر فلسطینِ شام رکھ دیا گیا-[حوالہ درکار]

بیدخلی اور انتشار[ترمیم]

یہودی بیدخلی کا آغاز آسوری فتح میں ہوا اور بابل کی فتح کے دوران بڑے پیمانے پر جاری رہا، چھٹے صدی قبل مسیح میں جب یہودیہ صوبہ سے یہودی قبیلے کو یہودیہ کے معزول بادشاہ، یہویاکین کے ساتھ بابل جلاوطن کر دیا گیا تھا،۔ یہ جلاوطنی 586 قبل مسیح میں یروشلم میں ہیکل کی تباہی کے بعد بھی جاری رہی۔[18] 135 عیسوی میں بارکوخبا بغاوت کے بعد صدیوں تک بہت سے یہود بابل کی طرف ہجرت کرتے رہے ۔[19]

بہت سے یہودیوں کو رومی سلطنت کے دیگر حصوں میں غلامی میں بیچ دیا گیا تھا جبکہ کچھ رومی سلطنت کے دیگر علاقوں کے شہری بن گئے تھے۔[حوالہ درکار] عہد نامہ جدید کی کتاب رسولوں کےاعمال اور سینٹ پولس کے خطوط رومی شہروں میں بسے ھلینستی یہود کی بڑی آبادیوں کا اکثر حوالہ دیتے ہیں -رومی شہروں میں بسے اور بیدخل کئے گئے ھلینستی یہود کی روحانیت متاثر ہوئی، یہودی عقیدے کے بنیادی احساس ،نقصان اور بے گھری کو جذب کرتے رہے ، جسے یہود پہ دنیا کے مختلف حصوں میں ہونے والے ظلم و ستم نے تقویت دی۔

جلاوطن یہود کی ہیکل کے گرد گھومتی یہودیت سے ربیائی روایات میں تبدیل کرنے کے لئے مشناہ اور تلمود میں پائی جانے والی تورات کی تشریحات کا فروغ انتہائی اہمیت کا حامل تھا ۔

قدیم ہندستان کیساتھ ابتدائی تجارت (562 ق م - 70 ء)[ترمیم]

(نقاشی) 68 ء میں یہودی کوچین پہنچتے ہوئے

قدیم روایات کے مطابق ، یہوداہ سے تاجر ہندستان کے موجودہ شہرکوچین (کوچی) 562 ق م میں پہنچے اور مزید جلاوطن یہود اہ کے باسی 70 ء میں ہیکل کی دوسری تباہی کے بعدپہنچے[20]

کوچین یہودی روایت کا خیال ہے کہ ان کی برادری کا آغاز دوسرے ہیکل کی تباہی کے بعد 72 عیسوی میں شنگلی میں یہودیوں کی آمد پر شروع ہوئی۔ اس میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ایک چھوٹی یہودی بادشاہت یعنی 379 عیسوی میں ایک مقامی بادشاہ چیرامن پیرومل کی طرف سے برادری کو ان کے رہنما جوزف ربن کے تحت خود مختاری دی گئی۔ وہاں کا پہلا کنیسہ 1568ء میں تعمیر کیا گیا تھا۔ کیرالوی داستان ہے کہ ہندوستانی عیسائیت کی بنیاد کی حواری تھامس کے وہاں پہنچنے پر اس کا سامنا ایک مقامی لڑکی سے ہوا جو عبرانی زبان سمجھتی تھی۔[21]

رومی دور کا آخر[ترمیم]

اس خطے میں رومی سلطنت کے ساتھ یہودیوں کے تعلقات پیچیدہ ہوتے چلے گئے۔ قسطنطین اول نے یہودیوں کو سال میں ایک بار مغربی دیوار پر تیشا باؤ پر اپنی شکست اور ذلت پر ماتم کرنے کی اجازت دی۔ 351-352ء میں، گلیل کے یہودیوں نے ایک اور بغاوت شروع کی، جس سے بھاری انتقام لیا گیا۔[22] مشرقی رومی سلطنت میں گیلس بغاوت، قسطنطینی خاندان کے تحت ابتدائی عیسائیوں کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ کے دوران آئی۔ تاہم، 355ء میں، قسطنطینی خاندان کے آخری بادشاہ جولین کے عروج پر، رومی حکمرانوں کے ساتھ تعلقات میں بہتری آئی، جس نے اپنے پیشروؤں کے برعکس عیسائیت کی مخالفت کی۔ 363ء میں، جولین نے انطاکیہ سے ساسانی فارس کے خلاف اپنی مہم شروع کرنے سے کچھ عرصہ قبل، عیسائیت کے علاوہ دیگر مذاہب کو فروغ دینے کی اپنی کوششوں کو مدنظر رکھتے ہوئے، ہیکل سلیمانی کو دوبارہ تعمیر کرنے کا حکم دیا۔[23] ہیکل کی تعمیر نو میں ناکامی زیادہ تر 363ء کے ڈرامائی گیلیلی زلزلے اور روایتی طور پر اس منصوبے کے بارے میں یہودیوں کی دوغلے پن کی وجہ سے ہوتی ہے۔ تخریب کاری جیسا کہ حادثاتی آگ ایک امکان ہے۔ اس وقت کے عیسائی مورخین میں الہی مداخلت عام نظریہ تھا۔[24] جولین کی یہودیوں کی حمایت کی وجہ سے یہودی اسے "جولین دی ہیلین" کہنے لگے۔ .[25]فارسی مہم میں جولین کے مہلک زخم اور اس کے نتیجے میں واقع ہونے والی اس کی موت نے یہودیوں کی خواہشات کا خاتمہ کر دیا تھا، اور جولین کے جانشینوں کسی بھی یہودی دعوے کے برخلاف یروشلم کے بازنطینی دورِحکمرانی کی پوری خط زمانی کے دوران عیسائی رہے ۔

438 ء میں، جب مہارانی یوڈوچیہ نے ہیکل کے مقام پر یہودیوں کے عبادت کرنے پر پابندی ہٹا دی، تو گلیل میں یہودی برادری کے سربراہوں نے "یہودیوں کے عظیم اور طاقتور لوگوں کو" دعوت عام دی "جان لو کہ آخر کار ہمارے لوگوں کی جلاوطنی کا اختتام آ گیا ہے!" تاہم، شہر کی عیسائی آبادی، جنہوں نے اسے اپنی برتری کے لیے خطرہ سمجھا، نے اس کی اجازت نہیں دی اور فساد پھوٹ پڑا جس کے بعد انہوں نے یہودیوں کو شہر سے بھگا دیا۔[26][27]

