افتاح بن جلعاد

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
یفتاح
یفتاح
یفتاح

معلومات شخصیت
پیدائش گیارہویں صدی ق م
تاریخ وفات گیارہویں صدی ق م
عملی زندگی
پیشہ منصف  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں پیشہ (P106) ویکی ڈیٹا پر

افتاح (تلفظ /ˈɛfθə/; عبرانی: יפתחYip̄tāḥ)، کا ذکر کتاب قضاۃ میں آیا ہے۔ یفتاح چھ سالوں تک بنی اسرائیل کے قاضی رہے(قاضی 12:7کتاب قضاۃ کے مطابق، افتاح جلعاد میں رہتا تھا اور اس کا تعلق قبیلہ مناسی سے تھا۔ اور کتاب قضاۃ میں ان کے والد کا نام بھی جلعاد درج ہے۔ کتاب قضاۃ میں ان کی والدہ کو طوائف بتایا گیا ہے۔[1] افتاح کی قیادت میں بنی اسرائیلیوں نے عمونیوں سے جنگ لڑی اور عمونی جنگ ہار گئے،عمونیوں کو شکست کی وجہ سے انہیں شادی کی شرط (انگریزی: Vow) کے تحت اپنی بیٹیاں دینی پڑیں۔ روایتی طور پر کتاب قضاۃ میں حوالوں سے افتاح کو اہم قاضی قرار دیا گیا ہے لیکن چھ سال کی کی مدت قضاۃ سے افتاح غیر اہم ثابت ہوتا ہے۔[2]

کہانی[ترمیم]

افتاح کی واپسی

افتاح کی کہانی پرانے کتابِ قضاۃ کے عہد نامے میں پائی گئی ہے ؛اسباق 11-12 بنی اسرائیل(The Israelites):

بنی اسرا ئیلیوں نے ایک بار پھر وہی کیا جسے خداوند نے بُرا سمجھا۔ وہ بعّل اور عستارات کی مورتیوں کی پرستش کرتے تھے۔ وہ ارام ، صیدا ، موآب ، عمّون اور فلسطینیوں کے دیوتاؤں کی پرستش کرتے تھے۔ بنی اسرا ئیلیوں نے خداوند کو چھو ڑ دیا اور اس کی خدمت بند کر دی۔ اس لیے خداوند نے بنی اسرا ئیلیوں پر غصّہ کیا۔ خداوند نے فلسطینیوں اور عمّونیوں کو انہیں شکست دینے دی۔ ۔۔۔(قضاۃ 10:6-7)

افتاح کو ناجائز طریقے سے اس کے سوتیلے بھائیوں کی جانب سے جلعاد سے نکال دیا گیا اور اس طرح اپ نے جلعاد کے مشرق میں ”طوب“ میں رہائش اپنا لی۔ (قضاۃ 11:3)۔ جلعاد کے بزرگوں نے یفتاح سے عمونیوں کے خلاف جنگ میں مدد مانگی اور جنگ میں بنی اسرائیلیوں کا سربراہ بننے کی پیش کش کی۔ اور انہوں نے ولی پیش کش قبول کی اور بزرگوں اس بات کا یقین تھا کہ افتاح کی سربراہی میں عمونیوں کو شکست کا سامنا کرنا پڑے گا۔ اور ایک قاضی اور سربراہ کی حیثیت سے انہوں نے عمونیوں کو چیلنج کیا اور حلفِ لیا :

۔۔۔۔۔۔ تو میں پہلی چیز کو جو میری فتح سے واپس آنے کے وقت مجھ سے ملنے کے لیے گھر سے باہر آئیگی اسے خدا وند کو جلانے کی نذر کے طور پر نذر کرونگا۔ ۔۔۔(قضاۃ 11:31

جنگ جیتنے کے بعد جب یفتاح واپس جلعاد آیا،تو سب سے پہلی ملاقات اپنی بیٹی سے کی۔ جو اس کی اکلوتی اولاد تھی۔ یفتاح اپنے کپڑے پھاڑ کر رونے لگا اور اپنی بیٹی سے کہا:”ہائے میری بیٹی تو نے مجھے بر باد کر دیا تو نے مجھے بہت رنجیدہ کر دیا۔ میں نے خدا وند سے وعدہ کیا تھا میں اسے واپس نہیں لے سکتا۔ “(قضاۃ 11:35) اے ابّا جان! میں آپ سے صرف ایک بات پوچھتی ہوں! مجھے دو مہینے اکیلی رہنے دو تا کہ میں پہاڑی پر جا سکوں اور اس بات پر رو سکوں کہ میں ابھی بھی کنواری ہوں اور میں ضرور مر جاؤں۔ مجھے اور میری سہیلیوں کو ایک ساتھ رونے اور چلا نے دو۔ “۔(قضاۃ 11:37) ”دو مہینے کے بعد افتاح کی بیٹی اپنے باپ کے پاس واپس آئی۔ افتاح نے وہی کیا جو اس نے خدا وند سے وعدہ کیا تھا۔ افتاح کی بیٹی کا کبھی کسی کے ساتھ جنسی تعلق نہیں رہا اس لیے اسرائیل میں یہ رواج بن گیا۔ “۔(قضاۃ 11:39) ”اسرائیل کی عورتیں ہر سال افتاح کی بیٹی کو یاد کر تی تھیں۔ عورتیں افتاح کی بیٹی کے لیے ہر سال چار دن تک روتی تھیں۔ “۔(قضاۃ 11:40) بعد ازاں، افتاح بنی افرائیم سے جنگ کرنے پر مجبور ہو گئے۔ جنہوں نے بنی عمون کے خلاف ان کی جنگ کی جدوجہد میں اس کی مدد کرنے سے انکار کیا تھا۔ بنی افرائیم وہ تھے جو افتاح کو بنی عمون سے جنگ کے دوران میں اکیلا چھوڑ کر جان بچا کر فرار ہو گئے۔ اور پھر وہ سب یفتاح کے ہاتھوں مارے گئے۔ افرائیمیوں نے (عبرانی: שיבולת‎ لفظ شیبولیتھ کہا۔ (عبرانی: באותו זמן 42٫000 של אפרים נפלו‎) ترجمہ:”اور اس وقت 42،000 افرئیم ایک ساتھ ہلاک ہوئے “۔ (قضاۃ 12:5–6)

مزید دیکھیے[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]

بیرونی راوبط[ترمیم]

افتاح بن جلعاد
ماقبل 
یائیر
بنی اسرائیل کے قاضی مابعد 
ابصان