اسرائیلی قضاۃ

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
قرون وسطی کی جرمن مسودہ میں قاضی شمجر 600 مردوں کو آنکس  سے ذبح کرتے ہوئے۔  

اسرائیلی قضاة (جز ۔عبرانی: שופט‎‎שופט‬ šōp̄êṭ/shofet, pl. שופטים‬ šōp̄əṭîm/shoftim) عبرانی بائبل (تنک) اور اکثر کتاب قضاة میں اسرائیلی بادشاہت کے قیام سے قبل روحانی ( قرآن کے مطابق بارہ اوراسرائیلیات کے مطابق پندرہ) قضاة یا ائمہ بیان کیے گئے ہیں اسلامی علوم کے مطابق حضرت موسیٰ جب سرکشوں سے لڑنے کے لیے گئے تب بنی اسرائیل کے ہر قبیلہ میں سے ایک ایک سردار منتخب کر گئے تھے جن میں سے قضاة بنی اسرائیل کے مختلف قبائل اور ادوار میں آئے۔ یہ بنی اسرائیل سے ان کی بیعت کو پورا کراتے تھے کہ تاکہ یہ اللہ اور رسول کے تابع فرمان رہیں اور کتاب اللہ کی اتباع کرتے رہیں اور بحرانوں میں عسکری رہنما و سپہ سالار بنتے تھے۔ توراۃ کے چوتھے جز میں بنو اسرائیل کے قبیلوں کے سرداروں کے نام مذکور ہیں۔

مقدس کتب میں ذکر[ترمیم]

Ra bracket.png وَلَقَدْ أَخَذَ اللّهُ مِيثَاقَ بَنِي إِسْرَآئِيلَ وَبَعَثْنَا مِنهُمُ اثْنَيْ عَشَرَ نَقِيبًا وَقَالَ اللّهُ إِنِّي مَعَكُمْ لَئِنْ أَقَمْتُمُ الصَّلاَةَ وَآتَيْتُمُ الزَّكَاةَ وَآمَنتُم بِرُسُلِي وَعَزَّرْتُمُوهُمْ وَأَقْرَضْتُمُ اللّهَ قَرْضًا حَسَنًا لَأُكَفِّرَنَّ عَنْكُمْ سَيِّئَاتِكُمْ وَلَأُدْخِلَنَّكُمْ جَنَّاتٍ تَجْرِي مِنْ تَحْتِهَا الْأَنْهَارُ فَمَنْ كَفَرَ بَعْدَ ذَلِكَ مِنْكُمْ فَقَدْ ضَلَّ سَوَاءَ السَّبِيلِ Aya-12.png La bracket.png[1]
اور اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل سے عہد و پیمان لیا اورہم نے انہی میں سے بارہ سردار مقرر کردئے اور اللہ تعالیٰ نے فرما دیا کہ یقیناً میں تمہارے ساتھ ہوں، اگر تم نماز قائم رکھو گے اور زکوٰة دیتے رہو گے اور میرے رسولوں کو مانتے رہو گے اور ان کی مدد کرتے رہو گے اور اللہ تعالیٰ کو بہتر قرض دیتے رہو گے تو یقیناً میں تمہاری برائیاں تم سے دور رکھوں گا اور تمہیں ان جنتوں میں لے جاؤں گا جن کے نیچے چشمے بہہ رہے ہیں، اب اس عہد وپیمان کے بعد بھی تم میں سے جو انکاری ہو جائے وہ یقیناً راہ راست سے بھٹک گیا


اسرائیلی قضاۃ کی تاریخ و تقویم

حضرت مسروق فرماتے ہیں ہم لوگ حضرت عبد اللہ بن مسعود کے پاس بیٹھے تھے، آپ ہمیں اس وقت قرآن پڑھا رہے تھے تو ایک شخص نے سوال کیا کہ آپ لوگوں نے حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے یہ بھی پوچھا ہے کہ اس امت کے کتنے خلیفہ ہوں گے؟ حضرت عبد اللہ نے فرمایا میں جب سے عراق آیا ہوں، اس سوال کو کسی اور نے نہیں پوچھا، ہم نے حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے اس بارے میں دریافت کیا تھا تو آپ نے فرمایا، بارہ ہوں گے، جتنی گنتی بنو اسرائیل کے نقیبوں کی تھی۔ یہ مضمون حدیث بخاری اور مسلم کی روایت سے بھی ثابت ہے توراۃ میں حضرت اسمعیل کی بشارت کے ساتھ ہی مرقوم ہے کہ ان کی نسل میں سے بارہ بڑے شخص ہوں گے، اسے مراد بھی یہی مسلمانوں کے بارہ بادشاہ ہیں۔