پانچویں اور چھٹی صدی کے دوران، پورے فلسطین صوبے میں سامری بغاوتوں کا ایک سلسلہ شروع ہوا۔ تیسری اور چوتھی بغاوتیں خاص طور پر پرُتشدد تھیں، جن کے نتیجے میں سامری برادری کا تقریباً مکمل خاتمہ ہو گیا۔ یہ امکان ہے کہ 556ء کی سامری بغاوت میں یہود نے شمولیت اختیار کی ، جسے اسرائیلی مذہب کے وحشیانہ دبائو کا بھی سامنا کرنا پڑا تھا۔

7ویں صدی کے اوائل میں یہودیوں نے بحالی یروشلم کی پیش گوئی و عقیدے کے مطابق فارسیوں کے ساتھ اتحاد کیا ، جنہوں نے 614ء میں فلسطین صوبے پر حملہ کیا، اور یہود کی طرف سے لڑے، یروشلم میں بازنطینی فوجی چھاؤنی کو زیر کر لیا، اور یروشلم کو یہودی خودمختاری میں دے دیا گیا[28] تاہم، ان کی خودمختاری مختصر تھی: یروشلم میں یہودی رہنما کو جلد ہی ایک عیسائی بغاوت کے دوران قتل کر دیا گیا تھا اور اگرچہ یروشلم کو فارسیوں اور یہودیوں نے 3 ہفتوں کے اندر دوبارہ فتح کر لیا ، لیکن یہ انتشار کا شکار ہو گیا۔ فارسی افواج کے انخلاء کے نتیجے میں، یہودیوں نے 625ء یا 628ء میں بازنطینیوں کے سامنے ہتھیار ڈال دیے، لیکن 629ء میں عیسائی بنیاد پرستوں نے ان کا قتل عام کیا، جس میں بچ جانے والے مصر فرار ہو گئے۔ بازنطینی (مشرقی رومی سلطنت) کا تسلط بالآخر 637ء میں مسلم عرب فوجوں کے ہاتھ میں چلا گیا، جب عمر بن الخطابؓ نے عکا کو مکمل فتح کیا۔

قرون وسطی[ترمیم]

اسلامی فتح سے قبل بابل کے یہودی(219ء-638ء)[ترمیم]

مرکزی صفحہ: عراقی یہود کی تاریخ

سقوط یروشلم کے بعد، بابل (موجودہ عراق) ایک ہزار سال سے زیادہ عرصے تک یہودیت کا مرکز بنا۔ یروشلم میں ہیکل کی تباہی کے بعد بابل کی پہلی یہودی برادری کا آغاز 597 ق م میں یہویاکن کے ذریعے قبیلہ یہوداہ کے بابل میں جلاوطنی کے ساتھ ساتھ 586 قبل مسیح میں ہوا۔[29] بار کوخبہ بغاوت کے بعد 135 عیسوی اور آئندہ کی صدیوں میں بہت سے یہودیوں نے بابل کی طرف ہجرت کی۔[30] بابل، جہاں کچھ بڑے اور نمایاں یہودی شہر اوربرادریاں قائم ہوئیں، 13ویں صدی تک یہودیوں کی زندگی کا مرکز بن گیا۔ ایک اندازے کے مطابق پہلی صدی عیسوی تک، بابل میں یہودیوں کی تیزی سے بڑھتی ہوئی[31]1,000,000 کی آبادی تھی، جو 200 عیسوی اور 500 عیسوی کے درمیان ایک اندازے کے مطابق طبعی بالیدگی اور مزید یہودیوں کی ہجرت کی وجہ سے 20 لاکھ[32] تک پہنچ گئی، ۔ ارض مقدسہ سے، اس دور میں دنیا کی یہودی آبادی کا تقریباً 1/6 بنتا تھا۔[33] وہیں بابل میں تلمود کو قدیم بابل کے یہودیوں کی زبانوں عبرانی اور آرامی میں لکھا ۔ یہود نے بابل میں تلمودی درسگاہیں قائم کیں، جنہیں جیونک درسگاہیں بھی کہا جاتا ہے ("جیونیم" جس کا مطلب عبرانی بائبل میں "شان" یا "ذکی/ذہین"ہے) ، جو تقریباً 500 عیسوی سے بابل میں یہودی علوم و شریعت کی ترقی کا مرکز بنے۔ 1038 عیسوی کی دو سب سے مشہور درسگاہیں پمبڈیتا درسگاہ اور سورا درسگاہ تھیں۔ زیادہ تر یشیوا (مدارس) بھی نہردیہ اور مہوزہ میں واقع تھے۔ تلمودی یشیوا (مدارس) یہودی ثقافت اور تعلیم کا ایک اہم حصہ بن گئیں، اور یہود نے مغربی اور مشرقی یورپ، شمالی افریقہ، اور بعد کی صدیوں میں، امریکہ اور دنیا کے دیگر ممالک میں جہاں یہودی منتشر تھے، یشیوا(مدارس) قائم کرتے رہے۔ یشیوا(مدارس) میں تلمودی تعلیم، جن میں سے زیادہ تر ریاستہائے متحدہ امریکہ اور مقبوضہ فلسطین میں واقع ہیں، آج بھی جاری ہے۔

بابل کی ان تلمودی یشیوا (مدارس) میں امورائم ("مفسرین")کا دور رہا جب تلمود کے ماہرین مشنہ کی اختتام کے دور میں (ارض مقدسہ اور بابل دونوں میں) سرگرم تھے۔ تالمود کی مہر بندی کے وقت تک (220ء - 500ء)، اور ساورائم ("دلیل")کا فقہی دور رہا- اسکا دورانیہ بابل میں بیت مدراش (عربی:بیت المدرسہ- تورات کے تعلیم کے مقامات) کے دور سے لے کر امورائم کے دور کے اختتام (5ویں صدی) اور جیونیم کے دور کے آغاز تک تھا ۔ اور دو جیونیم (عبرانی: גאונים) ہی دو عظیم ربیائی کلیات سورا اور پمبدیتہ کے صدر تھے، اور قرون وسطی کے ابتدائی دور میں دنیا بھر میں یہودی برادری کے عام طور پر قبول کیے جانے والے روحانی پیشوا تھے، ریش گالوٹا (رأس جالوت) کے برعکس،جو اسلامی علاقوں میں یہود پر سیکولر تسلط رکھتے تھے۔ روایات کے مطابق راس جالوت یہودی بادشاہوں کی اولاد تھے، اسی لیے پارتھیا کے بادشاہ ان کے ساتھ بہت عزت سے پیش آتے تھے۔[34]

قدیم عہد عتیق اور ابتدائی قرون وسطی کے یہود کے لیے، بابل کے یشوا بمشابہ قدیم سنہدرین یعنی یہودی مذہبی حکام کی مجلس شوری تھے، ۔ یہ درسگاہیں قبل از اسلام بابل میں زرتشتی ساسانی خاندان کے تحت قائم کی گئی تھیں اور یہ ساسانی دارالحکومت مدائن سے زیادہ دور واقع نہ تھیں جو اس وقت دنیا کا سب سے بڑا شہر تھا۔ ساتویں صدی میں فارس کی اسلامی فتح کے بعد، یہ درسگاہیں اسلامی خلافت کے تحت چار سو سال تک چلتی رہیں۔ شیریرا گاون (مفتی اعظم) کے مطابق سورا کا پہلا گاوں (مفتی اعظم) مار بار رب چنان تھا، جس نے 609ء میں عہدہ سنبھالا تھا۔ سورا کا آخری گاون (مفتی اعظم) سیموئیل بن ہوفنی تھا، جس کا انتقال 1034ء میں ہوا تھا۔ پمبدیتہ کا آخری گاؤں(مفتی اعظم) حزقیاہ تھا، جسے 1040ء میں تشدد کر کے ہلاک کر دیا گیا تھا۔ یوں جیونیم (عہد علماء ) کی سرگرمی تقریباً 450 سال کی مدت پر محیط رہی۔

بابلی یہودیت کے بنیادی مقامات میں سے ایک نہردیہ تھا، جو اس وقت کی دنیا کا ایک بہت بڑا شہر تھا جو زیادہ تر یہود پر مشتمل تھا۔[35]یہاں پہ واقع ایک بہت ہی قدیم کنیسہ کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ بادشاہ یہویاکن نے اسے تعمیر کرایا، جو اس زمانے میں یہاں نہردیہ میں موجود تھا۔ نہردیہ کے قریب ہزل میں، ایک اور کنیسہ تھی، جہاں سے عذرا کی درسگاہ کے کھنڈرات دیکھے جا سکتے تھے۔ ہیڈرین سے پہلے کے زمانے میں، اکیبہ، سنہڈرین کے تبلیغی دورے پر نہردیہ پہنچنے تو، ازدواجی قانون کے ایک نکتے پر ایک مقامی عالم کے ساتھ مباحثہ ہوا (مشنہ یب۔، اختتام)۔ اسی زمانے میں نیسبیس (شمالی بین النہرین) میں یہودیوں کی ایک بہترین درسگاہ تھی جس کے صدر مدرس یہوداہ بن بتھیرا تھا اور جہاں ظلم و ستم سے پناہ حاصل کرنے بہت سے یہودی علماء آتے تھے ۔ نہر پیکوڈ کے ایک اسکول کو بھی ایک خاص مگر عارضی اہمیت حاصل ہوئی، جس کی بنیاد یہودی تارک وطن حنانیہ نے رکھی تھی، جو یوشع بن حنانیہ کا بھتیجا تھا، یہ مدرسہ شاید بابلی یہود اور اسرائیلی یہود کے درمیان تفرقہ کا سبب بنتا اگر یہودی حکام فوری طور پر حنانیہ کے عزائم کی جانچ نہ کر لیتے۔

بازنطینی دور (324ء-638ء)[ترمیم]

مرکزی صفحہ :بازنطینی سلطنت میں یہودکی تاریخ

یہودی بھی پوری رومی سلطنت میں پھیلے ہوئے تھے، اور یہ وسطی اور مشرقی بحیرہ روم میں بازنطینی حکمرانی کے دور میں کچھ حد تک جاری رہا۔ بازنطینی سلطنت کی عسکریت پسند اور خصوصی عیسائیت اور قیصری پاپائیت نے یہودیوں کے ساتھ اچھا سلوک نہیں کیا، یوںسلطنت میں آباد یہودیوں کی حالت اور اثر و رسوخ میں ڈرامائی طور پر کمی واقع ہوئی۔

یہودیوں کو عیسائی بنانا سرکاری پالیسی تھی، اور عیسائی قیادت نے اپنی کوششوں میں روم کی سرکاری طاقت کا استعمال کیا۔ 351 ء میں یہودیوں نے اپنے گورنر کانسٹنٹائیس گیلس کے اضافی دباؤ کے خلاف بغاوت کی۔ گیلس نے بغاوت کو ختم کر دیا اور گلیلی کے علاقے کے بڑے شہروں کو تباہ کر دیا جہاں بغاوت شروع ہوئی تھی۔ تزیپوری اور لد(دو بڑی قانونی درسگاہوںکا مقام ) پھرکبھی بحال نہیں ہوسکے۔

اس دور میں، طبریہ میں ، ہلیل دوم نے ایک سرکاری جنتری بنائی، جس کے لیے ماہانہ چاند دیکھنے کی ضرورت نہیں تھی۔ مہینے مقرر کیے گئے تھے، اور جنتری کو یہودیہ سے مزید اختیار کی ضرورت نہیں تھی۔ تقریباً اسی دور میں ، یہوداہ ہانسی کی موت کے بعدطبریہ کےیہودی فقہ کی تعلیم حاصل کرنے والے یہودی علماء کی نسلوں نےمشترکہ مشنہ، باریتا کی تفاسیر، اور تشریحات تالیف کیں ۔ متن کو مشنہ کی ترتیب کے مطابق ترتیب دیا گیا :جو مشنہ کے ہر پیراگراف کے بعد اس سے وابستہ تشریحات، قصص اور جوابات کا مجموعہ تھا۔ اس مصحف کو یروشلمی تلمود کہا جاتا ہے۔

مرتدشہنشاہ جولین کے دور میں یہودیوں کو سرکاری ظلم و ستم میں تھوڑا وقفہ آیا۔ جولین کی پالیسی یہ تھی کہ رومی سلطنت کو ہیلینستیت کی طرف لوٹایا جائے، اور اس نے یہودیوں کو یروشلم کی تعمیر نو کی ترغیب دی۔ چونکہ جولین کی حکمرانی صرف 361 سے 363 تک رہی، اس لیے سلطنت پر رومی عیسائی حکمرانی کی بحالی سے قبل یہودی زیادہ تعمیر نہیں کر سکے۔ 398ء میں سینٹ جان کریسسٹم کے بطور پیٹریارک کے تقدیس کے ساتھ ہی، یہودکے خلاف عیسائی ہرزہ سرائی میں تیزی آئی۔ "یہودیوں کے خلاف" اور "مجسموں پر ،ہوملی 17" جیسے عنوانوں میں "یہودی بیماری" کے خلاف واعظ و تبلیغ ہوئی۔[36]اس طرح کی سخت زبان نے بڑی یہودی بستیوں، جیسا کہ انطاکیہ اور قسطنطنیہ میں عیسائیوں کے خلاف عدم اعتماد اور نفرت کے ماحول کو جنم دیا۔