بائبل کی کتابِ قضاة متواتر  انداز میں باقاعدگی سے ان کے بارے میں بیان کرتی ہے تاکہ مختلف اماموں کی ضرورت کو ظاہر کیا جائے: بنی  اسرائیل  کا   ارتداد ، خدا کی طرف سے لوگوں پر عذاب اور اس سے پناہ مانگنے اور بچاؤ کی دعا کرنے کے لیے۔[2]

کتاب قضاة کی کہانی پے در پے آئے ایسے افراد کو بیان کرتا ہے، جنہیں مختلف اسرائیلی قبیلوں سے منجانب خدا منتخب کیا گیا تھا تاکہ وہ لوگوں کو دشمنوں سے بچائیں اور انصاف قائم رکھیں۔ اگرچہ  امام  یا   قضاة  عبرانی اصطلاح  کے لغوی معنی کے قریب ترین ہے جسے   توراۃ کے موسوی  متن  میں استعمال کیا گیا، قانونی طور پر فائز ہونے سے زیادہ یہ ایک غیر چنی ہوئی، غیر موروثی قیادت  تھی ۔[3] تاہم، سائرس ایچ گورڈن کا کہنا ہے  کہ ہو سکتا ہے کہ وہ  موروثی جرنیلوں یا حکمران اشرافیہ سے آتے رہے ہوں  جیسے (باسیلوس) میں ہومر  کے حکمران کرتے رہے ۔[4] کوگن   کا کہنا ہے کہ  زیادہ امکان ہے کہ وہ قبائلی یا مقامی رہنما تھے،جو کتاب استثنا کے مؤرخ کے بیان کے برعکس ہے جس نے انہیں تمام اسرائیل کے رہنما بتلایا[5] جبکہ ملامات نے اپنے متن میں  اشارہ دیا ہے کہ  مقامی گروہ اور قبائل ان اماموں  کا اختیار اپنی عمَلداری سے کہیں زیادہ تسلیم کرتے تھے ۔[6]

تاریخی استناداورتقویم[ترمیم]

بائبل کے عالم کینتھ کچن کی دلیل ہے کہیوشع کی  فتح ِ کنعان سے لیکر اسرائیل اور یہوداہ کی پہلی بادشاہت کے قیام ( 1150-1025 قبل مسیح) تک، اسرائیلی قبائل  میں کمزور ریاستی اتحاد کا امکان ہوسکتا ہے۔  اس اتحاد میں بحران کے اوقات کے علاوہ  کوئی مرکزی حکومت  نہ ہوتی، لوگ  مقامی سرداروں جنہیں (شوفتم ) کہا جاتا کی وقتی زیر قیادت میں رہتے ۔

[7] تاہم، بعض دانشور  متذبذب ہیں کہ آیا اس طرح  کے  کردار میں قدیم اسرائیل موجود رہا بھی ہے یا نہیں۔

عبرانی بائبل میں مذکور قضاۃ[ترمیم]

بائبل میں، کتاب قضاۃ بارہ رہنماؤں میں ذکر کیا گیا ہے جو منصف تھے: غتنی ایل، اہود، شمجر، دبورہ، جدعون، تولع، یائیر، افتاح بن جلعاد، ابصان، ایلون، عبدون اور شمشون۔ کتاب سموئیل عیلی اور سموئیل، یوایل اور ابیا (سموئیل کے دو بیٹے)۔ کتاب تواریخ اول قنانا اور اس کے بیٹے۔ کتاب تواریخ دوم ارمیا میں اور زیبیدا (اسماعیل کا بیٹا)۔

مزید دیکھیے[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. سورۃ المائدہ، آیت 12
  2. Boling, Robert G.، revised by Richard D. Nelson، Harper Collins Study Bible: The Book of Judges
  3. Judges 12:7–15
  4. Cyrus H. Gordon، Greek and Hebrew Civilizations (1962) Ch.VIII, pp. 296–297
  5. Coogan, pg 178
  6. Malamat, 129
  7. Kitchen, Kenneth A. (2003)، On the Reliability of the Old Testament (Grand Rapids, Michigan. William B. Eerdmans Publishing Company)(ISBN 0-8028-4960-1)

کتابیات[ترمیم]

  • Boling, Robert G.، revised by Richard D. Nelson, The Harper Collins Study Bible: Book of Judges، ہارپر کولنز پبلیکیشنز، 2006ء
  • مالاماٹ، A. Judges۔ Ed. Benjamin Mazor. Givatayim, Israel: Rutgers University Press, 1971. 129–63. Print.
  • Coogan, Michael D.، عہد نامہ عتیق کا مختصر تعارف، اوکسفرڈ یونیورسٹی پریس، 2009ء
  • وولف، سی۔ یو۔، The Interpreter's Dictionary of the Bible: Judge، آبنگٹن پریس، 1962