5 ویں صدی کے آغاز میں، حکمران تھیوڈوسیس نے یہود پر سرکاری طور پر ظلم کرنے کے احکام کا ایک مجموعہ جاری کیا۔ یہودکو غلام رکھنے، نئے کنیسہ بنانے، عوامی عہدہ رکھنے یا یہودی اور غیر یہودی کے درمیان مقدمات چلانے کی اجازت نہیں تھی۔ یہود اور غیر یہودکے درمیان شادی کو جرم قرار دیا گیا، جیسا کہ عیسائیوں کا یہودیت میں تبدیل ہونا جرم تھا۔ تھیوڈوسیس نے سنہدرین(مجلس شوری) کو ختم کر دیا اور ناسی کا عہدہ ختم کر دیا۔ حکمران جسٹینین کے تحت، شاہی حکام نے یہودیوں کے شہری حقوق کو مزید محدود کر دیا،[37] اور ان کے مذہبی مراعات کو خطرہ لاحق ہو گیا۔[38]بادشاہ نے کنیسہ کے اندرونی معاملات میں مداخلت کی،[39] ، مثال کے طور پر، عبادت ِ الہیہ میں عبرانی زبان کے استعمال پر پابندی عائد کی ۔ پابندیوں کی نافرمانی کرنے والوں کو جسمانی جرمانے، جلاوطنی اور جائیداد کے نقصان کی دھمکیاں دی گئیں۔ بوریمی یہود، سایرٹیس میجر سے کچھ ہی فاصلے پر ، جنہوں نے بازنطینی جنرل بیلیساریس کی ونڈال مخالف مہم میں مزاحمت کی، انہیں عیسائیت قبول کرنے پر مجبور کیا گیا، اور ان کی کنیسہ کو گرجامیں تبدیل کر دیا گیا۔[40]

جسٹنین اور اس کے جانشینوں کو صوبہ یہودیہ سے باہر خدشات لاحق تھے، اور اس کے پاس ان ضوابط کو نافذ کرنے کے لیے ناکافی فوج تھی۔ جس کے نتیجے میں، 5 ویں صدی وہ دور تھا جب نئے کنیسوں کی تعمیر کی ایک لہر آئی، جن میں سے بہت سے خوبصورت فرشوں پر پچی کاری کی گئی۔ یہودیوں نے بازنطینی ثقافت کے بھرپور اسلوب فن کو اپنایا۔ اس دور کے یہودی پچی کاری لوگوں، جانوروں، مینوروں، ستاروں ،برجوں اور بائبل کے کرداروں کی تصویر کشی کرتے ہیں۔ ان کنیسوں کے فرشوں کی بہترین مثالیں بیت الفا (جس میں ابراہیم کا اپنے بیٹے کے بجائے ایک مینڈھے کی قربانی کرنے کا منظر شامل ہے)، طبریہ ، بیت شین اور زیپوری میں پایا گیا ہے۔

بازنطینی حکومت کے تحت یہود کا غیر یقینی وجود زیادہ دیر تک برقرار نہیں رہا، جس کی بڑی وجہ جزیرہ نما عرب سے اسلام کا پھوٹنا تھا (جہاں یہودیوں کی بڑی آبادی مقیم تھی، مزید کے لیے مسلم حکومت کے تحت یہودی تاریخ دیکھیں)۔ مسلم خلافت نے 636 ءمیں جنِگ یرموک میں فتح کے چند سالوں میں ہی بازنطینیوں کو ارض مقدس ( سرزمین شام، جسے جدید اسرائیل، اردن، لبنان اور شام کہا جاتا ہے) سے بے دخل کردیا۔ بعد کی صدیوں میں یہود نے خلافت میں سکونت کیلئے بازنطینی علاقوں سے مسلم علاقوں میں فرار اختیار کی۔

بازنطینی سلطنت میں یہودی آبادی کا حجم کچھ حکمرانوں(بالخصوص جسٹنین) کی طرف سے اناطولیہ کے یہودکو زبردستی عیسائی کرنے کی کوششوں سے متاثر نہیں ہوا، کیونکہ ان کوششوں کو بہت کم کامیابی ملی۔[41]مورخین بازنطینی حکومت کے تحت ایشیا کوچک میں یہود کی حیثیت کی تحقیق جاری رکھے ہوئے ہیں۔ (نظریات کے مثالوں کے نمونے کے لیے، J. Starr The Jews in Byzantine Empire، 641–1204؛ S. Bowman، The Jews of Byzantium؛ R. Jenkins Byzantium؛ Averil Cameron، "Byzantines and Jews:جبکہ ابتدائی بازنطیم پرحالیہ کام،Byzantine and Modern Greek Studies 20 (1996))۔ بازنطینی مغربی یورپ میں اس وقت منظم مقامی ظلم و ستم (پوگروم، تصلیب یا جلاوطن) قلمبند نہیں کیا گیا ہے۔[42] قسطنطنیہ کی زیادہ تر یہودی آبادی محمد فاتح دوم کی فتح کے بعدبھی وہیں پر ہی قائم رہی۔[حوالہ درکار]

تقریباً چوتھی صدی ، جدید حبشہ میں ایک یہودی قوم، سیمین کی بادشاہت قائم ہوئی، جو 17ویں صدی تک قائم رہی[حوالہ درکار]۔

اسلامی دور(638ء-1099ء)[ترمیم]

خلیفہ عمر بن الخطاب کی لاٹھ پادری سوفرونیئس سے شہر وصول کرنےیروشلم آمد کا خاکہ ۔

مرکزی صفحہ:اسلامی حکومت میں یہودی تاریخ

638 ء میں بازنطینی سلطنت نے ارض شام کاتسلط کھو دیا۔ خلیفہ ثانی عمرؓ کی قیادت میں خلافت راشدہ نے یروشلم اور بین النہرین، شام، فلسطین اور مصر کی سرزمین کو فتح کیا۔ بطور سیاسی نظام ، اسلام نے یہود کی معاشی، سماجی اور فکری ترقی کے لیے یکسر نئے حالات پیدا کیے تھے۔ [43]خلیفہ عمرؓ نے یہود کو 500 سال کے وقفے کے بعد بیت المقدس میں اپنی موجودگی دوبارہ قائم کرنے کی اجازت دی۔[44] یہودی روایات خلیفہ عمرؓ کو ایک مہربان حکمران مانتی ہے اور مدراش انہیں "اسرائیل کا دوست" قرار دیتی ہے۔[45]

عرب جغرافیہ دان المقدسی کے مطابق، یہود نے معاشرے میں "سکوں کے پارکھ،دباغ، اور صراف" کے طور پر کام کیا۔[46] فاطمی دور میں، بہت سے یہود نے بطور حکومتی حکام خدمات انجام دیں۔[47] پروفیسر موشےِ گل کا خیال ہے کہ 7ویں صدی ءمیں عربوں کی فتح کے وقت، آبادی کی اکثریت عیسائی اور یہودی تھی۔[48]

اس دور میں تمام تر یہودقدیم بابل والے علاقوں کے ترقی پذیر طبقات میں شمار ہوتے تھے۔ جیونیم دور (650-1250 ء) میں، بابل کی یشیوا کی درسگاہیں یہودیت سیکھنے کے اہم مراکز تھیں۔ جیونیم (یعنی "شاندار" یا "جینیئس")، جو ان درسگاہوں کے سربراہ تھے، یہودی شریعت میں بھی اعلیٰ ترین مقتدر کے طور پر تسلیم کیے گئے تھے۔

7ویں صدی میں، نئے مسلم حکمرانوں خراج ارضی ٹیکس کا قیام عمل میں لائے، جس کی وجہ سے بابل کے یہودی دیہی علاقوں سے بغداد جیسے شہروں کی طرف ہجرت کر گئے۔ یوں میں خوشحالی اور بین الاقوامی اثر و رسوخ کے ساتھ ساتھ سعدیہ گائون جیسے یہودی مفکرین میں قدرے زیادہ عالمی طرز فکر پیدا ہوا، جسکا تاریخ میں پہلی بار مغربی فلسفے کے ساتھ گہرا تعلق تھا۔ جب 10ویں صدیء میں عباسی حکومت اور بغداد شہر کا تنزل شروع ہوا تو بہت سے بابلی یہود نے بحیرہ روم کے علاقوں کیجانب ہجرت کی، جس نے یہودی دنیا میں بابلی یہودی رسم و رواج کو پھیلانے میں اہم کردار ادا کیا۔[49]

ابتدائی اسلامی ہسپانیہ میں یہودی سنہری دور(711ء-1031ء)[ترمیم]

13ویں صدی کے اندلس میں ایک یہودی اور ایک مسلمان شطرنج کھیل رہے ہیں۔ لیبرو ڈی لوس جویگوس، 13 ویں صدی کے کستائل کے الفونسے ایکس کے ذریعے کمیشن کیا گیا۔ میڈرڈ

مرکزی صفحہ: ہسپانیہ میں یہودی ثقافت کا سنہری دور

اسپین میں یہودی ثقافت کا سنہری دور یورپی قرون وسطیٰ کے ساتھ بیک وقت وقوع پذیر ہوا، جب جزیرہ نما آئبیریا کے اکثرحصے میں مسلمانوں کی حکومت تھی ۔ اس دور میں ، یہود کو عموما معاشرے میں قبول کیا گیا اور یہود کی مذہبی، ثقافتی، اور اقتصادی زندگی نے نشوونما پایا۔

اس طرح جزیرہ نما آئبیریا کے یہود کے لیے رواداری کا دور شروع ہوا، ہجرت کے باعث جن کی تعداد میں مسلمانوں کی افریقی فتوحات کے بعد کافی اضافہ ہوا تھا۔ خصوصا ً912 ءکے بعد، عبدالرحمٰن سوم اور اس کے بیٹے الحکم ثانی کے دور میں، یہود نے ترقی کی، اور اپنے طبقہ کو قرطبہ کی خلافت کی خدمت، تعلیم، صنعت اور تجارت بالخصوص ریشم اور غلاموں کی تجارت کے شعبوں کے لیے وقف کر دیا۔ ، یوں انہوں نے ملک کی خوشحالی کو فروغ دینے میں اپنا کردار ادا کیا۔ یہودیوں کی معاشی نمو بے مثال تھی۔ طلیطلہ میں، یہودی عربی تحاریر کو رومنی زبانوں میں ترجمہ کرنے کے علاوہ یونانی اور عبرانی متون کا عربی میں ترجمہ کرنے میں بھی شریک رہے۔ یہود نے نباتیات، جغرافیہ، طب، ریاضی، شاعری اور فلسفہ میں بھی اپنا حصہ ڈالا۔[50]

عام طور پر یہود کو اپنے مذہب پر عمل کرنے اور اپنے طبقہ کے قوانین اور صحیفوں کے مطابق زندگی گزارنے کی اجازت تھی۔ مزید برآں، جن پابندیوں کے وہ تابع تھے وہ ٹھوس اور عملی کردار کے بجائے سماجی اور علامتی تھے۔ کہنے کا مطلب یہ ہے کہ ان ضابطوں نے دونوں برادریوں کے درمیان تعلقات کو واضح کیا ، اور یہودی آبادی پرکوئی ظلم نہیں کیا۔[51]

عبدالرحمن کے شاہی طبیب اور وزیر حسدائی بن اسحاق بن شاپروت تھے، جو مناہم بن ساروق، دناش بن لبرات اور دوسرے یہودی علماء اور شاعروں کے سرپرست تھے۔ اس دور میں یہودی سوچ مشہور شخصیات جیسے سیموئیل ہا ناگید، موسیٰ ابن عزرا، سلیمان ابن جبیرول ،یہوداہ اللاوی اور موسیٰ بن میمون کے تحت پروان چڑھی۔[52] عبدالرحمن کے دور اقتدار میں، یہودی عالم موسی بن حنوخ کو قرطبہ کا ربی مقرر کیا گیا، اور اس کے نتیجے میں اندلس تلمودی تعلیم کا مرکز بن گیا، اور قرطبہ یہودکےباہمی ملاقات کا مرکز بنا۔

شمالی افریقہ سے تعلق رکھنے والے قدامت پسند خاندان موحدین جو مذہبی اقلیتوں کی جانب عدم برداشت کا رویہ کارفرما رکھتے ، کے اندلس پر حملے نے اس یہودی سنہرے دور کا اختتام کردیا۔

صلیبی دور (1099ء–1260ء)[ترمیم]

"بیت المقدس پر صلیبیوں کا قبضہ، 15 جولائی 1099ء" گیراؤڈن برجمین آرٹ لائبریری

مرکزی صفحہ :یہود اور صلیبیوں کی تاریخ

مزید دیکھیں:بیت المقدس کا محاصرہ (1099ء)

عیسٰیؑ کا بدلہ لینے کے خطبات نے عیسائیوں کو صلیبی جنگوں میں حصہ لینے پر مرغوب کیا۔ بارہویں صدی کی یہودی روایت ر. سلیمان بن شمشؤن میں درج ہے کہ صلیبیوں نے اسماعیلیوں سے مقابلہ کرنے ارض مقدسہ کی طرف پیشقدمی سے پہلے فیصلہ کیا کہ وہ مسیح کے مصلوب ہونے کا بدلہ لینے کے لیے مسلمانوں میں رہنے والے یہودکوقتل کریں گے۔ قتل عام روان (فرانس) میں شروع ہوا جبکہ وادی رائن میں یہودی برادری شدید متاثر ہوئی۔[53]

ہیڈلبرگ کے ارد گرد کے علاقے میں یہودپر صلیبی حملے ہوئے، یہودی جانوںکا بہت بڑا نقصان ہوا۔ بہت سے لوگوں کو زبردستی عیسائی بنایا گیا اور بہت سے لوگوں نے بپتسمہ سے بچنے کے لیے خودکشی کی۔ خودکشی کرنے کے انتخاب کے پیچھے ایک بڑا محرک یہودی احساس تھا کہ قتل ہونے پر ان کے بچوں کی عیسائی پرورش کی جا سکتی ہے۔ یہود وسطی عیسائی سرزمین میں رہتے تھے اور اس خطرے کو شدت سے محسوس کرتے تھے۔[54] اس قتل عام کو یہود مخالف واقعات (پوگروم و مظالم)کے سلسلے کا آغاز کہا جاسکتا ہے جو مرگ انبوہ پر منتج ہوا۔[55]یہودی آبادیوں کا ماننا تھاکہ قتل عام میں ان کے عیسائی پڑوسی اور حکمران ان سے لاتعلق ہوگئے اور تمام معاہدوں اور حکمناموں پر اعتماد کھو دیا تھا۔[56]

بہت سے یہود نے اپنے دفاع کا انتخاب کیا۔ لیکن دفاع کے ذرائع محدود تھے اور ان کی ہلاکتوں میں اضافہ ہی ہوا۔ زیادہ تر جبری مذہب کی تبدیلیاں غیر موثر ثابت ہوئیں۔ بہت سے یہودی بعد ازاں اپنے اصل عقیدے کی طرف لوٹ گئے۔ پوپ نے اس پر احتجاج کیا لیکن شاہ ہنری چہارم نے ان تبدیلیوں کی اجازت دینے پر رضامندی ظاہر کی۔[57] اس قتل عام نے عالم عیسائیت میں یہودکے لیے ایک نئے دور کا آغاز کیا۔ یہود نے اپنے عقیدے کو سماجی دباؤ سے بچایا تھا، اب انہیں تلوار کی نوک پر اسے بچانا تھا۔ صلیبی جنگوں کے دوران ہونے والے قتل عام نے یہودیوں کو اندر سے روحانی طور پر مضبوط کیا۔ یہودکا نقطہ نظر یہ تھا کہ ان کی جدوجہد اسرائیل کے خدا کے نام کو مقدس بنانے کی جدوجہد تھی۔[58]

1099ء میں یہود نے صلیبیوں کے خلاف بیت المقدس کا دفاع کرنے میں عربوں کی مدد کی۔ جب شہر کا سقوط ہوا تو صلیبیوں نے بہت سے یہود کو ایک کنیسہ میں جمع کیا اور اسے آگ لگا دی۔[59] حیفہ میں ایک ماہ تک (جون-جولائی 1099ء)، یہود نے تقریباً اکیلے ہی صلیبیوں کے خلاف قصبے کا دفاع کیا۔[60]اس وقت بیت المقدس، طبریہ، رام ا للہ، اشکلون، قیصریہ اور غزہ سمیت پورے ملک میں یہودی آبادیاں بکھری ہوئی تھیں۔ چونکہ صلیبی دور میں یہودیوں کو زمین پر قبضہ کرنے کی اجازت نہیں تھی، اس لیے وہ تعطل کے وقت ساحلی شہروں میں لین دین اور تجارت کرتے تھے۔ زیادہ تر کاریگر تھے: صیدا میں شیشہ ساز، بیت المقدس میں سمورساز و فروش اور صباغ (رنگساز) تھے۔[61]

اس دور میں، طبریہ کے مسوراتی علماء نے نقود (تنقیط)قائم کی، جو عبرانی حروف تہجی کے حروف کے متبادل تلفظ میں تفریق کرنے کے لیے استعمال ہونے والے (اعراب)علامتی نشانات کا ایک نظام ہے۔ اس وقت فلسطین میں متعدد پیوتم اور مدراشیم درج کیے گئے تھے۔[62]

موسی بن میمون لکھتا ہے کہ 1165ء میں وہ بیت المقدس میں حرم قدسی گیا، جہاں اس نے "عظیم، مقدس گھر" میں عبادت کی۔[63] موسی بن میمون نے اپنے اور اپنے بیٹوں کے لیے ایک سالانہ تعطیل رکھی ، عبرانی سال کے 8 مہینے چیشوان کی 6 تاریخ کو، اس دن کی یاد میں جب وہ حرم قدسی کے پہاڑ پر نماز ادا کرنے گیا تھا، اور چیشوان کی 9 تاریخ کو، اس دن کی یاد میں، جس دن اسے الخلیل میں بزرگوں کے غار میں عبادت کرنے کی سعادت حاصل ہوئی ۔

1141ء میں یہودہ اللاوی نے یہودیوں کو ارض مقدسہ کی سرزمین کی جانب ہجرت کرنے کی دعوت دی اور خودبھی طویل سفر کیا۔ قرطبہ میں سے طوفانی راستہ عبور کے بعد، وہ مصری اسکندریہ پہنچا، جہاں دوستوں اور مداحوں نے ان کا پرجوش استقبال کیا۔ دمياط میں اسے اپنے من کے خلاف جدوجہد کرنا پڑی، اور اس کے دوست ہالفون ہا لیوی کی التجا، کہ وہ مصر میں ہی رک جائے ، جہاں وہ عدم برداشت کے جبر سے آزاد ہو گا۔ اس نے زمینی کچے راستے پر شروع کیا۔ راستے میں اس کی ملاقات صور اور دمشق کے یہودسے ہوئی۔ یہودی روایت بتاتی ہے کہ جب وہ بیت المقدس کے قریب آیا تو مقدس شہر کے نظارے سے مغلوب ہو کر اس نے اپنا سب سے خوبصورت مرثیہ پڑھا، مشہور "زیونائڈ" (زیون ہا-لو تشالی)۔ تب اسے ایک سرپٹ دوڑتے گھڑسوار گھوڑے نےروند ڈالا اور وہ حادثے میں مارا گیا تھا۔[حوالہ درکار]

دورِمملوک (1260ء-1517ء)[ترمیم]

موسی بن نحمان کو 1267ء میں پرانے شہر بیت المقدس میں آباد ہونے کے بارے تاریخ میں درج کیا گیا ہے۔ وہ عکہ چلا گیا، جہاں وہ یہودی تعلیم کو پھیلانے میں سرگرم تھا، جو اس وقت ارض مقدسہ میں نظر انداز تھی۔ اس نے شاگردوں کا ایک حلقہ اپنے گرد جمع کیا اور لوگ ہجوم کی شکل میں یہاں تک کہ فرات کے سے بھی اسے سننے آتے۔ کہا جاتا ہے کہ قرائیم ہارون بن یوسف کبیر ان کے دروس میں شرکت کرتے۔ بعد میں وہ سب سے بڑے قرائیم حکام میں سے شامل ہوا ۔ بیت المقدس میں موسی بن نحمان کی آمد کے تھوڑی عرصہ بعد، اس نے اپنے بیٹے نعمان کو ایک خط لکھا، جس میں اس نے مقدس شہرسے یہودیت کی ویرانی کو بیان کیا۔ اس وقت، اس میں صرف دو یہودی باشندے تھے-دو بھائی، تجارت کے لحاظ سےصباغ تھے ۔ عکہ کے بعد کے ایک خط میں، موسی بن نحمان نے اپنے بیٹے کو انکساری پیدا کرنے کی نصیحت کی، جسے وہ خوبیوں میں سے اولین سمجھتا ۔ ایک دوسرے میں، اپنےخط میں دوسرے بیٹے کو مخاطب کرتے ہوئے، جو تاجِ قشتالہ دربار میں ایک سرکاری عہدے پر فائز تھا، موسی بن نحمان روزانہ کی عبادت کی سفارش کی اور سب سے بڑھ کر غیر اخلاقی حرکتوں کے خلاف خبردار کیا۔ چھہترسال کی عمر کو پہنچنے کے بعد موسی بن نحمان کا انتقال ہو گیا، اور اس کی باقیات کو حیفا میں پیرس کے یچیل کی قبر کے پاس دفن کیا گیا۔

یچیل نے اپنے بیٹے اور پیروکاروں کے ایک بڑے گروہ کے ساتھ 1260ء میں عکہ کی طرف ہجرت کی ۔[64][65] وہاں اس نے تلمودی مدرسہ "مدراش ہا گاڈول ڈی پیرس "قائم کیا۔[66][53] خیال کیا جاتا ہے کہ اس کی موت 1265ء اور 1268 ءکے درمیان ہوئی ۔ 1488 ءمیں ، مشنہ کا مفسر عبادیہ بن ابراہیم، یروشلم پہنچا۔ اس نے ارض مقدسہ میں یہودی برادری کے لیے واپسی کا ایک نیا دور شروع کیا۔

حواشی[ترمیم]

  1. "Jewish Nobel Prize Winners". jinfo.org. 07 جنوری 2019 میں اصل سے آرکائیو شدہ. اخذ شدہ بتاریخ 28 اپریل 2018. 
  2. Neusner 1992, p. 4.
  3. http://www.biblestudytools.com/dictionary/children-of-israel/
  4. https://www.haaretz.com/jewish/were-jews-ever-really-slaves-in-egypt-1.5208519
  5. ^ ا ب Dever, William G. (2002). What Did the Biblical Writers Know and When Did They Know It?. Wm. B. Eerdmans Publishing Company. ISBN 978-0-8028-2126-3. p. 99
  6. Finkelstein, Israel and Nadav Naaman, eds. (1994). From Nomadism to Monarchy: Archaeological and Historical Aspects of Early Israel. Israel Exploration Society۔ ISBN 978-1-880317-20-4۔
  7. Robert Jameson. Ian Shaw, ed A؛Ian Shaw Dictionary of Archaeology (New edition (17 Feb 2002) ed.). Wiley Blackwell. p. 313. ISBN 978-0-631-23583-5۔ The Biblical account of the origins of the people of Israel (principally recounted in Numbers, Joshua and Judges) often conflicts with non-Biblical textual sources and with the archaeological evidence for the settlement of Canaan in the late Bronze Age and early Iron Age. […] Israel is first textually attested as a political entity in Egyptian texts of the late 13th century BC and the Egyptologist Donald Redford argues that the Israelites must have been emerging as a distinct group within the Canaanite culture during the century or so prior to this. It has been suggested that the early Israelites were an oppressed rural group of Canaanites who rebelled against the more urbanized coastal Canaanites (Gottwald 1979). Alternatively, it has been argued that the Israelites were survivors of the decline in the fortunes of Canaan who established themselves in the highlands at the end of the late Bronze Age (Ahlstrom 1986: 27). Redford, however, makes a good case for equating the very earliest Israelites with a semi-nomadic people in the highlands of central Palestine whom the Egyptians called Shasu (Redford 1992:2689-80; although see Stager 1985 for strong arguments against the identification with the Shasu). These Shasu were a persistent thorn in the side of the Ramessid pharoahs' empire in Syria-Palestine, well-attested in Egytian texts, but their pastoral lifestyle has left scant traces in the archaeological record. By the end of the 13th century BC, however, the Shasu/Israelites were beginning to establish small settlements in the uplands, the architecture of which closely resembles contemporary Canaanite villages.
  8. Killebrew, Ann E. (2005). Biblical Peoples and Ethnicity: An Archeological Study of Egyptians, Canaanites, Philistines, and Early Israel, 1300–1100 B.C.E. Atlanta: Society of Biblical Literature. p. 176. ISBN 978-1-58983-097-4. Retrieved August 12, 2012. Much has been made of the scarcity of pig bones at highland sites. Since small quantities of pig bones do appear in Late Bronze Age assemblages, some archaeologists have interpreted this to indicate that the ethnic identity of the highland inhabitants was distinct from Late Bronze Age indigenous peoples (see Finkelstein 1997, 227-30). Brian Hesse and Paula Wapnish (1997) advise caution, however, since the lack of pig bones at Iron I highland settlements could be a result of other factors that have little to do with ethnicity
  9. Compare: "Brief History of Israel and the Jewish People ".Israel Science and Technology Directory. Retrieved August 12, 2012. The rule of Israelites in the land of Israel starts with the conquests of Joshua (ca. 1250 BCE). The period from 1000-587 BCE is known as the 'Period of the Kings'. The most noteworthy kings were King David (1010-970 BCE), who made Jerusalem the Capital of Israel, and his son Solomon (Shlomo, 970-931 BCE), who built the first Temple in Jerusalem as prescribed in the Tanach (Old Testament).
  10. ^ ا ب [מרדכי וורמברנד ובצלאל ס רותת "עם ישראל - תולדות 4000 שנה - מימי האבות ועד חוזה השלום", ע"מ 95. (Translation: Mordechai Vermebrand and Betzalel S. Ruth - "The People of Israel - the history of 4000 years - from the days of the Forefathers to the Peace Treaty", 1981, pg. 95)
  11. Moore, Megan Bishop; Kelle, Brad E. (2011). Biblical History and Israel's Past: The Changing Study of the Bible and History. Wm. B. Eerdmans Publishing. pp. 357–358. ISBN 0802862608. Retrieved 11 June 2015
  12. ^ ا ب Dr. Solomon Gryazel, History of the Jews: From the destruction of Judah in 586 BC to the present Arab Israeli conflict, p. 137.
  13. Scholem, Gershom. Kabbalah, p. 183. Keter Publishing HouseJerusalem, Ltd., 1974.
  14. "Kabbalah - Gershom Scholem.pdf". 21 اکتوبر 2020 میں اصل سے آرکائیو شدہ. اخذ شدہ بتاریخ 27 اگست 2018. 
  15. Jonathan Stökl, Caroline Waerzegger (2015). Exile and Return: The Babylonian Context. Walter de Gruyter GmbH & Co. pp. 7–11, 30, 226.
  16. Charlesworth, James H. (2008). The Historical Jesus: An Essential Guide. آئی ایس بی این 978-1426724756
  17. Paul Johnson, A History of the Jews, p. 142.
  18. [מרדכי וורמברנד ובצלאל ס רותת "עם ישראל – תולדות 4000 שנה – מימי האבות ועד חוזה השלום", ע"מ 95. (Translation: Mordechai Vermebrand and Betzalel S. Ruth – "The People of Israel – the history of 4000 years – from the days of the Forefathers to the Peace Treaty", 1981, p. 95)
  19. Schreiber، Mordecai (2003). The Shengold Jewish Encyclopedia. Rockville, MD: Schreiber Publishing. صفحہ 125. ISBN 1887563776. 
  20. Nathan Katz, Who Are the Jews of India?, University of California Press, 2000 سانچہ:Isbn pp. 13–14, 17–18
  21. Bernard Lazare and Robert Wistrich, Antisemitism: Its History and Causes, University of Nebraska Press, 1995, I, pp. 46–47.
  22. Ammianus Marcellinus, Res Gestae, 23.1.2–3.
  23. See "Julian and the Jews 361–363 CE" (Fordham University, The Jesuit University of New York) and "Julian the Apostate and the Holy Temple".
  24. A Psychoanalytic History of the Jews, Avner Falk
  25. Avraham Yaari, Igrot Eretz Yisrael (Tel Aviv, 1943), p. 46.
  26. Andrew S. Jacobs (2004). Remains of the Jews: The Holy Land and Christian Empire in Late Antiquity. Stanford University Press. صفحات 157–. ISBN 978-0-8047-4705-9. 
  27. Edward Lipiński (2004). Itineraria Phoenicia. Peeters Publishers. صفحات 542–543. ISBN 9789042913448. اخذ شدہ بتاریخ 11 مارچ 2014. 
  28. [מרדכי וורמברנד ובצלאל ס. רותת "עם ישראל – תולדות 4000 שנה – מימי האבות ועד חוזה השלום", ע"מ 97. (Translation: Mordechai Vermebrand and Betzalel S. Ruth The People of Israel: The History of 4,000 Years, from the Days of the Forefathers to the Peace Treaty, 1981, p. 97)
  29. Wendy Mayer and Pauline Allen, John Chrysostom: The Early Church Fathers (London, 2000), pp. 113, 146.
  30. Cod., I., v. 12
  31. Procopius, Historia Arcana, 28
  32. Nov., cxlvi., Feb. 8, 553
  33. Procopius, De Aedificiis, vi. 2
  34. G. Ostrogorsky, History of the Byzantine State
  35. The Oxford History of Byzantium, C. Mango (Ed) (2002)
  36. Ehrlich, Mark. Encyclopedia of the Jewish Diaspora: Origins, Experiences, and Culture, Volume 1. ABC-CLIO, 2009, p. 152.(آئی ایس بی این 978-1851098736)
  37. سانچہ:Cite EJ
  38. Joseph E. Katz (2001). "Continuous Jewish Presence in the Holy Land". EretzYisroel.Org. اخذ شدہ بتاریخ August 12, 2012. 
  39. Moshe Gil, A History of Palestine: 634–1099 pp. 170, 220–221.
  40. Marina Rustow, Baghdad in the West: Migration and the Making of Medieval Jewish Traditions
  41. Sephardim by Rebecca Weiner.
  42. Lewis, Bernard W (1984). The Jews of Islam
  43. Abraham Malamat (1976). A History of the Jewish People. Harvard University Press. صفحات 413–. ISBN 978-0-674-39731-6. 
  44. Abraham Malamat (1976). A History of the Jewish People. Harvard University Press. صفحات 416–. ISBN 978-0-674-39731-6. 
  45. David Nirenberg (2002). ویکی نویس: Gerd Althoff. Medieval Concepts of the Past: Ritual, Memory, Historiography. Johannes Fried. Cambridge University Press. صفحات 279–. ISBN 978-0-521-78066-7. 
  46. Abraham Malamat (1976). A History of the Jewish People. Harvard University Press. صفحات 419–. ISBN 978-0-674-39731-6. 
  47. Abraham Malamat (1976). A History of the Jewish People. Harvard University Press. صفحات 414–. ISBN 978-0-674-39731-6. 
  48. Sefer HaCharedim Mitzvat Tshuva Chapter 3
  49. "Jewish Zionist Education". Jafi.org.il. 2005-05-15. October 13, 2008 میں اصل سے آرکائیو شدہ. اخذ شدہ بتاریخ 13 اگست 2012. 
  50. "Archived copy" (PDF). May 2, 2014 میں اصل (PDF) سے آرکائیو شدہ. اخذ شدہ بتاریخ April 5, 2010. 
  51. Benjamin J. Segal. "Section III: The Biblical Age: Chapter Seventeen: Awaiting the Messiah". Returning, the Land of Israel as a Focus in Jewish History. JewishHistory.com. February 27, 2012 میں اصل سے آرکائیو شدہ. اخذ شدہ بتاریخ August 12, 2012.